ابوحفص عثمانی ... میرے محسن ومربی 36-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Wednesday, October 02, 2019

ابوحفص عثمانی ... میرے محسن ومربی 36-2019


ابوحفص عثمانی... میرے محسن ومربی

(دوسری قسط)      تحریر: جناب الشیخ مولانا ارشاد الحق اثری﷾
جامعہ سلفیہ میں بھی طلبہ کا جو اسبوعی ادبی پروگرام ہوتا تو کبھی کبھار انہیں اجلاس کی صدارت کی زحمت دی جاتی۔ اجلاس کے اختتام پر وہ گفتگو فرماتے اور اکثر بھرائی ہوئی آواز سے یہ شعر پڑھتے   ؎
پھلا پھولا رہے یا رب چمن میری امیدوں کا
جگر کا خون دے دے کر یہ بوٹے میں نے پالے ہیں
جامعہ سلفیہ میں عموماً جمعہ کا خطبہ حضرت شیخ الحدیث حافظ محمد عبداللہ ارشاد فرماتے۔ ایک بار ان کی غیر موجودگی میں مولانا عثمانی مرحوم نے خطبہ دیا اور سورۂ مریم کی پہلی آیت میں حروف مقطعات کو موضوع سخن بنایا جو ہم طلبہ کے لیے بالکل نادر معلومات پر مبنی تھا۔ افسوس کہ اس کی تفصیل محفوظ نہ رکھ سکا۔
جامع مسجد اہل حدیث جام پور جو آج ایک شجر سایہ دار کا روپ دھارے ہوئے ہے اس کا سنگ بنیاد انہوں نے ہی اپنے دست مبارک سے ۳۱ مارچ ۱۹۷۰ء میں رکھا۔ (صحیفہ اہل حدیث: ۳۱ مارچ ۱۹۷۰ء)
مولانا مرحوم نہایت سلیقہ شعار اور ایک مدبر‘ منتظم انسان تھے۔ ۱۹۸۲ء میں ان کا انتقال ہوا۔ وفات کے چار سال بعد ۲۴ جولائی ۱۹۸۷ء میں ان کے بڑے صاحبزادے جناب محمد ادریس عثمانی کے توسط سے ان کا کتب خانہ جامعہ سلفیہ فیصل آباد کے مکتبہ کی زینت بنا۔ جو ایک ہزار سے زائد کتابوں پر مشتمل تھا اور اس میں اہل حدیث امرتسر‘ اہل حدیث دہلی‘ ترجمان دہلی‘ تجلی دیوبند‘ اخبار محمدی‘ الاعتصام‘ اہل حدیث سوہدرہ‘ مسلمان سوہدرہ‘ تنظیم اہل حدیث‘ صحیفہ اہل حدیث‘ رحیق‘ چٹان‘ ترجمان القرآن‘ الارشاد کراچی کی مختلف فائلیں ملیں۔ تفسیر‘ حدیث‘ تاریخ ورجال کے علاوہ مختلف مذاہب کی کتابیں بھی اس میں دیکھنے کو ملتی رہیں۔ مولانا محمد اشرف جاویدd نے انہیں جامعہ کے رجسٹر اندراج میں بلا ترتیب اندراج کیا ہے۔ لیکن راقم کا تاثر ہے کہ مولانا مرحوم کا کتب خانہ صرف انہی کتابوں پر مشتمل نہ تھا۔ میں نے ان کی وہ نوٹ بک دیکھی ہے جس میں انہوں نے اپنے کتب خانہ کی کتابوں کا اندراج کیا تھا۔ جس میں الماری نمبر‘ خانہ نمبر‘ کتاب نمبر کے تحت کتابوں کا اندراج تھا۔ جب انہیں اپنی کسی کتاب کی ضرورت ہوتی تو بیٹے محمد ادریس کو ایک ورق پر کتاب کا نام‘ الماری نمبر‘ خانہ نمبر اور کتاب نمبر لکھ کر دے دیتے اور بیٹا دائرہ دین پناہ جا کر وہی کتاب لے آتا۔
مولانا مرحوم رافضیت کے موضوع پر بڑی معلومات کے حامل تھے۔ کئی بار دیکھا کہ حضرت مولانا محمد صدیق کرپالوی مرحوم‘ جو سیالکوٹ میں ان کے ہم سبق تھے اور رافضیت کے خلاف بہت بڑے کامیاب مناظر تھے اور اس موضوع پر انہیں اتھارٹی سمجھا جاتا تھا‘ وہ بھی مولانا عثمانی مرحوم کے پاس جامعہ میں تشریف لاتے اور کسی نہ کسی موضوع پر ان سے تبادلۂ خیال کرتے۔
مولانا مرحوم کی وہ نوٹ بک بھی اس خاکسار نے دیکھی جو مثلاً قادیانیت‘ رافضیت‘ حنفیت‘ عیسائیت کے عناوین پر مشتمل تھی اور ان کے حوالہ سے تمام مسائل سوالا جوابا با حوالہ اختصار کے ساتھ قلم بند تھے۔ میں نے ایک بار جسارت کر کے اسے تفصیلاً دیکھنے کی خواہش کا اظہار کیا تو انہوں نے اپنے تکیہ کے ساتھ رکھتے ہوئے فرمایا کہ یہ میری زندگی کا نچوڑ ہے جسے اپنے سے کسی صورت جدا نہیں کر سکتا۔ مولانا عثمانی کا انتقال ہوا۔ ان کے کتب خانہ کی بات جامعہ میں منتقل کرنے کی ہوئی تو میں نے مولانا محمد اشرف جاوید صاحب کو ان کے اس انڈیکس کے بارے میں خصوصی توجہ دلائی۔ مگر وائے افسوس! اس کا کوئی سراغ نہ مل سکا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون!
مولانا عثمانی ڈیرہ غازیخاں بلاک ۵ کی جامع مسجد کے علاوہ خوشاب کی جامع مسجد اہل حدیث میں بھی تقریبا چار سال خطابت کے فرائض انجام دیتے رہے اور خوشاب میں مرکزی جمعیت اہل حدیث کے ناظم بھی رہے۔ بلکہ کافی عرصہ تک مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کی مجلس عاملہ وشوریٰ کے رکن بھی رہے مگر ایک موڑ ایسا بھی آیا کہ مرکزی جمعیت کے بہت سے اکابر نے جماعت اہل حدیث لاہور کے ساتھ الحاق کر لیا۔ ۱۹۶۶ء میں جماعت اہل حدیث کا ایک اجلاس مسجد اہل حدیث منٹ گمری بازار فیصل آباد میں ہوا جس میں مولانا عبداللہ صاحب گوجرانوالہ‘ مولانا شمس الحق ملتان‘ مولانا حافظ عبدالقادر روپڑی‘ مولانا حافظ محمد شریف سیالکوٹ‘ مولانا عبدالغفور جہلمی‘ میاں محمد باقر‘ مولانا محمد صدیق‘ مولانا سید عبدالغنی کامونکی‘ مولانا محمد رفیق مدن پوری‘ مولانا عبیداللہ احرار‘ مولانا عبدالواحد‘ مولانا میاں عبدالستار سرگودھا‘ قاضی محمد اسلم سیف وغیرہ نے شرکت کی۔ امین پور بازار میں ایک مکان لے کر اس میں فرنیچر اور ٹیلی فون رکھ دیا گیا اور نام رکھا: مرکزی دفتر جماعت اہل حدیث مغربی پاکستان اورمولانا محمد صدیق کی تجویز پر جماعت اہل حدیث کا دفتر لاہور کی بجائے ’’لائل پور‘‘ منتقل کر دیا گیا اور اس دفتر کا ناظم مولانا ابوحفص عثمانی کو مقرر کیا گیا۔ (تنظیم اہل حدیث ۱۹ اگست ۱۹۶۶ء)
لیکن یہ دفتر زیادہ دیر تک نہ چل سکا‘ جلد ہی دوبارہ لاہور منتقل ہو گیا۔ گویا
پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا
 تصنیفی خدمات:
مولانا کا بین المذاہب تقابلی مطالعہ وسیع تھا اور مناظرانہ ذہن تھا۔ ملتان کے کسی سید ابوالرضا نے جماعت حنفیہ کی طرف سے ایک رسالہ ’’وہابی دھرم کے چند پھول‘‘ کے نام سے لکھ کر شائع کیا تو مولانا عثمانی نے جواب آں غزل کے طور پر اس کا جواب ’’کوفی دھرم کے موتی انمول‘‘ کے نام سے لکھا جس میں سید ابوالرضا بریلوی کی ۴۱ خرافات کا جواب ہے۔ اس کی ادبی کمزوریوں کو بھی اجاگر کیا اور آخر میں ضمیمہ کے طور پر کتب فقہ سے ۴۱ مسائل کا ذکر بھی ہے۔ جن کے آخری تین مسائل ایسے ہیں جن کے بارے میں انہوں نے لکھا ہے کہ ان مسائل کا ترجمہ کرنے سے شرم وحیاء اور تہذیب مانع ہے۔ یہ رسالہ انہوں نے جیسا کہ اس کے اختتام پر لکھا ہے‘ ۲۴ ربیع الاول بروز خمیس ۱۳۵۶ھ میں لکھا جو تقریبا ۱۸ جون ۱۹۳۶ء میں یونین پرنٹر ملتان سے شائع ہوا جو ۴۸ صفحات پر مشتمل ہے۔ جس پر ان کا نام یوں لکھا گیا ہے: فاضل نوجوان‘ مناظر اسلام کاسر رؤوس اللئام قاصم ظہور الطفام حضرت مولانا مولوی ابوحفص الداجلی الدیرہ غازیخاں نزیل ملتان شہر محلہ قدیر آباد۔
یہ کتاب دوسری بار ۳۰ اگست ۱۹۵۷ء میں شائع ہوئی اور اس پر جو تبصرہ مؤقر ہفت روزہ الاعتصام میں مؤرخ اہل حدیث مولانا محمد اسحاق بھٹی نے کیا وہ نذر قارئین ہے:
’’زیر نظر کتاب آج سے اکیس سال پیشتر ۱۹۳۶ء میں طبع ہوئی تھی اس زمانے میں کسی نے ’’وہابی دھرم کے چند پھول‘‘ کے نام سے ایک کتاب لکھی جس میں مسلک اہل حدیث پر دل کھول کر حملے کیے اور نہایت رکیک اور نازیبا زبان استعمال کی‘ مولانا ثناء اللہ مرحوم ومغفور نے اپنے اخبار اہل حدیث میں اس کے بعض حصوں کا جواب دیا۔ مولانا ابوحفص نے ہمت کر کے اس پوری کتاب کا جواب بھی دے دیا اور مولانا مرحوم کے جواب کو بھی اس میں مع تشریح کے درج کر دیا۔ ’’کوفی دھرم کے موتی انمول‘‘ اگرچہ کتاب کا نام گراں گزرتا ہے لیکن متن میں اصل مسائل ہی سے تعرض کیا گیا ہے کسی پر کوئی حملہ نہیں کیا گیا۔ کتاب اچھی معلومات کا مجموعہ ہے۔ … الخ۔‘‘ (الاعتصام: ۳۰ اکتوبر ۱۹۵۷ء)
رسالہ کی یہ دوسری اشاعت بھی ۴۸ صفحات پر مشتمل ہے۔
عنبر شمامہ مع خرافات حنیفہ بجواب وہابی نامہ:
غالبا ڈیرہ غازیخاں کے کسی صاحب نے ’’چھ مسئلے مع وہابی نامہ‘‘ کے نام سے ایک رسالہ لکھا جس میں مسلک اہل حدیث پر ۴۳ اعتراضات کیے جو تمام تر جھوٹ اور افتراء پردازی پر مبنی تھے۔ اس کا جواب مولانا عثمانی مرحوم نے ’’عنبر شمامہ مع خرافات حنفیہ‘‘ کے نام سے دیا۔ جس میں پہلے ان کے ۴۳ اعتراضات کا نہایت معقول اور ترکی بہ ترکی جواب دیا‘ اس کے بعد کتب فقہ وفتاویٰ حنفیہ سے نہ گفتنی ۴۳ مسائل کا ذکر کیا جسے انہوں نے خرافات حنفیہ کا نام دیا اور آخر میں لکھا   ؎
نہ تم صدمے ہمیں دیتے نہ ہم فریاد یوں کرتے
نہ کھلتے راز سربستہ نہ یوں رسوائیاں ہوتیں
مولانا مرحوم کا رسالہ ۷ ذوالحج ۱۳۸۷ھ بمطابق ۷ مارچ ۱۹۶۸ء میں طبع ہوا اور مجلس اخوان اہل حدیث بلاک نمبر ۱۵ ڈیرہ غازیخاں کی طرف سے شائع ہوا جو ۸۸ صفحات پر مشتمل ہے۔
 زئیر اسامہ بجواب وہابی نامہ مع زٹلیات حنفیہ:
مولانا عثمانی کا رسالہ ’’عنبر شمامہ‘‘ طبع ہوا تو اس کے نتیجے میں ڈیرہ غازیخاں کے جوشیلے نوجوانوں نے دھمکیاں دینا شروع کر دیں اور دھمکی آمیز خطوط لکھنے لگے‘ ادھر قاضی شمس الدین نے اپنے دل کا غبار ہلکا کرنے کے لیے ’’چھ مسائل مع وہابی نامہ‘‘ شائع کیا۔ مولانا عثمانی ان دھمکیوں سے متاثر نہ ہوئے‘ آخر راجپوت تھے اور موت کے وقت معین کا انہیں یقین تھا۔ مولانا خاموش نہ رہے‘ انہوں نے اس کا جواب ’’زئیر اسامہ ‘‘ کے نام سے دیا اور ان کے تمام اعتراضات کا تسلی بخش جواب دیا جس کے آخر میں بطور ضمیمہ ’’زٹلیات حنفیہ‘‘ کے دس ایسے بے ثبوت مسئلوں کا بحوالہ ذکر کیا جن میں سے بعض پر خود علمائے احناف عمل نہیں کرتے۔ اور فرمایا اگر ایک مسئلہ کا حوالہ غلط ثابت کر دیا جائے تو دس ہزار روپیہ انعام دیا جائے گا۔ یہ رسالہ ۴۹ صفحات پر مشتمل ہے جسے مجلس اخوان اہل حدیث ڈیرہ غازیخاں نے ۱۷ اکتوبر ۱۹۶۸ء میں شائع کیا تھا۔
 ازالۃ الاوہام عن الفاتحۃ خلف الامام:
یہ دراصل دیوبندی عالم مولانا قاضی شمس الدین کے رسالہ ’’امام الکلام فی ترک القراء ۃ خلف الامام‘‘ کا جواب ہے جسے اس نے اپنے رسالہ مسماۃ ’’چھ مسئلے مع وہابی نامہ‘‘ کے ساتھ حرف بحرف نقل کر دیا تھا۔ ’’چھ مسئلے مع وہابی نامہ‘‘ کا جواب تو مولانا عثمانی نے ’’زئیر اسامہ‘‘ کے نام سے د یا اور ’’امام الکلام‘‘ کا جواب ’’ازالۃ الاوہام عن الفاتحۃ خلف الامام‘‘ کے نام سے دیا جو ساٹھ صفحات پر مشتمل ہے۔ ۲۲ رجب المرجب ۱۳۸۹ھ بمطابق ۵ اکتوبر ۱۹۶۹ء کو یہ رسالہ زیر اہتمام مجلس اخوان اہل حدیث ڈیرہ غازیخاں شائع ہوا۔ اس رسالہ کا اختتام انہوں نے اپنے شیخ حضرت سیالکوٹی کے کلام سے کیا۔ چنانچہ اس حوالے سے مولانا عثمانی کے الفاظ پڑھیے:
’’حسن خاتمہ کے طور پر میں مناسب سمجھتا ہوں کہ اس رسالے کا اختتام اپنے استاذ مکرم فضیلۃ الشیخ مولانا الحافظ ابوتمیم محمد ابراہیم اعلیٰ اللہ مقامہ کی تحریر پر کروں جن کے فیض وبرکت سے اس عاجز نے خدا تعالیٰ کی مہربانی سے ظاہری وباطنی اور علمی وقلبی عنایات سے وافر حصہ پایا۔‘‘
اس کے بعد انہوں نے مولانا سیالکوٹی کی تفسیر واضح البیان ۴۶۷ سے فاتحہ خلف الامام کی قراء ت کی ممانعت یا کفایت قراء ت امام کے دلائل کا مختصرا جواب نقل کیا ہے۔ نہایت مناسب ہے کہ قند مکرر کے طور پر اسے یہاں نقل کر دیا جائے:
’’ہمارے قارئین ہماری ان باتوں کو گرہ میں باندھ کر یاد کر لیں کہ یا تو وہ مرفوع نہیں‘ موقوف ہیں یا صحیح نہیں ضعیف ہیں یا موصول نہیں منقطع ہیں۔ یا ان میں ما بعد فاتحہ کا حکم ہے جیسے [وإذا قرأ فانصتوا] (الحدیث) میں یہ زیادت (بھی) غیر محفوظ ہے یا امام کے پیچھے اونچی آواز سے پڑھنے سے ممانعت ہے نہ کہ اصلی قراء ت سے جیسے [مالی انازع القرآن] والی حدیث میں کیونکہ [لا تفعلوا الا بام القرآن] سورت فاتحہ کی قراء ت کو مستثنیٰ کرتی ہے اور حسب تفصیل گذشتہ یہ حدیث صحیح اور ثابت شدہ ہے۔ پس صبح کی نماز میں جب اونچی قراء ت پڑھتے تھے آپ نے اسے مستثنیٰ رکھا تو دیگر نمازوں میں جو جہری یا سری ہیں‘ یہ کیوں منع ہونے لگی؟ اس طریق سے سب احادیث جمع ہو جاتی ہیں اور مسئلہ بالکل صاف ہو جاتا ہے۔ دیگر یہ کہ کسی حدیث کی بھی دلالت منع فاتحہ پر ایسی واضح نہیں جیسی کہ اثبات فاتحہ والی حدیث ہے۔ پس طوالت مضمون سے بچنے کے لیے ہم (دیگر) دلائل حضرات حنفیہ کے مضمون کو اسی تنبیہ ضروریہ پر ختم کرتے ہیں کیونکہ اس میں ہر قسم کا بالاجمال والاختصار جواب آگیا ہے۔ (واللہ الموفق والہادی)۔‘‘ (واضح البیان فی تفسیر آی القرآن: ص ۴۶۷)
 مسائل عید قربان:
مولانا مرحوم نے اس میں قربانی کے ضروری مسائل نہایت اختصار سے اور مضبوط دلائل سے بیان کیے ہیں اور ثابت کیا ہے کہ قربانی سنت مستمرہ ہے‘ گائے کی قربانی ہندو مذہب میں بھی ثابت ہے۔ عشرہ ذی الحجہ کی فضیلت‘ قربانی کی فضیلت‘ قربانی کے جانور کے شرائط واوصاف‘ عیدالاضحی کے مسائل اور قربانی پر منکرین حدیث کے مغالطات کا ازالہ وغیرہ عناوین کے تحت متعدد مسائل ذکر کیے ہیں۔
یہ رسالہ ۴۰ صفحات پر مشتمل ہے جو یکم مئی ۱۹۶۲ء میں ثنائی پریس سرگودھا سے شائع ہوا۔ مولانا عثمانی ان ایام میں جامع مسجد اہل حدیث خوشاب کے خطیب اور جمعیت اہل حدیث خوشاب کے ناظم تھے۔ لوح پر لکھا ہے یہ رسالہ حسب فرمائش جناب مولانا الحاج محترم میاں فضل حق (مرحوم) صدر جامعہ سلفیہ ورکن عاملہ مرکزی جمعیت اہل حدیث لکھا گیا ہے۔
اس رسالے میں مولانا مرحوم نے بعض آثار کی بناء پر گھوڑے‘ مرغ کی قربانی کا موقف اختیار کرتے ہوئے فرمایا ہے:
’’سیدنا بلال اور سیدنا ابوہریرہw چونکہ تنگدست اور مفلوک الحال تھے اس لیے اس دن اہراق دم کی فضیلت کے حصول کے لیے وہ مرغ کی قربانی کر دیتے تھے۔ پس آج بھی اگر ایک مفلوک الحال اور تنگدست وفورِ شوق میں اسی طرح کر لے تو اللہ تعالیٰ اپنے فضل وکرم سے اسے پوری قربانی کا ثواب عطا فرما دے گا۔‘‘ (مسائل عید قربان: ۲۷)
مولانا عثمانی کے اس موقف کی ایک حلقہ میں تحسین ہوئی‘ چنانچہ ۲ مارچ ۱۹۶۸ء کے صحیفہ اہل حدیث کراچی میں اس پر تبصرہ میں فرمایا گیا:
’’قابل مبارک ہیں فاضل مرتب جنہوں نے رسالے کے صفحہ ۲۶‘ ۲۷ پر حق بیان کرنے سے مطلقاً گریز نہیں کیا بلکہ صاف صاف با دلائل واضح کر دیا کہ شریعت محمدیہ میں گھوڑے اور مرغ کی قربانی بھی جائز اور حق ہے۔‘‘
ادھر مولانا عبدالقادر حصاری مرحوم نے ’’رسالہ قربانی پر ایک نظر‘‘ کے عنوان سے الاعتصام ۲۷ جولائی ۱۹۶۲ء میں اس پر نقد کیا اور اس موقف کی تردید کی۔ اسی طرح تنظیم اہل حدیث لاہور میں اپریل مئی ۱۹۶۳ء کے تین شماروں میں بھی اس موقف پر تنقید کی۔ مگر عجیب بات ہے کہ تنظیم اہل حدیث ۷ ربیع الاول ۱۳۸۷ھ / ۱۶ جون ۱۹۶۷ء کے شمارہ میں اس رسالہ کی بڑی تحسین کی گئی اور مولانا مرحوم کے بارے میں لکھا:
’’مولانا صاحب ایک بلند پایہ عالم‘ قابل قدر مصنف‘ بہترین مناظر اور لائق اعتماد محقق ہیں اور بعض اوصاف میں مولانا موصوف پوری جماعت میں منفرد حیثیت کے مالک ہیں۔ زیر نظر رسالہ ان کی تازہ تصنیف ہے جس میں انہوں نے خاصی محنت سے قربانی کے متعلق اہم مسائل پر نہایت قیمتی معلومات کو جمع کیا ہے اور حق یہ ہے کہ مسائل کی تحقیق کا حق ادا کر دیا ہے۔‘‘
اب اس تبصرہ پر ہم کیا عرض کریں کہ تنظیم اہل حدیث ہی میں اس کے ایک مسئلہ گھوڑے اور مرغ کی قربانی پر مفصل نقد شائع ہو چکا ہے اور ادھر فرمایا گیا ہے کہ ’’مسائل کی تحقیق کا حق ادا کر دیا ہے۔‘‘ سبحان اللہ‘ مولانا حصاری a کے یہ مضامین ان کے ’’فتاویٰ حصاریہ‘‘ کی جلد ۵ میں شائع ہو گئے ہیں۔
 تحصیل المزایا فی تربیع ایام الضحایا:
یہ رسالہ ڈیرہ غازیخاں کے مولانا عبداللہ خطیب سی بلاک کے اشتہار ’’چند سوالات بابت ایام قربانی‘‘ کا جواب ہے۔ پہلے تو عثمانی صاحب نے مولانا موصوف کی علمی کمزوریاں ذکر کیں پھر اس اشتہار کو بتمامہ وہاں نقل کیا‘ اس کے بعد یکم ستمبر ۱۹۷۰ء کو اس کا جواب لکھنا شروع کیا اور خطیب سی بلاک کے ایک ایک اعتراض کا تسلی اور تشفی بخش جواب دیا۔ بلکہ اس اشتہار کے مرتب مولانا عبداللہ کے بارے میں صفحہ ۴۵ تا ۴۷ دیوبندی‘ بریلوی‘ اہل حدیث علماء کی آراء بھی ذکر کر دی ہیں جن سے ان کی ’’قابلیت‘‘ تشت از بام ہو جاتی ہے۔
یہ رسالہ ۶۴ صفحات پر مشتمل ہے جو سید پرنٹنگ پریس ملتان سے میاں جی نذیر احمد بلاک ایچ ڈیرہ غازیخاں کے اہتمام سے طبع ہوا اور اس کی نشر واشاعت جماعت غرباء اہل حدیث ڈیرہ غازیخاں نے کی۔ تاریخ طباعت مذکور نہیں۔
 اوفوا الکیل بحلۃ الخیل:
یہ رسالہ بھی مولانا عبداللہ المذکور کے رسالہ ’’گھوڑے کا گوشت کھانا حرام ہے‘‘ کے جواب میں ہے۔ تحصیل المزایا صفحہ ۵ میں مولانا عثمانی نے اس رسالے کے بارے میں لکھا ہے کہ ’’اس کا جواب عنقریب منظر عام پر آنے والا ہے۔‘‘ عزیز القدر مولانا حافظ ریاض احمد عاقب اثریd نے لکھا ہے کہ یہ رسالہ ۶۸ صفحات پر مشتمل ہے۔ مگر حقیقۃً یہ رسالہ مولانا ابوسعید عبدالحمید چنگوانی صاحب کا ہے‘ البتہ اس کا پیش لفظ مولانا عثمانی نے لکھا۔ تنظیم اہل حدیث لاہور کے ۶ جون ۱۹۶۹ء کے شمارہ میں مولانا عزیز زبیدی مرحوم نے اس پر شاندار تبصرہ کیا اور رسالے کی تحسین کی ہے۔
 مسائل رمضان:
اس رسالہ میں مولانا مرحوم نے لفظ رمضان کی لغوی تحقیق‘ رمضان کی وجہ تسمیہ‘ روزے‘ شرعی اور اصطلاحی مفہوم‘ روزے کی فرضیت اور اس کی غرض وغایت‘ نماز تراویح اور اس کی تعداد‘ لیلۃ القدر‘ اعتکاف‘ صدقۃ الفطر‘ وغیرہ اکسٹھ عنوانات کے تحت مسائل نہایت اچھے اور سلجھے ہوئے انداز میں بیان کیے ہیں۔ یہ کتابچہ ۶۴ صفحات پر مشتمل ہے جو ۱۹۶۰ء میں شائع ہوا۔ مدیر الاعتصام نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا تھا:
’’بعض امور میں یہ کتاب امتیازی خصوصیات کی حامل ہے۔‘‘ (الاعتصام: ۲۵ مارچ ۱۹۶۰ء)
 فضل الودود فی تحقیق رفع الیدین فی السجود:
مولانا عثمانی مرحوم کبھی کبھار رفع الیدین فی السجود کے قائل تھے۔ المحلی لابن حزم اور اس پر شیخ احمد شاکر کے حواشی کی عبارتیں خود انہوں نے اپنی تائید میں راقم کو دکھلائی تھیں اور فضل الودود صفحہ ۵۱ میں اپنے شیخ محدث ملتانیa سے اس کے متعلق ذکر کیا ہے کہ اس بارے میں روایات متعارض ہیں‘ ممکن ہے نبی کریمe نے کبھی سجدوں کے ما بین رفع الیدین کی ہو البتہ رکوع کے وقت آپe نے رفع الیدین ہمیشہ کی ہے جیسا کہ بیہقی کی روایت میں تصریح ہے۔ یہ رسالہ ۱۳۹۲ھ بمطابق ۱۹۷۲ء میں مجلس اخوان اہل حدیث ڈیرہ غازیخاں بلاک نمبر ۱۵ نے طبع کروایا تھا جو ۶۳ صفحات پر مشتمل ہے۔
 ضروری وضاحت:
یاد رہے کہ ’’فتح الودود فی تحقیق رفع الیدین عند السجود‘‘ کے نام سے ایک رسالہ الشیخ المحدث المفسر ابومحمد عبدالحق ہاشمی متوفی ۱۳۹۲ھ کا بھی ہے جو ان کے تین دیگر رسائل کے ہمراہ طبع ہوا ہے اور آٹھ صفحات پر مشتمل ہے۔ یہ رسائل المطبعۃ العربیۃ الحدیثیۃ بالقاہرۃ سے ۱۹۷۷ء میں طبع ہوئے ہیں۔ اس رسالہ کی ابتداء میں محدث ہاشمی کے فرزند ارجمند شیخ علامہ ابوتراب عبدالجلیل ظاہری نے لکھا ہے کہ
’’میں نے اسی مسئلہ کے بارے میں ابوعثمان داجلی کا رسالہ دیکھا ہے جو والد محترم کے تلمیذ ہیں مگر یہ رسالہ میرے والد مرحوم کے رسالے کا سرقہ ہے۔ نیز میں اس مناقشہ میں موجود تھا جو انہوں نے اس مسئلہ میں والد صاحب سے کیا اور میں نے ان خطوط کو بھی دیکھا جو والد صاحب اور ان کے ما بین حضرت مالک بن حویرث کی حدیث میں ابن ابی عدی اور شعبہ عن قتادہ کی اسانید پر بحث سے متعلق تھے۔ عثمانی صاحب نے اسے اپنے رسالے میں بلا تحویل اپنی طرف سے نقل کر دیا ہے اور سرقہ کی انواع میں ایک قسم یہ بھی ہے جس کا ارتکاب ابوعثمانی داجلی نے کیا ہے۔‘‘
عرض ہے کہ مولانا عثمانی کی کنیت ابوحفص ہے ’’ابوعثمانی‘‘ نہیں۔ غالباً غصہ میں ان سے یہ تسامح ہوا ہے۔ بلاشبہ ابن ابی عدی کے تلامذہ اور ’’شعبہ عن قتادہ‘‘ کے حوالے سے دونوں رسالوں میں بات یکساں ہے جس سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ مولانا عثمانی نے محدث ہاشمی کے رسالہ سے استفادہ کیا ہے یا باہمی مناقشہ یا خط وکتابت سے اس اشکال کو سمجھنے کی کوشش کی تھی اور مناسب یہی تھا کہ مولانا عثمانی مرحوم اس حوالے سے وضاحت فرما دیتے کہ ان اسانید کے اشکال کو دور کرنے میں میں نے اپنے شیخ محدث ہاشمی سے استفادہ کیا ہے لیکن اسے سرقہ قرار دینا درست نہیں۔ متاخرین متقدمین کی کتابوں سے استفادہ کرتے ہیں اور بلا انتساب اسے نقل بھی کر دیتے ہیں۔ رہا مولانا عثمانی کا رسالہ تو اس میں اس کے علاوہ کئی مباحث ایسے ہیں جو محدث ہاشمی کے رسالہ میں نہیں۔ جس کی تفصیل کی ضرورت نہیں۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ ان دونوں کے درجات بلند فرمائے اور بشری لغزشوں سے صرف نظر فرمائے۔ آمین!
 ترجمہ جمع الفوائد من جامع الاصول ومجمع الزوائد:
’’جمع الفوائد‘‘ امام محمد بن محمد بن سلیمان الفاسی المتوفی ۱۰۹۴ھ کی معروف کتاب ہے جس میں انہوں نے جامع الاصول لابن الاثیر اور مجمع الزوائد للہیثمی کی مکرر احادیث کو حذف کر کے ان کی مفرد روایات کو جمع کیا ہے اور اس میں مزید سنن دارمی اور ابن ماجہ کی احادیث بھی لے آئے ہیں۔ مولانا عثمانی جن ایام میں جامعہ سلفیہ کے مدیر المہام تھے ان ایام کے فارغ اوقات میں حضرت مولانا محمد صادق خلیل a شیخ الادب جامعہ سلفیہ کے ساتھ اس عظیم الشان کتاب کا ترجمہ کرتے تھے۔ یہ کام کہاں تک پہنچا اور بعد میں کن مراحل سے گذرا اس بارے کچھ علم نہیں۔… (جاری)


No comments:

Post a Comment