درس قرآن وحدیث 36-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Wednesday, October 02, 2019

درس قرآن وحدیث 36-2019


درسِ قرآن
معصیت الٰہی‘ نعمت الٰہیہ سے محرومی کا سبب
ارشادِ باری ہے:
﴿ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ لَمْ يَكُ مُغَيِّرًا نِّعْمَةً اَنْعَمَهَا عَلٰى قَوْمٍ حَتّٰى يُغَيِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِهِمْ١ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌۙ۰۰۵۳﴾ (الانفال)
’’اللہ تعالیٰ ایسا نہیں کہ کسی قوم پر نعمت انعام فرما کر پھر بدل دے، جب تک کہ وہ خود اپنی اس حالت کو نہ بدل دیں ۔‘‘
اللہ تعالی کے اپنی مخلوقات پر بے بہا انعامات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس نے انسانوں کے ابدی و ازلی دشمن شیطان کی فریب کاریوں اور وساوس سے متنبہ کر دیا ہے، اور روز اول سے اس کی دشمنی کی وجہ واضح طور پر بیان فرما دی ہے۔ لہٰذا انسان اگر شیطان کو فی الواقع دشمن سمجھے گا توتب ہی اس کی نجات کی توقع اور امید کی جا سکتی ہے۔ _ انسان سے گناہ سرزد ہونے کی بنیاد یہی شیطان کے وساوس ہی ہیں۔ گناہ کے سرزد ہوجانے کے بعد اگر توبہ وشرمندگی کا احساس پیدا نہ ہو تو آہستہ آہستہ گناہوں کی عقوبات و اثرات دنیامیں ہی شروع ہو جاتے ہیں‘ انہی اثرات میں سے ایک کا ذکر درج بالا آیت میں فرما یا گیا ہے کہ ’’جوانسان گناہوں کی دلدل میں دھنستا چلا جا تا ہے تو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں سے بھی آہستہ آہستہ محروم ہوتا چلا جائے گا۔‘‘ اسی لیے سیدنا علیt فرمایا کرتے تھے: [مَا نَزَلْ بَلَاءٌ إِلَّا بِذَنْبٍ، وَلَا رُفِعَ إِلَّا بِتَوْبَةٍ ] ’’انسان پر آنے والی مصیبت کی وجہ  اللہ کی معصیت ہے اور اس سے چھٹکارا حاصل کرنے کا واحد راستہ اس گناہ سے توبہ کرنا ہے۔‘‘
جبکہ قرآن کریم میں بھی اسی بات کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے:
﴿وَ مَاۤ اَصَابَكُمْ مِّنْ مُّصِيْبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ اَيْدِيْكُمْ ﴾
’’تمہیں جو کچھ مصیبتیں پہنچتی ہیں وہ تمہارے اپنے ہاتھوں کے کرتوت کا بدلہ ہے۔‘‘
اللہ تعالیٰ نے تو یہ ساری نعمتیں اسی حضرت انسان کے لیے پیدا فرمائی ہیں ، اسے اشرف المخلوقات کہا ہے ، تو یہ کیسے ممکن ہے کہ ان نعمتوں کو عطاء کرنے کے بعد ان سے محروم کردے ؟ انسان خود ہی ایسے اعمال کرتا ہے حو نعمتوں کے چھن جانے کا باعث بنتے ہیں۔ اللہ کی اطاعت کو اس کی نافرمانی سے بدلنا اس کی نعمتوں سے محرومی کا باعث ہے۔ اسی طرح ان انعامات پر شکر کے جذبات کی بجائے ناشکری کرنا اور رب کائنات کی رضا ء و خوشنودی کی بجائے اس کو ناراض کردینے والے اعمال اس کی نعمتوں سے محرومی کی وجہ ہیں:
﴿اِنَّ اللّٰهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰى يُغَيِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِهِمْ﴾
’’کسی قوم کی حالت اللہ تعالیٰ نہیں بدلتا جب تک کہ وہ خود اسے نہ بدلیں۔‘‘
جو ان کے دلوں میں ہے۔خوش حالی اور مصیبتوں سے چھٹکارے کے لیے ہمیں گناہوں کو ترک کرنا ہوگا۔

درسِ حدیث
دو نمازیں جمع کرنا
فرمان نبویﷺ ہے:
[عَنِ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِﷺ يَجْمَعُ بَيْنَ صَلاَةِ الظُّهْرِ وَالعَصْرِ، إِذَا كَانَ عَلَى ظَهْرِ سَيْرٍ وَيَجْمَعُ بَيْنَ المَغْرِبِ وَالعِشَاءِ.] (البخاری)
سیدنا عبداللہ بن عباسw سے روایت ہے‘ انہوں نے کہا کہ جب رسول اللہe سفر میں ہوتے تو ظہر اور عصر اور اسی طرح مغرب اور عشاء کو جمع کر لیتے۔‘‘ (بخاری)
ہر نماز کو اول وقت پر ادا کرنا‘ اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے زیادہ محبوب عمل ہے۔ صحابہ کرام] نے آپe سے عرض کیا کہ ’’اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ پسندیدہ عمل کون سا ہے؟‘‘ تو حضور اکرمe نے فرمایا: ’’نماز کو اوّل وقت پر ادا کرنا۔‘‘  اس فضیلت کے باوجود سفر میں سہولت کے لیے دو نمازیں ایک ساتھ پڑھنے کی اجازت دی گئی ہے۔ نمازیں جمع کرنے کی تین صورتیں ہیں: 1 جمع تقدیم‘ 2 جمع صوری اور 3جمع تاخیر۔ جمع دو نمازوں کے درمیان ممکن ہے‘ ایک نماز ظہر اور نماز عصر اور دوسرے نماز مغرب اور نماز عشاء۔ فجر کی نماز کو ظہر یا عشاء کی نماز کے ساتھ جمع نہیں کیا جا سکتا۔
جمع تقدیم یہ ہے کہ سفر کا آغاز نماز ظہر کے بعد ہو گا تو ظہر کی نماز اپنے وقت پر ادا کر کے ساتھ ہی نماز عصر کو مقدم کر کے ادا کرے۔ یہ اس صورت میں جائز ہے جب یہ یقین ہو کہ نماز عصر سفر کی وجہ سے فوت ہو جائے گی۔ یہی کیفیت نماز مغرب کے ساتھ نماز عشاء ادا کرنے کی ہے۔
اور جمع صوری یہ ہے کہ سفر کے دوران نماز ظہر کو اس کے آخری وقت میں ادا کرے اور نماز عصر کو اول وقت میں یعنی نماز عصر کا وقت ہوتے ہی ادا کر لے اس طرح دونوں نمازیں اپنے اپنے وقت میں ہوں گی۔ مگر صورت کے اعتبار سے اکٹھی ہوں گی یہی کیفیت نماز مغرب اور عشاء میں بھی ممکن ہے۔
اور جمع تاخیر یہ ہے کہ سفر کے دوران نماز ظہر یا نماز مغرب کا وقت ہو جاتا ہے تو سفر جاری رکھے اور نماز کو مؤخر کر دے حتی کہ عصر یا عشاء کی نماز کا وقت ہو جائے تو دونوں نمازیں اکٹھی ادا کر لے۔ یعنی ظہر کی نماز عصر کے ساتھ اور مغرب کی نماز عشاء کے ساتھ ادا کر لے۔
تینوں قسم کی جمع کرنے کی اجازت ہے لیکن اگر سفر اس نوعیت کا ہے کہ نماز پڑھنے کے لیے جگہ نہیں یا مشترکہ سواری پر سوار ہیں اور ڈرائیور گاڑی روکنے سے انکاری ہے تو اس مجبوری کی صورت میں سفر سے فارغ ہو کر چھوڑی ہوئی تمام نمازیں اکٹھی بالترتیب ادا کرنے کی اجازت ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے ساتھ آسانی پیدا کرتا ہے انہیں کسی مشکل میں نہیں ڈالنا چاہتا۔ سفر کے دوران جو سہولت اسلام نے دی ہے اسے ضرور اختیار کرنا چاہیے۔


No comments:

Post a Comment