منزل کی تمنا ہے تو کر جہد مسلسل 36-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Wednesday, October 02, 2019

منزل کی تمنا ہے تو کر جہد مسلسل 36-2019


منزل کی تمنا ہے تو کر جہد مسلسل

سینئر نائب ناظم اعلیٰ مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان مولانا محمد نعیم بٹ لاہور  میں

مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان سے وابستہ ملک بھر میں بے شمار مساجد‘ مدارس‘ دار الایتام‘ سکول‘ ڈسپنسریاں‘ ہسپتال اور خیراتی ادارے وغیرہ کام کر رہے ہیں جو کہ اپنی اپنی بساط کے مطابق مصروف عمل ہیں جن میں ایک ابوہریرہ ویلفیئر ٹرسٹ داروغہ والا لاہور بھی شامل ہے۔ جو کہ ایک خوبصورت جامع مسجد ابوہریرہ اہل حدیث‘ جامعہ صراط مستقیم للبنات‘ جامعہ ابوہریرہ للبنین‘ ابوہریرہ اسلامک سکینڈری سکول اور گائنی ہسپتال پر مشتمل ہے۔ جبکہ صاف پانی کی دستیابی کے لیے ہیوی فلٹر پلانٹ کا بھی بندوبست ہے۔ اس کے علاوہ بطور خاص علاقہ کے کمزور نادار شرفاء کو تشدد اور بھتہ خوری سے مکمل تحفظ دیا جاتا ہے۔ ان جملہ امور کی سرپرستی نائب ناظم مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان حافظ محمد یونس آزاد کر رہے ہیں۔ ادارہ ہذا کے تحت اکثر تربیتی اصلاحی تنظیمی اجلاس منعقد کیے جاتے ہیں جبکہ سالانہ ختم نبوت کانفرنس اپنی مثال آپ ہوتی ہے۔ اسی تسلسل کی ایک کڑی عرفان شادی ہال میں ۸ ستمبر کو انسداد جرائم سیمینار منعقد ہوا جس میں سینئر نائب ناظم اعلیٰ مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان مولانا محمد نعیم بٹ اور انچارج میڈیا سیل مرکزیہ رانا پروفیسر ڈاکٹر تنویر قاسم نے جماعتی نمائندگی کی۔ جبکہ سینئر صحافی معروف تجزیہ نگار اینکر چوہدری سہیل وڑائچ‘ علاقہ کی معروف شخصیت سابق ڈپٹی میئر احمد حفیظ اور حلقہ کے ڈی ایس پی چوہدری محمد ابراہیم نے خصوصی شرکت کی۔ تقریبا چار سو نوجوان پروگرام میں شریک ہوئے۔ سٹیج پر میاں محمد طیب‘ میاں طاہر احمد بٹالہ سٹیل والے‘ میاں محمد اصغر‘ چوھدری محمد یوسف بھٹی‘ ادارہ کے جنرل سیکرٹری ملک اظہر فرمائش علی اعوان‘ چوہدری محمد سعید جٹ‘ میاں مقصود الٰہی‘ میاں محمد اکبر موجود تھے۔ محمد آصف چوہان ایڈووکیٹ اور طاہر محمود ایڈووکیٹ پروگرام کے جملہ امور کو واچ کر رہے تھے۔ سیمینار کا آغاز قرآن کریم کی تلاوت سے قاری محمد عدیل نے کیا جبکہ سٹیج سیکرٹری کے فرائض حافظ محمد سعید نے انجام دیئے۔ مقررین نے اصلاح معاشرہ‘ استحکام پاکستان‘ باہمی بھائی چارہ اور جرائم کی روک تھام کے عنوانات پر خطاب کیے۔ پروفیسر ڈاکٹر رانا تنویر قاسم نے سوشل میڈیا کے حوالے سے نوجوانوں کی تربیت کی اور کہا کہ اپنے موبائل کا استعمال دین کی ترویج واشاعت کے لیے استعمال کریں نہ کہ لچر اور بے ہودہ گفتگو کے لیے۔ کل قیامت کے دن حساب دینا ہو گا۔ اس پرہیز سے کئی جرائم دم توڑ جائیں گے۔ حافظ محمد یونس آزاد سرپرست ٹرسٹ نے اپنے خطاب میں کہا کہ اس ادارہ کی بنیاد سابق امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان شیخ الحدیث مولانا محمد عبداللہ a نے رکھی‘ ان کی وفات کے بعد سے آج تک موجودہ امیر حضرت علامہ سینیٹر پروفیسر ساجد میرd کی رہنمائی میں ترقی پذیر ہے۔ میرے دوست واحباب ٹرسٹ کے ممبران اس کی انتہائی کامیابی کے لیے دن رات مصروف عمل ہیں اور اس میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کرتے۔ میں اس پروگرام کو زندگی کا مقصد سمجھ کر مزید آگے بڑھاتا رہوں گا۔ انہوں نے سابق صدر ٹرسٹ الحاج میاں احمد سعید اور سابق سیکٹری جنرل الحاج ملک فرمائش علی اعوان ودیگر مرحومین ٹرسٹ کے لیے دعا مغفرت کی۔ چوہدری محمد سعید جٹ نے کہا کہ نوجوانوں کو عقل سے کام لینا چاہیے جو گھر میں والدین کو پانی پلانے کے روادار نہیں ہوتے اور بدمعاشوں کے ڈیروں پر جا کر چمچوں کی صورت میں چار پائیاں بچھاتے اور صفائیاں کرتے ہیں۔ حافظ یونس آزاد نے کہا کہ تمہارے لیے ٹریننگ سنٹر کھولا ہے تربیت حاصل کریں اور معاشرہ کا بہترین انسان بن جائیں۔ سابق ڈپٹی میئر احمد حفیظ نے اپنی گفتگو میں ابوہریرہ ویلفیئر ٹرسٹ کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایسے ادارے ہر شہر میں ہونے چاہئیں تاکہ نوجوان جرائم سے دور رہیں۔ میں ان کا اور ان کی جماعت کا مشکور ہوں جنہوں نے اتنا بڑا اصلاحی ادارہ قائم کیا۔ ہماری ہمدردیاں ان کے ساتھ ہیں۔ سینئر صحافی مصنف کتب کثیرہ ملک کے معروف اینکر چوہدری سہیل وڑائچ نے اصلاح معاشرہ اور جرائم کی روک تھام پر مختصر مگر جامع گفتگو فرمائی۔ انہوں نے قوت برداشت‘ صبر‘ تحمل کے فوائد بتلاتے ہوئے نوجوانوں کو شرافت‘ نفاست‘ غمگساری‘ عاجزی کی تلقین کی۔ انہوں نے کہا کہ معاشرہ کو خوبصورت پر امن رکھنا جوان نسل کا فرض ہے۔ ہم آج اس طرز کے پروگرام میں شرکت کر کے خوشی محسوس کر رہے ہیں۔ مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان‘ ابوہریرہ ویلفیئر ٹرسٹ اور حافظ محمد یونس آزاد سمیت ان کے ساتھیوں ممبران ٹرسٹ کا بے حد مشکور ہوں جنہوں نے موقع فراہم کیا۔ انہوں نے کہا کہ جس ملک کی نوجوان نسل سیدھے راستے پر چل پڑے اس کی ترقی کو کوئی نہیں روک سکتا۔ انسداد جرائم سیمینار سے حافظ شفیق الرحمن یزدانی‘ چوہدری الطاف حسین‘ محمد جاوید بٹ‘ حافظ عمر یونس آزاد‘ میاں محمد طیب‘ ملک اظہر فرمائش علی کے علاوہ دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا۔ آخر میں سینئر نائب ناظم اعلیٰ مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان مولانا محمد نعیم بٹ نے اپنے خطاب میں دو قسم کے جوانوں کا تذکرہ بڑے خوبصورت انداز میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک جوان شراب کا رسیا‘ جوئے کا کھلاڑی‘ چور‘ راہزن‘ ڈکیت‘ آوارہ‘ ناکارہ‘ پھڈے باز جھگڑالو‘ قاتل‘ راستہ روکنے والا‘ بدتمیز‘ بے حیاء‘ فضول گیمز کا متوالا‘ والدین کا بے ادب معاشرے کے لیے ناسور‘ امن وامان کا قاتل ہے۔ دوسری طرف ایک جوان شریف النفس‘ نیکیوں کا متلاشی‘ دوسروں کے کام آنے والا‘ دکھ درد کا ساتھی‘ قول کا سچا‘ کردار کا سچا‘ نمازی‘ عبادت گذار‘ مؤدب‘ مؤذن‘ معاشرے کا حسن قائم کرنے والا‘ غریبوں مظلوموں کا غمگسار‘ قرآن وسنت کا عامل ہے۔ آج فیصلہ کرو ہمارا شمار کن میں ہونا چاہیے۔ یہاں انہوں نے معراج کی رات کا واقعہ بیان کیا۔ ایک جوان نور کی چادر میں لپٹا عرش الٰہی کے نیچے کھڑا تھا نبی کریمe نے پوچھا جبریل یہ کون ہے؟ کوئی نبی ہے؟ یا شہید ہے؟ عرض کیا نہیں یہ جوان ہر وقت اپنی زبان کو ذکر الٰہی سے تر رکھتا تھا اور اس کا دل مسجد سے معلق رہتا تھا۔ انہوں نے کہا ہم ایسے نوجوان بنانا چاہتے ہیں‘ جوانوں کا کردار سنوارنا چاہتے ہیں تا کہ جرائم کا خاتمہ ہو اور معاشرہ پاکیزہ‘ پوتر اور صالح ہو۔ یہی میری جماعت مرکزی جمعیت اہل حدیث اور میرے احباب کا مشن ہے۔ دعائے خیر حافظ محمد یونس آزاد نے کروائی‘ یوں یہ خوبصورت فنگشن اختتام کو پہنچا۔ پروگرام انتہائی منظم‘ کامیاب اور با مقصد رہا۔ اجتماع کے عام شرکاء کی بہترین ضیافت کی گئی۔ سیمینار کی کامیابی کے لیے میاں محمد راحیل اکرم‘ محمد سمیع اللہ‘ قاری محمد عبداللہ‘ محمد نوید مغل‘ محمد عظیم مغل اور ان کے ساتھیوں نے انتھک کوششیں کیں۔   (رپورٹ: زبیر یونس‘ ابوذر یونس)


No comments:

Post a Comment