کشمیر ... قرار دادِ مذمت سے آزاد نہیں ہو گا 36-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Wednesday, October 02, 2019

کشمیر ... قرار دادِ مذمت سے آزاد نہیں ہو گا 36-2019


کشمیر ... قرار دادِ مذمت سے آزاد نہیں ہو گا

تحریر: جناب ڈاکٹر مقبول احمد مکی
کشمیر وہ خطہ ہے جس کی ماضی میں مثال خوبصورتی، سرسبز وشادابی، قدرتی حسن، بلند وبالا پہاڑوں، دنیا کے بہترین پھلوں، میووں، برف پوش چوٹیوں، حسین وادیوں، یہاں کے باسیوں کے مثالی اخلاق اور جفاکشی، اسلام دوستی، محبت، بھائی چارہ، دنیا کے مختلف خطوں میں کشمیری نوجوانوں کی مثالی خدمات اور اعلیٰ صلاحیتوں کے حوالے سے دی جاتی تھی۔ ریاست جموں وکشمیر بنیادی طور پر ۷ بڑے ریجنوں وادی کشمیر، جموں، کارگل، لداخ،  بلتستان، گلگت‘ پونچھ اور درجنوں چھوٹے ریجنوں پر مشتمل ۸۴ ہزار ۴۷۱ مربع میل پر پھیلی ہوئی ہے۔آج کی دنیا میں جس ریاست کی بات کی جاتی ہے وہ ۱۵ اگست ۱۹۴۷ء میں قائم ریاست جموں وکشمیر ہے اور اقوام متحدہ میں یہ پوری ریاست متنازع کشمیر قرار پائی۔
۱۴‘ ۱۵ اگست ۱۹۴۷ء کو جب بھارت اور پاکستان وجود میں آئے اس وقت کشمیر ایک خود مختار شاہی ریاست تھی اور کشمیر کے پاس انڈیا یا پاکستان میں سے کسی ایک ملک کے ساتھ الحاق کرنے کا اختیار موجود تھا۔ کشمیر میں اکثریت مسلمان تھی جبکہ وہاں کا حکمران ہندؤوں راجہ ہری سنگھ تھا۔ پاکستان کی کوشش تھی کہ کشمیر خود کو پاکستان میں ضم کردے یا پاکستان کے ساتھ الحاق کرلے۔ دوسری طرف بھارت اپنی جگہ انہی کوششوں میں سرگرم تھا۔ جبکہ کشمیری عوام جن کی اکثریت مسلمانوں پر مشتمل تھی وہ پاکستان کے ساتھ نا سہی لیکن بھارت کے ساتھ الحاق پر بالکل بھی تیار نہیں تھی۔ کہانی تب مشکوک ہوئی جب کشمیری عوام نے راجہ ہری سنگھ کا جھکاؤ بھارت کی طرف جھکتا ہوا دیکھا اور کشمیری مسلم اکثریت میں بغاوت نے سر اٹھا لیا۔ مسلمان اکثریت نے راجہ ہری سنگھ کے سامنے اپنے مطالبات رکھتے ہوئے کہا کہ چونکہ ہندوستان کا بٹوارا مذہب اور دو قومی نظریہ کی بنیاد پر ہوا ہے تو اگر الحاق ہی کرنا ہے تو پاکستان سے کرو کیونکہ کشمیر میں اکثریت مسلمانوں کی ہے۔راجہ ہری سنگھ چونکہ ہندو تھا اس لیے وہ پاکستان کے ساتھ الحاق کا سخت مخالف تھا لیکن ساتھ ہی ساتھ اسے اپنا اقتدار بھی عزیز تھا اس لیے اسے وہی ملک عزیز تھا جو اس کے اقتدار کی تاحیات ضمانت دیتا اور ایسی صورتحال میں ایک ہندو کے لیے ہندوستان ہی بہتر انتخاب تھا۔ ۲۲ اکتوبر ۱۹۴۷ء کو راجہ ہری سنگھ کا جھکاؤ بھارت کی طرف دیکھ کر کشمیری مسلم اکثریت نے قبائلی جنگجوؤں کو اپنا دکھڑا سنایا اور مدد کی اپیل کی جس کے نتیجے میں ۲۰ ہزار سے زائد قبائلی جنگجوؤں کشمیر میں داخل ہوگئے۔ چونکہ کشمیری مسلم اکثریت پاکستان کے ساتھ الحاق پر راضی تھی وہ راجہ ہری سنگھ کو پاکستان کے ساتھ الحاق پر کسی بھی طرح راضی کرنا چاہتے تھے‘ اس لیے اس کار خیر میں پاکستانی حکومت نے بھی یقینا اپنا حصہ ڈالا اور یہی راجہ ہری سنگھ کے بھارت سے الحاق کی وجہ بنی۔ ادھر قبائلی جنگجو کشمیر میں داخل ہوئے ادھر راجہ ہری سنگھ اقتدار سے ہاتھ دھونے کے ڈر سے مدد کے لیے دہلی چلا گیا۔ بھارت نے مدد کے بدلے الحاق کی شرط رکھ دی جسے راجہ ہری سنگھ نے فورا قبول کرلیا‘ لیکن راجہ ہری سنگھ حاضر دماغ تھا اس نے الحاق ایسا کیا کہ انڈیا کے ہاتھ بھی کچھ نا آیا۔راجہ ہری سنگھ نے بھارت کے ساتھ جس الحاق پر دستخط کیے تھے اس کے نقاط مندرجہ ذیل تھے:
1          بھارت کا ریاست کشمیر میں اختیار اس دستاویز میں درج شقوں کے مطابق ہوگا۔
2          بھارتی پارلیمنٹ کو کشمیر میں صرف ان معاملات میں قانون سازی کا اختیار ہوگا جو ۱۹۳۵ء ایکٹ کے شیڈول میں درج ہیں۔
3          ۱۹۳۵ء ایکٹ میں یا بھارت آزادی ایکٹ ۱۹۴۷ء میں کسی ترمیم کے ذریعے اس الحاق میں درج شرائط میں ردوبدل نہیں کرسکتا۔
4          بھارتی پارلیمنٹ کوئی ایسا قانون نہیں بنا سکتی جس کے ذریعے جموں و کشمیر میں جبراً زمین کا حصول کیا جائے، اور اگر بھارت کو اپنے کام کے لیے زمین کی ضرورت پڑی تو وہ زمین ریاست کشمیر ان کو حاصل کرکے دے گی ان شرائط پر جو باہمی طور پر طے پائی جائیں گی۔
5          اس معاہدے کی کوئی شق مجھے اس کا پابند نہیں کرتی کہ میں بھارت کے آئندہ بننے والے آئین کو منظور کروں اور نہ ہی مستقبل کے آئین کو قبول کرنے یا نہ کرنے کے میرے اختیار پر کوئی پاپندی عائد ہوتی ہے۔
6          اس معاہدے میں کوئی بات ایسی نہیں جو اس ریاست میں اور اس کے اوپر میری خود مختاری کو متاثر کرے، سوائے اسکے جیسا کہ اس دستاویز میں بیان کردیا گیا ہے، ریاست کشمیر پر میرے اختیار، اقتدار اور استحقاق جو مجھے بحیثیت حکمرانِ ریاست حاصل ہیں کم نہیں ہونگے‘ نہ ہی ان قوانین کی تنفیذ جو اس وقت نافذ العمل ہیں۔یہ وہ مضبوط الحاق تھا جو راجہ ہری سنگھ نے بھارت کے ساتھ کیاجس کے نتیجے میں بھارت نے کشمیر میں اپنی فوج داخل کی اور پاک بھارت پہلی جنگ کا آغاز ہوا۔ جنگ کی صورتحال خطرناک حد میں داخل ہوچکی تھی پھر اقوام متحدہ نے جنگ بندی کروائی تب تک پاکستان نے کشمیر کا ۳۸ فیصد حصہ فتح کرلیا تھا جو آج الحمدللہ آزاد کشمیر کی شکل میں پاکستان کے پاس ہے۔
غور کریں پاکستان نے اس وقت اپنے سے دو گنا بڑے ملک بھارت سے جنگ لڑ کر کشمیر کا ۳۸% حصہ اپنے نام کیا جب پاکستان کی عمر صرف ۲ مہینے ۱۰ دن تھی۔آج کی صورتحال یہ ہے کہ بھارت راجہ ہری سنگھ کے ساتھ کیے ہوئے اس تمام الحاق کی دھجیاں اڑا کر وہاں پر قابض ہوچکا ہے۔
۱۹۴۹ء میں بھارت کے کشمیر کے ساتھ الحاق کے بعد جب بھارتی آئین بنایا جارہا تھا تب کشمیر کی حیثیت کا مسئلہ کھڑا ہوگیا۔بھارت نے اس مسئلے کا حل یہ نکالا کہ کشمیر کی حیثیت کو آئین کے اس حصے میں ڈال دیا جائے جو عارضی، انتقال اور خصوصی معاملات سے متعلق ہے۔اس کے لئے بھارتی آئین میں ایک نیا آرٹیکل شامل کیا گیا جس کا نمبر ۳۷۰ ہے۔
Ý          اس آرٹیکل ۳۷۰ کے مطابق بھارت کے آئین میں جو کچھ بھی لکھا ہو، ریاست کشمیر کے ضمن میں پارلیمنٹ کو قانون سازی کا حق صرف ان معاملات تک محدود ہے جو کشمیری حکومت کے مشورے سے صدر جمہوریہ طے کریں گے۔
Þ          جو دستاویز الحاق سے مطابقت رکھتی ہے اس کا تعین بھی صدر ہی کریں گے اور بھارتی آئین کے کون سے حصے کشمیر میں لاگو ہوں گے اس کا تعین بھی صدر ہی کریں گے مگر کشمیری حکومت کی منظوری کے بعد۔
ß          اس آرٹیکل میں صدر کو یہ اختیار بھی حاصل ہے کہ وہ اس آرٹیکل کو جب چاہے ختم کردیں، لیکن صدر یہ اختیار صرف اس صورت میں استعمال کرے گا جب کشمیری حکومت اس کو منظور کرلے گی۔ ۱۹۵۳ء میں اُس وقت کے خودمختار حکمران شیخ محمد عبداللہ کی غیرآئینی معزولی کے بعد بھارتی وزیراعظم جواہر لعل نہرو کی سفارش پر صدارتی حکم نامے کے ذریعے آئین میں دفعہ 35-A کو بھی شامل کیا گیا، جس کے مطابق بھارتی وفاق میں کشمیر کو واضح طور پر ایک علیحدہ ریاست کی حیثیت دی گئی۔ آرٹیکل 35-A آرٹیکل ۳۷۰ کی ہی ایک مضبوط اور مکمل قانونی شکل ہے۔ فرق بس یہ ہے کہ ۱۹۴۹ء میں بھارتی آئین میں آرٹیکل ۳۷۰ کو عارضی، انتقال اور خصوصی معاملات کے طور پر آئین میں شامل کیا گیا جب کہ ۱۹۵۳ء میں آرٹیکل 35-A کو مکمل قانونی حیثیت دے کر بھارتی آئین میں شامل کرلیا گیا تھا۔
آرٹیکل 35-A کے مطابق 1 کوئی شخص صرف اسی صورت میں جموں کشمیر کا شہری ہو سکتا ہے اگر وہ وہاں پیدا ہوا ہو۔ 2 کسی بھی دوسری ریاست کا شہری جموں کشمیر میں زمین جائیداد نہیں خرید سکتا۔ 3 کسی بھی دوسری ریاست کا شخص کشمیر میں سرکاری نوکری نہیں حاصل کر سکتا۔ 4 کوئی بھی دوسری ریاست کا شخص جموں کشمیر میں ووٹ کاسٹ نہیں کرسکتا ،آرٹیکل 35-A جموں و کشمیر کے لوگوں کو مستقل شہریت کی ضمانت دیتا ہے اور راجہ ہری سنگھ کے بھارت کے ساتھ ہونے والا الحاق بھی چیخ چیخ کر یہی کہہ رہا ہے۔بھارتی پارلیمنٹ نے آرٹیکل 35-A کو ختم کرکے نہ صرف اس الحاق کی خلاف ورزی کی جو راجہ ہری سنگھ نے بھارت کے ساتھ کیا تھا بلکہ بھارتی سابقہ حکومت کے اپنے ہی بنائے ہوئے قانون آرٹیکل ۳۷۰ کی بھی نفی کردی۔آرٹیکل ۳۷۰ ہو یا آرٹیکل 35-A یہ دونوں آرٹیکل ایک دوسرے کے بغیر کچھ نہیں‘ کسی بھی ایک آرٹیکل کو ختم کردیا جائے دوسرا آرٹیکل اپنی موت خود مرجائے گااور ایسا ہوچکا ہے۔آرٹیکل 35-A کو ختم کرکے بھارت نے اپنے مزموم مقاصد عالمی دنیا کو بتا دیے ہیں‘ بھارت کاپوری طرح دنیا کے سامنے خبث باطن ظاہر ہوچکا ہے۔ جب کہ کشمیری عوام اور حکمرانوں کا کہنا ہے کہ بھارت کے اس عمل کی ان کے نزدیک کوئی قانونی حیثیت نہیں۔بھارت فلسطین کی کہانی کشمیر میں بھی دہرانا چاہتا ہے۔ بھارت کا مقصد یہ ہے کہ آرٹیکل 35-A یا آرٹیکل ۳۷۰ کو ختم کرکے بھارتیوں کو وہاں پر پراپرٹی خریدنے کی اجازت دے دی جائے پھر وہاں پر انڈیا کے لوگوں کو سرکاری نوکریاں آفر کی جائیں اور شہریت دے کر ووٹ کا حق بھی دیا جائے۔ آسان زبان میں کشمیر میں ہندو آبادی میں اضافہ کیا جائے کیونکہ انڈیا تب تک کشمیر حاصل نہیں کرسکتا جب تک ریفرنڈم کروا کر وہاں کی عوامی رائے میں بھاری اکثریت حاصل نہیں کرلیتا۔ آرٹیکل 35-A میں ترمیم ایک طرح کا طبل جنگ ہے جو بھارت نے بجا دیا ہے‘ اب اگر عالمی طاقتیں اس پر خاموش تماشائی بنی رہیں تو اس کا مطلب یہی ہوگا کہ بھارت نے یہ کام امریکہ و اسرائیل کے زیر سایہ ہی کیا ہے۔پاکستان کو اس پر زبردست اقدامات اٹھانے چاہئیں اور ایک جامع اور جارحانہ پالیسی اپنا کر عالمی طاقتوں کے سامنے کشمیری عوام کی بھرپور جنگ لڑنی چاہیے اور پاکستانی عوام کو بھی ہر فورم پر مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرتے رہنا چاہیے۔عام لوگ جان لیں کہ آرٹیکل ۳۷۰ اور آرٹیکل 35-A اے کی منسوخی سلامتی کونسل کی قرادادوں کی کھلی توہین ہے اس آگ میں انڈیا ہی جلنے والا ہے۔ ان شاء اللہ!
کشمیری عوام کو مسائل سے دوچار کرنے کے لیے بھارت نے سازشوں سے کام لیا وہیں پربرصغیر پاک وہند کی تقسیم میں قادیانی جماعت کا بڑا ہی گھناونا کردار رہا ہے۔ پاکستان کے پہلے وزیر خارجہ ظفر اللہ خان نے باؤنڈری کمیشن کے سربراہ اوروائسرائے ہند سے مل کر پاکستان کیخلاف ایسی گھناونی اور شرمناک سازشیں کیں ، جن کی وجہ سے حیدرآباد دکن، ریاست کشمیر، تحصیل پٹھان کوٹ، گجرات، گورداسپور اور کئی مسلم اکثریتی علاقے بھارت میں شامل کر دیئے گئے جس میں ریڈ کلف، ماونٹ بیٹن اور ظفر اللہ قادیانی شریک تھے۔ تاریخ کے اوراق میں اس سازش کے کئی پوشیدہ ثبوت موجود ہیں۔تقسیم کے وقت گورداسپور میں ۵۱ فیصد مسلمان تھے۔ ۴۹ فیصد ہندو اور ۲فیصدقادیانی تھے۔ طے یہ تھا کہ اکثریت کی بنیاد پر فیصلہ ہوگا۔ اس موقع پر قادیانیوں نے ہندوؤں کا ساتھ دیا اور مسلمانوں سے الگ ہوئے۔ اس طرح ہندو ۴۹ فیصد سے ۵۱ فیصد ہوئے اور مسلمان ۵۱ فیصد سے ۴۹ فیصدرہ گئے۔ یوں قادیانیوں اور ہندوؤں کی ملی بھگت سے گورداسپور جاتارہا۔ یہ وہ واحد زمینی راستہ تھا جو کہ گورداسپور سے کشمیر کو جاتا تھا۔بھارت نے اپنی فوجیں کشمیر میں داخل کر کے وادی پر ناجائز قبضہ کر لیا۔ دوسرے لفظوں میں ریاست کشمیر کے خلاف ریڈ کلف، ماؤنٹ بیٹن اور قادیانیوں نے ناپاک سازش تیار کی جس کے نتیجے میں کشمیر کا مسئلہ پیدا ہوا۔ قادیانیت نے پاکستانی مفادات کو نقصان پہنچانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔ کشمیری مسلمان ستربرسوں سے بھارتی ظلم وجبر کی چکی میں پستے چلے آرہے ہیں۔یہ مہربانی بھی قادیانیت ہی کی تھی۔ جو آج کشمیر پر بھارتی ناجائزقبضہ ہے۔ پنجاب باونڈری کمیشن میں دو مسلم اور دو غیر مسلم ممبران شامل تھے اور سرظفر اللہ خان وکیل تھے۔ قادیانی اخبار الفضل(قادیان ۱۹ جون ۱۹۴۷ء) کے مطابق اس وقت کے قادیانی سربراہ مرزا بشیر الدین نے تقسیم کی اکائی ضلع کے بجائے تحصیل کو قراردیا۔ جسے حکم جان کر سرظفر اللہ خان سکہ بند قادیانی نے یہ جانتے ہوئے بھی کہ یہ سراسر بھارتی مفاد میں ہے، اس کے باوجود حد بندی کی اکائی تحصیل کی سطح پر منتخب کی۔ نتیجتاً ہندو اکثریت والی پٹھان کوٹ کی تحصیل بھارت کی جھولی میں جاگری جس کی بدولت بھارت کو کشمیر کا راستہ مل گیا۔ ضلع گورداسپور مسلم اکثریتی ضلع تھا۔ اس کی صرف ایک تحصیل پٹھان کوٹ ہندو اکثریت رکھتی تھی۔ اگر حد بندی ضلعی سطح پر ہوتی تو بھارت کو کشمیر پر ناجائز قبضے کا راستہ نہ ملتا ، نہ ہی پاکستانی دریا بھارتی کنٹرول میں جاتے جن کے منابع کشمیر میں ہیں۔ قادیانیوں نے صرف ہندوؤں کی محبت میں انگریز سرکار کو کہا کہ انہیں امت مسلمہ میں نہ گنا جائے۔ وہ ایک الگ مذہب کے پیروکار ہیں لیکن جب مسلمان یہی کہتے ہیں تو انہیں تکلیف ہوتی ہے‘ وہ اپنے آقاؤں سے اس کی شکایت کرتے ہیں اور روتے ہیں کہ ہمیں مسلمان کیوں نہیں کہا جاتا؟ان سب سازشوں کا اگر حل تلاش کیا جائے تو وہ ایک ہی حل ہے اور وہ ہے الجہاد‘ دوسرے لفظوں میں ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ کشمیر قرار دادِ مذمت سے نہیں بلکہ مودی کی مرمت سے آزاد ہوگا۔


No comments:

Post a Comment