خطبۂ حرم ... اولادِ آدم کی تکریم کی چند مثالیں 36-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Wednesday, October 02, 2019

خطبۂ حرم ... اولادِ آدم کی تکریم کی چند مثالیں 36-2019


خطبۂ حرم ... اولادِ آدم کی تکریم کی چند مثالیں

امام الحرم النبوی فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر علی بن عبدالرحمن الحذیفی d
ترجمہ: جناب محمد عاطف الیاس
حمد و ثناء کے بعد!
اللہ سے ڈرو اور اس کی خوشنوی کے متلاشی بنو۔ اس کے غضب اور اس کی سزا سے ڈرو۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
’’تیرا رب پیدا کرتا ہے جو کچھ چاہتا ہے اور (وہ خود ہی اپنے کام کے لیے جسے چاہتا ہے) منتخب کر لیتا ہے، یہ انتخاب اِن لوگوں کے کرنے کا کام نہیں، اللہ پاک ہے اور بہت بالاتر ہے اُس شرک سے جو یہ لوگ کرتے ہیں۔‘‘ (القصص: ۶۸)
اللہ تعالیٰ نے ساری مخلوق اپنی قدرت سے پیدا فرمائی ہے۔ اپنے علم، اپنی حکمت اور رحمت سے پیدا کی ہے۔ اسی نے یہ کائنات بنائی ہے جسے ہم آج دیکھتے ہیں۔ ان ساری چیزوں کا اس نے ایک وقت بھی مقرر کیا ہے جس کے بعد یہ سب ختم ہو جائیں گی۔ جو کائنات ہمیں نظر آتی ہے اس میں اللہ تعالیٰ نے مختلف چیزوں کے اسباب بھی پیدا کیے ہیں۔ اسباب کو بھی وہی پیدا کرنے والا ہے اور نتائج کو بھی وہی پیدا کرتا ہے۔ جو اللہ چاہتا ہے، وہ ہو کر رہتا ہے۔ جو وہ نہیں چاہتا، وہ کبھی نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
’’اللہ ہر چیز کا خالق ہے اور وہی ہر چیز پر نگہبان ہے۔زمین اور آسمانوں کے خزانوں کی کنجیاں اُسی کے پاس ہیں اور جو لوگ اللہ کی آیات سے کفر کرتے ہیں وہی گھاٹے میں رہنے والے ہیں۔‘‘ (الزمر: ۶۲-۶۳)
اسی طرح فرمایا:
’’اُسی کی خلق ہے اور اسی کا امر ہے‘ بڑا با برکت ہے اللہ، سارے جہانوں کا مالک و پروردگار۔‘‘ (الاعراف: ۵۴)
انسان اللہ کی ایک منفرد مخلوق ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے مختلف حیرت انگیز صفات جمع کی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
’’ہم نے انسان کو بہترین ساخت پر پیدا کیا۔‘‘ (التین: ۴)
اسی طرح فرمانِ الٰہی ہے:
’’اور خود تمہارے اپنے وجود میں ہیں کیا تم کو سوجھتا نہیں؟‘‘ (الذاریات: ۲۱)
اسی طرح فرمایا:
’’اُس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا پھر یکایک تم بشر ہو کہ (زمین میں) پھیلتے چلے جا رہے ہو۔‘‘ (الروم: ۲۰)
اولاد آدم کی تکریم فرما کر اللہ تعالیٰ نے ان پر بہت بڑا احسان فرمایا ہے۔ فرمانِ الٰہی ہے:
’’یہ تو ہماری عنایت ہے کہ ہم نے بنی آدم کو بزرگی دی اور انہیں خشکی و تری میں سواریاں عطا کیں اور ان کو پاکیزہ چیزوں سے رزق دیا اور اپنی بہت سی مخلوقات پر نمایاں فوقیت بخشی۔‘‘ (الاسراء: ۷۰)
اولاد آدم کی تکریم کی گئی ہے تو اس تکریم میں نیک اور گناہ گار سب شامل ہیں۔ اس دنیا کی نعمتیں تو سب کو میسر ہوتی ہیں، جبکہ آخرت کی تکریم نعمت بھری جنت کی صورت میں ہو گی اور یہ مؤمنین کے لیے خاص ہو گی۔ اس میں کافروں کا کوئی حصہ نہیں ہو گا۔
’’اور تیرا رب کسی پر ذرا ظلم نہیں کرتا۔‘‘ (الکہف: ۴۹)
آخرت میں تو اللہ تعالیٰ ان ہی انسانوں اور جنوں کی تکریم فرمائے گا جو اس کے فرماں بردار ہوں گے۔ ابن عساکر نے سیدنا انسt سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہe نے فرمایا:
’’فرشتوں نے کہا: اے ہمارے پروردگار! تو نے اولادِ آدم کو پیدا فرمایا ہے، انہیں کھانا کھانے والا، پینے والا، کپڑے پہننے والا، عورتوں سے شادی کرنے والا، جانوروں کی سواری کرنے والا، سونے والا اور آرام کرنے والا بنایا ہے۔ جبکہ ہمیں ان ساری چیزوں سے محروم رکھا ہے۔ ان کے لیے دنیا رکھ لیجیے اور ہمارے لیے آخرت مختص کر دیجیے۔‘‘
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’جسے میں نے اپنے ہاتھ سے بنایا اور اس میں روح پھونکی ہے، اسے میں اس کے برابر نہیں کروں گا جسے میں نے بس یہی کہا کہ ہو جااور وہ ہو گیا۔‘‘ (سیدنا عبد اللہ بن عمروw کی ایک حدیث اس کی تائید کرتی ہے اور اسے امام طبرانی نے روایت کیا ہے۔)
اولادِ آدم پر اللہ تعالیٰ کا یہ بھی ایک احسان ہے کہ اس نے لوگوں کے لیے ان کے فائدے کی چیزیں، ان کے مفادات اور اپنی نعمتیں ان کے لیے مسخر کی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
’’کیا تم لوگ نہیں دیکھتے کہ اللہ نے زمین اور آسمانوں کی ساری چیزیں تمہارے لیے مسخر کر رکھی ہیں اور اپنی کھلی اور چھپی نعمتیں تم پر تمام کر دی ہیں؟‘‘ (لقمان: ۲۰)
اسی طرح فرمانِ الٰہی ہے:
’’اس نے زمین اور آسمانوں کی ساری ہی چیزوں کو تمہارے لیے مسخر کر دیا، سب کچھ اپنے پاس سے اِس میں بڑی نشانیاں ہیں اُن لوگوں کے لیے جو غور و فکر کرنے والے ہیں۔‘‘ (الجاثیہ: ۱۳)
اولادِ آدم کو نعمتوں سے نوازنے کا مقصد یہ ہے کہ وہ اللہ کی فرماں برداری پر قائم رہیں، اس کا شکر ادا کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
’’اس طرح وہ تم پر اپنی نعمتوں کی تکمیل کرتا ہے شاید کہ تم فرماں بردار بنو۔‘‘ (النحل: ۸۱)
ابن کثیرa اپنی تفسیر میں فرماتے ہیں:
یعنی: اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے ایسی چیزیں پیدا کی ہیں جنہیں استعمال کر کے تم اپنے ضرورتیں پوری کرتے ہو۔ جو کچھ تمہیں چاہیے ہوتا ہے وہ حاصل کرتے ہو۔ اللہ نے آپ کو یہ نعمتیں اسی لیے دی ہیں کہ اطاعت اور عبادت میں آپ کی معاون بن جائیں۔
اللہ تعالیٰ نے آدمu کو اپنے ہاتھ سے پیدا اسی لیے کیا ہے اور تب سے انسان کا کئی مرتبہ ذکر بھی اسی لیے کیا، اس کی تخلیق کے مراحل بھی اسی لیے ذکر کیے تاکہ انسان کو سمجھائے کہ زندگی میں اس کی ذمہ داری کیا ہے۔ اسے اپنی ذمہ داری کا پتا چل جائے۔ وہ اپنی تخلیق کی حکمت جان لے۔ وہ جان لے کہ اسے اللہ تعالیٰ کے احکام پر عمل کرنا ہے، حرام اور حلال کا خیال کرنا ہے، اس کے لیے واضح ہو جائے کہ وہ شریعت کی امانت اٹھانے والا ہے اور اللہ کی عبادت میں ہی اس کی حقیقی عزت ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
’’کیا انسان نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ وہ یونہی مہمل چھوڑ دیا جائے گا؟‘‘ (القیامۃ: ۳۶)
امام شافعیa فرماتے ہیں:
اسے کسی چیز کا حکم نہ دیا جائے گا یا اسے کسی چیز سے روکا نہ جائے گا۔ اسی طرح فرمایا: ’’کیا تم نے یہ سمجھ رکھا تھا کہ ہم نے تمہیں فضول ہی پیدا کیا ہے اور تمہیں ہماری طرف کبھی پلٹنا ہی نہیں؟‘‘ (المؤمنون: ۱۱۵)
اسی طرح اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ بھی بتایا ہے کہ دنیا میں اس کا طریقہ یہ ہے کہ انسان کے نیک اعمال سے اس کی زندگی سنور جاتی ہے، جبکہ برے کاموں سے فساد پیدا ہو جاتا ہے۔ انسان کے نیک یا برے کاموں کا اثر جانوروں، پودوں اور پھلوں پر بھی ہوتا ہے۔ یہ بھی اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کا عدل ہے، اس ڈراوے سے وہ انسان کو نیکی پر قائم رکھتا اور حرام کاموں سے دور کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بیان کیا ہے کہ زندگی میں خیر وبرکت انسان کی نیکی میں ہے۔ فرمایا:
’’اگر بستیوں کے لوگ ایمان لاتے اور تقویٰ کی روش اختیار کرتے تو ہم ان پر آسمان اور زمین سے برکتوں کے دروازے کھو ل دیتے، مگر اُنہوں نے تو جھٹلایا، لہٰذا ہم نے اُس بری کمائی کے حساب میں انہیں پکڑ لیا جو وہ سمیٹ رہے تھے۔‘‘ (الاعراف: ۹۶)
اسی طرح فرمایا:
’’اگر (اِس سرکشی کے بجائے)یہ اہل کتاب ایمان لے آتے اور خدا ترسی کی روش اختیار کرتے تو ہم اِن کی برائیاں اِن سے دور کر دیتے اور ان کو نعمت بھری جنتوں میں پہنچاتے کاش انہوں نے توراۃ اور انجیل اور اُن دوسری کتابوں کو قائم کیا ہوتا جو اِن کے رب کی طرف سے اِن کے پاس بھیجی گئی تھیں‘ ایسا کرتے تو اِن کے لیے اوپر سے رزق برستا اور نیچے سے ابلتا۔‘‘ (المائدہ: ۶۵-۶۶)
قرآن کریم کو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے لیے بھی نازل کیا ہے اور اہل کتاب کے لیے بھی۔ اس کی حفاظت اس نے خود کی ہے۔ اس لیے کوئی شخص اس میں کوئی تبدیلی نہیں کر سکا۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
’’حقیقت میں تو امن انہی کے لیے ہے اور راہ راست پر وہی ہیں جو ایمان لائے اور جنہوں نے اپنے ایمان کو ظلم کے ساتھ آلودہ نہیں کیا۔‘‘ (الانعام: ۸۲)
یعنی: جنہوں نے شرک سے اپنے ایمان کو خراب نہیں کیا جیسا کہ رسول اللہe نے بیان فرمایا ہے۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اگر تم اللہ کی مدد کرو گے تو وہ تمہاری مدد کرے گا۔‘‘ (محمد: ۷)
یعنی: اگر تم اللہ کے دین کی مدد کرو گے۔ اسی طرح فرمانِ الٰہی ہے:
’’یہ وہ لوگ ہیں جنہیں اگر ہم زمین میں اقتدار بخشیں تو وہ نماز قائم کریں گے، زکوٰۃ دیں گے، معروف کا حکم دیں گے اور منکر سے منع کریں گے اور تمام معاملات کا انجام کار اللہ کے ہاتھ میں ہے۔‘‘ (الحج: ۴۱)
ابن کثیرa اپنی تفسیر میں فرماتے ہیں: عمر بن عبدالعزیزa نے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا: یہ آیت صرف حکمران کے لیے نہیں۔ بلکہ یہ خلیفہ اور عوام دونوں کے لیے ہے۔ کیا میں تمہیں یہ نہ بتاؤں کہ حکمران کی ذمہ داری کیا ہے؟ اور آپ کی ذمہ داری کیا ہے؟ حکمران کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اللہ کے حقوق ادا نہ کرنے پر آپ کو پکڑے، اور ایک دوسرے کے حقوق پورے نہ کرنے پر بھی پکڑے۔ جہاں تک اس کے لیے ممکن ہو، آپ کو سیدھا راستہ دکھائے۔ اور آپ کی ذمہ داری یہ ہے کہ تم حکمران کی اطاعت کرو۔ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان پر غور کیجیے:
’’تمام معاملات کا انجام کار اللہ کے ہاتھ میں ہے۔‘‘ (الحج: ۴۱)
چو یہ چار کام کر لیتا ہے وہ امن پا لیتا ہے، اغیار سے اور دشمنون کی چال سے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
’’ان کی کوئی تدبیر تمہارے خلاف کارگر نہیں ہوسکتی بشرطیکہ تم صبر سے کام لو اور اللہ سے ڈر کر کام کرتے رہو جو کچھ یہ کر رہے ہیں اللہ اُس پر حاوی ہے۔‘‘ (آل عمران: ۱۲۰)
جس طرح انسان کی نیکی کا اثر دوسری چیزوں پر ہوتا ہے، اس طرح اس پر خود بھی ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
’’جو شخص بھی نیک عمل کرے گا، خواہ وہ مرد ہو یا عورت، بشر طیکہ ہو وہ مومن، اسے ہم دنیا میں پاکیزہ زندگی بسر کرائیں گے اور (آخرت میں)ایسے لوگوں کو ان کے اجر ان کے بہترین اعمال کے مطابق بخشیں گے۔‘‘ (النحل: ۹۷)
دوسری طرف یہ بات بھی یاد رکھیے کہ انسان کے برے اعمال سے اسے نقصان پہنچتا ہے، اور اس کی زندگی میں فساد برپا ہو جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
’’حق اگر کہیں اِن کی خواہشات کے پیچھے چلتا تو زمین اور آسمان اور ان کی ساری آبادی کا نظام درہم برہم ہو جاتا۔‘‘ (المؤمنون: ۷۱)
اسی طرح فرمایا:
’’خشکی اور تری میں فساد برپا ہو گیا ہے لوگوں کے اپنے ہاتھوں کی کمائی سے تاکہ مزا چکھائے اُن کو ان کے بعض اعمال کا، شاید کہ وہ باز آئیں۔‘‘ (الروم: ۴۱)
اسی طرح فرمایا:
’’تم پر جو مصیبت بھی آئی ہے، تمہارے اپنے ہاتھوں کی کمائی سے آئی ہے، اور بہت سے قصوروں سے وہ ویسے ہی در گزر کر جاتا ہے۔‘‘ (الشوریٰ: ۳۰)
اے انسان! اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
’’کتنی ہی ظالم بستیاں ہیں جن کو ہم نے پیس کر رکھ دیا اور اُن کے بعد دُوسری کسی قوم کو اُٹھایا۔‘‘ (الأنبیاء: ۱۱)
اسی طرح ابن عمرw بیان کرتے ہیں: رسول اللہe نے فرمایا: پانچ چیزیں پانچ چیزوں کا نتیجہ ہیں: جب بھی کسی قوم میں فحاشی اتنی عام ہو جائے کہ وہ اسے علانیہ کرنے لگیں، تو ان میں طاعون اور ایسی بیماریاں پھیل جائیں گی جو ان سے پچھلے لوگوں میں نہ تھیں۔ جو قوم کتاب اللہ کے مطابق فیصلے نہیں کرے گی، اللہ تعالیٰ اسے خانہ جنگی میں مبتلا کر دے گا۔ جو قوم اپنے مال کی زکوٰۃ روکے گی، اللہ ان سے بارشیں روک لے گا۔ اگر جانور نہ ہوں تو کبھی بارش نازل نہ ہو۔ جو قوم ناپ تول میں کمی کرے گی، وہ قحط سالی، مالی مسائل اور حکمران کے ظلم کا شکار ہو جائے گی۔ اور جو قوم اللہ کے ساتھ کیا جانے والا معاہدہ توڑے گی، اللہ تعالیٰ ان کے دشمن ان پر مسلط کر دے گا اور وہ ان کے ہاتھ کی ساری کمائی چھین کر لے جائے گا۔ (ابن ماجہ)
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ’’اور یہ کہ انسان کے لیے کچھ نہیں مگر وہ جس کی اُس نے سعی کی ہے اور یہ کہ اس کی سعی عنقریب دیکھی جائے گی اور اس کی پوری جزا اسے دی جائے گی اور یہ کہ آخر کار پہنچنا تیرے رب ہی کے پاس ہے (النجم: ۴۲-۳۹)
دوسرا خطبہ
حمد وصلوٰۃ کے بعد:
اللہ سے ڈرو اور اس کی طرف جانے والا راستہ تلاش کرو۔ تاکہ اس کی جنت پانے میں کامیاب ہو جاؤ اور اس کی خوشنودی حاصل کر لو۔
اے انسان! دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں کتنی نعمتیں دی ہیں، جنہیں اس کے سوا کوئی گن بھی نہیں سکتا۔ ان کا شکر ادا کر۔ اگر وہ اپنی چھوٹی سے چھوٹی نعمت واپس لے لے تو کوئی اور وہ نعمت لوٹا نہیں سکتا۔ اللہ کی کوئی نعمت چھوٹی نہیں۔ اے انسان! اگر تم استقامت اختیار کر لو، اصلاح کی کوشش کرو اور نیکی میں لگ جاؤ، اور اگر برائیوں سے رک جاؤ تو تمہارا معاشرہ محفوظ ہو جائے گا۔ تم خود بھی تمام برائیوں اور آزمائشوں سے بچ جاؤ گے۔ یاد رکھو کہ زندگی میں بھی تمہارے اعمال کے بارے میں تم سے پوچھا جائے گا اور موت کے بعد بھی۔ تو ذا سوچو کہ تم اپنے پروردگار کو کیا جواب دو گے؟ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
’’اے انسان! تو کشاں کشاں اپنے رب کی طرف چلا جا رہا ہے، اور اُس سے ملنے والا ہے پھر جس کا نامہ اعمال اُس کے سیدھے ہاتھ میں دیا گیا اُس سے ہلکا حساب لیا جائے گا اور وہ اپنے لوگوں کی طرف خوش خوش پلٹے گا‘ رہا وہ شخص جس کا نامہ اعمال اُس کی پیٹھ کے پیچھے دیا جائے گا تو وہ موت کو پکارے گا اور بھڑکتی ہوئی آگ میں جا پڑے گا۔‘‘ (الانشقاق: ۶-۱۲)
حدیث میں ہے: روز قیامت کوئی شخص ایک قدم بھی آگے نہ بڑھا سکے گا جب تک اس سے چار چیزوں کے بارے میں پوچھ نہ لیا جائے: اس کی عمر کے بارے میں کہ اسے کس چیز میں لگایا، جوانی کے بارے میں کہ وہ کس میں لگائی؟ مال کے بارے میں کہ کہاں سے کمایا اور کہاں خرچ کیا؟ اور علم کے بارے میں کہ اس پر کتنا عمل کیا؟۔
اے انسان! یاد رکھ کہ تیرا حقیقی گھر جو ہمیشہ قائم رہے گا وہ موت کے بعد والا گھر ہے۔ اگر نیکیوں کے ذریعے تو اس گھر کو بنا لے تو پھر تو تو مبارک باد کے قابل ہے۔ لیکن اگر تو دنیا پر راضی ہو جائے، آخرت کو بھول جائے تو تیرے لیے تباہی ہے۔ تیری دنیا تجھ سے منہ موڑ رہی ہے۔ تو چاہے یا نہ چاہے۔ اور آخرت تیری طرف بڑھ رہی ہے اور وہ ہمیشہ رہے گی۔
اے اللہ! اے رب ذو الجلال! اے اللہ! اپنے دین، اپنی کتاب، سنت رسولe اور اپنے مؤمن، مجاہد اور سچے بندوں کی مدد فرما! نبی اکرمe کی سنت کو غلبہ نصیب فرما! نبی اکرمe کی سنت کو غلبہ نصیب فرما! اے اللہ! اے پروردگار عالم! جس دینِ اسلام کو دوسرے تمام مذاہب پر غالب فرما! چاہے یہ مشرکوں کو ناگوار ہی کیوں نہ گزرے۔

No comments:

Post a Comment