خبر متواتر 36-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Wednesday, October 02, 2019

خبر متواتر 36-2019


خبر متواتر

تحریر: جناب پروفیسر سید ابوبکر غزنوی
متواتر کا لغوی مفہوم :
متواتر ، تواتر سے اسم فاعل ہے اور تواتر کا معنی وقفوں کے ساتھ آگے پیچھے آناہے۔
معنی میں اختلاف: اللحیانی(اللحیانی علی بن حازم ،فراء کے ہم عصرلغوی ہیں اور اس کے زمانہ میں صدر مجلس رہے ،آپ سے قاسم بن سلام نے علم حاصل کیا ۔آپ کے آثار میں سے ایک کتاب النور ہے۔ کحالۃ عمر رضا :معجم المؤلفین : دار احیاء التراث العربی، بیروت: سن ندارد : ص:۷/۵۶) تواتر کے معنی میں اختلاف یوں ذکر کرتے ہیں :
[لا تكون  متواترة  الا اذا وقعت  بینھما فترة، والا فھی مداركة، ویقال:  ناقة  مواترة؛ تضع ركبتھا ثم  تمكث تم تضع الاخری۔] (احمد بن فارس، ابوالحسن: معجم مقاییس اللغة: مكتبة الاعلام الاسلامی، قم ایران: ۱۴۰۴ھ/۱۹۸۵ء: ص: ۶/۸۴)
’’متواترۃ:متابعہ کو کہا جاتاہے ، دونوں چیزوں میں تواتر صرف اس وقت ہوگا جب دونوں کے درمیان وقفہ ہو، ورنہ اسے مدارکہ کہاجائے گا ، ’’ناقۃ مواترۃ‘‘ (آگے پیچھے پائوں رکھنے والی اونٹنی ) اسے کہا جاتا جو اپنا ایک گھٹنا رکھ کر ٹھہر جائے ، پھر دوسرا گھٹنا رکھے۔‘‘
مذکورہ بالا معنوی اختلاف حسب ذیل طریقہ سے سمجھا جاسکتاہے:
1          ایک چیز کا دوسری چیز کے پیچھے وقفہ کے ساتھ آنا۔
2          ایک چیز کا دوسری چیز کے پیچھے بغیر وقفہ کے آنا ۔
پہلے معنی کی تائید قرآن مجید سے ہوتی ہے:
{ثُمَّ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا تَتْراً} (المؤمنون: ۴۴)
’’ہم نے لگاتار رسول بھیجے یعنی ایک کے بعد دوسرے کو بھیجا۔‘‘
الجوہری(م۳۹۳ھ) پہلے قول کی تائید میں لکھتے ہیں:
[المواترة  المتابعة ولا تكون  المواترة بین الاشیاء الا اذا وقعت بینھما فترة والا فھی  مداركة و مواصلة۔] (الجوہری، اسماعیل بن حماد: تاج اللغة وصحاح العربیة: دارالملایین، بیروت / ۱۳۸۹ھ/۱۹۷۹ء: ص: ۲/۸۴۳)
’’متواترۃ‘‘سے مراد متابعت ہے ،دوچیزوں میں ’تواتر‘ صرف اس وقت ہوگا جب دونوں چیزوں کے درمیان (ایک دوسرے کے آگے پیچھے آنے میں) وقفہ ہو، ورنہ اسے مدارکہ (مدارکہ :ایک چیز کا دوسری کو پالینا۔) اور مواصلہ (مواصلۃ: ایک چیز کا دوسری سے مل جانا۔) کہاجائے گا۔‘‘
خبر متواتر کا اصطلاحی مفہوم:
حافظ ابن الصلاح (م۶۴۲ھ) اس کی تعریف یوں ذکر کرتے ہیں:
[فانہ  عبارة  عن الخبر الذی ینقلہ من یحصل العلم بصدقہ ضرورة ، ولا بد  فی اسنادہ  من استمرار ھذا  الشرط فی روایتہٖ من اولہ الی منتھاہ۔] (ابن الصلاح، عثمان بن عبدالرحمان، ابوعمرو :مقدمة ابن الصلاح فی علوم الحدیث:فاروقی كتب خانہ ، ملتان : سن ندارد:ص: ۳۵)
’’متواتر سے مراد ایسی خبر ہے جس کی سچائی کے بارے میں علم ضروری حاصل ہواور اس خبرکو روایت کرنے میں اس شرط(خبر کی سچائی کے بارے میں حصول علم ِ ضروری) کا سندکے اول سے آخر تک جاری رہنا ضروری ہے۔‘‘
الجزائری(م ۱۳۳۴ھ)اس کی تعریف یوں بیان کرتے ہیں:
[وحد التواتر مالا یمكن الشك فیہ كا لعلم بوجود الانبیاء ووجود البلاد المشہورة وغیر ھا وانہ متواتر فی الاعصار كلھا عصرا بعد عصر الی زمان النبوة۔] (الجزائری،طاہر بن صالح :توجیہ النظر الی اصول الاثر:دارالمعرفة ،بیروت ، سن ندارد:ص: ۴۲)
’’ متواترۃ وہ ہوتی ہے جس میںشک کا امکان نہ ہو جیسے انبیاء اور بلاد مشہورہ وغیر ہ کے وجود کے بارے میںعلم ہے ، اور یہ (علمِ ضروری) ایک زمانے کے بعد دوسرے زمانے میںہوتا ہوا زمانہ نبوت تک تمام زمانوں میں متواتر رہے۔‘‘
 خبر متواتر کی شروط:
خبرکے متواتر ثابت ہونے کے لیے اس میںدرج ذیل شروط کا پایا جانا ضروری ہے:
1          اس کی اسنادبلا تعین کثیر ہوں۔
2          راویوں کی تعداد اتنی زیادہ ہو کہ ان کا عادتاً جھوٹ پر جمع ہونا یا ان سے جھوٹ کا اتفاقیہ صادر ہونا محال ہو۔
3          یہ کثرت ابتدائے سند سے انتہائے سند تک یکساں ہو۔
4          خبر کا تعلق حس(یعنی مشاہدہ یاسماع ) سے ہو،عقل سے نہ ہو۔(یعنی راوی سمعنا ، رأینا وغیرہ الفاظ کے ساتھ روایت کریں)
5          خبر مفید علم یقینی (علم یقینی:اس اعتقاد کو کہا جاتا ہے جو واقع کے مطابق ہو اور جس پر پورا اعتماد ویقین ہو۔ علم یقینی کی اقسام: اس کی دو قسمیں ہیں: Ý علم ضروری :یہ ہر سامع کو حاصل ہوتا ہے اور اسے ہر انسان تسلیم کرنے پر مجبور ہوتاہے اسے مسترد کرنا ناممکن ہوتاہے[نزہۃالنظر:ص:۱۵]۔Þ علم نظری۔اس سے مراد ایسا علم ہے جو نظر و استدلال سے حاصل ہو اور یہ اسی شخص کو حاصل ہوتاہے جس میں نظر واستدلال کی اہلیت ہوتی ہے۔حافظ ابن حجر (م۸۵۲ھ) نے اس کی تعریف یوں کی ہے: النظر: ترتیب امور معلومۃ اومظنونۃ یتوصل بھا الی علوم او ظنون [نزہۃ النظر:ص:۱۵]یعنی چند امور معلومہ یا امور ِ مظنونہ کو اس طرح ترتیب دیا جائے کہ علوم و ظنون تک پہنچا جاسکے ۔جو علم اس طرح حاصل ہو اسے نظری کہا جاتا ہے۔)
                ضروری ہو (ابن حجرعسقلانی :  نزہۃ النظرفی توضیح نخبۃ الفکر : فاروقی کتب خانہ ، ملتان: ص: ۹-۱۲)
متواتر حدیث کے رواۃ کی تعداد کے بارے میں مختلف آراء:
کثرتِ رواۃ: کثرتِ رواۃ کے بارے میں مختلف لوگوں کے مختلف خیالات ہیں: مثلاً:
1          بعض نے شہادت ِزنا پر قیاس کرتے ہوئے چار کا تعین کیا، (نفس المرجع:ص:۱۰) ان کی دلیل یہ آیت ہے {لَولاَ جَآءُوْا عَلَیْہِ بِاَرْبَعَةِ شُھَدَآءَ} (النور:۱۳)
2          بعض نے کم از کم پانچ کا تعین کیا ہے(المرجع السابق ) اور ان کی دلیل شہادتِ لعان کے بارے نازل شدہ یہ آیات ہیں:
{وَالَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ أَزْوَاجَہُمْ وَلَمْ یَكن لَّہُمْ شُہَدَآئُ  إِلَّا أَنفُسُہُمْ فَشَہَادَة أَحَدِہِمْ أَرْبَعُ شَہٰدٰتٍ بِاللّٰہِ إِنَّہُ لَمِنَ الصَّادِقِیْنَ وَالْخَامِسَة اَنَّ لَعْنَتَ اللّٰہِ عَلَیْْہِ إِنْ كانَ مِنَ الْكاذِبِیْنَ وَیَدْرَأُ عَنْہَا الْعَذَابَ أَنْ تَشْہَدَ أَرْبَعَ شَہٰدٰتٍ بِاللّٰہِ إِنَّہُ لَمِنَ الْكاذِبِیْنَ وَالْخَامِسَة اَنَّ غَضَبَ اللّٰہِ عَلَیْْہَا إِنْ كانَ مِنَ الصَّادِقِیْنَ} (النور :۶-۹)
’’اور جو اپنی بیویوں پر بدکاری کی تہمت لگائیں اور ان کے گواہ ان کے سوا (کوئی اور) نہ ہوں ، تو ایسے شخص کی گواہی کی یہ صورت ہے کہ چار بار اللہ کی قسم کھاکر گواہی دے کہ یہ سچا ہے ۔اورپانچویں بار یہ کہ اللہ کی لعنت ہو اس (مرد)پر اگر یہ جھوٹا ہو۔ اورعورت سے اس طرح سزاٹل سکتی ہے کہ وہ چار دفعہ اللہ کی قسم کھا کر گواہی دے کہ یہ شخص (اپنے الزام میں) جھوٹا ہے ۔اورپانچویں مرتبہ کہے کہ اس (عورت ) پر اللہ کا غضب ہو ،اگر وہ(خاونداپنے الزام میں) سچاہو۔ ‘‘
3          اور بعض نے زمین وآسمان اوردنوں کی تعداد پر قیاس کرتے ہوئے کم از کم سات کا تعین کیاہے۔ (ابن حجر:نزہۃ النظر:ص:۱۰)
4          بعض نے اس بات کوپیش نظر رکھتے ہوئے کہ جمع کثرت کا اطلاق کم از کم دس پر ہوتاہے اس کے رواۃ کی کم از کم تعداد دس بتائی ہے۔ (نفس المرجع )
5          بعض نے نقبا ء بنی اسرائیل پر قیاس کرتے ہوئے کم از کم تعداد بارہ بتائی ہے۔ (نفس المرجع) اوران کی دلیل یہ آیت ہے :
{وَلَقَدْ أَخَذَ اللّٰہُ مِیْثَاقَ بَنِیْ إِسْرَائِیْلَ وَبَعَثْنَا مِنْہُمُ اثْنَیْْ عَشَرَ نَقِیْباً} (المائدة:۱۲)
’’اور اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے عہد لیا اور ہم نے ان میں بارہ نقیب مقررکیے۔‘‘
6          اوربعض کے ہاں اس کے رواۃ کی کم از کم تعداد چالیس ہے۔ (ابن حجر:نزہۃ النظر:ص:۱۰) اوران کے پیش نظر یہ آیت ہے {یٰٓأَیُّہَا النَّبِیُّ حَسْبُك اللّٰہُ وَمَنِ اتَّبَعَك مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ} (الانفال:۶۴) ’’اے نبی!اللہ آپ کو اورآپ کے پیروکار مومنوں کو کافی ہے۔‘‘
7          بعض کے ہاں خبر متواتر کے رواۃ کی کم از کم تعداد ستر ہونی چاہیے (المرجع السابق) ان کی دلیل یہ آیت ہے :
{وَاخْتَارَ مُوْسٰی قَومَہٗ سَبْعِیْنَ رَجُلاً لِمِیْقَاتِنَا} (الاعراف:۱۵۵)
’’اور موسیu نے ہمارے مقرر کیے ہوئے وقت پر حاضر ہونے کے لیے اپنی قوم کے ستر سردار منتخب کیے ۔‘‘
الکتانی نے حافظ ابن حزم سے خبر متواتر کی مقبولیت کے لیے مختلف لوگوں سے مختلف تعداد نقل کی ہے۔آپ لکھتے ہیںکہ بعض نے یہ تعداد تمام اہل مشرق و مغرب بتائی ہے اورایک جماعت نے بے شمار تعداد اس کے لیے شرط قرار دی ہے ، بعض سے قسامہ کی تعداد یعنی پچاس افراد ، بعض نے چالیس افراد ، بعض سے بیس ، بعض نے پندرہ ، بعض نے بارہ ایک جماعت نے کم ازکم چار اورایک جماعت نے یہ تعداد کم ازکم تین بتائی ہے۔(الجزائری :توجیہ النظر الی اصول الاثر:ص: ۴۲)
لیکن یہ تمام خیالات بلادلیل ہیں،چنانچہ حافظ ابن حزمa لکھتے ہیں:
[وھذہ كلھا اقوال بلا برھان۔] 
’’یہ تمام اقوال بلا دلیل ہیں۔‘‘ (ابن حزم، علی بن حزم، ابومحمد الظاہری: الاحکام فی اصول الاحکام (تحقیق: احمد محمد شاکر): ضیاء السنۃ، فیصل آباد: ۱۴۰۴ھ/۱۹۸۵ء: ص: ۱/۱۰۵)
اگرچہ یہ مختلف تعداد قرآن مجید کی مختلف آیات یا بعض احادیث سے استنباط کی گئی ہے لیکن اسے قطعی نہیں کہاجاسکتا ، کیونکہ یہ آیات مخصوص واقعات سے تعلق رکھتی ہیں ۔اس لیے انہیں متواتر کے رواۃ کی تعداد کے لیے قطعی بنیاد بنانا واضح نہیں ہوتا،لہٰذا جو تعداد بھی مفید علمِ ضروری ہو وہ کافی ہے اوریہی صحیح ہے اورحافظ ابن حجرa کی رائے بھی یہی ہے۔ آپ فرماتے ہیں:
[لامعنی لتعیین العدد علی الصحیح] (ابن حجر:نزہۃالنظر:ص:۱۰) ’’صحیح مذہب کے مطابق تعداد کا تعین بے معنی ہے۔‘‘
حافظ ابن حجرa وغیر ہ کی ذکر کردہ خبر متواتر کی شرائط میں سے ایک شرط یہ ہے کہ
’’راویوں کی تعداد اتنی زیادہ ہو کہ ان کا عادتا جھوٹ پر مجتمع ہونا یا ان سے اتفاقیہ جھوٹ کا صادر ہونا محال ہو‘‘ (نفس المرجع)
چنانچہ اس شرط میں اختلاف کا تذکرہ کرتے ہوئے الجزائری لکھتے ہیںکہ ایک قوم نے تواتر میں یہ شرط لگائی ہے کہ خبر دینے والے بے شمار ہوں اور ایک شہر میںسمانہ سکیں‘‘ یعنی وہ کئی شہروں کے باشندے ہوں۔ (الجزائری: توجیہ النظر: ص: ۳۹)
1          الجزائری اس کاجواب دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ یہ شرط لازم نہیں کی جاسکتی ،کیونکہ جب حجاج کسی ایسے واقعہ کی خبر دیں گے جس نے انہیں حج سے روک دیا ہوتو ان کے صرف بتادینے سے ان کے محصور ہونے کا علم حاصل ہوجائے گا ۔ اورجب اہل مدینہ نبیe کے متعلق کسی چیز کی خبر دیں ، تو ان کے خبر دینے سے علم حاصل ہوگا حالانکہ یہ ایک شہر کے باشندے ہیں اور جب کسی جامع مسجد والے جمعہ میں پیش آنے والے ایسے واقعہ سے متعلق خبردیں جو ان کی نماز میں رکاوٹ بنا ہو ، تو ان کے خبر دینے سے علم حاصل ہوگا، حالانکہ یہ صرف ایک مسجد کے نمازی ہیں جو شہر سے کم ہے۔ (الجزائری:توجیہ النظر: ص: ۳۹)
2          الجزائری مزید لکھتے ہیں کہ ایک قوم نے تواتر کی خبر دینے والوں میںایک خاص تعداد کا پایاجانا شرط قرار دیاہے ، کہ اگر مخبرین کی تعداد اس خاص تعداد سے کم ہو تو ان کی خبر کو متواتر کانام نہیں دیاجائے گا۔ (حوالہ مذکور)
3          الجزائری اس سلسلہ میں جمہور محدثین کا یہ قول ذکر کرتے ہیںکہ مفید علم یقینی ہونے کے لیے شرط یہ ہے کہ مخبرین کی تعداد اتنی زیادہ ہو کہ ان کا اس خبرمیںعادتا ایک دوسرے کی موافقت کرنا ممنوع ہو اور اس تعداد کی حد بندی ناممکن ہو۔ اس میں قانون اور ضابطہ علم کا حصول ہے۔ جب یہ حاصل ہوجائے تو خبر کے متواتر ہونے کا علم حاصل ہوجائے گا، اگر ایسا نہ ہو تو علم حاصل نہ ہوگا۔ (حوالہ مذکور)
مخبرین کی تعداد کی اقسام: مخبرین کی تعداد کی تین قسمیں ہیں:
1          ناقص تعداد ،جو مفید علم نہیں۔
2          کامل تعداد ،جو مفید علم ہے۔
2          اتنی زائد تعداد کہ اس کے کچھ حصے کے ذریعے علم حاصل ہو جائے اورباقی ماندہ تعداد ضرورت سے زائد تصور ہو۔ (الجزائری:توجیہ النظر: ص: ۳۹)
ابوالفیض جعفر الکتانی(م ۱۳۴۵ھ)،ظفر الامانی فی شرح مختصر الجرجانی سے نقل کرتے ہیںکہ محدثین کی ایک جماعت کی تحقیق یہ ہے کہ تواتر کے لیے تعداد شرط نہیں ، صرف علم قطعی کا حاصل ہونا معتبر ہے۔ اگر خبر کو ایک بڑی جماعت روایت کرے اور اس کے ذریعے علم حاصل نہ تو یہ خبر متواتر نہیں ہوگی اور اگر ایک چھوٹی جماعت روایت کرے اور علم ضروری حاصل ہوجائے تو یہ خبر لازماً متواتر ہو گی۔ (الکتانی،ابوالفیض، جعفر، الحسنی، الادریسی: نظم المتناثر من الحدیث المتواتر:  دارالکتب العلمیۃ ، بیروت : ۱۴۰۰ھ/۱۹۸۰ء :ص:۱۰)
خبر متواتر کی تعریف کے بارے میں مختلف آراء:
اولاً خبر کی دو قسمیں ہیں: ف متواتر  ق آحاد
خبر آحاد کی تین قسمیں ہیں:
(۱) مشہور  (۲) عزیز  (۳) غریب  (الجزائری: توجیہ النظر: ص: ۳۶)
خبر کی مندرجہ بالا تقسیم اکثر محدثین نے کی ہے اور حافظ ابن حجرa نے اسی کو اختیار کیا ہے۔ (ابن حجر: نزہۃ النظر: ص: ۱۷)
 بعض علماء اصول نے خبر کی تین قسمیں کی ہیں:
Ý متواتر                   Þ مشہور                ß آحاد
انہوں نے مشہور کو ایک مستقل قسم قرار دیا ہے ۔نہ تو اسے جصاص کی طرح متواتر میں داخل کیا اور نہ ہی اپنے غیروں کی طرح اسے آحاد میں داخل کیا ہے۔ (حوالہ مذکور)
1          الجصاص کی تعریف: الجصاص نے متواتر کی تعریف اس طرح کی ہے :
[ھو ما افاد العلم بمضمون الخبر ضرورة اونظرا۔]
یعنی جس خبر کے مضمون سے علم ضروری یانظری حاصل ہو، وہ متواتر ہوتی ہے۔
الجصاص نے ’’او نظرا‘ ‘ کا اضافہ اس لیے کیا کہ اس میں مشہور بھی داخل ہو جائے۔ (الجزائری : توجیہ النظر:ص:  ۳۶)
2          بعض علماء نے اس کی تعریف یوں کی ہے:
[ھو الخبرالذی یوجب بنفسہ العلم۔]
یعنی ’’خبرِ متواتر وہ ہوتی ہے جو بذاتِ خود موجب علم ہو۔‘‘ (حوالہ مذکور)
اس تعریف سے خبر آحاد خارج ہوگئی ،کیونکہ کچھ اخبار آحاد ایسی ہیں جو اصلاً موجب علم نہیں ہیں،اور کچھ بذات خود موجب علم نہیں ہوتیں بلکہ محتف بالقرائن ہوکر موجب علم ہوتی ہیں، لیکن اس تعریف میں اشکال ہے ،کیونکہ اس تعریف سے یہ وہم پڑتاہے کہ کثرتِ مخبرین ہی متواتر میں موجب علم ہوتی ہے۔ جو اشکال اس تعریف پر وارد ہوتا ہے اسے امام فخرالدین رازی نے ’’المحصول‘‘ میں ذکر کیا ہے۔ (مجر د کثرت مخبرین کی وضاحت کرتے ہوئے امام رازی’’ المحصول‘‘ میں لکھتے ہیںکہ اگر ہم اس بات پر غور کریںکہ ایک شہر کے باشندوں کو اگر معلو م ہوکہ جب تمام شہروں کے رہنے والوں کو ان کے شہر میں پھوٹنے والی وبا کا علم ہوگا تو وہ ان کے شہر آنا ترک کردیں گے ۔اگر انہوں نے ان کے شہر میں آنا ترک کردیا تو ان کے شہر کی معیشت تباہ ہوکر رہ جائے گی اور اس شہر کے باشندے ہوں بھی علماء اور دانشور تو صورت مذکورہ میں ان کے لیے جھوٹ پر متفق ہونا جائزہوگا ،اگرچہ ان کی تعداد کتنی ہی زیادہ کیوں نہ ہو ،تو اس امکان کی وجہ سے ثابت ہوا کہ رغبت ولالچ کی وجہ سے خلق عظیم بھی جھوٹ پر متفق ہوسکتی ہے۔ امام غزالی فرماتے ہیں کہ بسااوقات بہت سارے لوگ ایسی چیز کے بارے میں خبر دیتے ہیں جس کے اظہار کا تقاضا بادشاہ کی حکومت و ریاست کیا کرتی ہے اور خبر دینے والے بادشاہ کے لشکر کے رئوساء ہوتے ہیں،تو اس صورت میں ان سب کا حکومتی کنٹرول کے تحت جھوٹ پر مجتمع ہونا تصور کیاجائے گا اوراگر وہ متفرق ہوں اور حکومتی کنڑول کے تحت نہ ہوں تو ان کے بارے میں یہ وہم نہیںہوسکتا۔ توجیہ النظر الی اصول الاثر:ص:۴۱)
3          بعض نے متواتر کی تعریف سے ’’بنفسہ‘‘ لفظ ساقط کرکے یہ تعریف کی: [ھو الخبر الذی یوجب العلم] یعنی جو خبر موجب علم ہو،وہ متواتر ہوتی ہے۔
اس تعریف میں بھی اشکال ہے کیونکہ اس میں وہ خبر آحاد بھی داخل ہوجاتی ہے جو محتف بالقرائن ہوکر موجب علم ہوتی ہے۔ (الجزائری : توجیہ النظر: ص۴۰)
4          بعض نے متواتر کی تعریف یوںکی ہے [ھو الخبر المفید للعلم الیقینی] یعنی خبر متواتر وہ ہوتی ہے جو مفید علم یقینی ہو۔ (نفس المرجع؛ ابن حجر: نزہۃ النظر: ص: ۱۴)
یہ تعریف قابل ترجیح ہے اور ابن حجرa نے بھی اسے اختیار کیا ہے۔
ا        علمائے اُصول اور قرائن:
علمائے اصول قرائن کو لاز م قرار دیتے ہیں، چنانچہ الجزائری ان کا نظریہ ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیںکہ اکثر علمائے اصول نے اس بات کی تصریح کی ہے کہ خبرِ متواتر میںقرائن کی موجودگی ضروری ہے۔ (حوالہ مذکور)
حالانکہ قرائن کو ضروری سمجھنے کا نظریہ بھی درست نہیں۔اسی لیے الجزائری اس نظریہ کو مسترد کرتے ہوئے لکھتے ہیںکہ اگر اصولیوں کی بات مان لی جائے تو خبر متواتر اور صدق خبر کو واجب کرنے والے قرائن میں گھری ہوئی خبر آحاد میں کوئی فرق نہیں رہے گا۔ اصل بات یہ ہے کہ ان دونوںخبروں میں سے ہرایک صرف قرائن کی معاونت سے موجب علم ہوتی ہے۔ (نفس المرجع؛ ابن حجر: نزہۃ النظر: ص: ۴۱)
یعنی قرائن کی موجودگی سے خبرکو موجب علم ہونے میں مدد ملتی ہے،لیکن قرائن کا موجود ہونا خبر کے موجب علم ہونے کے لیے شرط نہیں۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہa۷۲۸ھ) افادئہ علم کے بارے میں لکھتے ہیںکہ صحیح مذہب جسے اکثر نے اپنا یا وہ یہ ہے کہ بعض دفعہ مخبرین کی کثرت کے ذریعے سے علم حاصل ہوتا ہے او ر بعض دفعہ مخبرین کے دین اور حفظ و ضبط جیسی صفات کے ذریعے سے علم حاصل ہوتاہے،اور بعض اوقات محتف بالقرائن خبر کے ذریعے سے علم حاصل ہوتاہے، اور بعض دفعہ ایک جماعت کے ذریعے سے علم حاصل ہوتاہے،دوسری جماعت کے ذریعے سے علم حاصل نہیں ہوتا۔ (شیخ الاسلام ابن تیمیۃ:علم الحدیث: (تحقیق: موسیٰ محمد علی): عالم الکتب، بیروت: ۱۹۸۹ء / ۱۴۰۹: ص: ۱۱۶)
مذکورہ بالا عبارت سے واضح ہوا کہ خبر کے مفید علم ہونے کے لیے مخبرین کی تعداد مقرر نہیں، اسی لیے شیخ الاسلام ابن تیمیہ لکھتے ہیں:
[والصحیح الذی علیہ الجمہور: ان التواتر لیس لہ عدد محصور۔] (حوالہ مذكور)
یعنی صحیح مذہب جسے جمہور نے اختیار کیا وہ یہ ہے کہ تواتر کے لیے تعداد مقرر نہیں۔
آپ مزید لکھتے ہیں کہ [التواتر لا یشترط لہ عدد معین] یعنی تواتر کے لیے معین تعداد شرط نہیں۔ (حوالہ مذکور)
ب      افادئہ علم کی چند صورتیں:
شیخ الاسلام ابن تیمیہa لکھتے ہیں کہ بعض دفعہ کثرت کے ذریعے سے علم حاصل ہوتا ہے ، بعض دفعہ مخبرین کی صفات کے ذریعے سے اور بعض اوقات خبروں کو شامل ہونے والے قرائن یا دیگر امور کے ذریعے سے علم حاصل ہوتا ہے۔(شیخ الاسلام ابن تیمیۃ:علم الحدیث: ص:۱۵۸)
ج       اُمت کا شرف قبو ل بھی مفید علم ہے:
شیخ الاسلام ابن تیمیہa لکھتے ہیں کہ جس خبر کو ایک دوصحابیوں نے روایت کیاہو، جب امت کی طرف سے اسے شرف قبولیت اور تصدیق حاصل ہوجائے تو وہ خبر جمہور علماء کے ہاں مفید علم ہو گی۔ (حوالہ مذکور)
شیخ الاسلام ابن تیمیہa مزید لکھتے ہیںکہ امت نے جس حدیث کی تصدیق کرتے ہوئے یا خبر کے واجب کردہ احکام پر عمل کرتے ہوئے اسے شرف قبول عطاکیا ہو وہ حدیث جمہور خلف اور جمہور سلف کے ہاں مفید علم ہوگی اور اس سے تواتر کا مفہوم سمجھاجائے گا۔ (حوالہ مذکور)
د        اُمت کے شرف قبول کا مفہوم:
اُمت مسلمہ میں دو قسم کے لوگ ہیں: 1 عوام 2 خواص۔ چونکہ بعض دفعہ مخبرین کے دین اور حفظ و ضبط کی وجہ سے دو تین شخصوں کے خبر دینے سے ایسا علم حاصل ہوجاتاہے جو دین وضبط میں بے اعتماد دس بیس شخصوں کے خبر دینے سے حاصل نہیں ہوتا۔ (حوالہ مذکور)
اس لیے شیخ الاسلام ابن تیمیہa نے تواتر کی لفظی ومعنوی تقسیم کے علاوہ’’ تواتر‘‘ کو تواتر عام اورتواتر خاص میں تقسیم کیا ہے اور خواص سے علماء ِ حدیث مراد لیے ہیں۔ (حوالہ مذکور)
اس کی وضاحت کرتے ہوئے آپ لکھتے ہیں:
[وعلماء الحدیث یتواتر عندھم مالا یتواتر عندغیرھم۔ لكونھم سمعوا مالم یسمع غیر ھم وعلموا من احوال النبی مالم یعلم غیرھم۔] (شیخ الاسلام ابن تیمیة:علم الحدیث:ص: ۱۵۸)
’’اور علمائے حدیث کے ہاں جو (حدیث) متواتر ہوتی ہے وہ ان کے غیر کے ہا ں متواتر نہیں ہوتی اس کا سبب یہ ہے کہ علمائے حدیث نبیe کے احوال کے بارے میں جوکچھ سن چکے اور جان چکے ہوتے ہیںوہ اوروں نے سنا اور جانا نہیں ہوتا۔‘‘
شیخ الاسلام ابن تیمیہa مزید وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
[فاھل العلم بالحدیث والفقہ قد تواتر عندھم من السنة مالم یتواتر عند العامة۔] (حوالہ مذكور: ۱۱۹)
’’حدیث وفقہ کے علماء کے ہا ں جو سنت متواتر ہوتی ہے وہ عوام کے ہاں متواتر نہیں ہوتی۔‘‘
تواتر کی اس تقسیم عام وخاص کو بنیاد بناکر آ پ لکھتے ہیںکہ جب معاملہ ایسا ہے تودیکھئے کہ صحیحین کے اکثر متون کا ثقہ رواۃ سے روایت ہونا معلوم ہے ، علمائے حدیث کے ہاں اسے شرفِ قبولیت اور تصدیق حاصل ہے اور اس کی صحت پر علماء کا اجماع ہے اور ان کااجماع اسی طرح معصوم عن الخطا ہے ، جیسے احکام پر فقہاء کا اجماع معصوم عن الخطأ ہے ۔اگر کسی حکم پر فقہاء کا اجماع حجت ثابت ہوسکتا ہے، اگرچہ ان کے کسی ایک کا سہارا کسی خبر واحد یا قیاس یا عموم پر ہو، تو ایسے ہی حدیث کا علم رکھنے والوں نے جب کسی ایسی خبر کی صحت پر اجماع کرلیا ہو  جوخبر مفید علم ہے تواگرچہ ان میں سے کسی ایک سے خطا کا امکان موجودہو لیکن ان کااجماع معصوم عن الخطاہے۔ (حوالہ مذکور: ۱۱۷)
آپ مزید لکھتے ہیںکہ جن حدیثوں کی صحت پر علمائے حدیث کا اجماع ہوا ہے وہ بعض کے ہاں متواتر ہوتی ہیں اور بعض کے ہاں مستفیض۔ (شیخ الاسلام ابن تیمیۃ:علم الحدیث:ص: ۱۱۷)
اس کی مزید وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیںکہ یہاں اس خبر کی صحت پر علمائے حدیث کے اجماع کے ذریعے سے علم حاصل ہوا ہے کیونکہ خطا پر اجماع نہیں ہوسکتا ، اسی لیے صحیحین کے اکثر متون کی صحت علمائے طوائف یعنی حنفی ، مالکی، شافعی، حنبلی،اور اشعری علماء کو معلوم ہے، صرف متکلمین کے ایک گروہ نے اس کی مخالفت کی ہے ۔ (نفس المرجع:ص ۱۵۸)
متذکرہ بالا بحث سے یہ ثابت ہوا کہ خبر کے مفید علم ہونے کی مختلف صورتیں ہیں۔ جس صورت میں بھی کسی حدیث کے بارے میں علم یقینی حاصل ہوجائے ،اس حدیث پر عمل واجب ہوگا کیونکہ علم یقینی حاصل ہونے کی وجہ سے اس حدیث کو خبر متواتر کا مقام حاصل ہوا ہے۔                               ……… (جاری ہے)


No comments:

Post a Comment

View My Stats