خطبۂ حرم ... امن کی نعمت اور اس کی حفاظت کی ذمہ داری 37-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Thursday, October 03, 2019

خطبۂ حرم ... امن کی نعمت اور اس کی حفاظت کی ذمہ داری 37-2019


خطبۂ حرم ... امن کی نعمت اور اس کی حفاظت کی ذمہ داری

امام الحرم المکی فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر فیصل بن جمیل الغزاوی d
ترجمہ: جناب محمد عاطف الیاس
حمد و ثناء کے بعد!
اللہ کے جو حسین نام قرآن کریم میں آئے ہیں ان میں سے ایک نام ’’المومن‘‘ بھی ہے۔ اس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں فرمایا ہے:
’’وہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، (حقیقی) بادشاہ ہے، ہر عیب سے پاک ہے، ہر نقص سے سالم (اور سلامتی دینے والا) ہے، امن و امان دینے والا (اور معجزات کے ذریعے رسولوں کی تصدیق فرمانے والا) ہے، محافظ و نگہبان ہے، غلبہ و عزّت والا ہے، زبردست عظمت والا ہے، سلطنت و کبریائی والا ہے، اللہ ہر اُس چیز سے پاک ہے جسے وہ اُس کا شریک ٹھہراتے ہیں۔‘‘ (الحشر: ۲۳)
لفظ مومن کے معانی میں  امن وامان کا معنیٰ بھی شامل ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو دنیا میں امن واطمینان فراہم کرتا ہے اور انہیں مانوس رکھنے والا سامان مہیا کرتا ہے، اسے اہل ایمان اس وقت محسوس کرتے ہیں جب وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان لاتے ہیں اور اس کی توحید کا اقرار کر لیتے ہیں۔ اسی طرح وہ اپنے بندوں کے لیے ان تمام چیزوں کا بندوبست کرتا ہے جو موت کے وقت تک ان کی زندگی کی ضامن ہوتی ہیں۔ ان کا رزق مہیا کرتا ہے اور انہیں ہلاکت سے محفوظ رکھتا ہے۔
اللہ کے بندو! اچھی زندگی کی بنیادی ضروریات میں امن وامان کی ضرورت شامل ہے۔ بھلا انسان ایسی صورت میں کس طرح جی سکتا ہے کہ امن وسلامتی ہی سے محروم ہو؟ اگر امن وامان ہی نہ ہو تو اس کی زندگی بھلا اچھی گزر سکتی ہے؟ امن ہر معاشرے کی ضرورت ہے، کیونکہ اسی سے فتنوں، برائیوں اور آفتوں سے حفاظت ہوتی ہے۔ اسی سے اطمینان، سکون، عیش اور ترقی نصیب ہوتی ہے۔ یہ موجود ہو تو ہی لوگوں کے کام ہوتے ہیں، ان کی جانیں محفوظ رہتی ہیں، عزتیں اور مال بے خطر رہتے ہیں، راستے پر امن ہو جاتے ہیں، اور سزائیں قائم ہوتی ہیں۔ جبکہ اس کی غیر موجودگی میں حقوق ضائع ہو جاتے ہیں، کام رہ جاتے ہیں، انارکی پھیل جاتی ہے، طاقتور ضعیفوں پر مسلط ہو جاتے ہیں، لوٹ مار عام ہو جاتی ہے، خون ریزی اور عزتوں کی بے حرمتی ہر جگہ نظر آنے لگتی ہے او ر اس کے ساتھ بد امنی کے تمام اثرات نظر آنے لگتے ہیں۔
امن ایک عظیم نعمت ہے، ایک شان دار عطا ہے۔ اس کی قیمت وہی جانتا ہے جس نے اس سے محرومی کا مزہ چکھا ہو، اس سے محرومی کی آگ میں جلا ہو۔ جس نے خوف اور پریشانی کا عالم دیکھا ہو، بد حواسی اور شدید بدنظمی کا سماں دیکھا ہو، انارکی، بے گھری اور ناکامی کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہو۔ ایسے حالات میں کتنے کمزور اپنے گھروں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں، کتنے بے گھر اپنوں سے بچھڑ جاتے ہیں، کتنے مصیبت زدوں کو کوئی ٹھکانا بھی نہیں مل پاتا، اطمینان اور سکون کا سانس ملنا تو دور کی بات ہے۔ اللہ آپ کی نگہبانی فرمائے! آج کی دنیا میں بد امنی کی مثالوں پر غور کرو، دیکھو کہ کتنے لوگوں کو شدید فتنوں، کچل دینے والی جنگوں، خوف وہراس، بھوک پیاس، لوٹ مار، انارکی اور ظالمانہ تشدد کا سامنا ہے۔
اللہ کے بندو! انسان کی زندگی میں امن انتہائی ضروری چیز ہے۔ انسان خود بھی فطری طور پر امن کا طالب ہوتا ہے اور خطروں اور ڈر کے اسباب سے دور رہنے کی کوشش میں رہتا ہے۔ چونکہ اس کی اہمیت بہت زیادہ ہے اور اور اس کا مقام بہت بلند ہے، تو خلیل اللہ ابراہیم نے اہل مکہ کے لیے اسی کی دعا فرمائی۔ فرمایا:
’’اے میرے رب! اس شہر کو امن کا شہر بنا دے، اور اس کے باشندوں میں جو اللہ اور آخرت کو مانیں، انہیں ہر قسم کے پھلو ں کا رزق دے۔‘‘ (البقرۃ: ۱۲۶)
یہاں ابراہیمu نے رزق سے بھی پہلے امن کی دعا کی، کیونکہ امن انتہائی ضروری چیز ہے، اور اگر لوگ خوف میں مبتلا ہوں تو رزق کا کوئی مزا نہیں رہتا۔ غور کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کریم میں ایک طرف امن اور اچھی زندگی کا ایک ساتھ ذکر ہوا ہے، جبکہ دوسری طرف خوف اور بھوک کا ایک ساتھ ذکر ہوا ہے۔ جب قریش نے نبی کی بات نہ ماننے پر عذر پیش کیا تو اللہ تعالیٰ نے تعجب کرتے ہوئے فرمایا:
’’کیا یہ واقعہ نہیں کہ ہم نے ایک پرامن حرم کو ان کے لیے جائے قیام بنا دیا جس کی طرف ہر طرح کے ثمرات کھچے چلے آتے ہیں، ہماری طرف سے رزق کے طور پر؟ مگر ان میں سے اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔‘‘ (القصص: ۵۷)
اسی طرح اللہ تعالیٰ نے قریش پر اپنا فضل وکرم اور احسان جتلاتے ہوئے فرمایا:
’’جس نے اُنہیں بھوک سے بچا کر کھانے کو دیا اور خوف سے بچا کر امن عطا کیا۔‘‘ (قریش: ۴)
چونکہ امن انتہائی اہم چیز ہے، تو اللہ تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں کے ساتھ وعدہ کیا ہے کہ وہ ان کے حالیہ خوف کی جگہ انہیں امن اور اطمینان عطا کرے گا، ذہنی سکون فراہم کرے گا، ہر حالت میں سکون نازل فرمائے گا۔ لیکن یہ سب اس شرط پر کہ وہ اس کی اطاعت پر قائم رہیں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
’’اللہ نے وعدہ فرمایا ہے تم میں سے اُن لوگوں کے ساتھ جو ایمان لائیں اور نیک عمل کریں کہ وہ ان کو اُسی طرح زمین میں خلیفہ بنائے گا جس طرح اُن سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں کو بنا چکا ہے، اُن کے لیے اُن کے اُس دین کو مضبوط بنیادوں پر قائم کر دے گا جسے اللہ تعالیٰ نے اُن کے حق میں پسند کیا ہے، اور اُن کی (موجودہ)حالت خوف کو امن سے بدل دے گا، بس وہ میری بندگی کریں اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں اور جو اس کے بعد کفر کرے تو ایسے ہی لوگ فاسق ہیں۔‘‘ (النور: ۵۵)
امن کی ضرورت انتہائی شدید ہونے کی دلیل یہ بھی ہے کہ رسول اللہe کی ایک دعا وہ بھی تھی جس کا ذکر  ابن عمرw کرتے ہیں: رسول اللہe جب مہینے کا پہلا ہلال دیکھتے تو یہ دعا کرتے:
’’اے اللہ! امن اور ایمان کے ساتھ، سلامتی اور اسلام، ان کاموں کی توفیق کے ساتھ اس ماہ کی ابتدا فرما جو تجھے خوش اور راضی کرتے ہیں۔ ہمارا اور آپ کا پروردگار اللہ ہی ہے۔‘‘ (ابن ماجہ)
مراد یہ ہے کہ اے اللہ! اس ہلال کو دیکھتے وقت ہمیں آفتوں اور مصیبتوں سے محفوظ فرما! ہمیں ایمان پر ثابت قدمی نصیب فرما! دنیا وآخرت کی آفتوں سے محفوظ فرما۔
نبی اکرمe یہ دعا بھی کیا کرتے تھے: اے اللہ! میرے عیب چھپا، میرے ڈر کو ختم کر دے۔ (مسند احمد، ابوداؤد اور ترمذی)
بھائیو! امن وہ ہدف ہے جسے معاشرے تلاش کرتے ہیں: جسے پانے کے لیے قومیں مقابلہ کرتی ہیں۔ قوم سبأ کو اللہ تعالیٰ نے دن رات امن کے ساتھ چلنے پھرنے کی نعمت یاد دلاتے ہوئے فرمایا:
’’چلو پھرو اِن راستوں میں رات دن پورے امن کے ساتھ۔‘‘ (سبا: ۱۸)
اسی طرح اللہ تعالیٰ نے مشرکین قریش پر بھی امن کی نعمت جتلاتے ہوئے فرمایا:
’’کیا یہ دیکھتے نہیں ہیں کہ ہم نے ایک پر امن حرم بنا دیا ہے حالانکہ اِن کے گرد و پیش لوگ اُچک لیے جاتے ہیں؟۔‘‘ (العنکبوت: ۶۷)
حدیث میں ہے کہ رسول اللہe نے فرمایا:
’’جس کی صبح اس حال میں ہو کہ دل گھر اور بال بچوں کے حوالے سے مطمئن ہو، جسم تندرست ہو، پاس ایک دن کا کھانا ہو، تو گویا کہ اسے دنیاکی ساری نعمتیں مل گئیں۔‘‘ (ترمذی‘ ابن ماجہ)
اے مسلمانو! جب بدنظمی پھیل جائے، امن وامان کے ستون ہل جائیں اور اس کی چادر پھٹنے لگے، تو پھر مت پوچھیے کہ اس کے نتیجے میں کیسے کیسے اثرات سامنے آ سکتے ہیں، فتنوں کی کیسی آندھیاں چل سکتی ہیں، شر کی کتنی اونچی لہریں آ سکتی ہیں، کیونکہ امن تب ہی تباہ ہوتا ہے جب اندھے فتنے میدان میں آ جاتے ہیں، بد ترین جرائم جنم لے لیتے ہیں، برے برے اعمال عام ہو جاتے ہیں۔ اس لیے امن کا قیام اسلام کا ایک عظیم قصد ہے۔ اسلام نے ایسے احکام دیے ہیں جس سے امن کی حفاظت ہوتی ہے  اور اس کی عمارت قائم رہتی ہے۔ کتاب وسنت میں بڑی کثرت سے پانچ ضرورتوں کو یقینی بنانے کی یاد دہانی کرائی گئی ہے۔ جو کہ ’’دین، نفس، عقل، عزت آبرو اور مال ہیں۔ شریعت نے ان کی حفاظت واجب قرار دی ہے۔ انہیں انتہائی اہم اور قابل نگہداشت ٹھہرایا ہے۔ ایسی سزائیں مقرر کی ہیں جن سے ان کی حفاظت یقینی بن سکے۔ بلکہ اسلام نے تو ایسے ہر کام کو حرام قرار دیا ہے جو امن وامان پر اثر انداز ہوتا ہو، ایسے ہر کام کو حرام قرار دیا ہے جو امن وامان اور سکون وچین پر اثر انداز ہوتا ہو، اس عظیم نعمت کا خیال کرتے ہوئے ایسے ہر عمل سے خبردار کیا ہے جس سے معاشرے میں خوف، بد امنی اور انارکی پھیلنے کا امکان ہو۔
دوسرا خطبہ
حمد وصلوٰۃ کے بعد:
اللہ کے بندو! سچا مسلمان کبھی بھی اس بات پر راضی نہیں ہوتا کہ اسلامی ممالک کو نقصان پہنچے، کجا یہ کہ نقصان بلاد حرمین کا ہو۔ بلکہ سچا مسلمان ایسے ہر شخص کے راستے کی رکاوٹ بن جاتا ہے جو معاشرے کی اقدار پر حملہ کرنا چاہتا ہو، یا انارکی پھیلانا چاہتا ہو۔ وہ کبھی ان لوگوں کا ساتھ نہیں دے سکتا جو امن وامان اور سکون وچین کو ختم کرنا چاہتے ہوں۔ یہ کوئی عجیب بات نہیں۔ کیونکہ ہم اپنے معاشرے کے امن وامان کی حفاظت کو ایک عبادت سمجھتے ہیں جس سے ہم قرب الٰہی کے متلاشی ہوتے ہیں۔ اس کی حفاظت تمام لوگوں کی ذمہ داری ہے۔ چناچہ امن قائم کرنے کے لیے تمام کاوشیں یکجا ہو جانی چاہئیں۔ تاکہ ان لوگوں کا راستہ روکا جا سکے جو اس ملک کی سرزمین اور عوام میں بدامنی پھیلانا چاہتے ہیں۔ تاکہ ایسی تمام دعوتوں کا قلعہ قمع کیا جا سکے جو امن کے لیے خطرہ ہیں یا سلامتی کو ختم کرتی ہیں۔ ایسی زندگی کا کوئی مزا نہیں ہے جس میں امن نہ ہو اور ایسی حیات میں کوئی لطف نہیں جس میں سکون نہ ہو‘ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو بہت سی نعمتیں عطا فرمائی ہیں۔ اسی طرح ان کے سر پر بہت سی ذمہ داریاں بھی ڈالی ہیں۔ ان نعمتوں میں سردست امن کی نعمت ہے جس کی حفاظت انتہائی ضروری ہے، اس کی بقاء اور دوام کے لیے کام کرنا انتہائی اہم ہے۔ ایسے تمام کاموں سے بچنا ضروری ہے جو امن کے قابل تعریف اثرات ختم کرتے ہیں۔
اے مسلمانو! کوئی شک نہیں کہ جو لوگ مسلمانوں کو ڈراتے ہیں، ان کے امن وامان کو تباہ کرتے ہیں، ان کے معاشی مفادات متاثر کرتے ہیں، کوئی شک نہیں کہ ان کا کام زمین میں بہت بڑا فساد ہے۔
’’انسانوں میں کوئی تو ایسا ہے جس کی باتیں دنیا کی زندگی میں تمہیں بہت بھلی معلوم ہوتی ہیں، اور اپنی نیک نیتی پر وہ بار بار اللہ کو گواہ ٹھہرا تا ہے، مگر حقیقت میں وہ بد ترین دشمن حق ہوتا ہے۔ جب اُسے اقتدار حاصل ہو جاتا ہے، تو زمین میں اُس کی ساری دوڑ دھوپ اس لیے ہوتی ہے کہ فساد پھیلائے، کھیتوں کو غارت کرے اور نسل انسانی کو تباہ کرے حالاں کہ اللہ (جسے وہ گواہ بنا رہا تھا) فساد کو ہرگز پسند نہیں کرتا اور جب اس سے کہا جاتا ہے کہ اللہ سے ڈر، تو اپنے وقار کا خیال اُس کو گناہ پر جما دیتا ہے‘ ایسے شخص کے لیے تو بس جہنم ہی کافی ہے اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے۔‘‘ (البقرۃ: ۲۰۶)
 اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
’’اور زمین میں فساد برپا کرنے کی کوشش نہ کر، اللہ مفسدوں کو پسند نہیں کرتا۔‘‘ (القصص: ۷۷)
یعنی: ظلم اور زیادتی کے ذریعے زمین میں فساد برپا نہ کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ زیادتی اور گناہ گاروں کو پسند نہیں کرتا۔
اس طرح معلوم ہو جاتا ہے کہ آئل ریفائنریز پر ہونے والا بد ترین حملہ زمین میں فساد پھیلانے کی ایک شکل ہے۔ یہ شریعت اور قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ اس بد ترین جرم کی قباحت اس لیے بھی زیادہ ہے   کہ یہ ہولناک خلاف ورزی ایک حرمت والے اور عظیم مہینے میں کی گئی ہے جن کے بارے اللہ تعالیٰ نے کلام پاک میں فرمایا ہے:
’’حقیقت یہ ہے کہ مہینوں کی تعداد جب سے اللہ نے آسمان و زمین کو پیدا کیا ہے اللہ کے نوشتے میں بارہ ہی ہے، اور ان میں سے چار مہینے حرام ہیں یہی ٹھیک ضابطہ ہے لہٰذا ان چار مہینوں میں اپنے اوپر ظلم نہ کرو۔‘‘ (التوبہ: ۳۶)
ان مہینوں میں ہونے والے ظلم کا گناہ زیادہ ہے، کیونکہ ان میں گناہ کرنے والا اپنے جرم کے ذریعے احکام الٰہی کی خلاف ورزی کی جسارت بھی کرتا ہے اور ان حرام مہینوں کی حرمت بھی پامال کرتا ہے جنہیں اللہ تعالیٰ نے محترم قرار دیا ہے۔
اے اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو عزت عطا فرما! کفر اور کافروں کو رسوا فرما! دین کے مرکز کی حفاظت فرما! اپنے موحد بندوں کی نصرت فرما! اپنے اور دین کے دشمنوں کو تباہ وبرباد فرما۔
اے اللہ! جو ہمارے ملک کا برا چاہے، اسے خود ہی میں مصروف فرما دے، اس کی چال اسی پر لوٹا دے۔ اس کی چال میں اسی کو ہلاک کر دے۔ آمین!


No comments:

Post a Comment

View My Stats