احکام ومسائل 37-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Thursday, October 03, 2019

احکام ومسائل 37-2019


احکام ومسائل

جناب مولانا الشیخ حافظ ابومحمد عبدالستار الحمادd
خط وکتابت:  مرکز الدراسات الاسلامیہ ۔ سلطان کالونی‘ میاں چنوں‘ خانیوال‘ پاکستان  ای میل:  markaz.dirasat@gmail.com

قنوتِ وتر کا محل
O نماز وتر میں قنوت کب پڑھنا چاہیے؟ رکوع سے پہلے یا رکوع کے بعد؟ ہمارے ہاں تو اسے رکوع کے بعد پڑھا جاتا ہے۔ اس کے متعلق کتاب وسنت میں کیا تصریحات ہیں؟ ان تصریحات کو وضاحت سے بیان کریں۔
P قنوتِ وتر کے متعلق دو مسائل ہیں۔ ایک تو اس کی مشروعیت سے متعلق ہے کہ آیا نماز وتر میں قنوت کرنا مشروع بھی ہے؟ دوسرا مسئلہ اس کے محل کی تعیین سے متعلق ہے کہ اسے رکوع سے پہلے پڑھنا چاہیے‘ یا اسے رکوع کے بعد پڑھا جائے؟
جہاں تک اس کی مشروعیت کا تعلق ہے تو اس کے متعلق سیدنا حسن بن علیw سے روایت ہے کہ ’’رسول اللہe نے مجھے چند کلمات سکھائے تا کہ میں انہیں قنوت وتر میں پڑھوں۔‘‘ (ابوداؤد‘ الوتر: ۱۴۲۵)
البتہ نماز وتر میں دعا قنوت کی مشروعیت کے متعلق مذکورہ بالا حدیث صریح اور صحیح ہے۔ نماز وتر میں دعائے قنوت کے محل کی تعیین کے متعلق ہمارا رجحان یہ ہے کہ رکوع سے پہلے ہے۔ اس کے متعلق رسول اللہe کا واضح عمل اور کھلا فرمان ہمارے لیے قطعی فیصلے کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ بیشتر صحابہ کرام] سے بھی یہی بات منقول ہے۔ چنانچہ سیدنا ابی بن کعبt نماز وتر میں محل قنوت کے متعلق رسول اللہe کا معمول بیان کرتے ہیں کہ آپe نماز وتر ادا کرتے وقت رکوع سے پہلے دعائے قنوت کرتے تھے۔ (سنن نسائی‘ قیام اللیل: ۱۷۰۰)
اس کے متعلق رسول اللہe کا واضح فرمان بھی منقول ہے۔ چنانچہ سیدنا حسن بن علیw بیان کرتے ہیں کہ ’’مجھے رسول اللہe نے دعا قنوت سکھائی کہ میں اسے وتر ادا کرتے وقت جب قراء ت سے فارغ ہو جاؤں تو اسے پڑھوں۔‘‘ (توحید ابن مندہ: ج۲‘ ص ۱۹۱)
اس سلسلہ میں جو روایت بیان کی جاتی ہے کہ میں جب رکوع سے سر اٹھاؤں اور سجدہ کرنا باقی ہو اس وقت اسے قنوت وتر میں پڑھوں۔ (مستدرک حاکم: ج۳‘ ص ۱۷۲)
ہمارے نزدیک یہ روایت غیر محفوظ ہے۔ جیسا کہ مولانا عبیداللہ رحمانی صاحب المرعاۃ اور محدث العصر علامہ البانیa نے اس کی صراحت کی ہے۔ (مرعاۃ المفاتیح: ج۳‘ ص ۲۱۳۔ ارواء الغلیل: ج۳‘ ص ۱۶۱)
مذکورہ بالا پیش کردہ روایت بھی اپنے مفہوم کے اعتبار سے بالکل واضح ہے کہ نماز وتر میں دعائے قنوت قراء ت کے بعد رکوع سے پہلے ہے۔ ان صحیح اور صریح روایات کے علاوہ صحابہ کرام] سے مروی کچھ آثار بھی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز وتر میں دعاء قنوت رکوع سے پہلے پڑھی جاتی تھی۔ چنانچہ سیدنا علقمہt بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن مسعودt اور رسول اللہe کے دیگر صحابہ کرام] نماز وتر میں رکوع سے پہلے قنوت کرتے تھے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ: ج۳‘ ص ۳۰۲)
ہاں اگر وتر کی دعا کو ہنگامی حالات کے پیش نظر قنوتِ نازلہ کی شکل دے دی جائے تو رکوع کے بعد جواز کی گنجائش ہے جیسا کہ سیدنا ابی بن کعبt ہنگامی حالات کے پیش نظر نماز وتر میں مخالفین اسلام پر بد دعا‘ رسول اللہe اور عام مسلمانوں کی فلاح وبہبود کے لیے دعا کرنے کے بعد اللہ اکبر کہتے اور سجدے میں چلے جاتے۔ (ابن خزیمہ: ج۲‘ ص ۱۵۸)
مختصر یہ کہ نماز وتر میں دعائے قنوت رکوع سے پہلے ہے۔ اگر دعائے قنوت کو قنوت نازلہ کی شکل دے دی جائے تو اسے رکوع کے بعد بھی پڑھا جا سکتا ہے۔ واللہ اعلم!
ایک مسئلہ وراثت
O میری بیوی جو میرے چچا کی بیٹی تھی وہ فوت ہو چکی ہے۔ اس نے ترکہ میں ایک زیور چھوڑا ہے جس کی مالیت ساٹھ ہزار روپیہ ہے۔ پسماندگان میں اس کی والدہ اور میں موجود ہیں‘ اس کا ترکہ کیسے تقسیم ہو گا؟!
P تقسیم ترکہ کی ترتیب اس طرح ہوتی ہے کہ پہلے ان ورثاء کو حصہ دیا جاتا ہے جن کا حصہ قرآن وحدیث میں طے شدہ ہے۔ اس کے بعد وہ ورثاء حقدار ہوتے ہیں جن کا حصہ مقرر نہیں ہوتا اور انہیں عصبہ کہا جاتا ہے۔ صورت مسئولہ میں خاوند کو مرحومہ کے ترکہ سے نصف دیا جائے گا کیونکہ مرحومہ کی اولاد نہیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’اور جو مال تمہاری بیویاں چھوڑ جائیں اگر ان کی اولاد نہ ہو تو اس میں سے نصف حصہ تمہارا ہے۔‘‘ (النساء: ۱۲)
اور مرحومہ کی والدہ کو تیسرا حصہ دیا جائے گا کیونکہ اس کی اولاد نہیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’اگر میت کی اولاد نہ ہو اور صرف والدین ہی اس کے وارث ہوں تو ایک تہائی ماں کا حصہ ہے۔‘‘ (النساء: ۱۱)
مرحومہ کے دو ہی وارث ہیں۔ ایک خاوند جس کا نصف حصہ ہے اور دوسری اس کی والدہ جس کا ایک تہائی ہے۔ اب چھ کے ہندسے کو بنیاد بنا کر جائیداد تقسیم ہو گی۔ نصف یعنی تین حصے خاوند کو اور ایک تہائی یعنی دو حصے والدہ کے لیے۔ جب ان حصوں کو جمع کیا جائے تو پانچ حصے بنتے ہیں۔ ایک حصہ باقی ہے یہ باقی حصہ خاوند کو دیا جائے یا والدہ کے لیے ہے۔ علم وراثت میں یہ بات طے شدہ ہے کہ میاں بیوی پر باقی ماندہ حصہ رد نہیں کیا جاتا بلکہ وہ انہی ورثاء کو دیا جاتا ہے جن کے ساتھ خونی رشتہ ہوتا ہے وہ مرحومہ کی والدہ ہے۔ لیکن جب صورت مسئولہ پر غور کیا جاتا ہے تو پتہ چلتا ہے کہ اگر مرحومہ اپنے خاوند کی چچا کی بیٹی ہے تو وہ بھی اس کے چچا کا بیٹا ہے یعنی خاوند کے ساتھ اس کے دو رشتے ہیں۔ ایک سسرالی کہ وہ اس کا خاوند ہے اور دوسرا خونی کہ وہ اس کے چچا کا بیٹا ہے۔ لہٰذا باقی ماندہ حصہ بھی خاوند کو بحیثیت عصبہ دیا جائے گا۔ جیسا کہ حدیث میں ہے: ’’تم مقررہ حصہ لینے والوں کو ان کے حصے دو اور جو باقی بچے وہ میت کے قریبی مذکور رشتے دار کے لیے ہے۔‘‘ (بخاری‘ الفرائض: ۶۷۳۷)
اب حصوں کی تقسیم اس طرح ہو گی کہ چھ سے خاوند کو نصف یعنی تین حصے دیئے جائیں اور والدہ کو تہائی دو حصے اور باقی ماندہ ایک حصہ بھی خاوند کو بحیثیت عصبہ دیا جائے یعنی خاوند کے چار اور والدہ کو دو حصے دیئے جائیں۔ چونکہ ترکہ ساٹھ ہزار ہے اسے چھ پر تقسیم کرنے سے ایک حصہ دس ہزار بنتا ہے۔ ان میں سے چار حصے یعنی چالیس ہزار خاوند کو اور دو حصے یعنی بیس ہزار والدہ کو دیئے جائیں۔ واللہ اعلم!
نماز چاشت کے متعلق ایک بے بنیاد بات
O عوام الناس میں یہ بات مشہور ہے کہ جو انسان نماز چاشت شروع کرنے کے بعد اسے چھوڑ دے وہ اندھا ہو جاتا ہے۔ اس لیے لوگ اسے ادا نہیں کرتے مبادا سستی کی وجہ سے اس کے ترک پر نابینا نہ ہو جائیں۔ اس بات کی کیا حیثیت ہے؟!
P نماز چاشت کے متعلق سوال میں ذکر کردہ بات بالکل بے بنیاد ہے بلکہ لوگوں کو خیر کثیر سے محروم کرنے کے لیے ایک شیطانی حربہ ہے۔ وہ ایسی باتوں کے ذریعے لوگوں کو نماز چاشت کی برکات اور اس کے ثمرات سے محروم کرنا چاہتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ایسی باتوں کی طرف کان نہ دھریں بلکہ اس کی ادائیگی کے لیے کوشاں رہیں۔ رسول اللہe نے تین صحابہ کرام] کو اسے ادا کرنے کی وصیت فرمائی تھی‘ اس کی تفصیل درج ذیل ہے:
b          سیدنا ابوہریرہt بیان کرتے ہیں کہ مجھے میرے پیارے حبیب رسول اللہe نے تین چیزوں کی وصیت فرمائی ہے‘ جب تک میں زندہ رہوں گا انہیں ترک نہیں کروں گا۔ وہ یہ ہیں 1 ہر مہینے کے تین روزے‘ 2 نماز اشراق اور 3 سونے سے پہلے وتر کی ادائیگی۔ (بخاری‘ التطوع: ۱۱۷۸)
b          سیدنا ابودرداءt فرماتے ہیں کہ مجھے میرے حبیب e نے تین باتوں کی وصیت فرمائی: میں زندگی بھر ان پر عمل پیرا رہوں گا۔ 1ہر ماہ تین روزے‘ 2 اشراق کی نماز اور 3 سونے سے قبل وتروں کو ادا کرنا۔ (مسلم‘ صلوٰۃ المسافرین: ۱۶۷۵)
b          سیدنا ابوذر غفاریt کہتے ہیں کہ مجھے میرے حبیب رسول اللہe نے تین باتوں کی وصیت کی تھی‘ اگر اللہ نے چاہا تو میں انہیں کبھی ترک نہیں کروں گا: 1 مجھے نماز اشراق کی وصیت کی‘ 2 سونے سے پہلے وتر ادا کرنے کی تاکید فرمائی اور 3 ہر ماہ تین روزے رکھنے کے متعلق فرمایا۔ (نسائی‘ الصیام: ۲۶۰۶)
یہ تینوں حضرات مالدار نہیں تھے۔ اس لیے انہیں ایسی باتوں کی تلقین فرمائی جن کا تعلق مال سے نہیں۔ آپe نے انہیں نماز اور روزے کی تلقین فرمائی جو بدنی عبادات میں اعلیٰ مقام رکھتے ہیں۔ چونکہ رسول اللہe مالدار نہیں تھے اس لیے آپe نے ہمیشہ ہم جیسے غرباء کا خیال رکھا۔ آپe نے ایک مرتبہ فرمایا کہ ’’انسان کے تین سو ساٹھ (۳۶۰) جوڑ ہیں اور انسان کے ہر جوڑ کے بدلے صدقہ کرنا ضروری ہے۔‘‘ … نادار صحابہ] نے عرض کیا اللہ کے رسول! اتنا صدقہ کرنے کی ہمت کس انسان میں ہو سکتی ہے؟ تو رسول اللہe نے فرمایا: ’’مسجد میں پڑے ہوئے تھوک کو دفن کر دینا‘ راستے سے کسی تکلیف دہ چیز کو دور کر دینا‘ ان جوڑوں کے صدقہ کے برابر ہے۔ اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو نماز چاشت کی دو رکعت ہی کافی ہیں۔‘‘ (صحیح ابن خزیمہ: ج۲‘ ص ۲۲۹)
واضح رہے کہ نماز چاشت کی کم از کم دو رکعت اور زیادہ سے زیادہ آٹھ رکعات ہیں۔ رسول اللہe انہیں ادا کرتے تھے اور آپe کے متعدد صحابہ کرام] بھی اس کی ادائیگی کا اہتمام کرتے تھے۔ لہٰذا لوگوں میں غلط روایات کی شہرت‘ اعمال صالحہ کی ادائیگی میں رکاوٹ کا باعث نہیں ہونا چاہیے۔


No comments:

Post a Comment