تبصرۂ کتب ... چاند پر اختلاف کیوں؟! 37-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Thursday, October 03, 2019

تبصرۂ کتب ... چاند پر اختلاف کیوں؟! 37-2019


تبصرۂ کتب ... چاند پر اختلاف کیوں؟!

تحریر: جناب مولانا محمد سلیم چنیوٹی
نام کتاب:              چاند پر اختلاف کیوں؟!
مسئلہ رؤیت ہلال‘ تحقیقی وتنقیدی جائزہ
مؤلف:                    رانا محمد شفیق خاں پسروریd
ضخامت:                  ۱۸۹ صفحات
ملنے کے پتے:          مرکز اہل حدیث ۱۰۶ راوی روڈ لاہور
مکتبہ اہل حدیث پسرور
مکتبہ اسلامیہ اردو بازار لاہور
تبصرہ نگار:               حافظ محمد اسلم شاہدروی (معاون ناظم طبع وتالیف مرکزی جمعیت اہل حدیث پنجاب)
زیر تبصرہ کتاب ایک اہم اور ضروری مسئلہ کی تفہیم میں ایک قابل قدر کاوش ہے۔ مسئلہ چاند پر اختلاف کا ہے۔ سال کے بارہ مہینوں کے بارہ چاند ہوتے ہیں لیکن زیادہ اختلاف شوال یا عید الفطر کے چاند پر ہوتا ہے۔ اس سے کم اختلاف روزوں کے یعنی رمضان کے چاند پر ہوتا ہے۔ باقی دس ماہ کے چاند ہمارے ملک میں تقریبا متفقہ ہوتے ہیں۔
نئے چاند کو عربی میں ہلال کہتے ہیں اس کی جمع اہلہ ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
’’وہ آپ سے اہلہ کے متعلق سوال کرتے ہیں ان سے فرما دیں کہ وہ لوگوں کو وقت بتاتے ہیں اور حج بتاتے ہیں۔ اس طرح اسلامی شرع میں نئے چاند کی بہت اہمیت ہے۔‘‘
کہنہ مشق صحافی اور ادیب‘ روزنامہ پاکستان کے سینئر ایڈیٹر‘ اسلامی نظریاتی کونسل پاکستان کے رکن‘ مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے ایڈیشنل سیکرٹری جنرل جناب رانا محمد شفیق خاں پسروریd نے اس اہم مسئلہ پر قلم اٹھایا ہے اور اپنی دیگر کتب کی طرح اس میں بھی خوب دادِ تحقیق دی۔
رانا صاحب نے کتاب کے ابتدائیہ میں خلاصۃً بات خوب سمجھا دی ہے پھر روزنامہ پاکستان فورم میں اس موضوع پر ہونے والے ایک علمی سیمینار کی کارروائی درج کی گئی ہے جو اس موضوع پر علماء کرام کے اور ماہرین کے بیانات کا خلاصہ ہے جو اس فورم میں تشریف لائے تھے۔
پھر اسی طرح کے ایک فورم میں علماء کرام کے نقطہ ہائے نظر تحریر کیے گئے ہیں۔ مولانا عبدالقدوس ہاشمی مرحوم کا اس موضوع پر وقیع خیالات پر مشتمل ایک مختصر مگر جامع مضمون بھی شامل اشاعت ہے۔
محقق اہل حدیث حافظ صلاح الدین یوسفd کا ایک عمدہ مضمون اور پھر لیفٹیننٹ کرنل فرحان شاہد کا ایک مضمون اور چند مفتیان کرام کے فتاویٰ بھی اس کتاب کا حصہ ہیں۔ اسی طرح کچھ اور مضامین بھی ہیں۔
محترم رانا صاحب نے ان مضامین پر تجزیہ اور تحقیق کا حق ادا کیا ہے اور بات سمجھانے کی پوری کوشش کی ہے۔
پشاور سے اس موضوع پر اختلاف کرنے والے احباب کا نقطۂ نظر اور اس پر نقد بھی کیا گیا ہے۔ دوران تحریر اس بات کا جواب بھی آگیا ہے کہ پوری دنیا میں ایک رؤیت ممکن نہیں اور چاند پر موقوف معاملات اکٹھے نہیں ہو سکتے۔ کیونکہ رسول اکرمe کا ارشاد ہے:
’’چاند دیکھ کر روزے رکھو اور چاند دیکھ کر چھوڑو۔‘‘
حکومت پاکستان کا رؤیت ہلال کے لیے ایک مستقل کمیٹی کا قیام احسن اقدام ہے جو بہت عرصے سے اپنا کام خوش اسلوبی سے انجام دے رہی ہے‘ جو تمام مکاتب فکر کے نمائندگان‘ محکمۂ موسمیات‘ وزارتِ اطلاعات اور دیگر وزارتوں کے افسران پر بھی مشتمل ہے۔ اس کمیٹی پر اعتراضات بھی بے جا ہیں۔
رانا صاحب مشکل مسائل کو آسانی سے حل کرنے کا ملکہ خوب رکھتے ہیں‘ اس لیے موضوع سے دلچسپی رکھنے والے حضرات کے لیے اس کتاب کا مطالعہ بہت سے علمی فوائد کا باعث ہو گا۔ ان شاء اللہ تعالیٰ!
لاہور میں یہ کتاب مرکز اہل حدیث ۱۰۶ راوی روڈ اور مکتبہ اسلامیہ اردو بازار سے بآسانی دستیاب ہے۔


No comments:

Post a Comment

View My Stats