پاک سعودی دوستی 37-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Thursday, October 03, 2019

پاک سعودی دوستی 37-2019


پاک سعودی دوستی

تحریر: فضیلۃ الشیخ جناب مولانا علی محمد ابوتراب﷾
سعودی عرب کا شمار اسلامی دنیا کے انتہائی اہم ممالک میں ہوتا ہے ، چونکہ سعودی عرب میں مسلمانوں کے مقدس ترین شہر مکہ مکرمہ ومدینہ منورہ موجود ہیں، لہٰذا اس وجہ سے ایک مسلمان کیلئے سعودی عرب کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ سعودی عرب کی خوشحالی و ترقی نہ صرف سعودی عوام بلکہ عالم اسلام کے لئے باعث مسرت واطمینان ہے۔ ۸۹ویں قومی دن کے موقع پر خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور سعودی عوام کو مبارکباد پیش کرتے ہیں، پاک سعودیہ دوستی کی بات کی جائے تو قیام پاکستان سے لے کر اب تک سعودیہ کے پاکستان کے ساتھ مضبوط تعلقات ہیں۔ سعودیہ نے پاکستان کی سفارتی و اقتصادی سطح پر ہر وقت جس انداز میں مدد کی ہے، اس کی نظیر نہیں ملتی۔ پاکستان اور سعودی عرب کے دیرینہ اور گہرے تعلقات میں دونوں ممالک کے درمیان اسلامی عقیدت کا بہت بڑا کردار ہے، یہی وجہ ہے کہ عالمی اور علاقائی و پاکستان کی داخلی سیاست میں تبدیلیوں کے باوجود پاکستان اور سعودی عرب کا رشتہ ہمیشہ مضبوط اور مستحکم رہا ہے۔ پاک سعودی پہلا معاہدہ شاہ سعود بن عبدالعزیز کے زمانے میں ہوا تھا اس کے علاوہ شاہ فیصل کے دور میں اس دوستی کو عروج حاصل ہوا۔ ان ہی دنوں سعودی عرب نے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے بھی پاکستان کی بھرپور حمایت کا اعلان کیا تھا، اور اس مقصد کے لیے آج تک پاکستان کے ساتھ ہی کھڑا ہے۔ ۱۹۶۷ء میں پاکستان اور سعودیہ کے درمیان فوجی تعاون کا معاہدہ طے پایا جس کے تحت سعودی عرب کی بری اور فضائی افواج کی تربیت کا کام پاکستان کے سپرد کیا گیا۔ ۱۹۷۱ء کی دہائی کے آغاز پر مشرقی پاکستان کے علیحدہ ہونے کے فوراً بعد سعودی عرب نے اپنے مثبت کردار سے پاکستان میں قومی اتحاد کی بحالی میں بہت اہم کردار ادا کیا۔ اس موقع پرسعودی عرب نے پاکستان میں نہ صرف سرمایہ کاری کی بلکہ عوامی فلاح کے کئی بڑے منصوبے برادرانہ محبت کی بنیاد پر شروع کیے۔ تعلقات کا یہ سلسلہ اسی زمانے سے ایک تسلسل کے ساتھ چلا آرہا ہے۔ ۱۹۷۳ کے سیلاب میں بھی سعودی عرب کی جانب سے بھرپور مالی امداد فراہم کی گئی جبکہ شاہ فہد نے ۱۹۹۸ء میں پاکستان کے ایٹمی دھماکوں کے بعد پاکستان کو کئی سال تک مفت تیل فراہم کیا۔ شاہ عبداللہ نے ۲۰۰۵ء کے زلزلے اور ۲۰۱۰ بلوچستان کے سیلاب میں کسی بھی ملک سے زیادہ پاکستان کی مدد کی ۔ سعودی عرب میں جتنے بھی فرمانروا آئے ان سب نے پاکستان سے محبت کے لازوال رشتے کو مضبوط سے مضبوط تر بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کیا۔ یہی وجہ ہے کہ آنے والی نسلیں بھی دونوں ممالک کی دوستی کی وجہ سے مستفید ہوں گی، کیونکہ دونوں ہی ممالک زندگی کے ہر محاذ پر ایک دوسرے کے مفادات کا تحفظ کر رہے ہیں۔ اس وقت اگر دیکھا جائے تو سعودی عرب میں لاکھوں پاکستانی ملازمت یا کاروبار کی وجہ سے موجود ہیں ، جن کی وجہ سے اربوں ڈالر پاکستان کے زر مبادلہ میں اضافہ ہوتا ہے پاکستان میں حالیہ اقتصادی بحران میں سب سے زیادہ سعودی عرب نے تعاون کیا اور پاکستان کو اس بحران سے نکالنے میں مدد دی۔ پاکستان میں معاشی ترقی اور خوشحالی کے لیے سی پیک میں حصہ داری اور گوادر بندرگاہ میں سرمایہ کاری کا سوچ رہا ہے۔ پاک سعودی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے میں پاکستان میں سعودی سفیر الاستاذ نواف بن سعید المالکی، نائب سفیر اور ان کی ٹیم کا انتہائی اہم اور بنیادی کردار ہے۔ اسی طرح کراچی میں سعودی قونصل جنرل کی خدمات کو بھی کسی طور نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، جنہوں نے پاکستان سے عمرہ زائرین اور عازمین حج کی خدمات کے لئے نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ امسال سعودی عرب نے حجاج کیلئے نئے سسٹم ’’روڈ مکہ‘‘ کا اعلان کیا تو پاکستان کو بھی یہ اعزاز بخشا کہ حجاج کرام کی تمام کی تمام امیگریشن کاروائی پاکستانی ائیرپورٹس پر مکمل کی گئی ، جس کی وجہ سے حجاج کرام کی سفر حج میں خاطر خواہ آسانی دیکھنے کو ملی، جس پر ہم سعودی عرب کے شکر گزار ہیں۔ سعودی عرب عالم اسلام کا دینی مرکز ہے اس کے قیام سے اب تک یہاں قرآن وسنت کی حکمرانی ہے اور دنیا بھر میں خصوصاً اسلامی دنیا میں سعودی عرب کا کردار انتہائی مثبت رہا ہے۔ دنیا عالم میں امن وامان، مذہبی رواداری کے فروغ اور دشست گردی کے ناسور اور فرقہ واریت کے خاتمے کیلئے گراں قدر خدمات سرانجام دیں اور اس کے خلاف فکری ونظریاتی جنگ لڑی۔ امت مسلمہ کے اتحاد واتفاق اور ان کو یکجا رکھنے میں سعودی عرب نے ہمیشہ کردار ادا کیا ہے۔ امام محمد بن عبدالوہابa اور امام محمد بن سعودa کی اسلام کی ترویج کے حوالے سے قابل قدر خدمات ہیں، انہی خدمات کے نتیجے میں اللہ تعالی نے جزیرۃ العرب کو شرکیہ نظریات و عقائد اور بدعات سے پاک کردیا ہے۔ اللہ تعالی نے آل سعود کو خدمت حرمین شریفین کا شرف بخشا ہے۔ اور انہوں نے جو حق ادا کیا ہے اس کی نظیر نہیں ملتی۔ یوں تو آل سعود کی بہت سی خدمات قابل ذکر ہیں۔ لیکن شاہ فہد بن عبدالعزیزa نے قرآن کریم پرنٹنگ کمپلیکس کی بنیاد مدینہ منورہ میں رکھ کر انہوں نے دنیا بھر کو اسلام کا صحیح اور درست تصور پیش کیا۔ اسی کمپلیکس سے دنیا کی ۳۰ زبانوں میں قرآن کریم کے ترجمہ کرکے دنیا بھر میں مفت تقسیم کیے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ موجودہ فرماں رواں خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے احادیث نبوی کی نشرواشاعت کے لئے ایک عظیم الشان ادارہ قائم کیا جس کا افتتاح عنقریب ہونے والا ہے، جس کی جس قدر بھی تحسین کی جائے کم ہے۔ اپنے عوام کو تعلیم جیسی بنیادی اور اہم سہولت فراہم کرنے کے لیے سعودی حکومت نے تعلیم کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا ہے۔ یوں تو سعودی عرب میں بیشتر چھوٹے بڑے تعلیمی ادارے قائم ہیں جہاں سے مقامی غیر مقامی طلبہ حصول علم کرتے ہیں لیکن ان کے علاوہ ۳۵ یونیورسٹیاں قائم ہیں جہاں لاکھوں مقامی اور غیر ملکی طلبہ کو بھی اسکالرشپ پر تعلیم فراہم کی جاتی ہے جبکہ جامعہ اسلامیہ (اسلامک یونیورسٹی مدینہ منورہ) میں ۸۰ فیصد غیر ملکی طالب علموں کا کوٹہ لا محدود ہے۔ سعودی عرب میں ابتدائی جماعتوں سے لیکر پی ایچ ڈی تک دینی و عصری تعلیمی نصاب کا امتزاج ہے۔ اسی طرح سعودی عرب میں عالمی سطح کے سینئر ترین علماء پر مشتمل ایک کونسل قائم ہے جو کسی بھی شعبہ سے متعلق دور حاضر کے مسائل کے حل کے لیے متعلقہ شعبہ کے ماہرین کے ساتھ مل کر ایسا حل پیش کرتے ہیں۔ جس سے اسلام اور دنیائے جدید میں خلیج قائم نہیں ہوتی۔ اسی طرح سعودیہ میں حدود اللہ کا نفاذ ہے جس کی بدولت دنیا بھر کے مقابلے میں جرائم کی شرح انتہائی کم ہے۔ حرمین شریفین کی خدمت کے حوالے سے آل سعود کا کردار انتہائی قابل قدر ہے جس طرح آل سعود مقدس مقامات کی خدمت میں مستعدی اور تیزی کا مظاہرہ کیا ہے تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ سعودی عرب میں تیزی سے تکمیل کو پہنچنے والے ترقیاتی منصوبوں کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ بڑے سے بڑے منصوبوں کو بھی خصوصی توجہ کے ساتھ جس قدر جلد ممکن ہو پائے تکمیل تک پہنچایا ہے اور ان منصوبوں پر لاگت کے حوالے سے کسی طور پر بھی سمجھوتہ نہیں کیا گیا۔ اس وقت بیت اللہ اور مسجد نبوی کی توسیع کے منصوبے پر کام جاری ہے جس پر ۸۰ ارب ریال کی خطیر رقم کی لاگت کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ اس منصوبے کی تکمیل کے بعد خانہ کعبہ اور مسجد نبوی کی وسعت موجودہ گنجائش سے دگنا ہو جائے گی۔ سعودی عرب وہ ملک ہے جس میں حکومتی سرپرستی میں نظام صلاۃ کا قیام ہے اور نماز کے وقت تمام کاروبار اور تجارتی مراکز بند ہوجاتے ہیں جبکہ سعودی عرب کا نظام ہجری اسلامی تاریخ کے ساتھ وابستہ ہے ۔ دشمن چاہتا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے دیرینہ تعلقات کو کمزور کیا جائے مگر ایسا کرنا کسی بھی لحاظ سے آسان نہیں۔ ہم نے دیکھا کہ کس طرح ہمیشہ سے پاکستان اور سعودی عرب یک جان دو قالب کے طور پر ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہے۔ اور کس طرح دونوں ممالک کے عوام کے دل دھڑکتے ہیں۔ ۸۹ ویں یوم الوطنی کے اس پرمسرت موقع پر اہلیان پاکستان سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز، ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان ، سعودی سفیر الاستاذ نواف بن سعید المالکی اور اپنے سعودی بھائیوں کو مبارکباد پیش کرتے ہیں اور ان کی ترقی و خوشحالی کے لئے دعا گو ہیں۔ اللہ تعالی وطن عزیز پاکستان ،سعودی عرب اور پورے عالم اسلام کو اندرونی و بیرونی سازشوں سے محفوظ رکھے۔ آمین!


No comments:

Post a Comment

View My Stats