خبر متواتر 38-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Saturday, October 12, 2019

خبر متواتر 38-2019


خبر متواتر

(تیسری قسط)       تحریر: جناب پروفیسر حافظ محمد شریف شاکر
ابوالفیض جعفر کتانی لکھتے ہیں کہ یہ حدیث یحییٰ انصاری کے سوا کئی طرق سے روایت کی گئی ہے لیکن کوئی ایک طریق بھی صحیح نہیں‘ جیساحافظ علی بن مدینی وغیرہ ائمہ نے کہا ہے ۔خطابی کہتے ہیں کہ میرے علم کے مطابق اہل حدیث کے مابین اس میں کوئی اختلاف نہیں۔ عراقی کہتے ہیں کہ بعض نے اس حدیث پر شہرت اور بعض نے تواتر کااطلاق کیا ہے، حالانکہ ایسا نہیں، یہ توحدیث فردغریب ہے اور جس نے اسے مشہور یا متواتر کہا اس کی مراد سند کے آخر کے مشہور ہونے کی ہے۔ ابن مدینی نے کہا ہے کہ اسے یحییٰ بن سعید سے سات سو مردوں نے روایت کیا ہے۔‘‘ (نفس المرجع، ص ۱۸)
کتانی لکھتے ہیں کہ ابوالقاسم عبدالرحمن ابن مندہ (م ۴۷۰ھ) نے اپنی کتاب ’’التذکرۃ‘‘ میں ذکر کیا کہ حدیث [انما الاعمال بالنیات] کو عمر کے ساتھ علی ؓبن ابی طالب ،سعدؓ بن ابی وقاص، ابن مسعودؓ، ابوذرؓ، عبادہ ؓ بن صامت ، ابو ہریرہؓ، ابو سعید ؓ خدری، ابن عمرؓ ،ابن عباس، معاویہ،عقبہ بن عامر، عتبہ بن عبدالسلمیٰ، جابر، انس، عتبہ بن الندر، عتبہ بن مسلم، ہلال بن سوید نے نبیe سے روایت کیا۔حافظ عمادالدین ابن کثیر(م۷۷۴ھ) نے حافظ مزی (م۷۴۲ھ) سے ابن مندہ کے کلام کے بارے دریافت کیا تو انہوں نے اسے مسبتعدخیال کیا ۔حافظ ابوالفضل عراقی (م۸۰۶ھ) نے ابن الصلاح پر اپنی گفتگو میں اس کی یہ وجہ بیان کی ہے کہ ابن مندہ کی مراد یہ ہے کہ ان رواۃ نے مطلق نیت کے اعتبار سے احادیث روایت کی ہیں نہ کہ خاص وہی لفظ [انما الاعمال بالنیات]،اور انہوں نے اس پر بھی متنبہ کیا کہ آخری دونوں راوی عتبہ بن مسلم اورہلال بن سوید صحابی نہیں ہیں۔ (الکتانی: نظم المتناثر: ص: ۱۸-۱۹)
ابوالفیض جعفر کتانی ،ابن مندہ کے کلام پر تبصرہ کرتے ہیںکہ صرف ابن مندہ نے اس حدیث کے متواتر ہونے کا دعویٰ کیاہے ، اس لیے وہ اس تکلف کے محتاج ہوئے جس کا انہوں نے التذکرہ میں ذکر کیا ۔ اگر اس سے ابن مندہ کی مراد تواتر معنوی ہے تو درست وگرنہ تواترلفظی ممنوع ہے، کیونکہ عمرؓ کے طریق کے سوا کوئی طریق صحیح نہیں اور حدیث عمر کے الفاظ [انما الاعمال بالنیات] کے ساتھ صرف مندرجہ ذیل احادیث آئی ہیں:
1          ابو سعید کی حدیث: جس کے راویوں کی اس حدیث میں غلطی کی محدثین نے تصریح کی ہے۔
2          علیؓ کی حدیث: اس میں بعض غیر معروف راوی ہیں۔
3          انس کی حدیث: یہ بہت غریب ہے ۔
4          ابوہریرۃ کی حدیث : یہ ضعیف ہے اور مذکورہ بالا صحابہ کی تمام احادیث مطلق نیت کے بارے میں ہیں، جیسے: یہ حدیث کہ ’’وہ اپنی نیتوں کے مطابق قبروں سے اٹھا ئے جائیں گے۔‘‘ اور یہ حدیث کہ ’’جس شخص کی کوئی نیت نہ ہو اس کا عمل قبول نہیں‘‘ اور یہ حدیث کہ ’’آدمی کو اپنے عمل سے وہی کچھ ملے گا جس کی اس نے نیت کی ہوگی‘‘ اور یہ حدیث کہ ’’مومن کی نیت اس کے عمل سے بہتر ہے‘‘ اور یہ حدیث کہ ’’آدمی کو اس کے غزوات سے وہی کچھ ملے گا جس کی اس نے نیت کی‘‘ اور یہ حدیث کہ ’’لیکن جہاد اور نیت باقی ہے‘‘ اور یہ  حدیث کہ ’’ دو صفوں کے درمیان بہت سے قتل ہونے والوں کی نیت کو اللہ خوب جانتا ہے۔‘‘ اور یہ حدیث کہ ’’اے یزید! تیرے لیے وہ جو تونے نیت کی‘‘ اور اس جیسی دیگر احادیث (نفس المرجع: ص: ۱۹) اس قسم کی تمام احادیث متواتر معنوی کے زمرہ میں آتی ہیں ۔
اس حدیث کے بارے میں احمد محمد شاکرلکھتے ہیں:
[الحق انه حدیث غریب ای فرد مطلق، فانه تفرد به عمر عن النبیﷺ وتفرد به علقمة عن عمر وتفرد به محمد بن ابراهیم التیمی عن علقمة  تفرد به یحییٰ بن سعید عن التیمی ثم اشتھر بعد ذلك بل تواتر عن یحییٰ بن سعید وقد ورد باسانید أخر من غیر حدیث عمر ، ولكنھا كلھا اسانید ضعاف۔] (احمد محمد شاكر: شرح الفیة السیوطی: ص: ۴۵)
’’حق بات یہ ہے کہ یہ حدیث غریب یعنی فردمطلق ہے، کیونکہ اسے نبیe سے اکیلے عمر نے، عمر سے اکیلے علقمہ نے، علقمہ سے اکیلے محمد بن ابراہیم تیمی نے اور تیمی سے اکیلے یحییٰ بن سعید نے روایت کیا، پھر اس کے بعد یہ حدیث مشہور ہوگئی بلکہ یحییٰ بن سعید سے متواتر بن گئی۔ یہ حدیث حدیث عمر کے سوا اور سند وں سے بھی آئی ہے لیکن یہ تمام اسانید ضعیف ہیں۔‘‘
â        لقط اللآلی المتناثرة فی الاحادیث المتواترة:
یہ کتاب ابوالفیض محمد مرتضیٰ الحسینی الزبیدی صاحبِ تاج العروس (م۱۲۰۵ھ) کی تالیف ہے ۔
آپ اس کی تالیف کاسبب بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیںکہ رسول اللہ e کی حدیث کی قراء ت میں مشغول رہنے والے بعض احباب نے کسب فضائل کی طمع کے طور پر مجھ سے اس کتاب کے لکھنے کاسوال کیا ۔اللہ تعالیٰ اپنی توفیق سے ان میں برکت کرے اور ان کی مدد فرمائے۔ (الزبیدی :لقط اللالی المتناثرۃ: ص: ۱۵)
زبیدی نے اس کتاب میں کل اکہتر (ا۷) حدیثیں درج کی ہیں اور یہ ایسی احادیث ہیں جن کے بارے میں کہا جاتاہے کہ ان میں تواتر پایاجاتاہے ، مصنف نے جو احادیث اس کتاب میں درج کی ہیں ،ان میں ہر حدیث کم از کم دس صحابہ سے روایت کی گئی ہے ،اس سے کم تعداد سے مروی بہت سی احادیث نظر انداز کردی گئی ہیں۔ (نفس المرجع)
آپ نے اس کتاب کا نام’’لقط اللالی المتناثرۃ فی الاحادیث المتواترۃ‘‘ رکھا ہے(نفس المرجع: ص: ۱۵-۱۶) اور اس کے شروع میںایک مقدمہ لکھا ہے جس میں تواتر کی تعریف اور جو کچھ اس میں اختلاف پایا جاتاہے اس کا ذکر کیا ہے۔
ã        رسالة فی الاحادیث المتواترة:
یہ ابو عبداللہ محمد المدنی بن اللائی بن جالون القومی الفاسی(م۱۳۲۷ھ) کی تالیف ہے اور فاس سے طبع ہوئی ہے۔ (الکتانی :الرسالۃ المستطرفۃ: ص: ۳۹۹ (حاشیہ) مطبوع استانبول۱۹۹۴ء)
ä        الرسالة فی جواب من قال لما لم تكن الاحادیث كلھا متواترة:
یہ کتاب سید محمد ابو الھدی بن حسن وادی الصیادی الرفاعی(م۱۳۲۷ھ) کی تالیف ہے اور ۱۳۰۱ھ میں بولاق (مصر) سے طبع ہوئی ہے۔ (نفس المرجع)
å        اتحاف ذوی الفضائل المشتھرة بما وقع من الزیادات فی نظم المتناثر علی الازھار المتناثرة:
اس کتاب کے مصنف ابوالفضل عبداللہ صدیق ہیں‘ کتانی نے سیوطی کی شرط پر کتاب ’’الازہار المتناثرۃ‘‘کا استدراک ’’نظم المتناثرۃ‘‘ تالیف کیا ،اور کتانی کے اس استدراک کو ابوالفضل عبداللہ صدیق نے ملخص کیا، اور اس پر کچھ زیادات لکھ کر مذکورہ بالانام سے موسوم کیا، اور جو زیادات زبیدی نے اپنی کتاب’’لقط اللآلی المتناثرۃ‘‘ میں کی تھیں ،وہ بھی اس میں شامل کی گئی ہیں۔ (السیوطی: تدریب الراوی: ص: ۲/۱۲۹ [حاشیہ])
æ        الحرز المكنون من لفظ المعصوم المأمون:
اس کتاب کے مؤلف نواب صدیق حسن بن علی القنوجی البخاری الحسینی (م۱۸۸۹ء/۱۳۰۷ھ) ہیں ۔آپ نے ا س میں چالیس احادیث جمع کی ہیں جو حد تواتر کو پہنچی ہیں ۔آپ نے یہ تمام احادیث شیخ ابوالفیض محمد مرتضیٰ الحسینی الزبیدی المصری متوفیٰ۱۲۰۵ھ کی کتاب ’’لقط اللآئی المتناثرۃ فی الاحادیث المتواترۃ ‘‘سے اخذ کی ہیں۔ (الکتانی:نظم المتناثر: ص: ۴)
اس کتاب کا تذکرہ اسماعیل پاشا نے بھی کیا ،اور اسے نواب صدیق بن حسن کی تالیف قرار دیا ہے۔ (اسماعیل پاشا: ایضاح المکنون فی الذیل علی کشف الظنون عن اسامی الکتب والفنون: مکتبۃ المثنیٰ، بغداد: سن ندارد: ص: ۲/۴۰۰)
 مصادر شریعت میں حدیث متواتر کامقام ومرتبہ:
مصادر شریعت میں حدیث متواتر کے مقام ومرتبہ کی بنیاد اس کے رواۃ کے صحت و سقم پر ہے کیونکہ
’’متواتر سے مراد ایسی خبر ہے جس کی سچائی کے بارے میں علم ضروری حاصل ہو، اور اس خبر کو روایت کرنے میں اس شرط (خبر کی سچائی کے بارے میںحصول ِ علم ضروری) کا سند کے اول سے آخر تک جاری رہنا ضروری ہے۔‘‘ (ابن الصلاح :مقدمۃ:ص: ۳۵)
طاہر بن صالح الجزائری (م۱۳۳۸ھ) فرماتے ہیں کہ متواتر وہ ہوتی ہے جس میں شک وشبہ کا امکان نہ ہو جیسے انبیاء اور بلاد مشہورہ وغیرہ کے وجود کے بارے میں علم ہے اور یہ (علم ضروری) ایک زمانے کے بعد دوسرے زمانے میں ہوتاہوا زمانہ نبوت تک تمام زمانوں میں متواتر رہے۔ (الجزائری: توجیہ النظرالی اصول النظر:ص: ۴۲)
محدثین کے ہاں خبر متواترکی قبولیت کے لیے جوشرائط رکھی گئی ہیں ان شرائط کے تحت خبر متواتر کا وجود مشکل ہے۔ چنانچہ ابوالفیض زبیدی ابن ابی الدم (م۶۴۲ھ) کا قول یوں نقل کرتے ہیں:
[ومن رام من المحدثین وغیر ھم ذكر حدیث عن النبیﷺ متواتر وجدت فیه شروط التواتر الامن  ذكر ھا فقد رام محالا۔] (الزبیدی: لقط اللالی المتناثرة: ص: ۱۷)
یعنی ’’محدثین وغیر ہ میں سے جس نے بھی نبی e کی متواتر حدیث ،جس میں شروطِ متواتر موجود ہوں کا تذکرہ کرنا چاہا ، اس نے ایک محال چیز کا قصد کیا۔‘‘
ابوالفیض زبیدی مزید لکھتے ہیں کہ حافظ ابن الصلاح، الحازمی اور ابن حبان نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ ’’یعز وجودہ ‘‘ (یعنی اس کا وجود دشوار ہے)
ابن ابی الدم نے عزیز الوجود ہونے کی وجہ بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ تواتر کی ایک شرط یہ ہے کہ اسے ایک ایسی جماعت نقل کرے جس کا جھوٹ پر مجتمع ہونا تصور نہ کیا جاسکے ، اور رسول اللہ کی زبان سے نکلے ہوئے الفاظ کے بارے میں ان کی قطعی سچائی کا علم ضروری یا نظری حاصل ہو، پھر اس جماعت سے دوسری جماعت سنے جس کے جھوٹ پرمجتمع ہونے کا تصور نہ کیا جاسکے اور اس کی سچائی کا علم ضروری یا نظری حاصل ہو ، پھر اسی طرح دوسری جماعت سے تیسری جماعت سنے اور یہ سلسلہ سند کے آخر تک چلا جائے ،اوراس شرط کا سند کے اول و آخر اور وسط میں ثابت ہونا ضروری ہے۔جبکہ ایسی شرط احادیث نبویہ میں نہیں پائی جاتی۔ (الزبیدی: لقط اللالی المتناثرۃ: ص: ۱۸-۱۹)
الجزائری تمام طبقات میں تواتر کو لازم قرار دیتے ہوئے لکھتے ہیںکہ خبر متواتر میں شرط یہ ہے کہ اس میں تواترطبقہ اولیٰ سے آخری طبقہ تک موجود ہو ، جب یہ تواتر کسی ایک طبقہ میں مفقود ہوجائے ، خاص کر پہلے طبقہ میں ، تواسے متواتر نہیں کہاجائے گا ۔اگر خبر شروع میں متواتر ہو پھر اس سے تواتر زائل ہوجائے تو اس خبر کو ’’منقطع التواتر‘‘ کہا جائے گا۔اگر خبر شروع میں متواتر نہ ہو تواسے متواتر نہیں کہا جائے گا۔ (الجزائری: توجیہ النظر :ص: ۳۷)
تمام طبقات میں تواتر کے بارے تقریباً یہی بات الکتانی لکھتے ہیںکہ متواتر کے رواۃ اگر ایک ہی طبقہ ہو ں تو واضح ہے کہ متواتر کی مذکورہ قیود کی موجودگی میں ان کے خبر دینے سے تواتر حاصل ہوجائے گا ، اور اگر ایسا نہ ہویعنی رواۃ کے کئی طبقات ہوں اور محسوس کی صرف ایک ہی طبقہ نے خبر دی ہو توان طبقات کا ایسی جماعت ہونا شرط ہوگاکہ سند کے اول سے آخر تک تمام طبقات میں ان کا جھوٹ پر مجتمع ہونا ممنوع و ناممکن ہو۔ (الکتانی:نظم المتناثر:ص: ۷)
 حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ کا نظریہ:
حافظ ابن حجر کانظریہ حافظ ابن الصلاح وغیرہ کے خلاف ہے اورآپ حدیث متواتر کے وجود کے قائل ہیں اورآپ ابن الصلاح وغیرہ کے نظریہ کا جواب دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ جوابن الصلاح وغیرہ نے حدیث متواتر کے عدیم الوجودہونے کا دعوٰی کیا ،یہ کثرت طرق ،احوال رجال اور ان کے جھوٹ پر متفق ہونے کی عادت کو محال سمجھنے کی متقاضی صفات پر قلت اطلاع کی وجہ سے پید ہوا ہے۔سب سے بہتر بات جس سے متواتر حدیثوں کی کثرت کا ثبوت فراہم ہوتاہے،وہ یہ ہے کہ شرق وغرب کے اہل علم کے ہاتھو ں میں جو کتب مشہورہ متداولہ ہیں ، جن کی ان کے مصنّفین کی طرف نسبت اہل علم کے ہاں قطعی سمجھی جاتی ہے ،جب یہ کتب کسی حدیث کی تخریج پر شروط بالا کے مطابق متفق ہونگی تو یہ اجماع اس حدیث کے اپنے قائل کی طرف صحیح نسبت کے سبب علم یقینی کا فائدہ دے گا۔‘‘ (ابن حجر :نزہۃ النظر: ص: ۱۶-۱۷)
حافظ ابن حجرنے جو یہ دعویٰ کیاکہ جب یہ کتب کسی حدیث کی تخریج پر شروط بالا کے مطابق متفق ہونگی تو یہ اجماع اس حدیث کے اپنے قائل کی طرف صحیح نسبت کے سبب علم یقینی کا فائدہ دے گا۔اس سے متواتر احادیث کی کثرت ثابت نہیںہوتی ،کیونکہ جس طرح ایک حدیث کو صحابہ کی عظیم جماعت روایت کرتی ہے ایسے ہی صحابہ سے روایت کرنے والی دوسری ا تنی ہی بڑی ہونی چاہیے اور اس دوسری جماعت سے روایت کرنے والی تیسری جماعت بھی اتنی ہی بڑی جماعت ہونی چاہیے لیکن جب جماعت صحابہ اور کتب متداولہ کے مصنّفین کے درمیان سند کے ہر طبقہ میں مطلوبہ کثرت نہ پائی جائے تو اسے خبر متواتر کا نام نہیں دیا جاسکتا۔
’’انماالاعمال بالنیات‘‘ کے بارے سوال کا جواب دیتے ہوئے ابن ابی الدم کہتے ہیںکہ اسے اگرچہ تواتر کی تعداد نے نقل کیا ہے لیکن یہ متواتر نہیں کیونکہ عدد تواتر کا حصول سند کے درمیان میں آکر طاری ہوا ہے اوریہ سند کے آغاز میں موجود نہیں۔ (الزبیدی:لقط اللالی المتناثرۃ:ص: ۲۱)
حافظ ابن حجرa اس حدیث کی سند کے بارے میں لکھتے ہیں کہ
’’اسے سیدنا عمرt سے صرف علقمہ نے اورعلقمہ سے صرف محمد بن ابراہیم نے اورمحمد بن ابراہیم سے صرف یحییٰ بن سعید نے اوریحییٰ بن سعید سے اس حدیث نے شہرت حاصل کی ہے۔ یحییٰ سے اوپر تمام راوی متفرد ہیں اوریہ بات امام ترمذی ،نسائی ، بزاز، ابن السکن اورحمزہ بن محمد الکنانی نے جز م کے ساتھ ذکر کی ہے۔‘‘ (ابن حجر: فتح الباری: ص: ۱/۱۱)
حافظ ابن حجرa مزید لکھتے ہیںکہ اس تقریر سے اس شخص کی غلطی واضح ہوگئی جس نے اسے متواتر خیال کیا تھا، لیکن اگر اسے متواتر معنوی پر محمول کیا جائے ، تو یہ احتمال درست ہے ؛کیونکہ یہ حدیث یحییٰ بن سعید سے متواتر روایت کی گئی ہے ۔ محمد بن علی بن سعید نقاش حافظ نے ذکر کیا ہے کہ اسے یحییٰ بن سعید سے دوسو پچاس افراد نے روایت کیا ہے ۔ اور امام ابوالقاسم بن مندہ نے ان کے نام گنوائے ہیںجو تین سو سے متجاوز ہیں۔ (نفس المرجع)
حافظ ابن حجرکی ’’انما الاعمال بالنیات‘‘ کے بارے میںگفتگو سے یہ بات واضح ہوگئی کہ خبر متواتر کی سند میں تواتر کا اول تاآخر پایا جانا ضروری ہے ۔لیکن جو جواب آپ نے حافظ ابن الصلاح وغیرہ کادیا ہے ،اس میں صحابہ کرام اور کتبِ حدیث متداولہ کے مصنفین کے درمیانی طبقات رواۃ ِ متواتر میں اس شرط کا فقدان ہے۔لہٰذا حافظ ابن الصلاح وغیرہ کی بات درست نظر آتی ہے۔
ا               [من كذ ب علی متعمداً] کے بارے میں اختلافِ آراء:
اس حدیث کو حافظ ابن حجر کی طر ح حافظ ابن الصلاح بھی متواتر خیال کرتے ہیںکیونکہ اسے صحابہ] کی بڑی تعداد نے نقل کیا ہے اورصحیحین میں یہ صحابہ کی ایک جماعت سے مروی ہے اورحافظ جلیل ابوبکر بزار نے اپنی مسند میں اس کے بارے میں ذکر کیا کہ اسے رسول اللہ e سے تقریباً چالیس مردوں نے روایت کیا۔ بعض حفاظ نے ذکر کیا کہ اسے رسول اللہ e سے باسٹھ نفوس نے روایت کیا جن میں عشرہ مبشرہ بھی شامل ہیں ،اور کہاکہ اس ایک حدیث کے سوا دنیا میں کوئی ایسی حدیث نہیں ملتی جس کی روایت پر عشرہ مبشرہ مجتمع ہوئے ہوں اورنہ کو ئی ایسی حدیث ملتی ہے جسے ساٹھ سے زائد صحابہ] نے رسول اللہ e سے روایت کیا ہو۔‘‘ (ابن الصلاح: مقدمۃ: ص: ۱۳۵-۱۳۶)
بعض نے اس کے متواتر ہونے سے انکار کیاہے۔
چنانچہ زبیدی لکھتے ہیں کہ بعض علماء نے کہا کہ یہ متواتر نہیں کیونکہ اگر فرض کرلیا جائے کہ اسے رسول اللہ e سے ایک ایسی جماعت نے نقل کیا جس کے قول کے بارے میں علم ضروری حاصل ہوتاہے،لیکن پہلی جماعت سے دوسری جماعت کے سماع کے بارے میں علم ضروری کا دعویٰ ممکن نہیں۔ ایسے ہی دوسری جماعت سے تیسری جماعت کے سماع اور تیسری جماعت سے چوتھی جماعت کے سماع کے بارے میںعلم کے حصول کا دعویٰ ناممکن ہے ،دراصل یہ حدیث بہت مشہور ہوچکی ہے اس لیے اس کے بارے میں تواتر اورحصول ِ علم ضروری کا گمان کرلیا گیاہے۔ (الزبیدی :لقط اللالی المتناثرۃ: ۲۲)
الزبیدی بعض علماء کے اس اعتراض کا جواب دیتے ہوئے لکھتے ہیںکہ بعض علماء کی طرف سے اس اعتراض کو تسلیم نہیں کیا جاسکتا کیونکہ بہت سارے علماء نے اس بارے میں آخری طبقہ تک مسلسل سماع کی وضاحت کی ہے ،اگر اسے متواتر تسلیم نہ کیا جائے توپھر دنیا میں کوئی حدیث متواتر نہیں۔ اسی لیے یوسف بن خلیل جیسے بعض حفاظ اورمحدثین نے اس پر علیحدہ کتب تالیف کی ہیں۔ (الزبیدی :لقط اللالی المتناثرۃ: ۲۲)
تطبیق: الزبیدی ، متواتر کے وجود اورعدم وجود کے نظریہ میں تطبیق دیتے ہوئے لکھتے ہیں:
[ان المانعین انما منعوا المتواتر اللفظی، والمثبتین جوزوا التواتر المعنوی۔] (نفس المرجع:ص: ۲۱)
’’یعنی جو متواتر کے انکاری ہیں ان کے مدنظر متواتر لفظی ہے اورجو اس کے وجود کا اثبات پیش کرتے ہیں ان کے پیش نظر متواتر معنوی ہے۔‘‘
صحیح بات یہ ہے کہ متواتر لفظی کا وجود پایا جاتاہے جیسا کہ حافظ ابن الصلاح نے بھی من کذب … الخ کو اس کی مثال کے طور پر پیش کیا ہے۔
ب           خبرِ متواتر کے مفید علم یقینی ہونے کے بارے میں مختلف آراء:
حدیث متواتر کے افادئہ علم کے بارے میںعلماء کی مختلف آراء ہیں:
 الجزائری لکھتے ہیں کہ بعض کتب کلام اور کتب اصول میں یہ بات ذکر کی گئی ہے کہ لوگوں کا 1ایک گروہ خبر متواتر کے مفید علم یقینی ہونے کا انکاری ہے، اوراس گروہ کا یہ قول ہے کہ خبر متواتر سے حاصل ہونے والا علم اکثر ظن قوی پر مشتمل ہوتا ہے۔ 2اور ایک گروہ خبر متواتر کو امورِ حاضرہ میں تومفید علم یقینی تسلیم کرتاہے لیکن امورِ ماضیہ میں اسے مفید علم یقینی ماننے سے انکاری ہے۔ 3اور ایک تیسرا گروہ سمنیہ یعنی ہندوستان میں سومنات کا پجاری سرے سے خبر متواتر کے مفید علم ہونے کا انکاری ہے، ان کے بارے میں امام غزالی  المستصفی میں لکھتے ہیں کہ متواتر کے مفید علم ہونے کا اثبات تو ظاہر ہے، یہ سمنیہ کے خلاف ہے کیونکہ انہوں نے علم کو حواس پرمنحصر سمجھا ہے اورخبر متواتر کے مفید علم ہونے کا انکار کیاہے،حالانکہ ان کاعلم کو حواس پر منحصر سمجھنا باطل ہے۔ (الجزائری: توجیہ النظر:ص: ۳۸)
ابوالفیض الزبیدی خبر متواترکے مفیدعلم یقینی ہونے کے بارے میں مختلف علماء کے خیالات وآراء کایوں تذکرہ کرتے ہیںکہ خبر متواتر کے اپنے سامع کے لیے مفیدعلم ہونے میںاختلاف ہے ،کیا مفید علم ضروری ہے ؟ نظری ہے ؟یا بین بین ہے؟
1          پہلا مذہب جو قابل اعتماد ہے وہ یہ ہے کہ علم ضروری کافائدہ دیتی ہے،اور علم ضروری سے مراد یہ ہے کہ انسان کو اس کا علم و یقین لازماً حاصل ہوجائے اوراس کو رد کرنا اس کے لیے ناممکن ہو۔
2          دوسرا(مذہب) یعنی اس سے علم نظری کا حاصل ہونا ، یہ امام الحرمین (م ۴۱۹ھ/۱۰۲۸ء ) کا قول ہے ،اور معتزلہ میں سے الکعبی (م۳۱۹ھ/۹۳۱ء) کا بھی یہی قول ہے۔
3          تیسرا مذہب جو الآمدی سے منقول ہے وہ یہ ہے کہ اس میں توقف اختیار کیا جائے ،اور امام الحرمین کا بھی ایک قول ایسا ہی ہے۔(الزبیدی:لقط اللالی:ص: ۲۰)
حافظ ابن حجرa کے ہاں بھی حدیث ِ متواتر مفید علم یقینی ضروری ہوتی ہے۔ (ابن حجر :نزہۃ النظر:ص: ۱۴)
جمہور محدثین و اصولیین کا بھی یہی مذہب ہے، چنانچہ الکتانی لکھتے ہیںکہ خبر متواتر سے حاصل ہونے والا علم اصح مذہب کے مطابق علم ضروری ہوتاہے ،اور یہ جمہور محدثین اور جمہور اُصولیین کا مذہب ہے۔ (الکتانی: نظم المتناثر: ص: ۸) ……… (جاری ہے)


No comments:

Post a Comment