انبیاء کرام اور علمِ غیب 39-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Monday, October 21, 2019

انبیاء کرام اور علمِ غیب 39-2019


انبیاء کرامo اور علمِ غیب

تحریر: جناب میاں محمد جمیل
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿وَ عِنْدَهٗ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ لَا يَعْلَمُهَاۤ اِلَّا هُوَ﴾
’’اور اسی کے پاس غیب کی چابیاں ہیں انہیں اس کے سوا کوئی نہیں جانتا ۔‘‘ (الانعام)
اللہ تعالیٰ کا حکم اور ارشاد ہے کہ میں ہی زمین و آسمانوں کا غیب جانتا ہوں ،میرے سواکوئی غیب نہیں جانتا۔ سوائے اس کے کہ جسے میں غیب کی کسی بات سے آگاہ کروں ۔غیب سے آگاہ ہونا اور غیبی امور کو جاننا صرف اللہ تعالیٰ کی صفت ہے۔ یہ صفت کسی دوسرے میں نہیں پائی جاتی۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے بڑے بڑے انبیاء کرامo کے واقعات بیان فرمائے جن سے دو اور دو چار کی طرح واضح ہوتا ہے کہ انبیاء عظامo غیب نہیں جانتے تھے ۔نبی معظم رسول مکرمeتمام انبیاء کے سردار اور خاتم المرسلین ہیں۔ آپ سے باربار ااعلان کروایا گیا کہ آپ اس بات کا اعلان کریں کہ میں بھی غیب نہیں جانتا۔ اسی حوالے سے قرآن مجید میں آپe کے کچھ واقعات بیان کیے گئے ہیں تاکہ آپe کی امت شرک سے بچ جائے اور اس کا عقیدہ ٹھیک ہوجائے۔
ارشاد باری ہے:
﴿قُلْ لَّاۤ اَمْلِكُ لِنَفْسِيْ نَفْعًا وَّ لَا ضَرًّا اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُ١ؕ وَ لَوْ كُنْتُ اَعْلَمُ الْغَيْبَ لَا سْتَكْثَرْتُ مِنَ الْخَيْرِ١ۛۖۚ وَ مَا مَسَّنِيَ السُّوْٓءُ١ۛۚ اِنْ اَنَا اِلَّا نَذِيْرٌ وَّ بَشِيْرٌ لِّقَوْمٍ يُّؤْمِنُوْنَ۰۰۱۸۸﴾ (الاعراف)
’’ فرما دیں کہ میںتو اپنے لیے بھی نفع اور نقصان کا اختیار نہیں رکھتا۔ہاں !جو اللہ چاہے اوراگر میں غیب جانتا ہوتا تو بہت سی خیر حاصل کرلیتا اور مجھے کوئی تکلیف نہ پہنچتی ، میں صرف ڈرانے والا اور خوشخبری دینے والاہوں ان لوگوں کے لیے جو ایمان رکھتے ہیں۔‘‘
سیدنا نوح uاپنی قوم کو ساڑھے نوسو سال توحید کی دعوت دیتے رہے۔ (العنکبوت:۱۴) لیکن قوم نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ ہم اپنے معبودوں کو نہیں چھوڑ سکتے۔ (نوح:۲۳) ہم پرجو عذاب لانا چاہتے ہو لے آئو۔ (ھود:۳۲) سیدنا نوحuنے انتہائی مجبور ہوکر اپنی قوم کے لیے بددعا کی جس کے نتیجے میں ان کی قوم پر شدید ترین طوفان آیا۔ سیدنا نوحu نے اللہ کے حکم سے کشتی بنائی اورایماندر ساتھیوں کو لے کر کشتی پر سوار ہوگئے۔ (ھود:۴۰)
’’کشتی ان کو لے کر پہاڑوں جیسی اونچی موجوں میں چلی جارہی تھی۔ ان کا نافرمان مشرک بیٹا ایک اونچے پہاڑ پر کھڑا تھا۔ سیدنا نوحu نے اپنے بیٹے کو آواز دی اے میرے بیٹے ! کافروں کے ساتھ شامل ہونے کی بجائے ہمارے ساتھ سوار ہو جائو۔اس نے کہا میں اونچے پہاڑ پر ہوں یہ مجھے بچا لے گا۔ سیدنا نوح uنے فرمایا:آج اللہ تعالیٰ کے حکم سے بچانے والاکوئی نہیں ہوگا مگر جس پر وہ رحم فرمائے۔پھر دونوں کے درمیان موج حائل ہو گئی اور سیدنا نوحuکا بیٹا غرق ہونے والوں میں سے ہو گیا۔‘‘ (ھود:۴۲،۴۳)
بوڑھے باپ نے کربناک منظر دیکھا تو پدرانہ شفقت جوش میں آئی اور بے ساختہ اپنے رب کی بارگاہ میں فریاد کی۔ میرے رب! آپ نے ازراہِ کرم میرے ساتھ وعدہ فرمایا تھا کہ میں تیرے اہل کو بچالوں گا۔ آپ کا وعدہ ہمیشہ سچا ہوا کرتا ہے اور آپ ہر اعتبار سے اپنا وعدہ پورا کرنے پر قادر ہیں۔ کیونکہ آپ حاکموں کے حاکم ہیںاور آپ کا حکم ہی چلا کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بڑے جلال میں فرمایا کہ اے نوح! تیرا بیٹا تیرے اہل میں سے نہیں رہاکیونکہ اس کا عقیدہ اور اعمال اچھے نہیں۔میں تجھے نصیحت کرتا ہوںکہ اب میرے حضور یہ درخواست نہ کرناورنہ جاہلوں میں شمار کیے جائوگے۔ ارشاد سنتے ہی نوحu کانپ اٹھے اور اپنے رب کے حضور نہایت عاجزانہ انداز میں استدعا کی :
﴿قَالَ يٰنُوْحُ اِنَّهٗ لَيْسَ مِنْ اَهْلِكَ١ۚ اِنَّهٗ عَمَلٌ غَيْرُ صَالِحٍ فَلَا تَسْـَٔلْنِ مَا لَيْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ اِنِّيْۤ اَعِظُكَ اَنْ تَكُوْنَ مِنَ الْجٰهِلِيْنَ* قَالَ رَبِّ اِنِّيْۤ اَعُوْذُ بِكَ اَنْ اَسْـَٔلَكَ مَا لَيْسَ لِيْ بِهٖ عِلْمٌ وَ اِلَّا تَغْفِرْ لِيْ وَ تَرْحَمْنِيْۤ اَكُنْ مِّنَ الْخٰسِرِيْنَ﴾
’’اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے نوح! بلا شک تیرا بیٹا تیرے اہل میں نہیںرہاکیونکہ اس کے عمل صالح نہیں۔ پس مجھ سے اس با ت کا سوال نہ کرنا جس کا تجھے پتہ نہیں ۔ بے شک میں تجھے نصیحت کرتا ہوں یہ کہ تو جاہلو ں میں سے ہو جائے ۔ نوحu نے کہا اے رب! بے شک میں تجھ سے پناہ مانگتا ہوں کہ تجھ سے اس بات کا سوا ل کروں جس کا مجھے علم نہیں اگر تو نے مجھے معاف نہ کیا اور مجھ پر رحم نہ فرمایا تو میں نقصان پانے والوں سے ہو جائوں گا ۔‘‘ (ھود)
معزز قارئین!ایمان اور انصاف کی بات یہ ہے کہ سیدنا نوحu غیب نہیں جانتے تھے اگر وہ غیب جانتے ہوتے تو جان بوجھ کر اپنے رب سے جھڑک نہ کھاتے ۔
سیدنا ابراہیم کے مہمان اور قربانی کا واقعہ
قرآن مجید میں سیدنا ابراہیمu کے مہمانوں کا واقعہ تین مرتبہ ایک جیسے الفاظ میں بیان ہوا ہے۔ (ھود:۶۹، ۰ ۷ ، ا لحجر : ۱ ۵ ، ۲۵ ) ہر مقام پر یہی بیان ہوا ہے کہ سیدنا ابراہیمu نہ صر ف ا پنے مہمانوں کو پہچان نہ سکے بلکہ ان سے خوف زدہ ہوگئے۔ وہ جانتے تھے کہ فرشتے کھایا پیا نہیں کرتے۔اگر وہ غیب جانتے ہوتے تو ملائکہ سے ڈرنے کی بجائے خوش ہوتے کہ یہ تو مجھے بڑھاپے میں نیک بیٹے اور پوتے کی خوشخبری دینے کے لئے آئے ہیں۔ 
﴿هَلْ اَتٰىكَ حَدِيْثُ ضَيْفِ اِبْرٰهِيْمَ الْمُكْرَمِيْنَۘ۰۰۲۴ اِذْ دَخَلُوْا عَلَيْهِ فَقَالُوْا سَلٰمًا١ؕ قَالَ سَلٰمٌ١ۚ قَوْمٌ مُّنْكَرُوْنَۚ۰۰۲۵ فَرَاغَ اِلٰۤى اَهْلِهٖ فَجَآءَ بِعِجْلٍ سَمِيْنٍۙ۰۰۲۶ فَقَرَّبَهٗۤ اِلَيْهِمْ قَالَ اَلَا تَاْكُلُوْنَٞ۰۰۲۷ فَاَوْجَسَ مِنْهُمْ خِيْفَةً١ؕ قَالُوْا لَا تَخَفْ١ؕ وَ بَشَّرُوْهُ بِغُلٰمٍ عَلِيْمٍ۰۰۲۸﴾ (الذٰریٰت)
’’اے نبی! کیا آپ کو ابراہیم کے معزز مہانوں کی خبر پہنچی ہے؟ جب  وہ اس کے پاس آئے تو اُسے سلام کہا‘ ابراہیم نے کہا کہ آپ پر بھی سلامتی ہو۔ سوچا کہ ناآشنا لوگ ہیں،پھر وہ چپکے سے اپنے گھر والوں کے پاس گئے اور ایک موٹا تازہ بچھڑا بھون کر مہمانوں کے سامنے پیش کیا ۔ فرمایا کھاتے کیوں نہیں؟ ابراہیم نے ان سے خوف محسوس کیا انہوں نے کہا:ڈریں نہیںاور انہوں نے ابراہیم کو ایک صاحب ِعلم بیٹے کی خوشخبری سنائی۔‘‘
دوسری جگہ ارشاد باری ہے:
’’اور تحقیق ہمارے بھیجے ہوئے ملائکہ ابر اہیم کے پاس خوشخبری لے کر آئے ،انہوں نے سلام کیا۔ اس نے کہاتمہیں بھی سلام ہو پھر دیر نہ کی کہ اور بھنا ہو ا بچھڑا لے آیا ۔ جب دیکھا ان کے ہاتھ کھانے کی طرف نہیں بڑھتے تو انہیں اجنبی جانا اوران سے خوف محسوس کیا۔ انہوں نے کہا ڈرو نہیں ہم قومِ لوط کی طرف بھیجے گئے ہیں۔اور اس کی بیوی کھڑی تھی۔ وہ ہنس پڑی‘ ہم نے اسے اسحاق اور اسحاق کے بعد یعقوب کی خوشخبر ی دی۔ اس نے کہا ہائے !کیا میں جنم دوں گی جبکہ میں بوڑھی ہوں اور میرا خاوند بھی بوڑھا ہے ۔یقیناً یہ ایک عجیب بات ہے۔ ملائکہ نے کہا کیا تو اللہ کے حکم پر تعجب کرتی ہے؟اللہ کی رحمتیں اور اے گھر والو!تم پراس کی برکتیں ہوں بے شک اللہ بے حد تعریف کیا گیا ،بڑی شان والا ہے۔ جب ابراہیم سے خوف جا تا رہا اور ان کو خوشخبر ی مل گئی تو وہ ہم سے لوط کی قوم کے بارے میں جھگڑنے لگا۔ بے شک ابراہیم نہایت برد بار ، بہت آہ وزاری کرنے والا،رجوع کرنے والاہے۔‘‘
قارئین! آپ قربانی کے واقعہ پر غور فرمائیںاگر سیدنا ابراہیمu کو علم تھا کہ اللہ تعالیٰ نے میرے بیٹے کومیرے ہاتھوںذبح ہونے سے بچا لینا ہے تو پھر آزمائش کیسی ؟اوربیٹے کو زمین پر لٹاکر اس کے گلے پر چھُری رکھنے کا کیامقصد؟
حقیقت یہ ہے کہ سیدنا ابراہیمuکو یہ علم نہ تھا کہ میرا بیٹا ذبح ہونے سے بچ جائے گا‘ انہوں نے نہایت اخلاص کے ساتھ سیدنا اسماعیلu کی قربانی پیش فرمائی۔جس کی اللہ تعالیٰ نے نہ صرف تعریف فرمائی بلکہ رہتی دنیا کے لیے اسے یاد گار بنا دیا ۔
ارشاد ربانی ہے:
’’جب دونوں نے سر تسلیم خم کر دیا اور ابراہیم نے بیٹے کو پیشانی کے بل لٹا دیا اور ہم نے آواز دی کہ اے ابراہیم! تو نے خواب سچ کر دکھایا ہے‘ ہم نیکی کرنے والوں کو ایسی ہی جزا دیتے ہیں۔یقیناً یہ ایک کھلی آزمائش تھی اور ہم نے ایک عظیم قربانی فدیے میںدے کر اُس بچے کو چھڑا لیا اور اُس کی تعریف بعد والے لوگوںمیں جاری کر دی۔‘‘
سیدنا یعقوب غیب جانتے تو یوسف کے غم میں نابینا نہ ہوتے
شدید قحط سالی سے مجبورہوکر برادرانِ یوسف غلہ لینے کے لیے عزیز مصر کے پاس گئے‘ انہوں نے طے شدہ کوٹہ کے مطابق نہ صرف پورا غلہ دیا بلکہ ان کی حالتِ زار دیکھ کر ان کی رقم بھی واپس کردی تاکہ اس حسن سلوک سے متاثر ہوکر دوبارہ آئیں اور بنیامین کو اپنے ساتھ لائیں۔
انہوں نے واپس جاکر اپنے باپ سیدنا یعقوبu کو حاکمِ مصر کا اخلاق بتلایا اوراس کا فرمان سنایا کہ ہم بنیامین کو ساتھ لیکر نہ گئے توپھر ہمیں غلہ نہیں دیا جائے گا۔ سیدنا یعقوبu نے بالآخر ان سے پختہ حلف لیکر بنیامین کو ان کے ساتھ جانے کی اجازت دے دی اور فرمایا کہ بنیامین کو ہر صورت اپنے ساتھ لانا سوائے اس کے کہ تم سب کے سب گھیر لیے جائواور نصیحت فرمائی کہ مصر میں سب کے سب ایک دروازے سے داخل نہ ہونا بلکہ حاکمِ مصر کے پاس مختلف دروازوں سے جانا۔ سیدنا یعقوبu نے فرمایا: یہ ایک احتیاطی تدبیر ہے۔ہوتا وہی ہے جو اللہ تعالیٰ چاہتا ہے اس لیے میرا اللہ پر بھروسہ ہے اور ہر بھروسہ کرنے والے کو اسی پر بھروسہ کرنا چاہیے ۔
برادرانِ یوسف کومعلوم نہ تھا کہ عزیزِ مصرہمارا بھائی ہے‘ دوسری مرتبہ غلّہ دیتے ہوئے سیدنا یوسف uنے وحی الٰہی کے مطابق ایک بہانے سے اپنے حقیقی بھائی بنامین کو اپنے پاس رکھ لیا ۔انہوں نے عزیزِمصرسے درخواست کی کہ آپ اس کی بجائے ہم میں سے کسی اور کو گرفتار کر لیں۔ ہمارا باپ بوڑھا ہے اور وہ اس سے بڑا پیار کرتا ہے۔ عزیزِ مصرنے کہا: معاذ اللہ! یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ہم اسے چھوڑ کر کسی بے گناہ کو پکڑ لیں۔
نامعلوم برادرانِ یوسف نے بنیامین کو رہا کروانے کے لیے کس قدر منت سماجت اور ترلے کیے ہوں گے۔ مگر بادشاہ نے ان کی کوئی بات نہ مانی۔ جب بادشاہ سے بالکل مایوس ہوگئے تو علیحدہ ہو کر آپس میں مشورہ کرنے لگے اب کیا کرنا چاہیے۔ بالآخر ان کا بڑا بھائی جس کا نام یہودہ تھاوہ کہنے لگا کیا تمہیں معلوم نہیں کہ والد صاحب نے ہم سب سے قسمیں اٹھوا کر وعدہ لیا ہے کہ تم ہر صورت بنیامین کو اپنے ساتھ واپس لائو گے اورتمہیں یہ بھی معلوم ہے کہ تم اس سے پہلے یوسف کے ساتھ کیاکر چکے ہو۔ مجھے اس طرح واپس جاتے ہوئے حیا آتی ہے کہ میں اپنے دکھی اور بوڑھے باپ کو کیا منہ دکھائوں گا۔ لہٰذا تم جانا چاہتے ہو تو جائو میںتو یہاں سے کبھی نہیں جائوں گایہاں تک کہ والد گرامی مجھے واپس آنے کاپیغام بھیجیں یا اللہ تعالیٰ میرے لیے کوئی فیصلہ کر دے وہی بہترین فیصلہ کرنے والا ہے۔ تم اپنے باپ کے پاس جائو اور جاکر ابا جان کو پورا واقعہ عرض کرو ۔اگران کو باتوں پر یقین نہ آئے توعرض کرنا کہ اس قافلے والوں سے پوچھ لیں جن کے ساتھ ہم واپس آئے ہیں۔ یقین فرمائیں کہ ہم بالکل سچے ہیں :
﴿وَ سْـَٔلِ الْقَرْيَةَ الَّتِيْ كُنَّا فِيْهَا وَ الْعِيْرَ الَّتِيْۤ اَقْبَلْنَا فِيْهَا١ؕ وَ اِنَّا لَصٰدِقُوْنَ۰۰۸۲﴾ (یوسف)
’’اور اس بستی سے پوچھ لیں جس میں ہم تھے  اور اس قافلے سے بھی جس کے ساتھ ہم آئے ہیں اور یقیناً ہم سچے ہیں ۔‘‘
﴿قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ اَنْفُسُكُمْ اَمْرًا١ؕ فَصَبْرٌ جَمِيْلٌ١ؕ عَسَى اللّٰهُ اَنْ يَّاْتِيَنِيْ بِهِمْ جَمِيْعًا١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْعَلِيْمُ الْحَكِيْمُ۰۰۸۳﴾ (یوسف)
’’یعقوبu نے فرمایا: تمہارے لیے تمہارے دل نے یہ کام آسان کر دیا ہے‘میںاچھا صبر کروں گا امید ہے اللہ ان سب کومیرے پاس لے آئے گایقینا ًوہی سب کچھ جاننے اور حکمت والا ہے۔‘‘
صبر جمیل سے مراد ایسا صبر جس میں کسی قسم کا گلہ شکوہ اور جزع فزع نہ پایا جائے۔
﴿وَ تَوَلّٰى عَنْهُمْ وَ قَالَ يٰۤاَسَفٰى عَلٰى يُوْسُفَ وَ ابْيَضَّتْ عَيْنٰهُ مِنَ الْحُزْنِ فَهُوَ كَظِيْمٌ۰۰۸۴﴾
’’اس نے منہ پھیر ااور کہنے لگا: ہائے یوسف!اس کی آنکھیں غم سے سفید ہو گئیں ،پس وہ غم سے بھرا ہوا تھا۔‘‘ (یوسف)
سیدنا یعقوبu نے ٹھنڈی آہ بھری اور اپنا چہرہ بیٹوں سے پھیرتے ہوئے کہا کہ ہائے یوسف۔ میں اس غم کی شکایت ا پنے ر ب کی با ر گا ہ میںپیش کرتا ہوں۔وہ ہمیںضرور اکٹھا کرے گا۔اس غم میں ان کی آنکھوں کی بینائی جاتی رہی اور ان کی حالت یہ تھی کہ ان کے جسم کا ایک ایک عضو یوسف کی یاد میں غم سے چور چور ہو چکا تھا۔
حضرت لوط کو بھی علم نہ ہوسکا یہ تو فرشتے ہیںجو مجھے ظالم قوم سے نجات دلانے آئے ہیں
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
’’اور جب ملائکہ لوط کے پاس آئے وہ ان کی وجہ سے پریشان ہوئے، ان کا دل تنگ پڑا اورفرمانے لگے یہ بہت سخت دن ہے‘ اس کی قوم کے لوگ دوڑتے ہوئے اس کے پاس آئے  جو پہلے سے برے کا م کے عادی تھے۔ لوطu نے فرمایا: اے میری قوم! یہ میری بیٹیاں ہیںیہ تمہارے لیے جائز ہیں‘ اللہ سے ڈرو اور میرے مہمانوں میں مجھے رسوا نہ کرو۔ کیا تم میں سے کوئی بھلا آدمی نہیں ہے ؟ انہوں نے کہا توجانتا ہے کہ تیری بیٹیوں میں ہماری کوئی دلچسپی نہیں اورتو ضرور جانتا ہے کہ ہم کیا چاہتے ہیں۔ لوطu نے فرمایا: کاش! میرے پاس تمہارے مقابلے کے لیے کوئی طاقت ہوتی یا میں کسی مضبوط سہارے کی پناہ لے لیتا۔‘‘
مفسرین نے لکھا ہے کہ اوباش لوگ دوڑتے ہوئے لوط u کے گھر پہنچے تو سیدنا لوط u نے دروازہ بند کردیا لیکن وہ دیواریں پھلانگتے ہوئے اندر آگھسے۔ جس پر لوط u نے انہیں بار بار شرم دلائی لیکن ان پر کوئی اثر نہ ہوا۔بالآخر انہوں نے فرمایاکہ میری بیٹیاں حاضر ہیں۔ سیدنا لوط u کا یہ فرمان کہ میری بیٹیاں تمہارے لیے حاضر ہیں۔ اس کا یہ معنیٰ نہیں کہ سیدنا لوط u نے ان کو اپنی بیٹیوں کے ساتھ بُرائی کی اجازت دی تھی۔ لوطuایسی بات ہرگزنہیں کہہ سکتے تھے کیونکہ پیغمبر سب سے زیادہ غیرت والاہوتا ہے۔پیغمبر نازک سے نازک ترین حالات میں بھی اپنی غیرت اورحیاء کے خلاف بات نہیں کرتا۔ سیدنا لوطu کے فرمان کے دو معنی لیے گئے ہیں۔ ایک یہ کہ تمہارے گھروں میں جوتمہاری بیویاں ہیں وہ میری بیٹیاں ہیں‘ وہ تمہارے لیے حلال ہیںکیونکہ پیغمبر امت کا روحانی باپ ہوتا ہے اس لیے ان کی بیویاں سیدنا لوط u کی بیٹیاں تھیں۔
ان کے فرمان کادوسرا مقصد یہ ہوسکتاہے کہ نکاح کے لیے میری بیٹیاں حاضر ہیں جن کے ساتھ تعلقات قائم کرنا تمہارے لیے فطری اورجائز طریقہ ہوگا۔
سیدنا لوطuاگر جانتے ہوتے کہ میرے پاس خوبصورت شکلوں میں آنے والے لڑکے نہیں بلکہ فرشتے ہیں اور یہ میری ظالم قوم کو تباہ کرنے کے لیے آئے ہیں تو انہیں غم کھانے اور قوم کو شرم دلانے کے لیے یہ کہنے کی ضرورت نہ تھی کہ تمہارے لیے میری بیٹیاں حاضر ہیں۔ سیدنا لوطu کے یہ الفاظ پڑھنے اور سننے کے بعد بھی جو شخص یہ کہتا ہے کہ نبی غیب جانتے تھے تو اس کی عقل پر افسوس ہی کرنا چاہیے ۔
سیدنا موسیٰ اپنے عصا سے دو مرتبہ ڈر گئے:
سیدنا موسیٰ uبڑے ہوئے توان کے ہاتھوں غیرارادی طور پر ایک شخص قتل ہوگیا۔ موسیٰ uخوف کے مارے مدین کی طرف بھاگ گئے۔(القصص:۲۲) وہاں سیدنا شعیبuکے ساتھ آٹھ ، دس سال رہنے کا معاہدہ کیا۔ (قصص:۲۷)مدت پور ی ہوگئی تواپنی اہلیہ کے ساتھ اپنے وطن مصر واپس آر ہے تھے تو انہیں نبوت عطا کی گئی۔
ارشاد ربانی ہے:
جب موسیٰ uنے مدت پوری کردی  اور وہ اپنے اہل خانہ کو لے کر واپس چلے تواُسے نے طور کی جانب آگ نظر آئی‘ اس نے اپنے گھروالوں سے کہا ٹھہرو۔ میں نے آگ دیکھی ہے شاید میں وہاں سے راستے کے بارے میں پوچھوں یا آگ سے انگارہ لائوںجسے آپ تاپ سکیں۔ موسیٰ u وہا ں پہنچے تو وادی کے دائیں کنارے ایک مبارک مقام پرانہیں درخت سے آواز دی گئی اے موسیٰ !میں ہی ’’اللہ ‘‘ہوں سارے جہانوں کا مالک۔‘‘
دوسرے مقام پر ارشاد ہوا کہ ’’اپنے جوتے اُتاردیںآپ مقدس وادی میں پہنچ چکے ہیں۔‘‘ (طہ:۱۲)
’’اور میں نے تجھ کومنتخب کر لیا ہے جو کچھ آپ کی طرف وحی کی جاتی ہے اُسے توجہ سے سنو۔میں ہی اللہ ہوں۔میرے سوا کوئی معبود نہیں پس میری بندگی کرو اور مجھے  یادکرنے کے لیے نماز پڑھا کرو۔‘‘ ( طٰہٰ:۱۳ تا ۱۴ )
اللہ تعالیٰ نے اس مقام پر موسیuکو یدِ بیضااوران کی لاٹھی کے اژدھا بننے کا معجزہ عطا فرمایا۔اللہ تعالیٰ نے لاٹھی کو ازدھا بنانے سے پہلے موسیuسے استفسار فرمایا :موسیٰ! تیرے ہاتھ میں کیا ہے ؟ موسیٰu نے ربّ کریم سے ہم کلامی کے شرف اور اس کی لذّت سے سرشار ہوکر اپنی بات کو قدرے لمبا کرتے ہوئے کہا:
﴿وَ مَا تِلْكَ بِيَمِيْنِكَ يٰمُوْسٰى۰۰۱۷ قَالَ هِيَ عَصَايَ١ۚ اَتَوَكَّؤُا عَلَيْهَا وَ اَهُشُّ بِهَا عَلٰى غَنَمِيْ وَ لِيَ فِيْهَا مَاٰرِبُ اُخْرٰى۰۰۱۸ قَالَ اَلْقِهَا يٰمُوْسٰى۰۰۱۹ فَاَلْقٰىهَا فَاِذَا هِيَ حَيَّةٌ تَسْعٰى۰۰۲۰ قَالَ خُذْهَا وَ لَا تَخَفْ١ٙ سَنُعِيْدُهَا سِيْرَتَهَا الْاُوْلٰى ۰۰۲۱﴾ (طٰہٰ)
’’اے موسیٰ! تیرے ہاتھ میں کیا ہے ؟ موسیٰ نے جواب دیا کہ یہ میری لاٹھی ہے اس پر ٹیک لگا تا ہوں اس سے اپنی بکریوںکے لیے پتے جھاڑتا ہوں، اس سے اور بھی کام لیتا ہوں ۔ فرمایا اے موسیٰ! اسے پھینک دے ۔موسیٰ نے اسے پھینک دیا تو عصا یکایک سانپ بن کر دوڑنے لگا۔‘‘
﴿قَالَ خُذْهَا وَ لَا تَخَفْ١ٙ سَنُعِيْدُهَا سِيْرَتَهَا الْاُوْلٰى ۰۰۲۱ وَ اضْمُمْ يَدَكَ اِلٰى جَنَاحِكَ تَخْرُجْ بَيْضَآءَ مِنْ غَيْرِ سُوْٓءٍ اٰيَةً اُخْرٰىۙ۰۰۲۲﴾ (طٰہٰ)
’’اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اسے پکڑ و اور ڈرونہ ہم اسے پہلے کی طرح عصا بنا دیں گے ۔ اور اب اپنا ہاتھ اپنی بغل میں دباکر نکالیں وہ کسی تکلیف کے  بغیر چمکتا ہوا نکلے گا‘ یہ دوسری نشانی ہے ۔‘‘
غور فرمائیں!ایک لمحہ پہلے موسیٰ uکو معلوم اور یقین تھا کہ میرے ہاتھ میں لاٹھی ہے لیکن جوں ہی ان کی لاٹھی اژدھا بنتی ہے توغیب جاننا تو درکنار موسیٰ uخوف کے مارے یہ بھی بھول گئے کہ یہ تو میری لاٹھی ہے جو اللہ کے حکم سے اژدھا بن گئی ہے ۔
﴿قَالُوْا يٰمُوْسٰۤى اِمَّاۤ اَنْ تُلْقِيَ وَ اِمَّاۤ اَنْ نَّكُوْنَ اَوَّلَ مَنْ اَلْقٰى ۰۰۶۵ قَالَ بَلْ اَلْقُوْا١ۚ فَاِذَا حِبَالُهُمْ وَ عِصِيُّهُمْ يُخَيَّلُ اِلَيْهِ مِنْ سِحْرِهِمْ اَنَّهَا تَسْعٰى۰۰۶۶ فَاَوْجَسَ فِيْ نَفْسِهٖ خِيْفَةً مُّوْسٰى۰۰۶۷ قُلْنَا لَا تَخَفْ اِنَّكَ اَنْتَ الْاَعْلٰى ۰۰۶۸﴾ (طٰہٰ)
’’جادوگر بولے کہ موسیٰ! تم پھینکتے ہو یا پہلے ہم پھینکیں؟ موسیٰ نے فرمایا تم پھینکو اچانک ان کی رسیاںاور ان کی لاٹھیاں ان کے جادو سے موسیٰ کو دوڑتی ہوئی دکھائی دینے لگیں اورموسیٰ اپنے دل میں ڈر گئے۔ ہم نے کہا ڈریں نہیں تو ہی غالب رہے گا۔‘‘
 سیدنا عزیر بھی غیب نہیں جانتے تھے
یہودیوں نے محبت و عقیدت میںآکر عزیرu کو اللہ تعالیٰ کا بیٹا قرار دے رکھا ہے ۔قرآن مجید اس عقیدے کو کفر قرار دیتا ہے۔ (التوبۃ:۳۰) اور عزیرu کی زبانِ اقدس سے فرمان اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ وہ بھی غیب کے معاملات سے بے خبر تھے ۔
سیدنا عزیر u کاایک بستی سے گزر ہواجو اپنی چھتوں کے بل گری پڑی تھی۔ فرمانے لگے: اس بستی کے تباہ ہونے کے بعد اللہ تعالیٰ اسے کس طرح زندہ کرے گا؟ اللہ تعالیٰ نے عزیرuکو سو سال کے لیے موت دے دی پھر انہیں اٹھا کر پوچھا تُو کتنی مدت ٹھہرا رہا؟ عزیرuکہنے لگے ایک دن یا دن کا کچھ حصہ۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: نہیں تُو سو سال تک مرا رہا۔
مفسرین کا خیال ہے کہ یہ بستی بیت المقدس تھی جسے بخت نصر نے تہس نہس کردیاتھا۔تاریخی اور مقدس شہر کو ویران اور سنسان دیکھ کر سیدنا عزیرu کو شدید دھچکا لگا اور خیالات کی دنیا میں سوچنے لگے کہ کبھی اس کے بازار پُر رونق، اس کے مکان اپنے مکینوں سے آباد، یہاں چہل پہل ہوتی تھی اور شہر کی ایک شان ہوا کرتی تھی۔ اب یہاں ہُو کا عالم ہے‘ اب تو اس میں سے گزرتے ہوئے بھی دل کانپتا ہے۔ اس سوچ میں غلطاں ہو کر کہنے لگے۔
ارشاد الٰہی ہے:
’’یا اس شخص کی طرح کہ جس کا گزر ایک بستی سے ہواجو اپنی چھتوں کے بل گری پڑی تھی وہ کہنے لگا کہ اس کے گر جانے کے بعد اللہ تعالیٰ اسے کس طرح زندہ کرے گا ؟اللہ تعالیٰ نے اسے سو سال کے لیے موت دے دی پھر اسے اٹھا کر پوچھا تو کتنی مدت ٹھہرا رہا؟ کہنے لگا ایک دن یا دن کا کچھ حصہ۔ فرمایا بلکہ تو سو سال تک اسی حالت میں رہا۔اب اپنے کھانے پینے کو دیکھ جو بالکل خراب نہیں ہوااور اپنے گدھے کو بھی دیکھ تاکہ ہم تجھے لوگوں کے لیے ایک نشانی بنائیں۔ دیکھو ہم ہڈیوں کو کس طرح جوڑ کر پھر ان پر گوشت چڑھاتے ہیں؟ جب اس کے سامنے سب کچھ واضح ہوگیا تو وہ کہنے لگا میں اچھی طرح جان گیا کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پرخوب قادر ہے۔‘‘
اس واقعہ کا ایک ایک لفظ اس بات کی گواہی دے رہاہے کہ سیدنا عزیر u غیب نہیں جانتے تھے ۔اگر وہ غیب کی باتیں جانتے ہوتے تو اللہ تعالیٰ کے استفسار پر یہ نہ کہتے کہ الہٰی! میں ایک دن یا دن کا کچھ حصہ ٹھہرا ہوں۔اگروہ غیبی امور سے واقف ہوتے تووہ بستی کے بارے میں یہ تبصرہ نہ کرتے کہ اللہ تعالیٰ اسے کس طرح زندہ کرے گا۔
 سیدنا داؤد نبی اوربہت بڑے حکمران ہونے کے باوجود دو آدمیوں سے خوف زدہ ہوگئے
ارشاد ربانی ہے:
﴿اِصْبِرْ عَلٰى مَا يَقُوْلُوْنَ وَ اذْكُرْ عَبْدَنَا دَاوٗدَ ذَا الْاَيْدِ١ۚ اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ۰۰۱۷﴾ (صۤ)
’’اے نبی! اُن باتوں پر صبر کرو جو یہ لوگ کہہ رہے ہیںاور ان کے سامنے ہمارے بندے داؤد کا واقعہ بیان کرو جو بڑی قوت کا مالک ، ہر حال میں اللہ کی طرف رجوع کرنے والا تھا۔‘‘
﴿اِنَّا سَخَّرْنَا الْجِبَالَ مَعَهٗ يُسَبِّحْنَ بِالْعَشِيِّ وَ الْاِشْرَاقِۙ۰۰۱۸﴾ (صۤ)
’’ ہم نے اس کے ساتھ پہاڑوں کو مسخر کر دیاجوصبح و شام اس کے ساتھ تسبیح پڑھتے تھے۔‘‘
﴿وَ الطَّيْرَ مَحْشُوْرَةً١ؕ كُلٌّ لَّهٗۤ اَوَّابٌ۰۰۱۹﴾ (صۤ)
’’اس کے پاس پرندے حاضر ہوتے تھے، جو اُس کی تسبیح کی طرف متوجہ ہوتے تھے۔ ‘‘
﴿وَ شَدَدْنَا مُلْكَهٗ وَ اٰتَيْنٰهُ الْحِكْمَةَ وَ فَصْلَ الْخِطَابِ۰۰۲۰﴾ (صۤ)
’’ ہم نے اس کی سلطنت مضبوط کی،اسے حکمت عطا فرمائی اور فیصلہ کُن بات کہنے کی صلاحیت بخشی تھی۔‘‘
﴿وَ هَلْ اَتٰىكَ نَبَؤُا الْخَصْمِ١ۘ اِذْ تَسَوَّرُوا الْمِحْرَابَۙ۰۰۲۱﴾ (صۤ)
’’کیا آپ کو اُن جھگڑنے والوں کی خبر پہنچی ہے جودیوار پھلانگ کر داؤد کے گھر میں گھس گئے تھے۔‘‘
﴿اِذْ دَخَلُوْا عَلٰى دَاوٗدَ فَفَزِعَ مِنْهُمْ قَالُوْا لَا تَخَفْ١ۚ خَصْمٰنِ بَغٰى بَعْضُنَا عَلٰى بَعْضٍ فَاحْكُمْ بَيْنَنَا بِالْحَقِّ وَ لَا تُشْطِطْ وَ اهْدِنَاۤ اِلٰى سَوَآءِ الصِّرَاطِ۰۰۲۲﴾ (صۤ)
’’جب وہ داؤد کے پاس پہنچے تو وہ انہیں دیکھ کر گھبرا گئے‘ اندر آنے والوں نے کہا ڈریں نہیںہم دو فریق ہیں جن میں سے ایک نے دوسرے پر زیادتی کی ہے آپ ہمارے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ فرمائیں بے انصافی نہیں ہونی چاہیے اور ہماری راہنمائی فرمائیں۔‘‘  ..... .....  (جاری)


No comments:

Post a Comment