عقیدۂ ختم نبوت اور پاکستان کے وارث ہم ہیں 39-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Monday, October 21, 2019

عقیدۂ ختم نبوت اور پاکستان کے وارث ہم ہیں 39-2019


عقیدۂ ختم نبوت اور پاکستان کے وارث ہم ہیں

ظلم کی داستانوں کے مرثیے بنانے اور بے ضمیر وبے حسن لوگوں کو سنانے کی بجائے افواج پاکستان کے ذریعے مظلومین کی مدد کیجیے
جامعہ محمدیہ اہل حدیث جی ٹی روڈ کنگنی والا گوجرانوالہ کانفرنس سے امیر محترم کا خطاب ... رپورٹ: مولانا محمد ابرار ظہیر
اللہ اکبر!کیا دردتھا امت کی زبوں حالی کاجولفظوں سے چھلک رہا تھا۔ کیا غم تھا لوگوں کی بد عقیدگی کا جو لفظ لفظ سے ظاہر ہورہا تھا۔ کیافکر تھی پاکستان کی پریشان کن صورتحال کی جو جملے جملے سے مترشح تھی۔ ہاں مخاطب وہ شخصیت تھی جس کی ساری زندگی کی جدوجہد کو دو لفظوں میں سمویا جائے تو وہ’’اسلام اور پاکستان‘‘ بنتا ہے۔ مخاطبین وہ زندہ دل اور عقیدہ توحید پر جانیں نچھاور کرنے والے… پاکستان بنانے والوں کی روحانی اولاد تھے… جو اپنے قائد کی آواز پر اسلام اور پاکستان کے لئے سب کچھ لٹانے کو ہمہ وقت تیار رہتے ہیں۔ جی ہاں!قائد اہلحدیث سینیٹر پروفیسر ساجد میر حفظہ اللہ نے جامعہ محمدیہ گوجرانوالہ میں مرکزی جمعیت اہلحدیث سٹی کے زیر اہتمام ’’تحفظ ختم نبوت و استحکام پاکستان اہل حدیث کانفرنس‘‘ سے خطاب کے دوران اپنا دل کھول کر رکھ دیا۔ استحکام پاکستان کے عنوان سے گفتگو شروع کی تو پاکستان کی موجودہ سیاسی عدم استحکام،پریشان کن معاشی صورتحال سے لیکر بین الاقوامی سفارتی ناکامیوں کی داستانوں تک کا ذکر کرگئے۔ اپنی پریشانی کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان کے مستقبل کے بارے میں پر امید توتھے ہی مگر منزل کے مزید دور ہونیکا دکھ بھی چھپا نہیں پارہے تھے۔ کشمیر میں جاری بھارتی ظلم کی داستان سناتے ہوئے لفظ بھی غمزدہ محسوس ہونے لگے تھے۔ ۶۵ روز سے جاری کرفیو اور بھوک وپیاس سے پریشان کشمیری مسلمانوں کا دکھ بیان کرتے ہوئے جذباتی ہوجانے والے عظیم قائد نے مگر حکمرانوں کی ناکام خارجہ پالیسی کو بھی زبردست تنقید کا نشانہ بنایا، عوام الناس میں شعور بیدار کیا، حکمرانوں کو واضح پیغام دیا کہ مسئلہ کشمیر محض تقریروں سے حل ہونا ہوتا تو کب کا ہوچکا ہوتا۔ دوٹوک انداز میں فرمایاکہ اقوام عالم کے سامنے محض رودینے سے مسئلہ کا حل نہیں نکلنابلکہ کشمیر لینا ہے تو جہاد کرنا ہوگا…ہاں مکمل جہاد۔ حکومت پاکستان کو جرأت کا مظاہرہ کرتے ہوئے افواج پاکستان کو کشمیر کی آزادی کا ٹاسک دینا ہوگا۔ افواج پاکستان آگے بڑھیں۔ پوری قوم ان کے ساتھ ہوگی۔ مزید فرمایا کہ کشمیریوں پر ظلم کی داستانوں کو مرثیہ بنانے اور بے ضمیر وبے حس اقوام عالم کو سنانے سے کہیں بہتر افواج پاکستان کے ذریعے مظلومین کی مدد ہے۔ یوٹرن کے ماہر حکمران سے کسی بھی وقت اس کی موجودہ پالیسی پر بھی یوٹرن کا خدشہ سر اٹھائے کھڑا ہے۔ پاکستان کے اندرونی استحکام کے بارے میں بھی فکر مندی کا اظہار کرتے ہوئے بزرگ قائد نے جوانوں والی جرأت کے ساتھ دبنگ انداز میں فرمایا کہ جب تک مقاصدِ قیام پاکستان کے حصول کی سنجیدہ اور کامیاب کوششیں نہیں کریں گے تب تک اندرونی استحکام محض ایک خواب رہے گا۔ اس خواب کو تعبیر دینی ہے تو اسلام کا مکمل نفاذ اس ملک میں کرنا ہوگا۔ عقیدہ توحید کے تقاضوں پر عمل کرنا ہوگا۔ اسلامی قوانین کو عدالتوں میں بھی نافذ کرنا ہوگا اور حکومتی ایوانوں میں بھی۔ اسلام کو محض ذاتی چوائس کہنے اور سمجھنے کے طرز عمل کوچھوڑنا ہوگا اور اسلام کے سیاسی وژن کو نافذ کرنا ہوگا۔
تحفظ ختم نبوت پر بات کرتے ہوئے بوڑھے قائد کے الفاظ میں نوجوان جذبوں کی چمک اتر آئی تھی۔ فرمانے لگے کہ تحفظ ختم نبوت ہمارا ایمان ہے۔ یہ ایمان کا اساسی عقیدہ ہے۔ اس کے بغیر کوئی شخص خود کو مسلمان کہلا ہی نہیں سکتا۔ امت مسلمہ کے اسی متفقہ موقف کو ۱۹۷۴ء کی ۷ ستمبر کو اسلامی جمہوریہ پاکستان کی پارلیمنٹ نے نہ صرف تسلیم کیا بلکہ عملََا نافذ بھی کیا۔ اب اگر کوئی آئین پاکستان کی ان شقوں میں تبدیلی کا خواب دیکھ رہا ہے تو اسے چاہیے کہ وہ حماقت کے اس بستر سے نکل جائے۔ امت جاگ رہی ہے تمام مکاتب فکر کے اکابر واصاغر بیدار بھی ہیں اورہوشیار بھی ہیں۔ ہم کسی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دینگے۔ کسی غیرملکی مدد کو کارآمد نہیں بننے دینگے۔ قائد اہلحدیث نے اپنی جماعت کا موقف اور اپنے عقیدے کا اظہار کرتے ہوئے دوٹوک انداز اور پہاڑ جیسے بلند عزم کے ساتھ چٹان جیسے الفاظ میں کہا کہ اس امت کے سب سے پہلے اہل حدیث سیدنا ابوبکر صدیقt سے لیکر آج تک کے اہل حدیث کا بچہ بچہ عقیدہ ختم نبوت کا وارث ہے۔ جانیں قربان کرتے رہے ہیں،کرتے رہیں گے مگر اس عقیدے میں کسی کو نقب لگانے کی اجازت نہیں دینگے۔ اپنے عقیدے کے تحفظ میں جانیں قربان کرنے سے بڑی کوئی سعادت نہیں۔ ہماری ماضی قریب کی تاریخ بھی اس کی شاہد ہے اور ماضی بعید میں تو لوگ ہمارے اکابرین کی قربانیوں سے روشنی پاتے رہے ہیں۔ اپنے رفیق خاص اور یار دلبہار علامہ شہیدؒ کاذکر کرتے ہوئے عقیدہ ومنہج کیلئے ان کی قربانی کو یاد کروایا اور فرق باطلہ میں ان کی تحریری وتقریری خدمات پر زبردست الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا۔ برصغیر میں عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ اور منکرین ختم نبوت کی سازشوں کو بے نقاب کرنے میں اوّلیات اہلحدیث کا ذکر کرتے ہوئے شکر والے فخر کی ایک جھلک ان کے چہرے سے ہویدا تھی۔ فرمایا کہ برصغیر میں اول منکر ختم نبوت (مرزا قادیانی)کے نظریات کے رد میں سب سے پہلا فتوائے کفر‘ سب سے پہلا مناظرہ‘ ایک ہی مباہلہ‘ سب سے پہلا چھوٹا پمفلٹ اورسب سے پہلی تفصیلی کتاب‘ قادیانی کے حج وعمرہ نہ کر سکنے کی پیشین گوئی۔ قیام پاکستان کے بعد قادیانیوں کو سب سے پہلے کافر قرار دینے کی آواز۔سب سے پہلی عربی کتاب۔ ۱۹۵۴ء اور ۱۹۷۴ء کی تحاریک ختم نبوت میں جدوجہد کرنیوالوں کی فہرست میں اور پھر اسمبلی میں مرزا ناصر کو زچ کرکے شکست فاش سے دوچار کردینے والے لاجواب سوالات اور اراکین اسمبلی کی علمی راہنمائی کرنے کے حوالے سے اکابر واسلاف علمائے اہل حدیث کو زبردست الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا اور چٹان جیسے مضبوط لہجے اور آسمان جتنے بلند عزم کے ساتھ یہ واضح اور دوٹوک اعلان کیا کہ ہم اپنے اکابر کی تاریخ ہی کے نہیں ان کے جذبے کے بھی وارث ہیں۔ کوئی غلط فہمی میں نہ رہے۔ انکار ختم نبوت کا مجرم کافر تھا۔ کافر ہے اور تائب نہ ہونے کی صورت کافر رہے گا۔ ہم سادہ لوح قادیانیوں کو اسلام کی دعوت دیتے ہیں۔ مرزا جیسے بے عقل اور بے عمل شخص کی بجائے ایک انسان کامل۔ محسن انسانیت e جیسی شخصیت کے دامن سے وابستہ ہونے کی دعوت دیتے ہیں۔ امیر محترم نے واضح الفاظ میں فرمایا کہ کوئی بھی اہلحدیث کبھی بھی، کسی بھی حال میں عقائد اسلام پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرسکتا۔
ہمارا حکومت سے مطالبہ ہے کہ قادیانیوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کو حکومتی سطح پر ہی حکومتی ذرائع کے ساتھ ہی روک دیا جائے۔ عوامی سطح پر روکا گیاتو نقصان ہوگا۔ ہم خبردار کر رہے ہیں۔ اس دورحکومت میں قادیانیوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیاں قابل تشویش ہیں۔ امت کے تمام مکاتب فکر جاگتے رہیں۔


No comments:

Post a Comment