بھولی بسری یادیں ... میں بھی حاضر تھا وہاں! 39-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Monday, October 21, 2019

بھولی بسری یادیں ... میں بھی حاضر تھا وہاں! 39-2019


بھولی بسری یادیں ... میں بھی حاضر تھا وہاں!

تحریر: جناب مولانا محمد یوسف انور
ہفت روزہ ’’اہل حدیث‘‘ کے شمارہ ۲۱ تا ۲۷ جون ۲۰۱۹ء میں جناب محمد فاروق صاحب ناظم مرکز اہل حدیث توحید آباد ایوبیہ علاقہ گلیات نے تعمیر نو کی طرف احباب جماعت کو توجہ دلائی ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس مرکز ھُدیٰ کو جلد از جلد پایہ تکمیل تک پہنچائے۔
یہاں صرف یہ عرض کرنا ہے کہ یہاں کی پرانی مسجد کی تعمیر‘ ایوبیہ میں پرانی مسجد کی تعمیر‘ ایبٹ آباد محلہ کیہالی میں مسجد اہل حدیث کے لیے قطۂ زمین کے انتخاب اور پھر تعمیر واساس نے ان تمام پرانی یادوں کو تازہ کر دیا ہے۔ سطور کا راقم اکابر جماعت میاں فضل حق‘ حافظ محمد اسماعیل ذبیح‘ سید حبیب الرحمن شاہ اور مولانا عبدالعزیز حنیفS کے ساتھ مشاورت وتبلیغی پروگراموں میں بحمد اللہ شامل رہا ہے۔ بیشتر مرتبہ کالا باغ میں خطبات جمعہ دیئے‘ ایوبیہ مسجد کی ابتدائی تعمیر کا افتتاحی خطبہ جمعہ راقم نے دیا تھا اور بعدہٗ میاں فضل حق نے خطاب فرمایا تھا۔ صوفی احمد الدین بھی ہمراہ تھے۔ یہاں اس دور میں میاں صاحب کی شاندار کوٹھی تھی۔ نیز صوفی احمد الدین حاجی سردار محمد اور میاں عبدالواحد (فیصل آباد)‘ ان حضرات نے کوٹھیاں بنائی تھیں۔ قریبا ہر سال یہاں تبلیغی جلسوں میں اکابرین کی شفقتوں سے شرکت رہتی تھی۔ گلیات کی ان اہم جگہوں اور قصبات میں مدارس ومساجد کا ایک جال بچھ گیا تھا جو ان حضرات اکابرین کے صدقات جاریہ ہیں۔
تحدیث نعمت کے طور پر ایک واقعہ ذکر کر رہا ہوں کہ توحید آباد میں جلسہ کے موقع پر جبکہ میاں فضل حق‘ حافظ محمد اسماعیل ذبیح‘ مولانا عبداللہ ہری پور‘ علامہ احسان الٰہی ظہیر‘ حافظ عبدالحق صدیقی‘ مولانا محمد شریف اشرف‘ مولانا عبدالعزیز حنیف‘ مولانا عبدالرزاق مسعود اور مولانا محمد عبداللہ گورداسپوریS ہمنشیں تھے۔ نماز عصر کے بعد خوشگوار موسم میں ایک اہم مسئلہ زیر بحث آیا اور وہ یہ کہ اس مقام کا نام گھوڑا پسالہ چلا آ رہا تھا‘ ان علماء نے کہا کہ کوئی اچھا سا نام تجویز کریں۔ مختلف آراء کے بعد راقم کی تجویز پر ’’توحید آباد‘‘ پر سب اکابر نے اتفاق کیا۔
ایک دو روز بعد میاں فضل حق اور راقم نے ایبٹ آباد جا کر ضلعی دفتر میں اس نئے نام کا اندراج کرایا۔ باقی امور یہاں پر بجلی وپانی کے لیے حافظ ذبیح صاحب اور چوہدری محمد یعقوب کی کوششیں جاری رہیں۔ شاندار مسجد ومدرسہ کی تعمیرات کے لیے برسوں پیشتر اس دور میں راولپنڈی کے مخیر احباب چوہدری محمد یعقوب‘ حاجی محمد شفیع‘ حاجی محمد یوسف‘ شیخ بشیر احمد سیکرٹری اور مولانا عبدالرزاق مسعود خطیب مسجد کی شب وروز محنت خوب رہی۔
یہاں سے جماعت کے سرپرست حاجی سمندر خاں ہر سال رمضان المبارک میں فیصل آباد آتے تھے۔ مالی تعاون کے لیے ان کا آنا ہوتا تھا۔ چنانچہ صوفی احمد دین‘ حاجی سردار محمد کے خصوصی تعاون کے علاوہ مسجد رحمانیہ کے مقتدیوں سے یہ راقم خاص معاونت کرواتے۔
مختصر یہ کہ برسوں قبل کی یہ بھولی بسری یادیں فاروق صاحب کے توجہ دلانے پر تازہ ہو گئیں‘ ایک وہ زخمانہ تھا کہ ان پہاڑی علاقوں کی غربت کی وجہ سے جلسوں میں سامعین وعلماء کے کھانے پینے کے اخراجات تک راولپنڈی کے اصحاب خیر فراہم کرتے تھے۔ راشن اور چائے دودھ وفروٹ تک جیسی اشیاء ہمارے ہمراہ ہوتی تھیں۔ لیکن اب ان مرحوم اسلاف کے خلوص کا نتیجہ ہے کہ یہ تمام اخراجات مقامی جماعتیں پورا کرتی ہیں۔ تعمیرات وتعلیمات کے خرچے علاقہ بھر سے جمع ہو جاتے ہیں تا ہم وہاں کی موجودہ نئی تعمیری ضرورت کی طرف ہم سب احباب کی توجہ چاہتے ہیں۔


No comments:

Post a Comment