درس قرآن وحدیث 39-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Monday, October 21, 2019

درس قرآن وحدیث 39-2019


درسِ قرآن
خوش گفتاری
ارشادِ باری ہے:
﴿وَ قُلْ لِّعِبَادِيْ يَقُوْلُوا الَّتِيْ هِيَ اَحْسَنُ اِنَّ الشَّيْطٰنَ يَنْزَغُ بَيْنَهُمْ اِنَّ الشَّيْطٰنَ كَانَ لِلْاِنْسَانِ عَدُوًّا مُّبِيْنًا﴾ (الاسرآء)
’’اور میرے بندوں سے کہہ دیجیے کہ وہ بہت ہی اچھی بات منہ سے نکالا کریں، کیونکہ شیطان آپس میں فساد ڈلواتا ہے‘ بے شک شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے۔‘‘
قرآن مجید کی خوبصورت وصیتوں پر انسان اگر عمل پیرا ہونے لگے تو وہ باوقار شخصیت کا مالک اور حسن اخلاق کا پیکر بن جائے کیونکہ قرآن ہی ایک ایسی کتابِ عظیم ہے جس میں مختلف حالات میں انسانی نفسیات کے مطابق بہتر اَخلاق، اعمال اور اقوال کا حکم دیا گیا ہے جو دنیا اور آخرت کی سعادت کا موجب ہے۔ مذکورہ آیت میں بھی اللہ نے اپنے بندوں کو شیریں اور خوش کلام رہنے کی تلقین کی ہے کیونکہ یہی وہ چیز ہے جو دشمن کو بھی زیر کرنے کا باعث بنتی ہے اور اسی سے خلق جمیل اورعمل صالح کا چشمہ پھوٹتا ہے۔ اور لوگ بھی ایسے ہی شخص کے گرد جمع ہوتے ہیں جو زبان کا میٹھا اور نرم کلام کرنے پر قادرہو، یہی خصوصیت نبی کریمe کی بھی تھی جسے قرآن میں کچھ یوں نقل کیا گیا ہے:
﴿فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ لِنْتَ لَهُمْ وَ لَوْ كُنْتَ فَظًّا غَلِيْظَ الْقَلْبِ لَا نْفَضُّوْا مِنْ حَوْلِكَ﴾ (آل عمران)
’’اللہ تعالیٰ کی رحمت کے باعث آپ ان پر نرم دل ہیں اور اگر آپ تند خو اور سنگدل ہوتے تو یہ سب تمہارے گرد و پیش سے چھٹ جاتے ۔‘‘
مشرکین مکہ، اَصحاب رسولe کو اذیتیں دیا کرتے تھے اور ان کامذاق اڑایا کرتے تھے۔ –اس پر صحابہ کرام ] نے نبی کریم e سے مشرکین کے اس رویہ کی شکایت کی‘ تب اللہ تعالیٰ نے انہیں حکم دیا کہ ’’میرے بندوں سے کہہ دیجیے کہ وہ بہت ہی اچھی بات منہ سے نکالا کریں۔‘‘ "ایک اور روایت میں ہے کہ سیدنا عمر بن خطابt کو ایک کافر نے گالی دی‘ تو اللہ نے انہیں عفو و درگز ر کا معاملہ کرنے اور بری بات کا جواب بھی اچھے کلام اور نرم گفتگو سے دینے کی تلقین کرتے ہوئے درج بالا آیت نازل فرمائی۔
اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو جہاں عقائد کی درستگی، عبادات میں خلوص اور معاملات میں بہتری لانے کی تلقین کی‘ وہیں ان لوگوں سے نرم اور اچھے انداز سے گفتگو کرنے کا بھی عہد لیا:
﴿وَ قُوْلُوْا لِلنَّاسِ حُسْنًا﴾ (البقرة)
’’اور لوگوں سے اچھی گفتگو کرو۔‘‘
جس انسان کو اپنی زبان پر اختیار حاصل ہوجاتا ہے تو پھرتمام معاملات بھی اسی کے اختیار میں رہتے ہیں۔ اس لیے کوشش کرنا چاہیے کہ انسان میٹھے بول بولے او ر زبان کی تلخی سختی سے اپنے آپ کو بچائے‘ یہی قرآن کی نصیحت ہے۔

درسِ حدیث
وفاۃ النبیﷺ
فرمان نبویﷺ ہے:
[عَنْ عَائِشَةَ كَانَتْ قَالَتْ: إِنَّ مِنْ نِعَمِ اللَّهِ عَلَيَّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ تُوُفِّيَ فِي بَيْتِي، وَفِي يَوْمِي، وَبَيْنَ سَحْرِي وَنَحْرِي، وَأَنَّ اللَّهَ جَمَعَ بَيْنَ رِيقِي وَرِيقِهِ عِنْدَ مَوْتِهِ، دَخَلَ عَلَيَّ عَبْدُ الرَّحْمَنِ، وَبِيَدِهِ السِّوَاكُ، وَأَنَا مُسْنِدَةٌ رَسُولَ اللَّهِﷺ، فَرَأَيْتُهُ يَنْظُرُ إِلَيْهِ، وَعَرَفْتُ أَنَّهُ يُحِبُّ السِّوَاكَ، فَقُلْتُ: آخُذُهُ لَكَ؟ فَأَشَارَ بِرَأْسِهِ: "أَنْ نَعَمْ!" فَتَنَاوَلْتُهُ، فَاشْتَدَّ عَلَيْهِ، وَقُلْتُ: أُلَيِّنُهُ لَكَ؟ فَأَشَارَ بِرَأْسِهِ: "أَنْ نَعَمْ!" فَلَيَّنْتُهُ، فَأَمَرَّهُ، وَبَيْنَ يَدَيْهِ رَكْوَةٌ فِيهَا مَاءٌ، فَجَعَلَ يُدْخِلُ يَدَيْهِ فِي المَاءِ فَيَمْسَحُ بِهِمَا وَجْهَهُ ويَقُولُ: "لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، إِنَّ لِلْمَوْتِ سَكَرَاتٍ" ثُمَّ نَصَبَ يَدَهُ، فَجَعَلَ يَقُولُ: "فِي الرَّفِيقِ الأَعْلَى" حَتَّى قُبِضَ وَمَالَتْ يَدُهُ.] (بخاری)
سیدہ عائشہr روایت کرتی ہوئی بیان فرماتی ہیں کہ مجھ پر اللہ کی نعمتوں میں سے ایک نعمت یہ ہے کہ رسول اللہe میرے گھر میں میری باری کے دن میرے سینے پر سر رکھے ہوئے فوت ہوئے اور آپe کی موت کے وقت اللہ نے میرے اور آپe کے لعاب دھن کو بھی اکٹھا کروایا وہ اس طرح کہ (میرے بھائی) عبدالرحمن بن ابوبکرt میرے پاس آئے اور ان کے ہاتھ میں مسواک تھی اور میں رسول اکرمe کو سہارا دے کر بیٹھی ہوئی تھی۔ میں نے دیکھا کہ آپe ان کی طرف غور سے دیکھ رہے ہیں میں جان گئی کہ آپe مسواک کو پسند کرتے ہیں، تو میں نے پوچھا میں یہ مسواک ان سے آپe کے لئے لے لوں؟ آپe نے اپنے سر سے ہاں میں اشارہ کیا۔ میں نے مسواک آپe کو پکڑا دی مگر مسواک کو چبانے میں آپe کو دقت محسوس ہوئی تو میں نے کہا میں اسے چبا کر آپؐ کے لئے نرم کر دوں؟ تو آپe نے اپنے سر سے ہاں میں اشارہ کیا تو میں نے اس (مسواک کو چبا کر) نرم کر دیا تو آپe نے اسے دانتوں پر پھیرا۔ آپe کے سامنے ایک برتن تھا جس میں پانی تھا، آپe اپنے دونوں ہاتھ پانی میں داخل فرماتے، پھر اپنے چہرے پر پھیر لیتے اور فرماتے: ’’اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، موت کی مدحوشیاں یعنی سختیاں ہیں۔‘‘ پھر آپe نے اپنا ہاتھ کھڑا کیا اور فرما رہے تھے رفیق اعلیٰ یعنی اللہ کی طرف حتیٰ کہ آپ کی روح قبض کر لی گئی اور آپe کا ہاتھ نیچے گر گیا۔ (بخاری)
یہ ایک واضح حدیث ہے جس میں تشریح کرنے کی چنداں ضرورت نہیں ہے البتہ چند باتیں بڑی اہم ہیں۔ سیدہ عائشہ صدیقہr سے حضور کی محبت اور آپe کی بیماری اور انتہائی کمزوری کے عالم میں بھی مسواک کرنے کی خواہش موت کی مدہوشی اور اپنے مالک سے تعلق کا اظہار یہ ایسی باتیں ہیں، جن پر ہر مسلمان کو غور کرنا چاہیے۔


No comments:

Post a Comment