احکام ومسائل 39-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Monday, October 21, 2019

احکام ومسائل 39-2019


احکام ومسائل

جناب مولانا الشیخ حافظ ابومحمد عبدالستار الحمادd
خط وکتابت:  مرکز الدراسات الاسلامیہ ۔ سلطان کالونی‘ میاں چنوں‘ خانیوال‘ پاکستان  ای میل:  markaz.dirasat@gmail.com

ناخن پالش اور وضوء
O خواتین‘ زیب وزینت کے لیے ناخن پالش لگاتی ہیں‘ اس سے ناخن پر ایک ہلکی سی تہہ جم جاتی ہے‘ کیا اس کی موجودگی میں وضوء ہو جاتا ہے؟ واضح رہے کہ اس کی باریک سی تہہ پانی کو ناخن تک نہیں پہنچنے دیتی‘ اس کی وضاحت کر دیں۔
P اعضائے وضوء کی حسب ذیل دو اقسام ہیں:
\          وہ اعضاء جن پر مسح کیا جاتا ہے: جیسے سر‘ وغیرہ‘ انہیں اعضائے ممسوحہ کہا جاتا ہے۔
\          وہ اعضاء جنہیں دھویا جاتا ہے: انہیں اعضائے مغسولہ کہتے ہیں‘ جیسے ہاتھ‘ منہ اور پاؤں وغیرہ۔
قرآن کریم کی درج ذیل آیت کریمہ میں دونوں قسم کے اعضاء کا ذکر ہے: ’’اے ایمان والو! جب تم نماز کے لیے اٹھو تو اپنے چہرے اور ہاتھوں کو کہنیوں تک دھو لیا کرو‘ اپنے سر کا مسح کرو اور اپنے پاؤں ٹخنوں تک دھو لیا کرو۔‘‘ (المائدہ: ۶)
اس آیت کریمہ کا تقاضا ہے کہ وضوء کرتے وقت جن اعضاء کا دھونا ضروری ہے‘ اگر ان پر کوئی ایسی چیز لگی ہے جو پانی کو ان تک پہنچنے کے لیے رکاوٹ کا باعث ہو تو اس چیز کا ازالہ ضروری ہے کیونکہ اس کے باقی رہنے سے اعضاء وضوء نہیں دھل سکیں گے۔ چنانچہ حدیث میں ہے کہ دوران سفر ایک مرتبہ صحابہ کرام] وضوء کر رہے تھے‘ جلدی میں انہوں نے اپنے پاؤں پر گیلے ہاتھوں سے مسح کر لیا جس کی وجہ سے پاؤں کا کچھ حصہ خشک رہ گیا تو آپe نے بآواز بلند فرمایا: ’’ان ایڑیوں کے لیے آگ ہے۔‘‘ (بخاری‘ الوضوء: ۱۶۳)
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اعضائے وضوء جن کا دھونا ضروری ہے‘ اگر وہ خشک رہ جائیں اور ان تک پانی نہ پہنچے تو وضوء نامکمل رہتا ہے۔ مذکورہ تفصیل کے پیش نظر جب ہم صورت مسئولہ کا جائزہ لیتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ناخن پالش لگانے سے ناخنوں تک وضوء کا پانی نہیں پہنچتا کیونکہ اس کی باریک سی تہہ ہوتی ہے جو پانی نیچے تک جانے سے رکاوٹ کا باعث ہے۔ البتہ مہندی کا معاملہ اس کے برعکس ہے اس کے لگانے سے کوئی الگ تہہ نہیں بنتی بلکہ اس کا رنگ جسم کا حصہ بن جاتا ہے اور اس کی موجودگی میں پانی ناخنوں تک پہنچ جاتا ہے۔ لہٰذا ہمارے رجحان کے مطابق خواتین نے جن دنوں نماز نہیں پڑھنا ہوتی وہ ان دنوں ناخن پالش لگا کر اپنا شوق پورا کر سکتی ہیں۔ کیونکہ ان دنوں انہیں و ضوء کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اگر اس کے علاوہ دوسرے ایام میں ناخن پالش لگانے کا شوق پورا کرنا ہے تو وضوء کرنے کے بعد لگا لیں اور جب انہیں دوبارہ وضوء کرنے کی ضرورت پڑے تو بازار سے ایسے کیمیکل دستیاب ہیں جن کے استعمال سے ناخن پالش کے اثرات ختم ہو جاتے ہیں۔ اسے استعمال کر کے وضوء کر لیا جائے‘ تا کہ اعضاء وضوء اچھی طرح دھل جائیں کیونکہ وہ اعضاء وضوء جنہیں دھونا ضروری ہے اگر ان کا کچھ حصہ خشک رہ گیا تو وضوء نہیں ہو گا۔ جیسا کہ حدیث میں ہے کہ ایک آدمی رسول اللہe کی خدمت میں حاضر ہوا وہ وضوء کر چکا تھا مگر اس نے اپنے پاؤں پر ناخن بھر جگہ خشک چھوڑ دی تھی تو رسول اللہe نے اسے فرمایا: ’’واپس جاؤ اور اچھی طرح وضوء کرو۔‘‘ (ابن ماجہ‘ الطہارہ: ۶۶۵)
اسی طرح ایک آدمی کو رسول اللہe نے دیکھا کہ وہ نماز پڑھ رہا تھا جبکہ اس کے پاؤں میں درہم برابر جگہ خشک رہ گئی تھی‘ اسے پانی نہیں پہنچا تھا تو رسول اللہe نے فرمایا: ’’وضوء دوبارہ کرو اور اپنی نماز کو بھی دھراؤ۔‘‘ (ابوداؤد‘ الطہارہ: ۱۷۵)
اس کا مطلب یہ ہے کہ دوران وضوء معمولی جگہ بھی خشک رہ جائے تو وضوء نہیں ہوتا اور پھر نماز بھی نہ ہو گی‘ ہمارے ہاں کچھ اہل علم اس کے متعلق نرم گوشہ رکھتے ہیں‘ ان کا کہنا ہے کہ ناخن پالش کی موجودگی میں وضوء ہو جاتا ہے جیسا کہ سجدہ کے لیے شرط ہے کہ وہ زمین پر ہونا چاہیے۔ اس کے باوجود تخت پوش اور قالین وغیرہ پر نماز ہو جاتی ہے کیونکہ وہ زمین سے متصل ہوتا ہے‘ لیکن ہمارا موقف یہ ہے کہ سجدہ کے لیے زمین کی شرط لگانا محتاج دلیل ہے۔ اگر شرط بھی ہے تو احادیث میں اس کا استثناء موجود ہے۔ چنانچہ امام بخاریa نے اس سلسلہ میں حسب ذیل چند عنوان قائم کیے ہیں: ’’چٹائی پر نماز پڑھنا۔‘‘ (بخاری‘ الصلوٰۃ‘ باب نمبر ۲۰) ’’بستر پر نماز پڑھنا۔‘‘ (بخاری‘ الصلوٰۃ‘ باب نمبر ۲۲) ان حضرات کا قیاس کرنا ’’قیاس مع الفارق‘‘ ہے جبکہ ناخن پالش کی موجودگی میں جگہ خشک رہنا بدیہی امر ہے اور دوران وضوء جگہ خشک رہنے پر وعید آئی ہے کہ وضوء نہیں ہوتا۔
بہرحال ہم ناخن پالش کے مخالف نہیں‘ بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ وضوء کے پانی کا اعضائے وضوء تک پہنچنا ضروری ہے جبکہ ناخن پالش کی تہہ موٹی اور واٹر پروف ہوتی ہے‘ اس لیے اس کی موجودگی میں پانی جذب ہو کر اندر نہیں جاتا لہٰذا عضو کے اس حصے کے خشک رہنے سے وضوء نہیں ہوتا۔ جو خواتین اسے لگانے کی خواہش مند ہیں انہیں چاہیے کہ وہ نیل پالش ریموور بھی پاس رکھیں تا کہ نماز سے پہلے اگر وضوء کی حاجت ہو تو اسے اتار کر وضوء کیا جا سکے یا پھر ایسی برانڈ کی نیل پالش استعمال کریں جو واٹر پروف نہ ہو اور اس میں سے پانی جذب ہو کر نیچے تک پہنچ جاتا ہو‘ جیسا کہ کچھ کمپنیوں کی طرف سے اس قسم کا عویٰ کیا گیا ہے۔ اگرچہ ہمیں اس سے اتفاق نہیں۔
واضح رہے کہ جو لوگ عمارات کو رنگ وروغن کرتے ہیں ان کا بھی یہی حکم ہے کہ اگر پینٹ ان کے ہاتھوں یا اعضاء وضوء کو لگا ہے تو اسے مٹی کے تیل یا پٹرول سے دور کریں پھر وضوء کر کے نماز ادا کریں کیونکہ اس پینٹ کی بھی ناخن پالش کی طرح مستقل تہہ ہوتی ہے۔ واللہ اعلم!
سسر اپنی بہو کا محرم ہے
O ہمارے محلے کی کچھ عورتیں اپنے محارم کے ساتھ عمرے پر جا رہی ہیں‘ میرے ساتھ میرے سسر بطور محرم شریک سفر ہیں‘ کیا سسر اپنی بہو کا محرم بن سکتا ہے؟ کیا وہ اس کے ساتھ سفر کر سکتی ہے؟ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ فتنوں کے دور میں سسر کے ساتھ سفر سے گریز کیا جائے۔
P اہل علم نے کسی کے محرم ہونے کے لیے حسب ذیل پانچ شرائط بیان کی ہیں:
\          مرد ہو‘ کیونکہ کوئی عورت کسی عورت کے لیے محرم نہیں بن سکتی۔
\          مسلمان ہو‘ کوئی غیر مسلم‘ مسلم خاتون کا محرم نہیں ہو سکتا۔
\          بالغ ہو‘ نا بالغ بچہ بھی صلاحیت نہیں رکھتا کہ وہ کسی عورت کا محرم بن سکے۔
\          عاقل ہو‘ کیونکہ مجنون‘ فاتر العقل بھی محرم بننے کے قابل نہیں ہوتا
\          وہ اس عورت پر ہمیشہ کے لیے حرام ہو۔ مثلاً بھائی‘ والد‘ چچا‘ ماموں‘ سسر‘ خاوند اور رضاعی بھائی وغیرہ۔
واضح رہے کہ جن رشتے داروں کے ساتھ وقتی طور پر نکاح حرام ہے مثلاً بہنوئی اور پھوپھا وغیرہ وہ محرم نہیں ہو سکتے۔
صورت مسئولہ میں عورت کا سسر اس کے لیے محرم ہو گا خواہ اس کا خاوند فوت ہو چکا ہو یا اس نے اسے طلاق دے رکھی ہو‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے محرمات کے ذکر میں فرمایا ہے: ’’اور تم پر حرام ہیں تمہارے صلبی (سگے) بیٹوں کی بیویاں۔‘‘ (النساء: ۲۳)
واضح رہے کہ یہاں پر صرف عقد نکاح سے ہی حرمت ثابت ہو جاتی ہے اور یہ حرمت ہمیشہ کے لیے ہے‘ وقتی نہیں ہوتی۔ اس لیے بہو‘ اپنے سسر کے ساتھ سفر کر سکتی ہے اور سفر حج پر بھی جا سکتی ہے۔ اس میں کوئی شرعی قباحت نہیں۔ دور حاضر میں حج یا عمرہ وغیرہ عورتوں کی جماعت کے ساتھ ہی ہوتا ہے‘ اس لیے حج گروپ میں دیگر افراد کی موجودگی میں ’’فتنے کے اندیشہ‘‘ اندیشہ ہائے دور دراز ہی ہو سکتا ہے اور اس طرح کی پابندیاں غیر ضروری تاویلات سے تعلق رکھتی ہیں۔ مذکورہ شرعی نصوص کو موہوم اندیشوں کی بناء پر نظر انداز کر دینا نتائج کے اعتبار سے بہت خطرناک ہے۔ اسی طرح سے شریعت تو کھیل تماشا بن جائے گی پھر تو باپ‘ بیٹی اور ماں بیٹے کے ساتھ بھی یہ بات کہی جا سکتی ہے جو ہمارے نزدیک صحیح نہیں۔ ہاں اگر ایسی کوئی صورت غالب وراجح پہلو سے فتنہ کی حامل ہو تو مخصوص حالات وافراد کے حوالے سے اس طرح ’’فتنے کے اندیشے‘‘ کی پابندی لگانا درست ہے۔ واللہ اعلم!
دل میں قسم اُٹھانا
O میں نے اپنے دل میں کہا اور سوچا کہ اللہ کی قسم! میں فلاں کام نہیں کروں گا‘ پھر میں اپنی مجبوری کی وجہ سے وہ کام کر لیتا ہوں‘ کیا اس صورت میں مجھے قسم کا کفارہ دینا ہو گا؟!
P انسان کے لیے قسم اس وقت لازم ہوتی ہے جب وہ اپنی زبان سے قسم کے الفاظ ادا کرے۔ مثلاً اللہ کی قسم! میں فلاں کام نہیں کروں گا۔‘‘ اس کے بعد اگر وہ کام کرتا ہے تو قسم کا کفارہ دینا ضروری ہے جو حسب ذیل ہے:
\          گھر میں تیار ہونے والا اوسط درجے کا دس مساکین کے لیے کھانا
\          اوسط درجے کا دس مساکین کا لباس
\          اگر ان کی ہمت نہیں تو تین دن کے روزے رکھے جائیں۔
محض دل میں کہنے اور سوچنے کے متعلق شریعت کا ضابطہ یہ ہے کہ اس پر کوئی مؤاخذہ نہیں۔ جیسا کہ سیدنا ابوہریرہt بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہe نے فرمایا: ’’بے شک اللہ تعالیٰ نے میری امت کے دلوں میں پیدا ہونے والے وساوس وخیالات سے در گذر فرمایا ہے۔ جب وہ ان کے مطابق عمل نہ کر لیں یا انہیں زبان پر نہ لے آئیں۔‘‘ (بخاری‘ العتق: ۲۵۲۸)
لہٰذا صورت مسئولہ میں محض دل سے سوچنے یا قسم کے متعلق دل میں کہنے سے نہ قسم لازم ہوتی ہے اور نہ اس کے منافی کام کرنے پر کفارہ دینا پڑتا ہے۔ واللہ اعلم!


No comments:

Post a Comment