مسئلہ کشمیر 39-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Monday, October 21, 2019

مسئلہ کشمیر 39-2019


مسئلہ کشمیر

نریندر مودی کا حالیہ اقدام تقسیمِ کشمیر‘ اقوام متحدہ کی قرار دادوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔ جب تک مقبوضہ کشمیر میں استصواب رائے نہیں ہوتا اور کشمیریوں کو رائے شماری کے ذریعے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق نہیں مل جاتا اس وقت تک اس متنازعہ علاقے کی جغرافیائی حیثیت کو ختم یا تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔
اسرائیل جس طرح دھڑا دھڑ مقبوضہ علاقوں میں یہودی بستیاں بسا رہا ہے اسی طرز پر بھارت غیر کشمیریوں کو کشمیری پنڈتوں کے نام پر مقبوضہ کشمیر میں لا کر آباد کرنا چاہتا ہے تا کہ اگر اسے عالمی دباؤ پر رائے شماری کا کڑوا گھونٹ پینا بھی پڑے تو وہ کشمیریوں کو اقلیت بنا کر ہندو اکثریت کی بنیاد پر کشمیر کو بھارت میں مکمل طور پر ضم کر لے۔
قابض بھارتی فوج نے مسلسل اڑھائی ماہ سے وادی کشمیر اور جموں کے مسلم اکثریتی علاقوں میں سخت ترین کرفیو نافذ کر رکھا ہے۔ تمام دکانیں‘ کاروباری مراکز اور تعلیمی ادارے بند پڑے ہیں جس سے زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی ہے۔ ٹریفک کی آمد ورفت بند اور موبائل فون‘ انٹرنیٹ سروسز معطل ہیں۔ ہسپتالوں تک مریضوں کی رسائی ناممکن ہے۔ کشمیری انسانی حقوق کے ساتھ ساتھ بنیادی انسانی ضروریات زندگی سے محروم ہیں جس میں خوراک اور ادویات سر فہرست ہیں۔ لوگ گھروں میں محصور ہونے کے باعث روزگار سے بھی محروم ہو چکے ہیں۔ مقبوضہ وادی میں انسانی بحران اور المیہ جنم لے چکا ہے جو ہر گذرتے دن کے ساتھ بدترین صورت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ ادھر بھارتی حکمران ٹس سے مس نہیں ہو رہے اور نہ ہی عالمی برادری کی آواز کو کوئی اہمیت دے رہے ہیں۔
مودی سرکار کی ہٹ دھرمی کا یہ عالم ہے کہ کشمیر کی صورتحال کا جائزہ لینے کی خاطر آنے والے امریکی ارکان سینٹ کو مقبوضہ کشمیر کا مکمل دورہ کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ جبکہ پاکستان نے کسی پابندی کے بغیر آزادکشمیر کا مکمل دورہ کرایا۔ وفد نے آزاد کشمیر کے صدر اور وزیر اعظم سے ملاقات کی جس میں خطے کی صورت حال پر تبادلہ خیال کے علاوہ انسانی بحران پر تشویش‘ کرفیو کے فوری خاتمے اور مسئلہ کشمیر کے مستقل حل کی ضرورت کا اظہار کیا۔ فی الحقیقت اصل ضرورت تنازعہ کشمیر کے پائیدار منصفانہ حل ہی کی ہے۔ اس کے بغیر یہ خطہ جنوبی ایشیا میں مستقل بے چینی کی آماجگاہ بنا رہے گا۔
اس وقت صورت حال یہ ہے کہ پورے آزاد کشمیر سے‘ دوسری طرف مظلوم کشمیری عوام کے ساتھ یکجہتی کے لیے قافلے ایل او سی کی طرف بڑھ رہے ہیں جنہیں بارڈر سے چند کلومیٹر دور روک لیا گیا ہے۔ ان قافلوں کے ذمہ داران نے پر امن رہنے کا یقین دلایا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ہم ایل او سی پر دھرنا دیں گے۔ اس کی عالمی میڈیا کوریج ہو گی تو یقینا اس سے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کا پردہ مزید چاک ہو گا اور اقوام عالم کو اپنی طرف متوجہ کرنے میں مدد گار ثابت ہو گا۔ تا ہم ایل او سی کو کراس کرنے کا یہ مناسب موقع نہیں‘ اس کا ادراک مارچ کرنے والے شرکاء کو بھی ہے۔
ہم سمجھتے ہیں کہ ایسی سرگرمیوں سے دنیا کے سامنے اصل حقائق آئیں گے اور بھارت پر دباؤ بڑھے گا۔ پاکستان حکومتی سطح پر اپنے کشمیری بھائیوں کی اخلاقی‘ سفارتی بھر پور حمایت جاری رکھے۔ ہر بین الاقوامی فورم پر مودی سرکار کے مظالم سے دنیا کو آگاہ کرے۔ عالمی برادری خصوصا اقوام متحدہ کو مزید وقت ضائع کیے بغیر مسئلہ کشمیر کے مستقل حل کے لیے اپنا کردار نتیجہ خیز طور پر ادا کرنا چاہیے۔
حقیقی بات یہ ہے کہ کشمیریوں کو حق خود ارادیت دلانے کے بین الاقوامی وعدوں کی تکمیل کے سوا تنازعہ کشمیر کا کوئی مستقل اور منصفانہ حل ممکن ہی نہیں‘ لہٰذا اس طرف فوری پیش رفت ہونی چاہیے ورنہ دونوں ایٹمی طاقت کے حامل ملکوں کے درمیان جنگ چھڑ گئی تو اس کے بھیانک نتائج پوری دنیا کو بھگتنا پڑیں گے۔


No comments:

Post a Comment