مولانا ابوحفص عثمانی ... میرے محسن ومربی 39-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Monday, October 21, 2019

مولانا ابوحفص عثمانی ... میرے محسن ومربی 39-2019


مولانا ابوحفص عثمانی... میرے محسن ومربی

(پانچویں وآخری قسط)          تحریر: الشیخ مولانا ارشاد الحق اثری﷾
مولانا عثمانی صاحب کے جامعہ سلفیہ سے چلے جانے کے بعد بھی ان سے رابطہ رہا‘ اس حوالے سے ان کے دو مکتوب ملاحظہ فرمائیں:
ڈیرہ غازیخاں بلاک نمبر۱۵
۷۵-۱۰-۱
بسم اللہ الرحمن الرحیم
برادر عزیز مولانا ارشاد الحق صاحب
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
امید ہے کہ مزاج گرامی بخیر ہوں گے۔ شیخ فرید کی عبارت درج ذیل ہے:
’’بعد ازاں سخن بہ نسبت مولوی نذیر حسین محدث دہلوی افتاد حضرت قطب الموقدین خواجہ محمد بخش ادام اللہ تعالیٰ بدوامہ عرض کردند قبلہ مردم مولوی نذیر حسین را غیر مقلد ووہابی گویند‘ او چگونہ شخص است‘ حضور فرمودند کہ سبحان اللہ وے یکے از اصحاب می نماید‘ آنگاہ فرمودند کہ ہمیں امر کافی است برائے انساں کہ مثل او در جہاں نباشد‘ پس وے اکنوں فی زمانہ در علم حدیث شریف نظیر ومانندے نہی دارد‘ وچناں بے نفس است کہ ہیچ کس را از فریحہ ہائے اہل اسلام بد نمی گوید‘ اگرچہ مردم روبروئے او را ناسزا وبد میگوید او کسے را نمی گوید‘ پس ایں از کہ برآید واکنوں اگرچہ پیرہن وضعیف شدہ است تا ہم کاروبار خود مے کند تا کہ ہمان را نیزنان بدست خود برداشتہ می دہد واز ہیچ کس نمی پرسد کہ صوفی ہستی یا چہ مذہب می داری۔‘‘ (اشارات فریدی حصہ چہارم: ۱۸۵‘ ۱۸۶۔ مطبع رفیق عام لاہور مطبوعہ ۱۳۴۶ھ)
(۲) مسئلہ قرطاس کی طباعت ابھی تک معرض التوا میں ہے۔ خانگی معاملات اور کاروبار میں الجھا ہوا ہوں۔ بالکل فرد اور تنہا ہوں۔ بچے بے پروا اور نالائق ہیں‘ ادھر عمر کا تقاضا بھی ساتھ ساتھ ہے۔ اکثر طور پر بیمار رہتا ہوں۔
(۳) ’’عنبر شمامہ‘‘ تو ضبط ہو گیا تھا اور ضبطی سے بہت پہلے ختم بھی ہو گیا تھا اس لیے نایاب ہے۔ البتہ زئیر اسامہ‘ تفصیل المزایا‘ ازلہ اوہام اور اوفوا الکیل بیرنگ روانہ کر رہا ہوں۔
(۴) الترغیب والترہیب ابھی کام دے رہی ہے اس لیے اسے جدا کرنے کو جی نہیں چاہ رہا۔ اس کے علاوہ کتب کے متعلق کیا کہہ سکتا ہوں۔ آپ ان کے نام سے مطلع فرمائیں تب کچھ لکھ سکوں گا۔
(۵) جناب سیدنا صدیقt کے زمانہ میں کسی قاضی کے تعینات کرنے کی حاجت بھی نہیں تھی۔ قریب کا زمانہ تھا‘ صحابہ کرام] موجود تھے اور سب ہی قاضی تھے۔ بخلاف جناب سیدنا علیt کے زمانہ کے کہ اس وقت ضرورت تھی‘ اہل علم یکے بعد دیگرے رخصت ہو رہے تھے‘ مزید برآں یہ کیا تکنیک یا اعتراض ہے کہ انہوں نے کیوں مقرر نہیں فرمایا؟ کیا اس وقت تنخواہ خور قاضیوں کا تقرر ہوتا تھا؟ ملازمت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوا۔ جب ضروری نہ تھا تو مقرر نہ ہوا۔ جب ضرورت لاحق ہوئی تو ضرورت ایجاد کی ماں ہے۔
(۶) شیعوں کے اشتہار کا جواب مولانا مناسب ہی لکھ رہے ہیں۔ خدا جانے ارباب شبان کو کیوں گراں پڑا ہے اور وہ اس پر کیوں مطمئن نہیں‘ ان کی کیا چاہت ہے؟ اس کی تفصیل کے بعد کچھ عرض کر سکوں گا۔ نیز اصل اشتہار بھی میرے مطالعہ میں نہیں آ رہا۔ خدا جانے مشتہر حضرات کیا حل کرانا چاہتے ہیں؟ والسلام!
ابوحفص عثمانی
میرے خیال میں آپ کے تمام استفسارات کا جواب تسلی بخش یا غیر تسلی بخش آچکا ہے۔ عثمانی!
اس گرامی نامہ میں بعض باتیں وضاحت طلب ہیں۔ مختصرا اس بارے میں عرض ہے کہ ایک بار مولانا عثمانی مرحوم سے حضرت میاں سید نذیر حسین محدث دہلویa کا ذکر خیر فرماتے ہوئے شیخ فرید کی مذکورہ الصدر عبارت زبانی پڑھی تھی۔ جب راقم نے پاک وہند میں ’’علمائے اہل حدیث کی خدمات حدیث‘‘ کے عنوان سے رسالہ لکھنا چاہا تو اسی عبارت کی ضرورت محسوس ہوئی تا کہ خود اسے دیکھ لوں۔ مولانا مرحوم سے شیخ فرید کے الفاظ پر مشتمل عبارت مع حوالہ طلب کی تھی تو انہوں نے یہ عبارت لکھ کے بھیج دی۔ فجزاہ اللہ احسن الجزاء!
شیخ فرید سے مراد نواب آف ریاست بہاولپور کے معروف پیر اور صوفی بزرگ خواجہ غلام فرید سکنہ چاچڑاں ہیں جن کے بارے میں ان کے کسی غالی مرید نے کہا    ؎
چاچڑ وانگ مدینہ ڈسے کوٹ مٹھن بیت اللہ
ظاہر دے وچ پیر فریدن باطن دے وچ اللہ
(معاذ اللہ)!
’’اشاعت فریدی‘‘ انہی کے ملفوظات کا مجموعہ ہے اور ان کے القاب میں لکھا گیا ہے:
’’از ملفوظات قطب مدار‘ غوث روز گار‘ سلطان العارفین‘ خلیفۃ اللہ فی السموات والارضین‘ مرکز فلک الولایۃ والعرفان‘ المتصرف فی الاکوان‘ روح المعرفت‘ قلب الحقیقۃ‘ نور محض‘ وجود بحت ذات مقدس حضور اقدس قبلہ اہل توحید خواجہ غلام فرید رضی اللہ عنہ‘‘
’’اشارات فریدی‘‘ کا ترجمہ صوفی فاؤنڈیشن بہاولپور کی طرف سے شائع ہوا ہے۔ اس مترجم ایڈیشن کے صفحہ ۷۹۶ میں اس عبارت کا ترجمہ ہے۔
نمبر چھ میں جس اشتہار کا ذکر ہے اس کا پس منظر یہ ہے کہ ساہیوال کے شیعہ عالم مولوی غلام حسین نے ایک کتاب ’’نعیم الابرار‘‘ لکھی اور اس کے آخر میں اہل سنت کے عقائد وافکار پر اپنی کج فکری میں بائیس سوالات کیے جنہیں ’’نعیم الابرار‘‘ کا خلاصہ کہنا چاہیے۔ پھر ان سوالات کے ساتھ دو مزید سوالات کا اضافہ کر کے مکتبہ النذیر ساہیوال نے ایک قد آدم اشتہار بطور چیلنج شائع کیا اور اسے پورے ملک میں پھیلایا گیا۔ ہمارے یہاں فیصل آباد کے درو ودیوار کو بھی ان اشتہاروں سے سجایا گیا اور یہ دعویٰ بھی داغ دیا گیا کہ قیامت تک کوئی ان ۲۴ سوالات کا جواب نہیں دے سکتا۔
اس اشتہار سے پورے ماحول میں سناٹا چھا گیا اور کسی کو اس کے جواب کی جرأت نہ ہوئی۔ ان ایام میں شبان اہل حدیث فیصل آباد دعوتی میدان میں بڑا فعال کردار ادا کر رہی تھی۔ انہوں نے مناظر اسلام مولانا محمد صدیق خطیب جامع مسجد اہل حدیث امین پور بازار سے رابطہ کر کے اس کے جواب کا تقاضا کیا۔ چنانچہ انہوں نے ان سوالات کے جوابات محترم جناب محمد سلیمان اظہر کو لکھوائے۔
اظہر صاحب (ڈاکٹر بہاؤالدین) ان دنوں جامعہ سلفیہ کے لائبریرین تھے اور طلبہ جامعہ کو سکول کے امتحانات کی تیاری بھی کرواتے تھے۔ وہ روزانہ یا جب بھی فرصت ملتی مولانا محمد صدیق صاحب کے گھر تشریف لے جاتے۔ موصوف ڈاکٹر بہاؤالدین اور محسن جماعت ایک عرصہ بعد بنے۔ ظاہر ہے کہ ماں کے پیٹ سے تمام کمالات کوئی نہیں لایا۔ اسباب کی دنیا میں جو جد وجہد کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی محنتوں کا ثمرہ اسے ضرور عطا فرماتے ہیں۔
یہ جوابات کتابی صورت میں ’’کشف الاسرار بجواب نعیم الابرار‘‘ کے نام سے شائع ہوئے۔ ہمارے شبان اہل حدیث کا خیال تھا کہ یہ کتاب تو چند پڑھنے والوں تک محدود رہے گی۔ اشتہار کا جواب اشتہار کی صورت میں آنا چاہیے اور در ودیوار پر نصب ہونا چاہیے۔ بس ان کی یہ خلش تھی۔ شبان بسا اوقات جذبات سے فیصلہ کرتے ہیں مگر وہ اس حقیقت کو نہیں سمجھتے کہ تخریب سے تعمیر مشکل عمل ہے۔ اعتراض چند لفظوں یا سطروں میں ہو تو اس کا جواب کئی صفحات میں پھیل جاتا ہے۔
’’کشف الاسرار‘‘ شیعہ اعتراضات کا تسلی بخش اور مثبت جواب ہے جس کے کئی ایڈیشن طبع ہوئے جس میں شیعہ کے پر اسرار مذہب کا بہترین کشف ہے اور بہت سی چھپی حقیقتوں کو نمایاں کر دیا گیا ہے۔ جزاہ اللہ احسن الجزاء عنا وعن المسلمین!
اب ایک اور خط ملاحظہ فرمائیں:
ابوحفص عثمانی بلاک نمبر ۱۵‘ ڈیرہ غازیخاں
۷۶-۳-۳
برادر عزیز سلمکم اللہ تعالیٰ!
السلام علیکم ورحمۃ اللہ
آپ کا ملفوف ملا قبل ازیں جو آپ نے ملفوف بھیجنے کا ذکر کیا ہے‘ میں اس سے لا علم ہوں۔ خدا جانے اس میں کیا تھا؟ اور کس بات کے جواب کا آپ کو انتظار رہا؟
(۲) رسالہ حدیث قرطاس کے متعلق بموقعہ کانفرنس سالانہ ان شاء اللہ مکمل گفتگو کروں گا‘ انتظار کیجیے!
(۳) رسالہ ’’فضل الودود فی تحقیق رفع الیدین للسجود‘‘ کی کتابت آفسٹ پر ہو چکی ہے اب اس کی تصحیح میں مصروف ہوں‘ ان شاء اللہ کانفرنس تک مکمل کر کے ساتھ لاؤں گا۔
(۴) باقی رہا ’’حسب سابق اپنی شفقتوں اور عنایتوں سے نوازنے کا‘‘ تو سابقہ یاد داشت کی بنا پر ڈر لگتا ہے اور کیا لکھوں؟
(۵) احسن الکلام کا تعاقب مکمل ہونا چاہیے تھا‘ شکر ہے کہ آپ اس پر کام کر رہے ہیں۔ رسالہ میں تحریر کرنا ویسے بھی بے معنی ہے‘ مکمل اور الگ جواب ہونا چاہیے‘ یہ مسلک پر احسان ہو گا۔
والسلام!… ابوحفص عثمانی
اب یہ تو یاد نہیں کہ راقم نے ان کی خدمت میں کیا استفسار کیا تھا؟ میرا وہ عریضہ ہی ان تک نہ پہنچ پایا۔ تو وہ جواب کیا لکھتے؟ اس مکتوب گرامی سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ حدیث قرطاس پر انہوں نے ایک مستقل رسالہ لکھا تھا مگر اس کا کوئی سراغ نہ مل سکا۔
نمبر (۴) میں جو کچھ انہوں نے لکھا ہے دراصل یہ راقم کی ایک بہت بڑی غلطی کی طرف اشارہ ہے۔
۱۹۶۶ء میں جامعہ میں مولانا عثمانیa کے خلاف طلبہ نے احتجاج کیا‘ ہڑتال ہوئی‘ قصہ نے طول پکڑا تو انہیں جامعہ کے انتظام وانصرام سے سبکدوش کر دیا گیا۔ راقم نے بھی مولانا مرحوم کی شفقتوں کے باوصف اس ہڑتال میں حصہ لیا‘ بعد میں معلوم ہوا کہ ان کے خلاف جو کہانی بنائی گئی اور ان کے سفید لباس پر جو چھینٹے ڈالے گئے وہ بالکل من گھڑت تھے۔ اللہ تعالیٰ سب کی خطاؤں کو اپنے کرم وفضل سے معاف فرمائے۔
مولانا عثمانی مدیر جامعہ کے عہدہ سے فارغ ہو کر ڈیرہ غازیخاں بلاک ۱۵ میں تشریف لے گئے۔ ایک عرصہ وہاں رہے پھر دوبارہ تقریبا ۱۹۷۶ء/۱۹۷۷ء میں جامعہ کا انتظام جناب میاں فضل حق a نے ان کے سپرد کر دیا۔ یہ ان کی نیک نامی اور انتظامی صلاحیتوں کا بین ثبوت ہے۔ مگر پیرانہ سالی کی بنا پر بالآخر خود ہی وہ اس سے مستعفی ہوئے اور اپنے گھر دائرہ دین پناہ میں رہائش پذیر ہو گئے۔
۱۹۸۲ء میں میرا رسالہ ’’تارکین رفع الیدین کی نئی کاوش اور اس کا جواب‘‘ شائع ہوا۔ ایک صاحب مولانا مرحوم سے ملنے کے لیے جا رہے تھے میں نے ان کے ہاتھ یہ رسالہ ان کی خدمت میں بھجوایا۔ واپسی پر انہوں نے بتلایا کہ مولانا بیمار تھے اور چار پائی پر لیٹے ہوئے تھے‘ میں نے سلام کے بعد یہ رسالہ ان کی خدمت میں پیش کیا تو ایک نظر اسے دیکھا اور اپنے سرہانے کے پاس رکھ لیا۔ بیماری نے انہیں بہت لاغر کر دیا تھا‘ کوئی بات نہ کر پائے۔ درد گردہ کے وہ مریض تھے۔ علاج معالجہ کے لیے میاں فضل حق مرحوم نے انہیں لاہور میو ہسپتال میں داخل کرایا مگر کوئی چارہ جوئی کام نہ آئی۔ بالآخر ۲۹ مارچ ۱۹۸۲ء میں وہ اس دنیا سے رخصت ہوئے۔ اور اللہ رب العزت کے ہاں پہنچ گئے۔ دائرہ دین پناہ میں ان کی نماز جنازہ مولانا فضل کریم فاضل مدرسہ سعیدیہ دہلی نے پڑھائی۔ احباب کثیر تعداد میں نماز جنازہ میں شریک ہوئے اور دائرہ دین پناہ کی بستی آڑہ کے قبرستان میں دفن کیے گئے۔ مسلک اہل حدیث کے معروف مؤقر ہفت روزہ الاعتصام میں ان کی خبر وفات جناب محمد اقبال فاروقی نے لکھ کے بھیجی جو حسب ذیل ہے:
موت العالم موت العالم
احباب جماعت کو یہ سن کر نہایت اندوہ ہو گا کہ استاذ المکرم مولانا ابوحفص عثمانی طویل علالت کے بعد ۲ جمادی الثانی ۱۴۰۲ھ بمطابق ۲۹ مارچ ۱۹۸۲ء وفات پا گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون!
اللہ رب العزت ان کی خطاؤں کو معاف فرمائے‘ کروٹ کروٹ رحمت کرے اور جنت الفردوس میں جگہ دے‘ تمام جماعتی احباب سے درد مندانہ اپیل ہے کہ مرحوم کے لیے دعائے مغفرت وجنازہ غائبانہ ادا کریں۔ (الاعتصام ۹ اپریل ۱۹۸۲ء صفحہ ۱۳)
’’الاعتصام‘‘ کے علاوہ افسوس ہے کہ کسی اور رسالے میں اس کا ذکر نہیں ملا۔ بلکہ عرصہ تک کسی نے ان کی خدمات وتعارف کے حوالے سے کچھ نہ لکھا۔ البتہ ۱۴ اگست ۱۹۹۶ء میں چوہدری عبدالعزیز گوجر نے روزنامہ نوائے وقت میں ’’تحریک آزادی کے مجاہد‘‘ کے عنوان سے ان کا تعارف اور ان کی سیاسی وملی خدمات کا ذکر کیا۔ ان کے بعد عزیزم مولانا حافظ ریاض احمد عاقب نے مولانا عثمانیa پر چار صفحات پر مشتمل مضمون ’’مولانا عبدالتواب محدث ملتانیa حیات وخدمات‘‘ میں لکھا‘ یہ کتاب ۲۰۱۰ء میں شائع ہوئی۔
اس کے بعد ان کا مختصر تعارف مؤرخ اہل حدیث مولانا محمد اسحاق بھٹیa نے ’’برصغیر میں اہل حدیث کی سرگزشت‘‘ میں لکھا۔ اسی طرح مولانا عبدالرحیم ڈیرویd نے ہفت روزہ الاعتصام میں ان پر تعارفی مضمون لکھا جو ۱۴ اگست ۲۰۱۱ء کے شمارہ میں شائع ہوا۔
مولانا عثمانی مرحوم کی اولاد میں چار بیٹے‘ چار بیٹیاں ہیں‘ بڑے بیٹے کا نام محمد ادریس عثمانی جو وفات پا گئے ہیں‘ دوسرے بیٹے کا نام محمد شعیب عثمانی تھا وہ بھی فوت ہو گئے۔ البتہ ان کے بیٹے یعنی مولانا مرحوم کے پوتے آصف عثمانی‘ عامر عثمانی ہیں۔ تیسرے بیٹے کا نام محمد عمیس عثمانی اور چوتھے کا نام محمد عزیر عثمانی ہے۔ مولانا مرحوم کے ایک نواسے قاری اسماعیل ہیں جو دائرہ دین پناہ کی مسجد میں امام ومدرس ہیں۔
………………bnb………………
اب آئیے وہ مضمون ملاحظہ فرمائیں جو چوہدری عبدالعزیز گوجر نے نوائے وقت میں لکھا تھا:
فطرت کے مقاصد کی کرتا ہے نگہبانی
یا بندہ صحرائی یا مرد کوہستانی
مولانا اللہ بخش ابوحفص عثمانیa وہ مشہور بزرگ ہیں جن پر علامہ اقبالa کا یہ شعر صادق آتا ہے۔
داجل! جہاں آپ پیدا ہوئے صحرائی اور کوہستانی دونوں صفات اپنے اندر رکھتا ہے۔ اس شہر نے ہر شعبہ ہائے زندگی میں بڑی جلیل القدر ملکی اور بین الاقوامی شہرت کی حامل شخصیات جنم دی ہیں۔ ان میں مشہور عالم دین اور اہل حدیث رہنما مولانا ابوحفص عثمانی سر فہرست ہیں۔ آپ ۶ ستمبر ۱۹۱۵ء کو مولوی محمد عثمانی کے ہاں داجل میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم مولانا حافظ عبدالرحمن سے حاصل کی۔ مولانا مشتاق احمد ڈیروی اور مولانا شاکر محمد بھی آپ کے ہم جماعت تھے۔ دینی تعلیم مولانا عبدالتواب حقانی قدیر آباد مدرسہ سے حاصل کی جو اپنے وقت کے بہت بڑے معتبر عالم اور متقی بزرگ تھے۔ وہ ملتان اور نواح میں ولی کامل کے نام سے مشہور تھے۔
مولانا عبدالتواب کے متعلق مشہور ہے کہ نہایت سادہ غذا استعمال کرتے تھے اور طلبہ کو بھی سادگی کی تعلیم دیتے تھے۔ انہی کی تعلیم کا اثر تھا کہ مولانا ابوحفص عثمانی میں تقویٰ اور قناعت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ مولانا عبدالتواب کے متعلق مشہور ہے کہ ایک شاگرد ان کے لیے دو اونٹ غلہ کے بھر کر لایا مگر آپ نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔ آپ نے ایک دفعہ ذکر کیا کہ میں اور میرا ایک ساتھی حضرت میر محمد ابراہیم سیالکوٹیa کی مسجد میں گئے اور کہا کہ آپ کا مدرسہ کہاں ہے؟ آپ نے کہا کیسا مدرسہ؟ طالب علم ہی نہیں رہے جنہیں پڑھایا جا سکے‘ ہاں اگر آپ طالب علم بنیں تو مدرسہ کھولتے ہیں۔ چنانچہ مولانا محمد ابراہیم سیالکوٹیa نے انہیں اپنا شاگرد بنا لیا۔
مولانا مرحوم سیاست میں بھی بھر پور حصہ لیتے تھے اور اپنی مجالس میں مولانا محمد ابراہیم سیالکوٹی‘ مولانا ثناء اللہ امرتسری‘ مولانا ظفر علی خاں‘ سید داؤد غزنوی‘ سید عطاء اللہ شاہ بخاری‘ مولانا محمد اسماعیل سلفیS وغیرہ کا تذکرہ خصوصیت سے کرتے تھے اور ان کے ساتھ اپنے مذاکروں اور ملاقاتوں کا حال بیان کیا کرتے تھے۔ آپ نے عصری تعلیم میٹرک تک حاصل کی تھی۔ بلا کے ذہین تھے۔ ایک مرتبہ جو بات سن لی یاد ہو جاتی تھی۔ جی ٹی ایس میں بھی بطور کلرک کچھ عرصہ نوکری کی۔ داجل کمیٹی کے چیئرمین بھی رہے اور بطور چیئرمین ان کی خدمات کا آج تک اعتراف کیا جاتا ہے۔ انہوں نے زیادہ تر غرباء کی امداد اور مذہبی لوگوں کی رہنمائی کی۔ جنوبی پنجاب میں آپ نے سب سے پہلے مسلم لیگ کی بنیاد رکھی اور چھوٹے سے قصبے داجل سے اس کی ابتدا کی۔ متعدد مقدمات قائم ہوئے مگر ثابت قدمی سے اپنے مقصد پر ڈٹے رہے۔ ایک دفعہ تین مسلمان آفیسرز شکار کے سلسلے میں ’’داجل‘‘ میں ٹھہرے‘ پتہ چلا کہ مسلم لیگ کا بانی ایک غریب آدمی ہے جو مقدمات کی بھر مار کے سبب گھر سے باہر ہے۔ انہوں نے تگ ودو کر کے ان پر سے مقدمات ختم کرائے اور آپ کو یقین دلایا کہ آئندہ آپ کھل کر کام کریں اور جو مقدمہ بنے ہمیں اطلاع دے دیں ہم کوشش کر کے ختم کرا دیں گے۔
چنانچہ مولانا کو کچھ سکون ملا اور آپ گھر واپس آئے‘ انہی کی مساعی سے اخوند نادر مجید کے بزرگ مسلم لیگ میں شامل ہوئے اور ان کی محبت اور لگن کے سبب مسلم لیگ مقبول ہوتی چلی گئی۔ لغاری خاندان میں بھی مسلم لیگ انہی کے توسط سے پہنچی۔
آپ نے متعدد دینی کتابچے اور کتابیں لکھیں جن میں صحیح احادیث کا ایک ضخیم ذخیرہ بھی ہے جو شائع نہ ہو سکا۔ ان کی ایک بہت بڑی لائبریری تھی جو بلاشبہ لاکھوں مالیت کی تھی۔ ان کے تمام غیر مطبوعہ رسائل‘ کتابچے اور کتابیں اور لائبریری کتب جامعہ سلفیہ فیصل آباد کو عطیہ میں دی جا چکی ہیں۔ مولانا مرحوم کی مسجد اہل حدیث بلاک نمبر ۱۵ (ڈیرہ غازیخاں) سے ملحق ایک بہت بڑی لائبریری تھی۔ اہل حدیث جماعت ڈیرہ غازیخاں میں جو کئی حصوں میں بٹی ہوئی تھی آپ کی کوششوں سے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوئی اور آپ ان کے مشترکہ امیر منتخب ہوئے۔ آپ نہایت بردبار اور ہنس مکھ انسان تھے‘ چند ہی ملاقاتوں میں مخاطب کو گرویدہ کر لیا کرتے تھے۔
۱۹۸۲ء میں انتقال ہوا اور دائرہ دین پناہ بستی آڑہ میں دفن ہوئے۔ اصول کے بڑے پابند تھے۔ خود داری انتہا درجہ کی تھی۔ بھوکے رہ جاتے مگر دست سوال دراز نہ کرتے۔ آخری وقت میں گردے جواب دے گئے۔ عبدالحمید امیر جماعت اہل حدیث ڈیرہ غازیخاں کہتے ہیں کہ انہوں نے ایک کتاب خریدی‘ بیماری شدید تھی‘ نقاہت حد درجہ زیادہ تھی تا ہم بستی آڑہ گئے‘ وہاں سے کتاب حاصل کی اور ڈیرہ غازیخاں لا کر میرے حوالے کی اور اس کے چند دن بعد ہی انتقال ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کو اپنے جوار رحمت میں جگہ دے۔ آمین!
نوائے وقت: ربیع الاول ۱۴۱۷ھ / ۱۴ اگست ۱۹۹۶ء بروز بدھ
………………bnb………………
آخر میں مولانا مرحوم کا ایک تعزیتی مکتوب ملاحظہ فرمائیں جو انہوں نے مفسر قرآن مولانا حافظ عبدالستار سلفی محدث دہلویa کی وفات حسرت آیات پر لکھا تھا۔ لکھتے ہیں کہ
محترم مولانا زید مجدکم!
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
مورخہ ۲۹ / ۸ / ۱۹۶۶ء سے تا ایں دم ’’عوامی ہسپتال ملتان چھاؤنی‘‘ میں ہوں۔ میرے خسر بزرگوار مولانا ابوالوصف قادر بخش دائرہ دین پناہ شدید طور پر بیمار ہو کر داخل ہسپتال ہیں اور میں ان کا تیماردار۔ جماعتی حالات وکوائف سے بے خبر‘ مورخہ ۱۶ / ۹ / ۱۹۶۶ء کو دائرہ دین پناہ اپنے اہل وعیال کی خبر گیری کے لیے پہنچا تو اس دوران کی آمدہ ڈاک بھی ساتھ لایا۔ صحیفہ اہل حدیث کے صفحہ اول پر جب یہ خبر پڑھی کہ استاذ العلماء شیخ الحدیث مفسر قرآن والحدیث امام جماعت غرباء اہل حدیث اس جہان فانی سے رحلت فرما گئے ہیں تو دل ودماغ پر ایک بجلی سی کوند گئی۔ ہوش وہواس گم ہو گئے۔ جسم شل ہو کر رہ گیا‘ ہاتھ وقلم میں رعشہ‘ لکھوں تو کیا لکھوں؟ اطمینان وسکون مفقود ہے۔ پوری جماعت مغموم وملول اور محزون ومایوس ہے۔
بلاشبہ محترم مولانا اس وقت کے بہت بڑے محقق‘ فاضل اور جید عالم تھے۔ توحید وسنت کے معاملہ میں مصلحت ومداہنت تو انہیں چھو کر بھی نہیں گئی تھی۔ وہ حق کے بے باک مبلغ اور باطل کے لیے ننگی تلوار تھے۔ مرحوم ومغفور اپنی ذات کے اعتبار سے ایک انجمن‘ ایک چلتا پھرتا ادارہ تھے‘ موصوف معدن علم وفضل‘ پیکر حیا‘ مأمن دین وتقویٰ‘ مصدر فیوض وبرکات‘ مبلغ رشد وہدایت‘ عالم با عمل اور آفتاب تحقیق تھے۔ آپ کی وفات حسرت آیات پر سوائے اس کے کیا کہہ سکتے ہیں۔ انا للہ وانا الیہ راجعون!
ویسے تو معلوم ہو چکا تھا کہ ان کی صحت کو روگ لگ چکا ہے جب وہ مؤرخہ ۶ مئی ۱۹۶۶ء کو لائل پور بمعیت برادرم مولوی عبدالقہار تشریف لائے تو میں بھی حصول شرفِ زیارت کے لیے ان کی خدمت میں حاضر ہوا۔ بعد نماز جمعہ مختصر ملاقات ہوئی اور یہی ملاقات میرے لیے آخری ملاقات ثابت ہوئی۔ دوران گفتگو میں چند گذشتہ یادیں بھی تازہ ہو گئیں لیکن ان کی شکل وصورت اور نقاہت وورم کو دیکھ کر ہی اندازہ لگا لیا کہ مرض تشویشناک حالت میں داخل ہو چکی ہے اور یہ چراغ بھی بجھا چاہتا ہے۔ بالآخر وہ ساعت آن پہنچی کہ جہاں انسانی طاقتیں مجبور اور بے بس ہو جاتی ہیں     ؎
اس پختہ حقیقت سے مگر کس کو مفر ہے
محفوظ نہیں دام اجل سے کوئی جاندار
ادنی ہو کہ اعلیٰ ہو‘ ولی ہو کہ پیغمبر
اس راہ سے گذرنا ہے ہر شخص کو اک بار
محترم مولانا موصوف علم وعمل اور زہد وورع کی سچی تصویر اور جود وسخا کے پیکر تھے۔ ان کی علمی خدمات تاریخ اہل حدیث کا ایک روشن باب ہے‘ ان کی وفات سے میرا دل ودماغ سخت متاثر ہے۔
محترم مولانا عبدالجلیل خاں مدیر صحیفہ پر کیا بیت رہی ہو گی کہ وہ ان کے بچپن کے رفیق اور علمی میدان میں ان کے معاون وہمدرد تھے   ؎
ویراں ہے میکدہ‘ خم وساغر اداس ہے
تم کیا گئے کہ روٹھ گئے دن بہار کے
آپ اور آپ کے جملہ خاندان کے لیے ان کی مفارقت سخت پریشانی کا باعث ہو رہی ہو گی۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اس حادثہ جان کاہ میں مولانا مرحوم کے ورثاء‘ رفقاء‘ تلامذہ اور جماعت اہل حدیث پاک وہند کے ہزاروں عقیدت مندوں کو صبر جمیل کی توفیق عطا فرمائے اور موصوف کو جنت الفردوس اور اعلیٰ علیین میں ٹھکانہ دے۔
والسلام! … شریک غم! ابوحفص عثمانی
دائرہ دین پناہ‘ ضلع مظفر گڑھ
مولانا عثمانی کا یہ تعزیتی مکتوب ’’مولانا عبدالوہاب محدث دہلوی اور ان کا خاندان‘‘ کے صفحہ ۲۵۴‘ ۲۵۵ میں شائع ہوا ہے۔ جس سے جماعتی بزرگوں کے ساتھ ان کے تعلق اور تاثرات کا اندازہ ہوتا ہے۔ اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ انہیں بھی انہی دعائیہ کلمات کا مصداق بنائے جو انہوں نے محدث دہلوی کے بارے میں کہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ انہیں جنت الفردوس اور اعلیٰ علیین میں ٹھکانہ دے۔ انبیاء کرامo صدیقین وصالحین کی رفاقت نصیب فرمائے۔ آمین یا رب العالمین!


No comments:

Post a Comment