میڈیا ٹریبونلز بنانے کی سکیم 39-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Monday, October 21, 2019

میڈیا ٹریبونلز بنانے کی سکیم 39-2019


میڈیا ٹریبونلز بنانے کی سکیم

تحریر: جناب مولانا محمد یوسف انور
جب سے تحریک انصاف کی حکومت برسر اقتدار آئی ہے سیاسی مخالفین کو کچلنے کے لیے احتساب کا ہتھیار خوب استعمال کر رہی ہے حتی کہ اس کی نشاندہی اب تو چیف جسٹس آف پاکستانی جناب آصف سعید کھوسہ نے بھی کی ہے۔ چند روز قبل نئے عدالتی سال کی افتتاحی تقریب میں خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ ملک میں جاری احتساب کے عمل کے لیے سیاسی انجینئرنگ کا تاثر خطرناک ہے جسے فوری طور پر ختم ہونا چاہیے۔
دیکھا جائے تو اس یک طرفہ احتساب کے اقدامات سے معاشی اور معیشت کی سرگرمیاں بری طرح متاثر ہو رہی ہیں اور اس حوالے سے زمینی حقائق روز بروز انتہائی خطرناک اور تشویشناک ہیں۔ لوگ اس ملک کو چھوڑنے پر مجبور ہیں کیونکہ حکومتی مالیاتی ادارے ایک سوچے سمجھے بین الاقوامی ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں۔ یہ بھی واضح حقیقت سامنے آ رہی ہے کہ اپنے لوگوں کی اجارہ داری قائم کرنے کے لیے بڑی کاروباری شخصیتوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ دوسرے شعبوں میں بھی تنزلی اور عدم استحکام کی صورت حال ہے۔
مزید براں ملک میں میڈیا ٹریبونلز بنانے کی اطلاعات پر آجکل انسانی حقوق کی تنظیمیں اور میڈیا وسیاسی قوتیں سراپا احتجاج ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ حکومت اختلاف رائے کو ہرگز ہرگز برداشت نہیں کر رہی جس کے لیے ہر وہ قدم اٹھانا چاہتی ہے جس سے اختلاف رائے کو کچلا جائے۔
جاننا چاہیے کہ جس معاشرہ میں اختلاف رائے کا ماحول نہ ہو وہ معاشرہ اور سماج مردہ ہو جاتا ہے۔ ایسے کالے قوانین ماضی میں بعض ڈکٹیٹر حکمرانوں نے بھی بنائے تھے جنہیں بالآخر عوامی دباؤ پر ختم کرنا پڑا اور آزادئ رائے پر قدغنیں واپس لی گئیں۔ اس سلسلہ میں مجھے جنرل ایوب خاں کا دور یاد آ رہا ہے جبکہ پریس ٹرسٹ کا قیام عمل میں لایا گیا تھا تا کہ رائے عامہ اور حکومتی تنقید کا گلا گھونٹا جائے لیکن اس پر پہلی آواز مرکزی جمعیت اہل حدیث نے بلند کی تھی جس کے نتیجے میں یہ سیاہ قانون ایک مضبوط حکومت کو ختم کرنا پڑا تھا۔
اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ ایوبی دور ۱۹۶۸ء میں لیاقت باغ راولپنڈی میں مرکزی جمعیت کی سالانہ کانفرنس انتہائی شان وشوکت سے منعقد ہوئی تھی۔ جس کی صدارت استاذ الاساتذہ حضرت حافظ محمد گوندلویa نے فرمائی تھی۔ صدر استقبالیہ مولانا حافظ محمد اسماعیل ذبیحa اور ناظم استقبالیہ چوہدری محمد یعقوبa تھے۔ خطبہ جمعۃ المبارک علامہ پیر سید بدیع الدین شاہ a نے ارشاد فرمایا تھا۔ کانفرنس کے دوسرے روز ہفتہ کی رات کا اجلاس وزیر اطلاعات خواجہ شہاب الدین کی صدارت میں منعقد ہوا تھا۔ میرے انتہائی محسن دانشور دوست چوہدری محمد یعقوب ناظم استقبالیہ نے میری ڈیوٹی لگائی کہ (ملک میں پریس ٹرسٹ کے حکومتی اقدام سے رائے عامہ اور مخالف حکومتی عناصر کی آواز کو بری طرح دبایا جا چکا ہے۔ اخبارات کے پروف حکومتی اہل کاروں کو دکھائے بغیر شائع نہیں ہو سکتے تھے۔ بڑی کانٹ چھانٹ کے بعد اشاعتی احکامات کے مطابق ہر چھوٹی بڑی خبر اور اداریئے وکالم شائع ہوتے تھے۔) ان قوانین کے خلاف اور مذمت میں مجھے قرار داد پیش کرنا ہو گی جس کی تائید اس وقت کے مرکزی جمعیت کے ناظم نشر واشاعت حاجی محمد اسحاق حنیف کریں گے۔ ظاہر ہے کہ مرکزی جمعیت کا یہ کردار بڑا جرأت مندانہ اور حکومتی وزیر کی صدارت میں اسے پیش کرنا اور بھی دلیرانہ پروگرام تھا۔
چنانچہ ان سطور کے راقم نے اس پریس ٹرسٹ آرڈینینس کے خلاف کچھ تمہید کے بعد زور دار انداز سے قرار داد پڑھی۔ حاجی محمد اسحاق حنیف نے اور بھی حکمت ودانش بھری خطابت سے اس کی تائید کی۔ اس اجلاس کے مقررین علامہ احسان الٰہی ظہیرa اور حافظ عبدالحق صدیقیa نے اپنے شعلہ نوائیوں سے تمام کسریں نکال دیں۔
اگلے روز کے اخبارات نے اور سیاسی لیڈروں نے بھی قرار داد کو سراہتے ہوئے احتجاج کا ملک گیر احوال پیدا کر دیا پھر کیا تھا کہ ایک دو روز بعد ہی یہ قانون ختم کر دیا گیا۔ لہٰذا کہا جا سکتا ہے کہ   ع
گاہے گاہے باز خواں آں قصۂ پارینہ را


No comments:

Post a Comment