درس قرآن وحدیث 40-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Saturday, October 26, 2019

درس قرآن وحدیث 40-2019


درسِ قرآن
اطاعت رب کریم
ارشادِ باری ہے:
﴿فَاِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ فَلَهٗۤ اَسْلِمُوْا١ؕ وَ بَشِّرِ الْمُخْبِتِيْنَۙ۰۰۳۴﴾ (الحج)
’’تمہارا معبود تو ایک ہی معبود ہے۔ لہٰذا تم اسی کی اطاعت میں رہو۔‘‘
اللہ تبارک وتعالیٰ نے انسان کی زندگی اور دنیا میں اس کے آنے کا مقصد متعین کردیا ہے اور وہ اللہ کی عبادت اور اسی کی بندگی اختیار کرنا ہے۔ کیونکہ اللہ کی اطاعت میں آجانے کاشعور انسانوں کے ذہنوں میں اگر بیدار ہو جائے تو پھر ان کے تمام امور زندگی ایک نظام کے تابع ہو جاتے ہیں۔ نبی کریمe نے بھی اسی اسلوب دعوت کو اپنایا تھااور سب سے پہلے لوگوں کو اللہ کی وحدانیت اور اس کی بندگی اختیار کرنے کی دعوت دی تھی اور اسی اسلوب پر کاربند رہنے کا اپنے صحابہ کرام] کو سبق دیا تھا ۔ سیدنا معاذt کو یمن کا گور نر بنا کر بھیجا تو انہیں اسی بات کی تلقین فرمائی تھی کہ تم اہل کتاب کو پہلے اللہ کی عبادت کی دعوت دینا اور اس عقیدے کے راسخ ہوجانے کے بعد انہیں معاملات زندگی میں شرعی رہنمائی دینا۔ قرآن کی دعوت کا بھی یہی اسلو ب ہے کہ پہلے اصول اور بنیادوں کو قائم اور مستحکم کیا جائے اور پھر فروعی عبادات و معاملات کی دعوت دی جائے۔ بندگی رب کو اپنا لینے اور اپنے آپ کو اللہ رب العالمین کے حوالے کردینے میں ہی انسان کی کامیابی ہے۔
﴿وَ مَنْ يُّطِعِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ يَخْشَ اللّٰهَ وَ يَتَّقْهِ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْفَآىِٕزُوْنَ۠۰۰۵۲﴾ (النور)
’’اور جو کوئی بھی اللہ اور اس کے رسولe کی اطاعت اختیار کرے گا اور اللہ سے ڈرے گا اور اس کی نافرمانی سے بچے گا تو ایسے لوگ بامراد ہیں۔‘‘
سیدنا ابراہیمu کو بھی اللہ نے سب سے پہلے اپنا فرمانبردار بننے کا ہی حکم صادر فرمایاتھا:
﴿اِذْ قَالَ لَهٗ رَبُّهٗۤ اَسْلِمْ١ۙ قَالَ اَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعٰلَمِيْنَ۰۰۱۳۱﴾ (البقرة)
’’جب اُن (حضرت ابراہیمu) سے ان کے پروردگار نے فرمایا کہ’’ فرمانبردار بن جاؤ۔‘‘ وہ بولے کہ’’میں فرمانبردار ہوں سارے جہانوں کے پروردگار کا۔‘‘
نبی کریم e کوبھی رب تعالیٰ کی اطاعت میںہی رہنے کا حکم دیا گیا تھا۔
﴿وَ اُمِرْتُ اَنْ اُسْلِمَ لِرَبِّ الْعٰلَمِيْنَ۰۰۶۶﴾ (المؤمن)
’’مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں تمام جہانوں کے پروردگار کا تابع فرمان ہو جاؤں۔‘‘
اور مسلمانوں کو بھی یہی ہدایت فرمائی کہ:
﴿فَمَنْ اَسْلَمَ فَاُولٰٓىِٕكَ تَحَرَّوْا رَشَدًا۰۰۱۴﴾ (الجن)
’’ اور جس کسی نے بھی اللہ کی فرمانبرداری اختیار کی تو اس نے راہ راست کو پالیا۔‘‘

درسِ حدیث
الفرقہ الناجیہ
فرمان نبویﷺ ہے:
[عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "لَيَأْتِيَنَّ عَلٰى أُمَّتِي مَا أَتٰى عَلَى بني إسرائيل حَذْوَ النَّعْلِ بِالنَّعْلِ، حَتَّى إِنْ كَانَ مِنْهُمْ مَنْ أَتَى أُمَّهُ عَلَانِيَةً لَكَانَ فِي أُمَّتِي مَنْ يَصْنَعُ ذَلِكَ، وَإِنَّ بني إسرائيل تَفَرَّقَتْ عَلَى ثِنْتَيْنِ وَسَبْعِينَ مِلَّةً، وَتَفْتَرِقُ أُمَّتِي عَلَى ثَلَاثٍ وَسَبْعِينَ مِلَّةً، كُلُّهُمْ فِي النَّارِ إِلَّا مِلَّةً وَاحِدَةً"، قَالُوا: وَمَنْ هِيَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟! قَالَ: "مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِي".] (ترمذی، حسن.)
سیدنا عبداللہ بن عمروw سے روایت ہے‘ انہوں نے کہا کہ رسول اللہe نے ارشاد فرمایا: ’’میری امت پر بھی لازمی طور پر وہی حالات آئیں گے جو بنی اسرائیل پر آئے۔ جیسے کے جوتے کے دونوں تلوے برابر ہوتے ہیں حتی کہ اگر ان میں سے کسی نے علی الاعلان اپنی ماں سے بدکاری کی تو میری امت میں بھی ایسا شخص ہو گا جو یہ کام کرے گا اور بیشک بنی اسرائیل بہتر فرقوں میں تقسیم ہوئے اور میری امت تہتر فرقوں میں تقسیم ہو گی۔ ایک فرقہ کے سوا سب کے سب جہنم میں جائیں گے۔‘‘ انہوں نے کہا اللہ کے رسول! نجات پانے والا کونسا فرقہ ہے؟ آپe نے فرمایا: ’’جس پر میں اور میرے صحابہ] چلتے رہے۔‘‘
حدیث اپنے مفہوم میں بڑی واضح ہے کہ امت مختلف گروہوں میں تقسیم ہو جائے گی لیکن نجات پانے والا صرف ایک گروہ ہو گا جس کی تعریف صحابہ کرام] کے استفسار پر آپe  نے فرمایا کہ جس راستے پر میں اور میرے صحابہ چلتے رہے۔ امت مسلمہ کو اسی راستے کی تلاش کرنی چاہیے اور اسے ہی اختیار کرنا چاہیے مگر امت اختلافات کا شکار ہو کر راہِ حق سے بھٹک گئی جس کی تصویر علامہ اقبالa نے یوں کھینچی ہے:
یہ امت روایات میں کھو گئی
حقیقت خرافات میں کھو گئی
ہر گروہ اور فرقہ اپنے سوا سب کو جہنمی سمجھتا ہے اور اپنے سوا کسی کو راہ حق پر نہیں سمجھتا حالانکہ جو معیار نبی مکرمe نے جنتی ہونے کا بیان فرمایا ہے وہ نبی کریمe کی پیروی اور صحابہ کرام] کی اتباع ہے۔ مگر تمام دینی جماعتیں اپنے علاوہ سب کو جہنمی خیال کرتی ہیں جبکہ اس حدیث کا بنیادی مقصد رسول اللہ ﷺ کی پیروی ہے۔
جو شخص بھی رسول اکرمﷺ کی پیروی کرے گا خواہ اس کا تعلق کسی بھی گروہ یا جماعت کے ساتھ ہے وہ جنتی جماعت کا فرد ہو گا۔ ہمیں گروہ بندیوں اور فرقوں سے نکل کر اتباع رسولﷺ کی فکر کرنا چاہیے۔


No comments:

Post a Comment