انبیاء کرام اور علم غیب 40-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Saturday, October 26, 2019

انبیاء کرام اور علم غیب 40-2019


انبیاء کرام o اور علم غیب

(دوسری قسط)  تحریر: جناب میاں محمد جمیل
سیدنا داؤدu اور علم غیب :
ارشاد ربانی ہے:
﴿اِنَّ هٰذَا اَخِيْ لَهُ تِسْعٌ وَّ تِسْعُوْنَ نَعْجَةً وَّلِيَ نَعْجَةٌ وَّاحِدَةٌ فَقَالَ اَكْفِلْنِيْهَا وَ عَزَّنِيْ فِي الْخِطَابِ﴾ (ص)
’’یہ میرا بھائی ہے اس کے پاس ننانوے دنبیاں ہیں اور میرے پاس ایک دنبی ہے‘ یہ کہتا ہے کہ یہ دُنبی میرے حوالے کر دے اور یہ گفتگو میں مجھے دبا رہا ہے۔‘‘
سیدنا داؤدuجلیل القدر پیغمبر اور بہت بڑے حکمران تھے۔ دیوار پھلانگ کر داخل ہونے والوں نے زیادتی کی حد کر دی تھی۔ لیکن اس کے باوجود سیدنا داؤدuنے ان سے درگزر کرتے ہوئے ٹھنڈے دل سے ان کی بات سُنی اوراپنے جذبات پر قابو پاتے ہوئے ان کے درمیان عدل کے ساتھ فیصلہ فرمایا۔ان میں سے ایک نے کہا یہ میرا بھائی ہے جو مجھ پر زیادتی کرنے پرتلا ہوا ہے ۔واقعہ یہ ہے کہ اس کے پاس ننانوے دنبیاں ہیں اورمیرے پاس صرف ایک ہے ۔یہ مجھ پر دباؤ ڈالتا ہے کہ میں اپنی دنبی اس کے حوالے کردوں۔ سیدنا داؤدu  نے اس کی بات سُن کر فرمایا کہ
’’اس کا تجھ سے دنبی کامطالبہ کرنا سرا سر ظلم ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اکثر شراکت دار ایک دوسرے پر زیادتی کرتے ہیں۔ سوائے ان لوگوں کے جوایمان دار اورصالح کردار کے حامل ہوتے ہیں۔ ایسے لوگ تھوڑے ہی ہوا کرتے ہیں۔‘‘ (صٓ:۲۴)
سوچیں کہ داؤدu  غیب جانتے تو انہیں ڈرنا نہیں چاہیے تھا۔ ا س کا صاف مطلب یہ ہے کہ وہ غیب نہیں جانتے تھے۔
 جن و انس ،ہواؤں اور فضاؤں پر حکمرانی کرنے والے سیدنا سلیمان بھی غیب نہیں جانتے تھے:
 سیدنا سلیمان u اپنے وقت کے نبی اور بہت بڑے حکمران تھے۔ انہوں نے دعا کی:
’’الٰہی! مجھے ایسی حکومت عطا فرما کہ جو میرے بعد کسی کو نہ مل سکے۔‘‘ (صٓ: ۳۵)
اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول کی۔
سیدنا سلیمانuپہلے پیغمبر اور حکمران ہیں جو بیک وقت جنوں ، انسانوں ، پرندوں ، ہواؤں اور فضاؤں پر حکمرانی کرتے تھے ۔ ان کے لیے [ حُشِرَ لِسُلَیْمٰنَ] کے الفاظ لا کر ثابت کیا گیا کہ جن وانس اور پرندوں کو مسخر کرنا اللہ تعالیٰ کی طرف سے تھاورنہ انہیں تابع فرماں کرنا سلیمانu کے بس کی بات نہ تھی ۔
سفر کے دوران ایک مقام پر پہنچ کر سیدنا سلیمانu نے اپنے لشکر کا جائزہ لیا تو ہدہد پرندے کوغائب پایا ۔غضبناک ہو کر فرمایا۔ کیا وجہ ہے کہ ہد ہد نظر نہیں آیا ۔کیا وہ غیر حاضر ہے ؟ اگر اُس نے غیر حاضری کی معقول وجہ نہ بتلائی تو میں اُسے سخت سزا دوں گا یا پھر اُسے ذبح کرڈالوں گا ۔
ہد ہد کی غیر حاضری کے بارے میں ابھی طیش کے عالم میں تھے کہ ہد ہد اُن کے حضو رپیش ہو کر معذرت خواہانہ انداز میں اپنی غیر حاضری کی وجہ ان الفاظ میں عرض کرتا ہے ۔جناب میں ملک ِسبا سے ایک ایسی مستند خبر آپ کے حضو رپیش کرتا ہوں جسے آپ نہیں جانتے۔ میں نے وہاں ایک عورت کو حکمران پایا ۔جس کے پاس ہر قسم کے وسائل ہیںاور وہ ایک عظیم تخت پر جلوہ افروز ہوتی ہے۔اب قرآن کے الفاظ میں سماعت کریں اور فیصلہ فرمائیں کیا وقت کے پیغمبر۔ دنیا کے سب سے بڑے حکمران جناب سلیمانu غیب جانتے تھے؟
﴿وَ تَفَقَّدَ الطَّيْرَ فَقَالَ مَا لِيَ لَا اَرَى الْهُدْهُدَ١ۖٞ اَمْ كَانَ مِنَ الْغَآىِٕبِيْنَ﴾ (النمل)
’’سلیمان uنے پرندوں کاجائزہ لیا اورفرمایا کیابات ہے کہ میں ہُد ہُدکونہیںدیکھتا؟وہ کہاں غائب ہوگیاہے؟‘‘
﴿لَاُعَذِّبَنَّه عَذَابًا شَدِيْدًا اَوْ لَاَاذْبَحَنَّه اَوْ لَيَاْتِيَنِّيْ بِسُلْطٰنٍ مُّبِيْنٍ﴾ (النمل)
’’میں اسے سخت سزادوںگا یااسے ذبح کردوں گایا پھر اسے میرے سامنے اپنی غیر حاضری کا ٹھوس ثبوت پیش کرنا ہوگا۔‘‘
﴿فَمَكَثَ غَيْرَ بَعِيْدٍ فَقَالَ اَحَطْتُّ بِمَا لَمْ تُحِطْ بِهِ وَ جِئْتُكَ مِنْ سَبَاٍ بِنَبَاٍ يَّقِيْنٍ﴾ (النمل)
’’تھوڑی دیر گزری تھی کہ ہُدہُدنے آکرکہا میں ایسی معلومات لایاہوں جوآپ نہیں جانتے۔ میںملکِ سَبا کے متعلق قابلِ یقین معلومات لے کر حاضر ہوں۔‘‘
﴿اِنِّيْ وَجَدْتُّ امْرَاَةً تَمْلِكُهُمْ وَ اُوْتِيَتْ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ وَّ لَهَا عَرْشٌ عَظِيْمٌ﴾ (النمل)
’’میں نے سبامیں ایسی عورت دیکھی جواپنی قوم کی حکمران ہے اور اسے ہرقسم کے وسائل دیے گئے ہیں ،اس کاتخت بڑاعظیم الشان ہے۔‘‘
﴿وَجَدْتُّهَا وَ قَوْمَهَا يَسْجُدُوْنَ لِلشَّمْسِ مِنْ دُوْنِ اللهِ وَ زَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطٰنُ اَعْمَالَهُمْ فَصَدَّهُمْ عَنِ السَّبِيْلِ فَهُمْ لَا يَهْتَدُوْنَ﴾ (النمل)
’’میں نے دیکھاکہ وہ اور اس کی قوم’’ اللہ‘‘ کی بجائے سورج کے سامنے سجدہ کرتی ہے۔ شیطان نے ان کے اعمال ان کے لیے خوشنما بنادیے اورانہیں ہدایت کے راستہ سے روک دیا اور وہ سیدھے راستے پر نہیں ہیں۔‘‘
﴿اَلَّا يَسْجُدُوْا لِلّٰهِ الَّذِيْ يُخْرِجُ الْخَبْءَ فِي السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ يَعْلَمُ مَا تُخْفُوْنَ وَ مَا تُعْلِنُوْنَ﴾
وہ ’’اللہ ‘‘ کوسجدہ نہیں کرتے جوآسمانوں اور زمین کی پوشیدہ چیزیں نکالتا ہے  اور وہ سب کچھ جانتا ہے جسے تم چھپاتے اور ظاہرکرتے ہو۔ (النمل)
﴿اَللهُ لَا اِلٰهَ اِلَّا هُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيْمِ﴾
’’اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں وہ عرش عظیمِ کامالک ہے۔‘‘ (النمل)
 سیدنا یونس غیب جانتے ہوتے تو مچھلی کے پیٹ میں نہ جاتے:
سیدنا یونس uبھی انبیائے کرام o میں شامل ہیں ۔انہیں نینوا کے علاقہ میں ایک لاکھ سے زائد لوگوں کی آبادی کے لیے مبعوث کیا گیا۔ نہ معلوم سیدنا یونسuنے کتنا عرصہ اپنی قوم کو سمجھایا لیکن قوم سُدھرنے کی بجائے بگڑتی چلی گئی۔ یونس u نے انہیں انتباہ کیا کہ اگر تم راہِ راست پر نہ آئے تو ’’اللہ‘‘ کا عذاب تمہیں آلے گا۔ لیکن عذاب نہ آیا تو قوم نے انہیں طعنے دیئے اور جھوٹا قرار دیا۔سیدنا یونسu پریشان ہو کر اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر ہجرت کے لیے نکل کھڑے ہوئے۔ جس کے لیے قرآن مجید نے ’’اَبَقَ اور مُغَاضِباً ‘‘کے الفاظ استعمال فرمائے ہیں۔ ’’اَبَقَ ‘‘کا معنٰی اپنے آقا سے بھاگنے والا غلام اور ’’ مُغَاضِباً‘‘ کا معنٰی ہے ناراض ہونے والا۔
سیدنا یونسu اپنے شہر سے نکلے اور دریا عبور کرنے کے لیے کشتی پر سوار ہوئے۔ کشتی تھوڑی دیر چلی تو ہچکولے کھانے لگی ۔ملاح نے کہا ۔ جب کشتی ہموار موسم میں ہچکولے کھانے لگے تو میرا تجربہ ہے کہ کشتی میں کوئی ایسا شخص ضرور سوار ہوتا ہے جو اپنے مالک سے بھاگ آکر آیا ہوتا ہے ۔لگتا ہے آج بھی کوئی سوار اپنے مالک سے بھاگ کر آیا ہے ۔ اس پر قر عہ ا ند ا ز ی کی گئی بالآخر قرعہ سیدنا یونسuکے نام نکلا۔ یونسu نے کشتی کو بچانے کے لیے دریا میں چھلانگ لگا دی۔ جونہی دریا میں کودے تو ایک مچھلی نے انہیں نگل لیا ۔اس کسمپرسی کے عالم میں اپنے رب کو پکارنے لگے۔
﴿وَ اِنَّ يُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِيْنَ* اِذْ اَبَقَ اِلَى الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِ* فَسَاهَمَ فَكَانَ مِنَ الْمُدْحَضِيْنَ* فَالْتَقَمَهُ الْحُوْتُ وَ هُوَ مُلِيْمٌ*﴾
’’اور یقیناً یونس رسولوں میں تھے جب وہ ایک بھری ہوئی کشتی کی طرف بھاگ نکلا۔پھر قرعہ اندازی میں شریک ہوا اور اس میں مات کھائی آخر کار مچھلی نے اسے نگل لیااور وہ ملامت زدہ ہوا۔‘‘ (الصّٰفّٰت)
﴿فَلَوْ لَا اَنَّهُ كَانَ مِنَ الْمُسَبِّحِيْنَ لَلَبِثَ فِيْ بَطْنِه اِلٰى يَوْمِ يُبْعَثُوْنَ﴾ ((الصّٰفّٰت))
’’اگر وہ ذکر کرنے والوں میں نہ ہوتا۔تو قیامت کے دن تک مچھلی کے پیٹ میں رہتا۔‘‘
﴿وَ ذَا النُّوْنِ اِذْ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَ عَلَيْهِ فَنَادٰى فِي الظُّلُمٰتِ اَنْ لَّا اِلٰهَ اِلَّا اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّيْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِيْنَ، فَاسْتَجَبْنَا لَه وَ نَجَّيْنٰهُ مِنَ الْغَمِّ وَ كَذٰلِكَ نُـنْجِي الْمُؤْمِنِيْنَ﴾ (الانبیاء)
’’اور یادکرو جب وہ ناراض ہو کر چلا گیا  اورسمجھا کہ ہم اسے پکڑ نہیںسکیں گے اس نے اندھیروں میں پکاراکہ تو پاک ہے اور تیرے سوا کوئی معبود نہیں  بلاشبہ میں نے ظلم کیا ہے  ہم نے اس کی دعا قبول کی اور اس کو غم سے نجات دی اور ہم مومنوں کو اسی طرح نجات دیا کرتے ہیں۔ ‘‘
سیدنا زکریا غیبی امور سے بے خبر تھے :
﴿قَالَ رَبِّ اَنّٰى يَكُوْنُ لِيْ غُلٰمٌ وَّ قَدْ بَلَغَنِيَ الْكِبَرُ وَ امْرَاَتِيْ عَاقِرٌ قَالَ كَذٰلِكَ اللّٰهُ يَفْعَلُ مَا يَشَآءُقَالَ رَبِّ اجْعَلْ لِّيْ اٰيَةً قَالَ اٰيَتُكَ اَلَّا تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلٰثَةَ اَيَّامٍ اِلَّا رَمْزًا وَ اذْكُرْ رَّبَّكَ كَثِيْرًا وَّ سَبِّحْ بِالْعَشِيِّ وَ الْاِبْكَارِ﴾
’’زکریاuکہنے لگے اے میرے رب! مجھے کیسے بیٹا ملے گا؟ میں تو بوڑھا ہوچکا ہوں اور میری بیوی بانجھ ہے فرمایا: اسی طرح دے گا اللہ تعالیٰ جو چاہے کرتا ہے زکریاuکہنے لگے پروردگار!مجھے اس کی کوئی نشانی بتلا دیں فرمایا: تیرے لئے نشانی یہ ہے کہ تین دن تک تو اشارے کے سوا لوگوں سے بات نہیں کر سکے گااورصبح وشام اپنے رب کا ذکر اور تسبیح پڑھتے رہیں۔‘‘ (ال عمران)
سیدہ مریمr کی والدہ نے منت مانی کہ اللہ تعالیٰ بیٹا عطا فرمائے گا تو اسے اس کے لئے وقف کروں گی۔ لیکن بیٹے کی بجائے سیدہ مریمr پیدا ہوئیں۔ جب مریمr بڑی ہوئیں تو انہیں سیدنا زکریاu کی کفالت میں دیا گیا ۔ اس زمانے کے مذہبی رواج کے مطابق کچھ لوگ تارک الدّنیا ہوکر مسجدِ اقصیٰ میں تعلیم وتربیت اور ذکر واذکار میں مصروف رہتے تھے۔ ان میں وہ عورتیں بھی شامل ہوتی تھیں جنہوں نے اپنے آپ کو دنیا کے معاملات سے الگ کرلیا ہوتا تھا۔ سیدہ مریمr بھی ذاکرات میں شامل ہوکر اپنے حجرے میں محوِ عبادت رہا کرتی تھیں۔ ان کے کھانے پینے کا انتظام ان کے خالو سیدنا زکریاu کے ذمّہ تھا ۔ ایک دن زکریا u نے مریمr کے پاس بے موسم پھل دیکھے تو پوچھا اے مریم! یہ پھل کہاں سے آئے ہیں؟ مریمr نے عرض کیا کہ خالو! یہ اللہ تعالیٰ کی عطاہے وہ جسے چاہے بغیر اسباب اور بے حساب رزق عطافرماتا ہے۔ زکریاu کے دل پر چوٹ لگی سوچا کہ اس حجرے میں مریم کو بے موسم پھل مل سکتے ہیں تو مجھے اس عمر میں اولاد کیوں نہیں مل سکتی؟ چنانچہ بے ساختہ دعا نکلی اے رب! مجھے اپنی قدرتِ کاملہ سے نیک اولاد عطا فرما۔ زکریاuکی دعا قبول ہوئی فرشتے نے انہیں بیٹے کی خوشخبری سنائی اور کہا کہ آپ کے بیٹے کا نام یحییٰ ہوگا اور اس سے پہلے اس نام کا کوئی شخص نہیں ہو ا۔زکریاu سمجھتے تھے کہ فرشتہ اپنی طرف سے بات نہیں کرتا اس لئے حیرت زدہ ہو کر عرض کرتے ہیں۔
سیدنا عیسیٰ غیب نہیں جانتے تھے:
﴿وَ رَسُوْلًا اِلٰى بَنِيْ اِسْرَآءِيْلَ اَنِّيْ قَدْ جِئْتُكُمْ بِاٰيَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ اَنِّيْ اَخْلُقُ لَكُمْ مِّنَ الطِّيْنِ كَهَيْـَٔةِ الطَّيْرِ فَاَنْفُخُ فِيْهِ فَيَكُوْنُ طَيْرًا بِاِذْنِ اللهِ وَ اُبْرِئُ الْاَكْمَهَ وَ الْاَبْرَصَ وَ اُحْيِ الْمَوْتٰى بِاِذْنِ اللهِ وَ اُنَبِّئُكُمْ بِمَا تَاْكُلُوْنَ وَ مَا تَدَّخِرُوْنَ فِيْ بُيُوْتِكُمْ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيَةً لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ﴾ (ال عمران)
’’اور وہ بنی اسرائیل کی طرف رسول ہوگا عیسیٰ نے فرمایا کہ بلا شبہ میں تمہارے پاس رب کی نشانیاں لایا ہوں میں تمہارے لیے پرندے کی طرح مٹی کا جانور بناتا ہوں پھر اس میں پھونک مارتا ہوں وہ اللہ کے حکم سے اُڑنے والاپرندہ بن جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے حکم سے میں مادر زاد اندھے اور کوڑھی کو اچھا کرتا ہوں اور اللہ کے حکم سے مردے کو زندہ کرتا ہوں اور جو کچھ تم کھاتے ہواورجو تم اپنے گھروں میں جمع کرتے ہووہ تمہیں بتاتا ہوں اس میں تمہارے لیے بڑی نشانی ہے اگر تم ایمان لانے والے ہو۔‘‘
عظیم معجزے پانے کے باوجود سیدنا عیسیٰu نہ مختارِ کل ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں اور نہ وہ غیب کا علم جانتے تھے وہ اپنے معجزات کے بارے میں فرماتے ہیں کہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہو گا۔ اس میں میرا کوئی اختیار نہیں۔ وہ قیامت کے دن رب ذوالجلال کے حضور یہ بھی عرض کریں گے کہ میں غیب نہیں جانتا ۔
﴿يَوْمَ يَجْمَعُ اللهُ الرُّسُلَ فَيَقُوْلُ مَا ذَا اُجِبْتُمْ قَالُوْا لَا عِلْمَ لَنَا اِنَّكَ اَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوْبِ﴾
’’جس دن اللہ تعالیٰ رسولوں کو جمع کرے گا پھراستفسار فرمائے گا تمہیں کیا جواب دیاگیا ؟وہ کہیںگے ہمیں کچھ علم نہیںبے شک تو ہی غیب کی باتوں کوجاننے والاہے۔‘‘ (المآئدۃ)
یہی سوال عیسیٰuسے کیاجائے گا وہ عرض کریں گے۔
﴿وَ اِذْ قَالَ اللهُ يٰعِيْسَى ابْنَ مَرْيَمَ ءَاَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُوْنِيْ وَ اُمِّيَ اِلٰهَيْنِ مِنْ دُوْنِ اللهِ قَالَ سُبْحٰنَكَ مَا يَكُوْنُ لِيْ اَنْ اَقُوْلَ مَا لَيْسَ لِيْ بِحَقٍّ اِنْ كُنْتُ قُلْتُهُ فَقَدْ عَلِمْتَهُ تَعْلَمُ مَا فِيْ نَفْسِيْ وَ لَا اَعْلَمُ مَا فِيْ نَفْسِكَ اِنَّكَ اَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوْبِ* مَا قُلْتُ لَهُمْ اِلَّا مَا اَمَرْتَنِيْ بِهِ اَنِ اعْبُدُوا اللهَ رَبِّيْ وَ رَبَّكُمْ وَ كُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيْدًا مَّا دُمْتُ فِيْهِمْ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِيْ كُنْتَ اَنْتَ الرَّقِيْبَ عَلَيْهِمْ وَ اَنْتَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ شَهِيْدٌ﴾ (المآئدۃ)
’’اورجب ’’اللہ‘‘ فرمائے گا اے عیسیٰ ابن مریم! کیاتو نے لوگوں سے کہاتھا کہ مجھے اور میری ماں کو ’’اللہ‘‘ کے سوا معبود بنالو؟عیسیٰu کہیں گے توپاک ہے میرے لیے جائز نہیں کہ وہ بات کہوں جس کے کہنے کا مجھے حق نہیں اگر میں نے ایسی بات کہی ہے تو یقیناً آپ اسے جانتے ہیںآپ جانتے ہیں جو میرے دل میں ہے اور میں نہیں جانتا جوآپ کے دل میں ہے یقینا توغیب کی باتوں کوجاننے والاہےمیں نے انہیںوہی کہا جس کا آپ نے مجھے حکم دیاتھا کہ صرف ایک ’’اللہ‘‘ کی عبادت کرو جو میرا اورتمہارا رب ہے اور میں ان پر گواہ رہا جب تک ان میںموجود رہا جب تو نے مجھے اٹھالیا توہی ان پر نگران تھااور تو ہرچیز پر گواہ ہے۔‘‘
اصحاب کہف اپنے بارے میں لا علم تھے:
سورہ کہف میں آٹھ موّحد نوجوانوں کا واقعہ ذکر کیا گیا ہے جو ’’اللہ‘‘ کی توحید کی خاطر اپنے وطن سے نکلے اور انہوں نے ایک غار میں پناہ لی۔ جن کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ انہیں تین سو نو سال کے بعد اٹھایا گیا تاکہ وہ ایک دوسرے سے پوچھیں کہ یہاں ہم کتنی دیر ٹھہرے ہیں ۔ اس لیے کہ اس واقعہ کوآخرت کے منکرین کے لیے دلیل بنایا جائے۔ اصحابِ کہف جونہی وہ اپنی اپنی جگہ سے اٹھے تو ایک دوسرے سے پوچھنے لگے کہ بھائی! یہاں ہم کتنی دیر ٹھہرے رہے ہیں ؟ہر ایک نے سورج کا حساب لگا کر بتایا کہ ہم چند گھنٹے یا ایک دن سوئے رہے ہیں۔ اس اندازے کی دووجہ تھیں۔ جب وہ سورج کو دیکھتے تو سوچتے غروب ہونے میں ابھی وقت باقی ہے۔ اس بنیاد پر کچھ ساتھی کہتے ہیں کہ ہم چند گھنٹے سوئے ہیں ۔لیکن جب اپنی طبیعت کے سکون او ر جسمانی آرام پر توجہ دیتے تو کہتے ہیں نہیں ہم ایک دن سوئے ہیں۔ گویا کہ ان کا اس بات پر اتفاق نہ ہو سکا کہ وہ کتنی دیر ٹھہرے ہیں۔ قرآن مجید نے ان کی برادرانہ بحث کو من وعن نقل فرمایا ہے ۔اس کے بعد انہیں بھوک محسوس ہوئی اورانہوں نے فیصلہ کیاکہ اپنے میں سے ایک ساتھی کو کچھ رقم دے کر قریب کے شہر میں بھیجاجائے اوراسے تاکید کی کہ صاف ستھراکھا نا لائے اورآنے جانے میں بھی احتیاط کرے تاکہ ہمارے بارے میں کسی شخص کو کوئی خبر نہ ہونے پائے اگر  لوگوں کو خبر ہوگئی تو وہ ہمیں پکڑ کر سنگسار کردیں گے یا ہمیں شرک کرنے پر مجبو ر کریں گے۔شرک کرنے کی صورت میں ہم کبھی فلاح نہیں پائیں گے۔
﴿وَ كَذٰلِكَ بَعَثْنٰهُمْ لِيَتَسَآءَلُوْا بَيْنَهُمْ قَالَ قَآىِٕلٌ مِّنْهُمْ كَمْ لَبِثْتُمْ قَالُوْا لَبِثْنَا يَوْمًا اَوْ بَعْضَ يَوْمٍ قَالُوْا رَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِمَا لَبِثْتُمْ فَابْعَثُوْا اَحَدَكُمْ بِوَرِقِكُمْ هٰذِهِ اِلَى الْمَدِيْنَةِ فَلْيَنْظُرْ اَيُّهَا اَزْكٰى طَعَامًا فَلْيَاْتِكُمْ بِرِزْقٍ مِّنْهُ وَ لْيَتَلَطَّفْ وَ لَا يُشْعِرَنَّ بِكُمْ اَحَدًا﴾ (الكهف)
’’اور اسی طرح ہم نے انھیں دوبارہ اٹھایا تاکہ آپس میں ایک دوسرے سے سوال کریں ان میں سے ایک نے کہا آپ کتنی دیر ٹھہرے رہے ہیں؟وہ ایک دوسرے سے کہنے لگے ہم ایک دن یا دن کا کچھ حصہ ٹھہرے ہیں پھر آپس میں کہا تمھارا رب خوب جانتا ہے کہ تم کتنی مدت ٹھہرے رہے ہو  اپنے میں سے ایک کو یہ چاندی دے کر شہر کی طرف بھیجو کہ وہ دیکھے کہ ان میں کس کا کھانا زیادہ پاک صاف ہے وہ تمھارے لئے کھانا لائےاور نرم رویہ اختیار کرے اور تمہارے بارے میں کسی کو ہر گز معلوم نہ ہونے دے۔ ‘‘


No comments:

Post a Comment