حضرت مولانا پروفیسر عبدالجبار شاکر 40-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Saturday, October 26, 2019

حضرت مولانا پروفیسر عبدالجبار شاکر 40-2019


حضرت مولانا پروفیسر عبدالجبار شاکرa

تحریر: جناب جناب ڈاکٹر رانا تنویر قاسم
پروفیسر عبدالجبار شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے دس برس بیت گئے۔آج ۱۳ اکتوبر ان کا یوم وفات ہے ۔ پروفیسر عبدالجبار شاکر ایک مہکتے ہوئے پھول کا نام تھا جو ہر دم چمنستان دہر میں اپنی خوشبو بکھیرتا رہا ۔وہ قائداعظم اور علامہ اقبال کے افکار کے امین تھے۔ پاکستان کی فکری و ثقافتی شناخت کا مسئلہ ہو یا عالم اسلام کے خلاف ہنود ویہود اور صلیبی یلغار کی فضا ہو وہ اپنی علمی بصیرت سے ان کا حل اور تدابیر بڑے خوبصورت طریقے سے بیان کرتے۔ وہ ۱۳ اکتوبر ۲۰۰۹ء کو داعی اجل کو لبیک کہہ گئے اور اپنے پیچھے حسین یادیں چھوڑ گئے۔ ان کے مداحین کی تعداد لاکھوں میں نہیں تو ہزاروں میں ضرور ہے۔
۶۲ سال کی زندگی میں ان کے پچا س سال تعلیم وتعلم درس و تدریس اور کتابوں کے پڑھنے اور ان کے سمجھنے کے عمل میں صرف ہوئے‘ وہ اس لحاظ سے خوش قسمت تھے کہ انہوں نے ایسے گھر میں آنکھ کھولی کتاب و علم کاذوق جس کی زینت تھا۔ ادبی و تعلیمی فضا اور سلفی تعلیم و تربیت انہیں اپنے خانوادہ سے ملی اور عہد طفولیت میں ہی ایمان اسلام علمی و ادبی محافل میں شرکت کا بھرپور موقع نصیب ہوا۔ یکم جنوری ۱۹۴۷ء کو میر محمد ضلع قصور میں حکیم عبدالعزیز کے گھر پیدا ہونے والے اس رجلِ عظیم کا نام مولانا عبدالجبار غزنوی رحمۃ اللہ علیہ کی نسبت اور تعلق سے عبدالجبار رکھا گیا۔ابتدائی تعلیم شام کوٹ حسین خان والا  چونیاں میں حاصل کی۔
بعدازاں میڑک اور ایف۔اے پتوکی جبکہ بی اے گورنمنٹ کالج ساہیوال سے کیا۔ ۱۹۶۸ء میں پنجاب یونیورسٹی اورینٹل کالج لاہور سے ایم۔ اے اردو کا امتحان امتیازی حیثیت سے پاس کیا۔ تدریسی زندگی کا آغاز بطور لیکچرر گورنمنٹ کالج پتوکی سے ۱۹۶۹ء میں کیا۔ ۱۹۷۱ء میں لیاقت پور ضلع رحیم یار خان اور ۱۹۷۶ء میں گورنمنٹ کالج شیخوپورہ میں تدریسی فرائض انجام دئیے۔ اسی دوران قانون کی تعلیم کے سلسلے میں ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کی اور کالج کی تدریسی ذمہ داریوں کے ساتھ فارغ اوقات میں درس نظامی کی تعلیم مکمل کی۔ دینی تعلیم سے فراغت کے بعد جامع مسجد محمدیہ پرانا لاری اڈہ شیخوپورہ میں خطبہ جمعہ کی سعادت ان کے حصے میں آئی اور پھر اپنی دانشورانہ صلاحیتوں اور زبان و ادب پر مہارت کی بنیاد پر ترقی کا یہ سفر ڈائریکٹر جنرل پنجاب لائبریز سے الدعوۃ اکیڈمی کے ڈائریکٹر اور فیصل مسجد کی خطابت تک جاری رہا۔ تحریر و تقریر میں انہیں کمال کا ملکہ حاصل تھا۔ وہ بولتے تو الفاظ کے موتی ادب کی چاشنی سے لبریز دکھائی دیتے۔
ان کی باتوں میں گلوں کی خوشبو
ان کے لہجہ میں ادب کے تیور
ان کی برجستہ اور فی البدیہہ گفتگو ہر ایک کو ان کا گرویدہ بنا دیتی تھی۔ ان کے لفظوں میں ایک معجزاتی تاثیر پائی جاتی تھی۔ زبان سے ادا کیا ہوا ان کا ہر لفظ باطن کا مظہر اور عکاس ہوتا تھا۔ذخیرہ الفاظ کے استعمال پر مکمل عبور حاصل تھا۔ ہر لفظ کے پیچھے ان کی شخصیت تجربات ومخصوصات‘ اقدار ونظریات کا ایک بحر بیکراں ہوتا تھا۔ ان کا لباس پہننے کا اسلوب بڑا سادہ اور شائستگی سے آراستہ ہوتا تھا۔ان کاانداز گفتگو  اٹھنے بیٹھنے کے قاعدے اور ان کا ذوق مطالعہ طلبہ اور ہر علم دوست کے دل پر آج بھی نقش ہے۔
ان کے ساتھ علمی بیٹھک اور صحبتیں مجھے متعدد بار میسر آئیں۔ان کی وفات سے قبل راقم کو اپنے (پی ایچ ڈی) مقالے کے سلسلے میں بیت الحکمت میںان سے پاکستان اور عالم اسلام کے مسائل پرتفصیلی انٹرویو کرنے کا موقع ملا‘ جس میں انہوں نے بڑی پرمغز باتیں کیں جن سے ان کے فکر و فلسفہ اور ان کے خیالات کو جانا جا سکتا ہے۔ ذیل میں انٹرویو کے کچھ اقتباسات پیش خدمت ہیں جو اپنے اندر بہت سارے پیغامات لئے ہوئے ہیں۔
عالم اسلام کو درپیش چیلنج کے تناظر میں انہوں نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مغلوبیت سے نکلنے کا راستہ تلاش کرنا وقت کی ضرورت ہے تاہم اس سے زیادہ ان محرکات کا پتہ چلانا ضروری ہے جن کے باعث عالم اسلام مسائل کا شکار ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ملت اسلامیہ ایک عقیدے اور تمدن کا نام ہے اور وہ عقیدہ ثقافتی مظاہر چاہتا ہے جو تمدنی اعضاء میں ڈھلنا چاہتا ہے جو معاشرتی و ریاستی تعمیر اپنے اندر چاہتا ہے اور جوملت کی کردار سازی چاہتا ہے۔ یہ وہ خصائص ہیں جو ملت اسلامیہ کی انفرادیت کے حامل ہیں‘ اس طریقے سے ہر وہ فرد جو اسلام کے عقیدے سے وابستہ ہے وہ دراصل ملت اسلامیہ کی ایک اکائی ہے اور یہ اکائیاں اگر کہیں وحدت کی شکل میں موجود ہے تو وہ ایک ملک بن گیا ہے اور کہیں یہ اکائیاں اتنی تھوڑی تعداد میں ہیں کہ وہ غیرمسلموں کے ہاں اقلیتوں کی صورت میں موجود ہیں لیکن یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس وقت دنیا کی چھ ارب آبادی میں سے ہر چوتھا شخص مسلمان ہے۔
ملت اسلامیہ کا یہ اعزاز ذرا ایک اور پہلو سے دیکھئے کہ دنیامیں آج ملت اسلامیہ کے علاوہ جتنی اقوام وملل ہیں ان کے ساتھ ملت اسلامیہ کا تعلق تصادم یا تخالف یا معرکہ آرائی کا نہیں اور نہ ہی حسد یا حریف ہونے کا ہے۔ امت مسلمہ کی حیثیت سے اگر ہم مخلص اور سچے ہیں تو ہمیں دعوت کا کام کرنا چاہیے جو بالاخر انسانیت کے مستقبل کی حفاظت کر سکتی ہے۔ اغیار کے ہاں امن و سلامتی کے جذبات پیدا کر سکتی ہے‘ اگر کائنات کے اندر مساوات اخوت اور محبت کا درس کسی تہذیب میں موجود ہے اور مستقبل کے اندر ان اقدار اور روایات کواپنے ہاں جگہ دے سکتی ہے تو وہ اسلام اور ملت اسلامیہ کے علاوہ کوئی اور قوم نہیں۔
دنیا کے گلوب کو اگر آپ توجہ سے دیکھیں اس میں ایک طرف قطب شمالی ہے اور دوسری طرف قطب جنوبی ہے‘ اس کے بین اور اردگرد پائے جانے والے علاقے زندگی کی بنیادی ضرورت سے خالی ہیں۔ ملت اسلامیہ مراکش سے لے کر انڈونیشیا تک کچھ ایسے خط استواء میں موجود ہیں کہ جس میں زندگی کی بڑی بنیادی ضرورتیں ہیں جو کسی تہذیب کے مستقبل کی نشو ونما کے جو بنیادی عوامل ہو سکتے ہیں یا کسی تمدن کی پائیداری میں اہم ہو سکتے ہیں وہ سارے کے سارے عالم اسلام کے پاس موجود ہیں۔ ہیومن ریسورسز کو دیکھ لیں مسلمان اپنی صلاحیت کے اعتبار سے دنیا کی کسی بھی قوم سے پیچھے نہیں ہیں۔
جہاں تک قدرتی وسائل کا تعلق ہے تو شاید اگر تقابلی مطالعہ کیا جائے تو عالم اسلام کے خطوں میں قدرتی وسائل زیادہ کثرت سے پائے جاتے ہیں۔ افسوس اس بات کا ہے کہ ان وسائل کوایک خام مال کی حیثیت سے ترقی یافتہ ممالک خریدتے ہیں اور امت مسلمہ ان سے وہ کام لینے کی بجائے محض خام مال کے طور پر بیچ دیتی ہے جو ہماری معاشی ترقی کے راستے میں رکاوٹ ہے۔ ان حالات میں میں یہ بات سمجھتا ہوں کہ ملت اسلامیہ کو تین سطحوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ایک تو ملت اسلامیہ اپنے اندر ایک صالح لیڈر آگے لائے جو ان کے مقاصد و اہداف کے مطابق قوم کو آگے لیجانے کی کوشش کرے۔ جو اخلاقی اور روحانی رفعت سے وابستہ ہو جس کا وہ تحفظ کرے۔ مسلمانوں کی ثقافت اور ان جیسا تمدن ان کے پاس موجود ہو اور عالم اسلام کے اندر وہ ایک وحدت کے تصور کے ساتھ آگے آئے۔
اس سے زیادہ دوسرا پہلو جو ہمارے پاس ہونا چاہیے وہ یہ کہ ملت اسلامیہ اپنے ہاں ایکسپرٹ سینٹر قائم کرے اور میں اس پر اس لئے توجہ دلوانا چاہوں گا کہ ان ایکسپرٹ سینٹر سے مراد یہ ہے کہ زندگی کے جتنے سائنسی ادارے ہیں خواہ وہ بائیولوجیکل سائنس یا ذوالوجیکل سائنس سے وابستہ ہوں یا سوشیالوجی سے وابستہ ہوں یا زرعی وسائل کے ساتھ ہوں خواہ وہ میڈیکل سائنسز ہیں یا سپیس سائنسز ہیں یا علیٰ ھذالقیاس کسی بھی شعبے سے وابستہ ہوں ملت اسلامیہ کو سائنس کے جتنے آفاق ہیں ان میں سے ہر ایک افق پرا یک الگ شہر قائم کرنا چاہئے اور اس شہر کے اندر علم کے جتنے چوٹی کے ماہرین ہیں وہ مل بیٹھیں اور وہ دیکھیں کہ خصوصی علوم کے تمام شعبوں میں ملت اسلامیہ کو دوسری اقوام سے آگے لے جانے کی کوشش کریں۔ ایسے ہی اکانومسٹ کا شہر بسنا چاہیے‘ ڈاکٹر ز کا شہر بسنا چاہئے۔ انجینئرنگ کے مختلف ڈسپلن کے شہر بسنے چاہئیں ہر ہر پہلو پر ایسے ایکسپرٹ سینٹر بنانے کے ساتھ جوہری توانائی پر سٹی بننا چاہیے۔
سپیس سائنس پر ایک سٹی بننا چاہیے‘ میں کہتا ہوں کہ ایک دعوت پر بھی ایکسپرٹ سٹی بننا چاہئے کہ ہماری وہ دعوت کہ جس کا مزاج ہی آفاقی ہے اس کو ہم کیوں لوکل رکھیں۔ دعوت کی خوشبو کو کیوں نہ عالمی سطح پر پھیلائیں۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ اسلامی تہذیب کے اندر وہ پوٹینشل موجود ہے کہ آفاقی تہذیبوں کے جومقاصد ہو سکتے ہیں یا ان کے جو ہداف ہوسکتے ہیں یا ان کی جو ضرورتیں ہو سکتی ہیں ہر سطح پر یہ تہذیب اس کو پورا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
عالم اسلام میں مختلف میدانوں کے ایسے ماہرین موجود ہیں جن کے الگ سے شہر بسائے جائیں جو پورے عالم اسلام کیلئے اس قسم کی پالیسی وضع کریں‘ تحقیقات کو اس طریقے سے چینلائز کریں کہ اسلام کے قدرتی وسائل کی مدد سے بہت بڑا اقتصادی سائنسی ٹیکنیکلی انقلاب لایا جا سکے اور یہ جو بظاہر مغرب کی برتری نظر آتی ہے وہ صرف ہماری غفلت کی وجہ سے ہے کہ ہم اپنے قدرتی وسائل کو اور ماہرین کو موٹی ویٹ نہیں کر سکے‘ ان سے وہ کام نہیں لے سکے عالم اسلام کو ایک فکری اور ثقافتی وحدت کے اندر پرونا چاہئے۔ اگرچہ ناممکن ہے کہ عالم اسلام ایک ہی وحدت میں پورے کا پورا ڈھل جائے لیکن اپنے اپنے جغرافیائی حدود کے اندر کچھ ایسے مشترک مقاصد ہو سکتے ہیں کہ جن کیلئے پورا عالم اسلام ایک دکھائی دے۔
باقی جہاں تک ان کے اپنے اقتصادی معاملات ہیں تو انہیں کم از کم ویزے کی حدتک پاسپورٹ کی حد تک سفارتی آداب و رسوم کی حد تک ایک دوسرے کے قریب ہونا چاہیے۔ ہمارے طلبہ و ریسرچ سکالر کو اہل علم اور اہل ہنر کو اتنے کثرت کے ساتھ ایک دوسرے کے ساتھ آنا چاہیے کہ ایک عقیدے کے لوگ ایک سانچے کے اندر ڈھلے ہوئے نظر آئیں۔ علاقائی انفرادیت کو قائم رکھتے ہوئے بھی عالم اسلام کی وحدت دکھائی دیں۔ ان مقاصد کے حصول کیلئے ان سے جب سوال کیا گیا کہ اسلامی دنیا میں کون سے ممالک قائدانہ کردار ادا کر سکتے ہیں تو انہوں نے جواب دیا کہ یہ چار ممالک رول کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔
ان میں سے پہلا ملک ملائیشیا دکھائی دیتا ہے‘ وہ مسلم تشخص اور کلچر کے حوالے سے ایک اقتصادی جائنٹ بننے کی صلاحیت رکھتا ہے اور ایک دفعہ تو اس نے عالمی اقتصادی دنیا کو کرائسز میں مبتلا کر کے رکھ دیا تھا۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ عالم اسلام کے پاس قیادت موجود ہے لیکن ان کو مواقع نہیں ملے۔ اس لحاظ سے میں سمجھتا ہوں کہ جدید عصری شعور کے حوالے سے ایک بہت بڑی فکری وحدت پیدا کرنے میں ملائیشیا اہم رول ادا کر سکتا ہے۔ دوسرا میں سوڈان کو دیکھتا ہوں اگرچہ ان کے حالات وواقعات ہمارے پاس اس طرح نہیں پہنچتے‘ انہیں مسلم عیسائی علاقائی مسئلے میں الجھایا جا رہا ہے ۔ اگر سوڈان کو اسی طرح سے مزید وقت مل گیا کہ وہ قوم جو افریقہ کے بطن میں پل رہی ہے کہ وہ اسلام کے فکری اور ثقافتی ورثے کی حفاظت کیلئے بڑا کام کر سکتی ہے۔
سعودی عرب میرے نزدیک تیسرا ملک ہے جو اگرچہ تمام عالمی سطح پر پڑنے والے دباؤ کے باوجود اس کے ادارے جن میں رابطہ عالم اسلام اور ادارہ تنظیم المساجد اور اس کے علاوہ اور بہت سارے سماجی اور ثقافتی ادارے اسلامی شعور اور خدمات سے اسلامی فکر اور وسائل کو عام کرنے کیلئے بہت بڑی قربانی دے رہے ہیں اور اس سے بہتر عالم اسلام میں ویلفیئر ٹرسٹ سٹیٹ کوئی نہیں۔ اس ملک کو بین الاقوامی سطح پر کون کون سی آزمائشوں کا سامنا ہے اس کا ہمیں اندازہ نہیں لیکن عربوں میں ایسی بصیرت بہر صورت موجود ہے کہ انہیں مستقبل میں اپنے آپ کو کیسے ڈھالنا ہے‘ وہاں وسیع تر پارلیمانی اور شورائی مزاج موجود ہے جس کا انہوں نے بڑا اچھا آغاز کیا ہے۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ عالمی سطح پر آزمائش اور فتنہ پیدا کرنے کی جو بھی کوشش ہو سکتی ہے اس کا انہیں ادراک ہے۔ ایران بھی ایسی ریاست ہے۔
اسلامی کلچر اور معارف کے فروغ کیلئے ایران کا کردار کسی بھی اسلامی ملک سے کم نہیں۔ وہ ایک ایسا برادر اسلامی ملک ہے جس کو ماضی میں استعماری قوتوں نے بڑی الجھنوں میں پھنسائے رکھا لیکن انہوں نے شاہ ایران کی معزولی اور انقلاب کے بعد جس راستے کو اختیار کیا ہے اس سے وہ ایک قوم کی حیثیت سے ابھرے ہیں۔ اس کے علاوہ بعض ممالک جہاں اسلامیت اور سیکولر کے درمیان کشمکش بڑے عروج پر ہے جیسا کہ ترکی  جہاں پر ایک طرف سیکولر مزاج ہے اور ساتھ وہاں پر ایمانی اور روحانی قوت کا حامل طبقہ بڑی تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ بڑی رکاوٹیں ہیں ان کے راستے میں وہاں اسلامی کلچر کا اظہار کرنے پر بھی بڑی پابندیاں ہیں لیکن مجھے محسوس ہوتا ہے کہ ترکی کا معاشرہ احیاء دین کے لئے ایک نئے طریقے سے ابھرے گا۔
ایسے ہی عالم اسلام کے سارے خطوں میں ایسے اشخاص موجود ہیں کہ جن کی موجودگی مستقبل میں اسلام اور سیکولر ازم کے درمیان کشمکش میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ غیر اسلامی ممالک کے اندر مسلم ایکسپرٹس کا کردار بھی موجود ہے۔ امریکہ میں کونسا ایسا ادارہ ہے کہ جہاں مسلمان ان کے ساتھ قدم بہ قدم خدمات انجام نہیں دے رہے۔ بدقسمتی سے مسلم دنیا کی بانجھ سیاسی قیادت کے باعث اورعصری تقاضوں کو نہ سمجھنے کی وجہ سے اور ملت اسلامیہ کے ادراک اور احساس نہ رکھنے کی وجہ سے وہ ایک ایسی دفع الوقتی میں مبتلا ہیں کہ بڑی طاقتوں کی ظاہری خوشنودی انہیں مقصود ہے۔ اب ملت اسلامیہ بڑے عرصے کے بعد خواب غفلت سے بیدار ہوئی ہے‘ اس سے مجھے ترقی کا سفر روشن دکھائی دیتا ہے اور ملت اسلامیہ کی نوجوان نسل میں جتنی صلاحیت اور شعور ہے جتنی صدائے احتجاج آج محسوس کرتا ہوں کئی صدیوں کے اندر مجھے ایسی فضاء نظر نہیں آئی‘ دنیا کی کوئی قوت ملت اسلامیہ کے نوجوانوں کے فکر انقلاب کا راستہ نہیں روک سکتی۔
انہوں نے کہاکہ مذہب کے اندر سلامتی پائی جاتی ہے ۔ ہم تو سلامتی کے تصور کے حامل ہیں اور یہ ہماری ایمانی زمہ داری ہے کہ دنیا کے امن کو قائم رکھنے کا فریضہ انجام دیا جائے۔ مسلمانوں نے نظام خلافت کو جہاںکہیں بھی متعارف کرا یا اسکے نتیجے میں بدامنی ختم ہوئی‘ ہمارے بنیادی داعیہ میں امن کی خوشبو آتی ہے۔ یہ بڑی ہی بدنصیبی کی بات ہے کہ مسلمان امت کو ایک طرف دیوار سے لگایا جاتا ہے‘ ان کے حقوق کو اجتماعی طور پر پامال کیا جارہا ہے‘ انہیں اپنی سرزمین کے اندر اجنبی بنا کر رکھ دیا گیا ہے‘ پھراسکے باوجودانہیں دہشت گرد اور انتہا پسند اور طرح طرح کے الزامات‘ میں سمجھتاہوں کہ دنیا کے جن ممالک کو سائنسی فوقیت حا صل ہے ان طاقتوں کو سوچنا چاہیے کہ مسلمانوں کے ساتھ اس طرح کی مستقل آویزش کیا ان قوموں کے حق میں بہتر ہوسکتی ہے؟
یہ مغربی اقوام اور سپر طاقتوں کا اندھاپن ہے‘ وہ اپنی ان حرکتوں سے آنے والی نسلوں میں ایک ایسی مستقل آویزش کو جاری رکھنا چاہتے ہیں جو انسانیت کے لئے کسی طور پر بھی مثبت نہیں۔ میں سمجھتاہوں کہ انٹر فیتھ ڈائیلاگ کا اہتمام ہونا چاہیے۔ مختلف تہذیبوں اور ادیان کے درمیان جان پہچان ہونی چاہیے کہ مسلما ن اپنے عقیدے اور ایمان کے لحاظ سے نہ تو دہشت گرد ہیں نہ وہ انتہا پسند ہیں اور نہ ان پر دقیانوسی کی کوئی بھپتی کسی جاسکتی ہے۔
مسلمان ایک ایسی فکر اور عقیدے کے حامل ہیں کہ جن کے ہاں دوسروں کے لئے محبت اور سلامتی کا پروگرام ہے۔تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ یہود کو دنیا میں جب کہیں پناہ نہیں ملی تھی تو مسلمانوں کی ریاستوں میں انہیں پناہ ملی۔ بدقسمتی کی بات ہے کل تلک جن کو وہ پناہ دینے والا سائبان سمجھتے تھے آج انکی نسلوں کو مٹانے پر تلے ہوئے ہیں۔ انہیں سوچنا چاہیے کہ جرمنی کے اندر مسلمانوں نے تو ان سے انتقام نہیں لیا لیکن ان کے ساتھ جو ظلم پہلی اور دوسری جنگ عظیم کے درمیان ہوا اس ظلم کا سبب مسلمان نہیں تھے‘ بدلہ ان سے لینے کی بجائے ہم سے کیوں لینا چاہتے ہیں۔
کتنی بڑی بے انصافی اور اندھاپن ہے اور پھر اسرائیل جو ناجا ئز سیاسی بچہ ہے مغربی قوتوں کا انہیں یہ سوچنا چاہیے کہ پورے عالم کو وہ کن نتائج سے دوچار کرنا چاہتے ہیں اور پھر ان کے پاس بدترین قسم کا آتشیں اسلحہ اور جوہری ہتھیار لیکن وہاں فلسطینیوں کے جذبوں کو وہ آج تک کچل نہیں سکے اور نہ کچل سکیں گے۔ اس لئے میں سمجھتاہوں کہ اقوام عالم کی عقل مندی کا تقاضا یہ ہے کہ وہ سیاسی جدوجہد اور مکالمے کا تصور پیدا کریں ورنہ جس قسم کے راستے کو انہوں نے اختیار کررکھا ہے انکے لئے بلکہ پوری انسانیت کے لئے ہلاکت کا راستہ ہے۔ مسلمان کل بھی امن پسند تھے اور آج بھی امن پسند ہیں اور آئندہ بھی امن پسند رہیں گے۔
نہ ہم کسی کی آزادی کو چھینتے ہیں اور نہ اپنی آزادی کو چھیننے دیں گے۔ اگر مسلمانوں کو دیوار کے ساتھ لگا نے کا یہ طرزعمل جاری رہا تو مستقبل میں کوئی بھی بڑا حادثہ پیش آسکتا ہے۔ جب آپ کسی کو اس درجہ مجبور اور بے کس کردیں کہ زندگی کا حق بھی چھین لیں تو وہ اپنی زندگی کو برقرار رکھنے کے لئے کوئی بھی قدم اٹھا سکتے ہیں۔ آجکل امریکہ مسلمانوں کو کمزور کرنے کے لئے ہر حربہ استعمال کررہا ہے۔ دراصل وہ ایک عرصے سے اس خوف کے اندر مبتلا ہے کہ کوئی مسلمان ملک ایسی قوت کا حامل نہ بن جائے جو کل کو اسرائیل کی ریاست کے لئے مشکلات پیدا کرسکے۔ اس خوف نے انہیں ایک منفی منصوبہ بندی پر مجبور کیا ہوا ہے۔ میں ان سے پوچھتا ہوں کہ عالم اسلام کا کونسا ایسا ملک ہے جو اپنی جغرافیائی حدوں سے باہر نکل کر کسی کے لئے تکلیف پیدا کررہا ہے یعنی اسکے معنی یہ ہیں کہ کیا دنیا کے کسی ملک کو بھی امریکہ اجازت دے گا انکے ملک کے اندر حقوق کا مسئلہ ہو اور تمہارے اندر یہ ہو رہا ہے‘ یہ کیسا دوہرا معیار ہے کہ جو بات امریکہ اپنے ملک کیلئے پسند نہیں کرتا تو وہ کسی دوسرے ملک کیلئے کیوں پسند کرتا ہے۔
اسے یہ لائسنس کس نے دیا ہے کہ وہ دنیا کے کسی ملک کی آزاد ی کو پامال کرتا چلا جائے پھر وہ عالمی حقوق کا چیمپئن اور ٹھیکیدار بھی کہلائے۔ اس کی یہ دھونس اور دھاندلی زیادہ دیر نہیں چلے گی۔ شعورکی آنکھ کھلی ہوئی ہے‘ میڈیا ترقی کر چکا ہے‘ اب کسی قوم کا کسی دوسری قوم کو نگلنا اتنا آسان نہیں۔ ہمیں احساس ہے کہ ہماری اقتصادی صورتحال نے ہماری سیاسی آزادی کو مشکوک بنا رکھا ہے اس میں بھی عالمی قوتوں کا بہت بڑا ہاتھ ہے اور اب وہ اس قسم کے بین الاقوامی تجارتی معاہدے کر رہے ہیں کہ جس کے ذریعے عالم اسلام کو مستقبل میں زیادہ سے زیادہ غلامی کے اندر رکھا جا سکے۔
بدقسمتی سے عالم اسلام کی بونی قیادت کے اندر بھی یہ احساس نہیں کہ وہ کس طرح عالم اسلام کے قدرتی وسائل کو مسلمانوں کیلئے محفوظ اور کارآمد بنا سکے۔ اس وقت عالم انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ تمام قومیں اپنے طرز عمل پر پھر سے نظر ثانی کریں اور مستقبل کے امن عالم کیلئے اقدامات کریں۔ موجودہ صورتحال مستقبل کے عالمی امن کیلئے خطرے کی مستقل گھنٹی ہے۔ ملت اسلامیہ اپنی تمام تر مظلومیت کے باوجودوہ کردار ادا کرنے کے قابل ہے جو عالمی امن کی ضمانت فراہم کر سکتی ہے۔ مختلف خطوں میں مسلمانوں کی جانب سے جو ردعمل کا اظہار ہوتا ہے یہ فطری ردعمل ہے۔
اگر آپ مستضعفین فی الارض کو دیواروں سے لگانے کی پالیسی جاری رکھیں گے تو ردعمل تو ہوگا‘ اگر آپ کسی کو دبائیں گے تو فریاد کرنے کا حق تو انہیں ہے۔ مسلمانوں اور ان کے حقوق کو جس طرح پامال کیا جا رہا ہے یہ طرزعمل زیادہ دیر نہیں چلے گا۔ عالمی قوتوں کو ہم سنجیدگی سے یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ وہ اپنی صورتحال اور لائحہ عمل اورحکمت عملی پر نظرثانی کریں‘ یہ کھیل خود ان کے مستقبل کیلئے بھی پریشانی کا باعث بنے گا۔شدت پسند تنظیموں کے طرز عمل کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ میرے نزدیک جب رد عمل ہوتا ہے تو ردعمل میں بعض اوقات ایسے افراد شامل ہوجاتے ہیں جو فطری کی بجائے غیر فطری انداز اختیار کرتے ہیں‘ مجھے اس سے اتفاق ہے لیکن اس صورتحال کے محرکات پر غور کرنا چاہیے۔ یہ عجیب بات ہے کہ جب تک مغرب اوریورپ کو روس کے اشتراکی نظام کے سامنے حد بندی کرنے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے تو ان لوگوں کو مجاہد قرار دیتا رہا‘ اسلحہ اور وسائل دیتا رہا اور جب وہ مقاصد پورے ہو گئے تو انہیں آج ایک نئے انداز کے ساتھ نشانہ بنایا جارہا ہے‘ یہ بڑی بدعہدی اور بیوفائی کی داستان ہے جو ان کے ساتھ اختیار کی جا رہی ہے۔
ہم کسی ایسے مسلم گروہ کی حمایت نہیں کرتے جو امن کی بجائے فساد اور شقاوت پیدا کرتا ہے لیکن یہ ضرور کہنا چاہتے ہیں کہ اس صورتحال پر لوگوں کو آمادہ کرنے میں مغرب کا طرز عمل بھی ہے جو انہیں ایسا راستہ اختیار کرنے پر مجبور کرتا ہے۔ مسلمانوں کو اپنی امن کی بنیادی تعلیم کو عام کرنا چاہیے دوسری طرف عالمی قوتوں کو بھی اس درجہ بہیمانہ کارروائیاں نہیں کرنی چاہئیں جن سے اس قسم کے بدنما حادثات پیدا ہوں۔ نظام تعلیم کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ اسلام ایک ثقافتی عمل ہے کہ اس کو مٹانے کیلئے کسی قسم کی منصوبہ بندی کامیاب نہیں ہو سکتی۔ اس ملک میں ۱۸۵۷ء سے لے کر ۱۹۴۷ء تک انگریز نے بڑی قوت کے ساتھ اس ملک پر حکومت کی ہے لیکن وہ دو قومی نظریے اور اسلامی ثقافت کو ختم نہیں کر سکا۔
اسی فکر کی بنیاد پر یہ ملک معرض وجود میںآیا‘ اگر اتنی بڑی مجبوریوں میں ایک صدی کے اندر وہ اس بنیاد کو ختم نہیں کر سکے اور اب تو ہم آزاد ہیں اور ہمارا آئین ہمارے نظریے اور عقیدہ کا محافظ ہے۔ ہمیں احساس ہے کہ بعض بین الاقوامی قوتیں اس طریقے سے مداخلت کر رہی ہیں کہ جس سے ہماری سیاسی آزادی مجروح ہو رہی ہے لیکن میں نہیں سمجھتا کہ ہمارے ملک وہ اتنا بڑا فیصلہ کریں کہ جس سے ہماری آزادی اور تشخص کیلئے کوئی مسئلہ بن جائے‘ نہ ایسا ہے اور نہ ایسا ہوگا۔ ہمارے اداروں میںایسی حب الوطنی اور اسلام پسندی موجود ہے کہ کوئی آسانی سے وار نہیں کر سکتا۔ مجھے کوئی اندیشہ نہیں۔ میراعلامہ اقبال کی طرح نظریہ ہے کہ اسلام نے ہمیشہ مسلمانوں کو پناہ دی ہے اور اسلام مسلمانوں کا محتاج نہیں بلکہ مسلمان اسلام کے محتاج ہیں۔ ملت اسلامیہ کے تمام بحران اسلام کی آفاقی قدروں کی بحالی سے ہو سکتے ہیں اور ان شاء اللہ احیائے اسلام کی تحریکیں مثبت طور پر آگے بڑھ رہی ہیں اور ہمیں اسلامی تصورات کے ساتھ یہاں ہمیں بہتر مستقبل دکھائی دیتا ہے۔
یہ ملک بیسویں صدی کا سب سے بڑا سیاسی معجزہ ہے۔ اسے قضا وقدر کی قوتوں نے بڑے عجیب طریقے سے پیداکیا ہے اور وہ قوتیں آج بھی اس کے ساتھ رواں دواں ہیں‘ کوئی ایسی کوشش جو اس ملک کے کلچر کو لادینیت میں بدل سکے ممکن نہیں ہوگا۔ اس وقت جو حالات ہیں اس میں مسلمانوں کی مغلوبیت تو ہو سکتی ہے لیکن اسلام کے غلبے کو کوئی نہیں روک سکتا۔ مسلمانوں کی مغلوبیت کے کچھ اسباب ہیں وہ اگر رفع ہو جائیں تو سربلند ہوتے جائیں گے۔ یہ کشمکش ازل سے جاری ہے اور ابد تک رہے گی۔
ہمارے عقیدے اور پیغام کے اندر ایک فطری قوت اور اخلاقی برتری موجود ہے۔ ایک سوال کہ آج اگر علامہ اقبال زندہ ہوتے تو اپنے ملک کو درپیش مسائل کے تناظر میں وہ کونسی راہ اختیار کرتے کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اقبال چونکہ اسلامی فکر کے نمائندے ہیں اور اقبال نے بڑے واضح طور پر کہا کہ آنے والے زمانے کی مسلمان ریاستوں کی روح جمہوریت مزاج ہے‘ وہ ان کی پارلیمنٹ ہے وہ آمریت کی بجائے جمہوریت کی روشنی سے آگے بڑھتے اور نظریاتی قوت کو ایک دفاع کے طور پر اپنے ساتھ رکھتے ہیں۔ میں یہ محسوس کرتا ہوں کہ اقبال شاعر اور پیامبر تھے‘ آج کے حالات میں وہ مایوس ہونے کی بجائے وہ راہنما اصول پیش کرتے جو قوموں کی زندگی کے ان کے وقار کے ضامن بنتے ہیں۔
اس لحاظ سے اگر اقبال موجود نہیں مگر ان کی فکر ہمارے پاس موجود ہے‘ اس لحاظ سے ہم کہہ سکتے ہیں کہ فکر اقبال کی بنیاد پر دو قومی نظریہ سامنے آیا۔ مسلمانوں کا ایک سیاسی کلچر ہے وہ کمزور نہیں‘ وہ اگر کل کے بدترین حالات کے اندر مملکت کو جنم لے سکتا ہے ۔ ایک مملکت جو بن چکی ہے اس کو عظیم تر مملکت بنانے کیلئے کیوں نہیں کام کر سکتا۔ ہمارے ملک کے اندر وقفے وقفے سے سیاسی عمل میں بڑی رکاوٹیں پیداہوتی رہی ہیں‘ اب ہمارے تمام طبقات کو یہ احساس ہے کہ اس قسم کے تغیرات کو ہمارے ملک کو فائدے کی بجائے نقصان ہو رہا ہے۔ آج فکر عمل کا جو توازن پیدا ہو رہا ہے یہ بھی فکر اقبال کی وجہ سے ہے۔کتاب شناسی اور کتاب بینی ان کا محبوب مشغلہ تھا۔ان کا مطالعہ کثیر الجہت تھا۔ اگر چہ ان کی خطابت اردو زبان میں ہوتی تھی لیکن عربی  فارسی اور انگریزی میں بھی اظہار خیال پران کو مکمل دسترس حاصل تھی۔
اقبال شناسی اور سیرت النبی پر ان کے خطابات کو اگر مدون کیا جائے تویقینا ایک ضخیم ذخیرہ معرض وجود میں آ سکتا ہے۔پبلک لائبریز کی نظامت سے وابستگی ان کا شوق مطالعہ اور کتب و سائل سے محبت تھی‘ اس کے علاوہ قرآن بورڈ کے ممبر بھی رہے۔ کتب کی عالمی نمائشوں میں نہ صرف شرکت فرماتے بلکہ وہاں سے قیمتی مطبوعات خرید کر اپنی ذاتی لائبریری بیت الحکمت کو مزین کرتے تھے۔
راقم کی نظر میں ان کا سب سے بڑا یادگار اور منفر کارنامہ اسی بیت الحکمت کا قیام ہے۔ یہ لائبریری احادیث اور سیرت کے موضوع پر ۱۸ زبانوں میں چا رہزار سے زائدکتب پر مشتمل ہے۔ چالیس زبانوں میں چا ر ہزار پانچ سوکتب و مقالات اقبالیات کے موضوع پراس لائبریری کی زینت ہیں۔ بیت الحکمت کی مطبوعہ کتب کی تعداد ایک لاکھ سے زائد ہے۔
۱۹۸۶ء میں صدر پاکستان جنرل محمد ضیاء الحق مرحوم نے اسی بیت الحکمت کے گراں قدر اور وسیع ذخیرے کی بناء پر انہیں سیرت کا خاص ایوارڈ دیا۔حکومت ایران نے مخطوطات کی عالمی نمائش کے موقع پر انہیں عالمی سطح کا تیسرا انعام دیا۔
۲۰۰۵ء کوفیصل مسجد میں قرآن مجید کی خطی نمائش منعقد کی جسکا افتتاح اس وقت کے صدر جنرل پرویز مشرف نے کیا۔اس لائبریری کے ذخیرہ کی فہرست سازی جامعات پاکستان کے مختلف طلبہ نے سات مقالات کی صورت میں مکمل کی۔ یہی بیت الحکمت علم کا چشمہ فیض اور عقبہ میں ان کیلئے صدقہ جاریہ ہے۔محققین خواہ وہ دینی اداروں سے تعلق رکھتے ہوں یا جامعات پاکستان سے سبھی ان کے ذخیرہ کتب سے فیض یاب ہو رہے ہیں۔اگرچہ اولاد صالح بھی صدقہ جاریہ اور اعلیٰ تعلیم کے زیور سے آراستہ ہے تاہم بیت الحکمت ان کے کار خیر میں ایک نمایاں حیثیت رکھتی ہے۔
ویراں ہے مہ کدہ خم وساغراداس ہیں
تم کیا گئے کہ روٹھ گئے دن بہار کے


No comments:

Post a Comment