مجھے میرا پُرانا پاکستان ہی لوٹا دو 40-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Saturday, October 26, 2019

مجھے میرا پُرانا پاکستان ہی لوٹا دو 40-2019


مجھے میرا پُرانا پاکستان ہی لوٹا دو

’’تبدیلی‘‘ سرکار سے قبل پانچ سالہ دور حکومت میں میاں نواز شریف صاحب نے واضح اکثریت کے ساتھ الیکشن جیت کر ملک کی باگ ڈور سنبھالی۔ تب ملکی حالات اور معیشت نہایت دگر گوں تھی۔ تمام ادارے تباہی کے دہانے پر تھے‘ دہشت گردی اور خودکش حملے عروج پرتھے۔ لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے لوگوں کی زندگی اجیرن بن چکی تھی۔ لیکن نواز شریف حکومت نے اسے چیلنج سمجھ کر قبول کیا۔ مضبوط بنیادوں پر ایسے ٹھوس اقدامات کیے کہ تمام اداروں کی کارکردگی بہتر ہونے لگی۔ جو ادارے خسارے میں جا رہے تھے وہ نفع دینے لگے۔ بجلی کی لوڈ شیڈنگ ختم ہو گئی۔ بند پڑے کارخانے اور ملیں چل پڑیں۔ عوام کو روزگار ملا اور خوشحال ہونے لگے۔ بیرونی سرمایہ کاری ہوئی‘ سی پیک جیسا بہت بڑا منصوبہ شروع ہوا۔ نئی موٹرویز بنیں اور سڑکوں کے جال بچھائے گئے۔ الغرض پورے ملک میں یکساں طور پر ترقیاتی کاموں کا آغاز ہوا جو اب پایۂ تکمیل کو پہنچ رہے ہیں۔ قصہ مختصر ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہو گیا۔ اس د وران شریف حکومت نے عالمی اداروں سے قرض لیا بھی اور اس کے ساتھ ساتھ قرضے واپس بھی کیے اور ہر چیز کنٹرول میں تھی۔
میاں صاحب کے عنان حکومت سنبھالنے کے کچھ ہی عرصہ بعد بعض عناصر کے پیٹ میں مروڑ اٹھنا شروع ہو گیا۔ انہوں نے احتجاج اور دھرنوں کے ذریعے روڑے اٹکانا شروع کر دیئے۔ کئی مداری اور کٹھ پتلیاں میدان میں اتر آئیں اور انہوں نے اپنا تماشا دکھانا شروع کر دیا۔ خاں صاحب نے اسلام آباد کے ڈی چوک میں مستقل دھرنا دے دیا۔ انہوں نے مادر پدر آزاد لڑکے لڑکیوں کو ۱۲۶ دن تک نچایا‘ بھنگڑے ڈالے اور رنگ رلیاں منائیں۔ شرکاء دھرنا نے تمام اخلاقی حدیں پار کر لیں۔ خان صاحب کا لب ولہجہ اخلاق سے عاری ہوتا۔ کنٹینر پر کھڑے ہو کر شریف برادران کو نازیبا الفاظ سے للکارتے اور عوام کو سول نافرمانی پر اکساتے رہے۔ قریب ہی ایک صاحب جبہ ودستار بہروپیے شخص نے بھی اپنا تماشا لگائے رکھا۔ وہ بھی اپنے مریدین‘ منہاج سکولز کے ملازمین اور معصوم طلبہ وطالبات کو ورغلا کر اسلام آباد دھرنے میں لائے تھے۔ (اب سیاست میں ناکامی کے بعد وہ گوشہ نشین ہو چکے ہیں۔) اس دوران میاں برادران نے انتہائی صبر وتحمل کا مظاہرہ کیا اور اپنا کام جاری رکھا۔ ان رکاوٹوں کے باوجود انہوں نے اپنے د ور حکومت میں اتنا کام کر دکھایا جس کی مثال نہیں ملتی۔
لیگی حکومت کی مدت مکمل ہوتے ہی ۲۰۱۸ء میں نئے الیکشن ہوئے جن میں نون لیگ کو واضح برتری کی توقع تھی۔ تمام تر قرائن اور حقائق بھی اس چیز کی نشاندہی کر رہے تھے۔ لیکن اس بار الیکشن نتائج اُچک لیے گئے۔ واضح مینڈیٹ کو چُرایا گیا۔ دھونس اور دھاندلی کے ذریعے پی ٹی آئی کو جتوایا گیا۔ المختصر خان صاحب نے حکومت میں آتے ہی رونا دھونا شروع کر دیا۔ کنٹینر پر کھڑے ہو کر کیے وعدوں اور امیدوں سے یوٹرن کے دور کا آغاز ہوا۔ تبدیلی اور نئے پاکستان کا نعرہ کھوکھلا ثابت ہوا۔ بیرون ممالک سے بے تحاشا قرضے لیے گئے۔ اب حال یہ ہے کہ حکومت کی نا اہلی اور نالائقی کے باعث ملک کے معاشی حالات دن بدن خراب سے خراب تر ہوتے جا رہے ہیں۔ مہنگائی بے قابو ہو چکی ہے۔ بے روزگاری عام ہے۔ عوام کا جینا دوبھر ہو چکا ہے۔ گویا کہ خان صاحب نہایت نالائق اور نا اہل حکمران ثابت ہوئے ہیں۔ دوسری طرف اپنے سیاسی مخالفین کو کچلنے کے لیے ہر حربہ استعمال کیا جا رہا ہے۔
ان حالات میں ہر شہری اور اپوزیشن جماعتیں سراپا احتجاج ہیں۔ جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے اسلام آباد میں دھرنا دینے کا اعلان کر رکھا ہے۔  ان کے اس اعلان سے حکومت پر کپکپی طاری ہے۔ ردعمل میں انہیں دھمکیاں دی جا رہی ہیں‘ کردار کشی کی جا رہی ہے‘ علمائے کرام اور مدارس کے خلاف غلیظ پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے۔ سوشل میڈیا پر پی ٹی آئی اور اس کے جیالوں نے طوفان بدتمیزی برپا کر رکھا ہے‘ اس پر حیرانگی بالکل نہیں کیونکہ ان کے قائدین نے ان کی تربیت ہی اس طرح کی ہے۔
سوال یہ ہے کہ حکومت کو مولانا کے دھرنے کی اس قدر تکلیف کیوں ہے؟ جبکہ خان صاحب دھرنوں کے خود موجد ہیں۔ میاں صاحب کے دور حکومت میں وہ طویل دھرنا دے چکے ہیں جس میں اخلاقی اقدار کی دھجیاں اڑائی گئیں۔ جبکہ شریف حکومت نے اپنے خلاف دھرنے سے منع کیا اور نہ کسی قسم کی رکاوٹ پیدا کی۔ تب دھرنا جائز تھا اور اب ناجائز کیونکر ہو گیا؟ اللہ کرے یہ دھرنا کامیاب ہو‘ گرتی ہوئی دیوار کے لیے آخری دھکا اور عوام کی نا اہل حکمرانوں سے جان چھڑانے میں مدد گار ثابت ہو۔
اس میں شک نہیں کہ ۲۰۱۸ء میں خان صاحب کو چاہنے والوں کی ایک بڑی تعداد نے ان کے (جھوٹے) دعوؤں اور وعدوں کے بھنور میں پھنس کر اسے ووٹ دیئے تھے کہ شاید کوئی جادوئی تبدیلی یا انقلاب رونما ہو جائے اور ہمارے بھی حالات سنور جائیں‘ چلو ووٹ کے سہارے نہ سہی جس بھی سہارے سے اقتدار پر قابض ہوا اس کو چاہیے تھا کہ اپنے دعوؤں میں سے کچھ کو ہی ثابت کرتا‘ لیکن ایسا کچھ نہ ہوا‘ سب سراب ثابت ہوا۔
پی ٹی آئی حکومت کی سوا سال کی مایوس کن کارکردگی کے حوالے سے معروف کالم نگار جاوید چوہدری لکھتے ہیں:
’’پی ٹی آئی [یہ لوگ ملک کے تین ہزار ارب روپے کھا گئے‘ یعنی سابق حکمران] کے اعلان اور دعوؤں کے ساتھ خان صاحب اقتدار میں آئے تھے‘ لیکن ایک سال سے زائد عرصہ گذرنے کے باوجود تین ہزار ارب روپے میں سے ایک ارب بھی ریکور نہ کر سکے۔ میاں نواز شریف کے فلیٹس آج بھی شریف فیملی کی ملکیت ہیں۔ نیب جے آئی ٹی کی خوفناک رپورٹ کے باوجود زرداری کے خلاف جعلی اکاؤنٹس کے مقدمے نہیں چلا پا رہی۔ سوئیس اکاؤنٹس میں پڑے وہ دو سو ارب ڈالرز بھی غائب ہیں جن میں سے سو ارب ڈالرز ہم نے ’’کھان‘‘ کے آنے کے بعد آئی ایم ایف کے منہ پر مارنے تھے۔ سو ارب ڈالرز کرپٹ لیڈروں سے ریکوری تو دور کی بات‘ ہم نے الٹا مقدموں‘ تفتیش اور چور لیڈروں کی حفاظت پر مزید اربوں روپے خرچ کر دیئے۔ ہمیں آخر کیا ملا؟ سابق حکمران کرپٹ ہوں گے اور وہ اپنی جبیں بھی بھرتے رہے ہوں گے؟ لیکن سوال یہ ہے کہ ان کے دور میں عوام کو روٹی‘ بجلی‘ گیس‘ تعلیم اور علاج معالجہ کی سہولتیں میسر اور سستے داموں مل رہی تھیں۔ امن بھی تھا اور خوشحالی بھی‘ لیکن آج کی دیانتدار اور بہادر قیادت ملک کو کہاں سے کہاں لے گئی؟
اس حکومت سے قبل چین ۵۸ ارب ڈالرز کا سی پیک بنا رہا تھا‘ سٹاک ایکس چینج ۵۳ ہزار پوائنٹس پر تھی‘ جی ڈی پی گروتھ ۷۔۵ فیصد تھی۔ پی ڈبلیو سی جیسے ادارے پاکستان کو ۲۰۵۰ میں دنیا کی ۱۶ویں بڑی معیشت قرار دے رہے تھے۔ ڈالر ۱۱۰ روپے کا تھا۔ بجلی بھی پوری تھی۔ گیس بھی آ رہی تھی۔ انڈسٹری بھی چل رہی تھی اور سرمایہ کاری کے دروازے بھی کھل رہے تھے۔ دہشت گردی پر بھی قابو پا لیا تھا۔ قرضے بھی کم تھے۔ موٹرویز بھی بن رہی تھیں اورنج لائن ٹرین پر بھی کام ہو رہا تھا۔ کراچی میں بھی معاشی سرگرمیاں بحال ہو گئی تھیں لیکن موجودہ ایماندار حکومت نے ملک کو دلدل میں دھکیل دیا۔
ہم ایک سال پہلے اس کا تصور بھی نہیں کر سکتے تھے۔ اشیائے ضروریہ ۱۲۳ فیصد‘ بے روز گاری‘ اعشاریہ پانچ فیصد‘ ادویات دو سو فیصد‘ صحت کی سہولیات ۱۳ فیصد اور تعلیم ۷ فیصد مہنگی ہو گئی۔ دس لاکھ لوگ بے روزگار ہو چکے ہیں۔ کاروبار زندگی مفلوج ہو چکا ہے۔ بیوروکریسی نے کام کرنا چھوڑ دیا ہے اور سارا سسٹم ہی ڈھیلا پڑ گیا ہے۔‘‘
یہ ہے وہ نام نہاد تبدیلی جس کے لیے آسمان سر پر اٹھایا ہوا تھا لیکن کیا ہوا کہ ’’کھودا پہاڑ‘ نکلا چوہا اور وہ بھی مرا ہوا۔‘‘ جناب! ہمیں پرانا پاکستان ہی لوٹا دو‘ باز آئے ہم اس نئے پاکستان سے۔


No comments:

Post a Comment