غیض وغضب کے وقت صبر وتحمل 38-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Saturday, October 12, 2019

غیض وغضب کے وقت صبر وتحمل 38-2019



غیض وغضب کے وقت صبر وتحمل

تحریر: جناب پروفیسر مولا بخش محمدی (سندھ)
پیار ومحبت، خوشی ومسرت، غصہ ونفرت، غیض وغضب یہ تمام جذبات انسانی زندگی کے ساتھ ہمیشہ منسلک رہتے ہیں۔ ان کاموزوں ومناسب انداز ہی انسان کو ایک کامیاب انسان بناتاہے۔ ان تمام انسانی جذبات میں سب سے زیادہ آتشیں جذبہ غصے کا اظہار ہے جو نہ صرف انسان کے عقل وشعور کو وقتی طور پر مفلوج کرکے رکھ دیتاہے بلکہ غصہ انسان کو جذبات کے ہاتھوں بے قابو بناکر جذبہ انسانیت سے محروم کر دیتاہے۔ یہ آتش ناک وصف جس سے مغلوب ہوکر انسان وہ کچھ کر بیٹھتا ہے جو عام حالات میں کرنے کا تصور بھی نہیں کیاجاسکتا۔ غصہ پر قابو پانا اور حالت غیض وغضب میں ضبط وبرداشت سے کام لینا‘ باوجود قدرت وطاقت کے کسی سے انتقام نہ لینا سلف صالحین کے اوصاف حمیدہ میں شمار ہوتا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے :
{وَإِذَا مَا غَضِبُوا ہُمْ یَغْفِرُونَ} (الشوری: ۳۷)
’’اور جب ان کو غصہ آتاہے تو وہ معاف کر دیتے ہیں۔‘‘
اس سلسلہ میں نبی آخر الزماںe کی حیات طیبہ مکمل طرح حسن اخلاق اور حسن معاشرت کا مثالی نمونہ ہے۔ آپ کی پاکیزہ زندگی سے بے شمار ایسے واقعات وابستہ ہیں کہ جب آپ نے اختیارات وقدرت کے باوجود عفوودرگزر سے کام لیا۔ واقعہ طائف ہو، صلح حدیبیہ ہو، میثاق مدینہ یا فتح مکہ ہو ہر موقع پر آپe نے مثالی معافی اور اخلاق حسنہ کا مظاہرہ کیا جو پوری تاریخ انسانیت میں درخشاں حیثیت کا حامل ہے۔ سیدنا ابو سعید خدریt سے روایت ہے کہ رحمت عالمe نے ارشاد فرمایا :
[وَإِنَّ مِنْہُمُ البَطِیئَ الغَضَبِ سَرِیعَ الفَیْئِ، وَمِنْہُمْ سَرِیعُ الغَضَبِ سَرِیعُ الفَیْئِ، فَتِلْکَ بِتِلْکَ، اَلَا وَإِنَّ مِنْہُمْ سَرِیعَ الغَضَبِ بَطِیئَ الفَیْئِ، اَلَا وَخَیْرُہُمْ بَطِیئُ الغَضَبِ سَرِیعُ الفَیْئِ، اَلَا وَشَرُّہُمْ سَرِیعُ الغَضَبِ بَطِیئُ الفَیْئِ] (الترمذی ابواب الفتن، قال الالبانی: ضعیف لکن بعض فقراتہ صحیحۃ)
’’لوگوں میں سے بعض ایسے بھی ہیں جنہیں غصہ بہت دیر سے آتا ہے اور دیر سے دور ہوتا ہے ، بعض ایسے بھی ہیں کہ جنہیں غصہ بہت جلد آتاہے اور جلد ہی دور ہوجاتا ہے، پس دیر دیر کا اور جلد جلد کا معاوضہ بن جاتاہے مگر اللہ رب العزت کے ہاں اچھے وہ لوگ ہیں جنہیں غصہ بہت دیر سے آئے اور جلدی دور ہوجائے اور بُرے وہ لوگ ہیں جنہیں غصہ جلد آئے اور بڑی تاخیر سے جائے۔‘‘
ویسے بھی تجربہ شاہد ہے کہ انسانی جذبات میں غصہ سب سے زیادہ نقصان دہ ہوتا ہے جو ہماری روز مرہ زندگی کو تلخ اور ہماری خوشی ومسرت کو ماند کر دیتاہے۔ غصہ کی کیفیت میں ہم بڑی مشکل سے بہتر سوچ اور اچھے طرز عمل کا مظاہرہ کر سکتے ہیں۔ چونکہ غصہ ہمیشہ لڑائی ،جھگڑے اور جارحیت کی ہولناک راہ دکھاتا ہے جس سے بَد سے بَدترین حالات وصورت اختیار کر لیتے ہیں۔ اسی طرح دوسروں کی نادانیوں اور نالائقیوں کی سزا خود ہم اپنے آپ کو دیتے ہیں۔ اگرچہ نفسیات کے لحاظ سے غیض وغضب اور غصہ وکدورت کو جلد دبانا بھی مفید نہیں ،مگر غصے کو کھلی چھٹی دی جائے تو معاشرہ اَنار کی وانتشار ، اختلاف وافتراق کا شکار ہوجائے گا۔ چونکہ محسن انسانیتe نے غصہ شیطان کے اثر کا نتیجہ قرار دیا ہے جبکہ اللہ رب العزت کا ارشاد گرامی ہے :
{وَإِذَا مَا غَضِبُوا ہُمْ یَغْفِرُونَ} (الشوری: ۳۷)
’’اور جب ان کو غصہ آتاہے تو وہ معاف کر دیتے ہیں۔‘‘
اسی طرح ارشاد ربانی ہے:
{وَالْکَاظِمِینَ الْغَیْظَ وَالْعَافِینَ عَنِ النَّاسِ وَاللَّہُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِینَ} (آل عمران: ۱۳۴)
’’(یہ وہ لوگ ہیں جو) غصہ کو پی جانے والے اور لوگوں سے درگذر کرنے والے اور اللہ تعالیٰ محسنین کو پسند فرماتے ہیں۔‘‘
ایسے میں احسن اور معقول بات کرنے کی تاکید فرمائی گئی ہے۔ مزید فرمایا:
{وَقُولُوا لِلنَّاسِ حُسْنًا} (البقرۃ: ۸۳)
’’اور لوگوں سے اچھی بات کہا کرو۔‘‘
اور فرمایا:
{فَصَبْرٌ جَمِیلٌ وَاللَّہُ الْمُسْتَعَانُ عَلَی مَا تَصِفُونَ} (یوسف: ۱۸)
یہاں صبر کرنے کو صفت جمیل سے تعبیر کیا گیا ہے۔
سیدنا ابوہریرہt سے روایت ہے کہ آپe نے ارشاد فرمایا کہ
’’پہلوان وہ نہیں جو کشتی لڑنے میں غالب ہو بلکہ دراصل پہلوان وہ ہے جو غصہ کی حالت میں اپنے آپ پر قابو پائے۔‘‘ (صحیح بخاری: ۶۱۱۴)
سیدنا ابن عمرw سے روایت ہے کہ رسول اکرمe نے ارشاد فرمایا کہ
’’کسی بندہ نے اللہ رب العزت کے نزدیک غصہ کے گھونٹ سے بڑھ کر اجروالا کوئی اور گھونٹ نہیں پیا، جس کو اللہ کی رضا جوئی حاصل کرنے کی غرض سے پیا جاتا ہے۔‘‘ (ابن ماجہ: ۴۱۸۹)
چونکہ قوت برداشت تو برداشت کرنے سے پیدا ہوتی ہے۔
[إِنَّمَا الْحِلْمُ بِالتَّحَلُّمِ۔] (شعب الایمان للبیہقی: ۲۹۸)
سہل بن معاذ اپنے والد گرامی سے روایت کرتے ہیں کہ آپe نے ارشاد فرمایا کہ
’’جو شخص غصے کو روکے حالانکہ اُسے اپنا غصہ نکالنے کا اختیار ہے تو قیامت کے دن اس کو تمام لوگوں کے سامنے بلا کر اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائے گا کہ جو حورعین چاہے اُسے پسند کرلے۔‘‘ (ابوداؤد، کتاب الادب: ۴۷۷۷)
سیدنا انسt سے روایت ہے کہ انہوں نے ارشاد فرمایا کہ رسول اللہe نہ فحش گو تھے، نہ آپ لعنت وملامت کرنے والے تھے، نہ گالیاں دیتے تھے، بلکہ آپ کو غصہ آتا تو صرف اتنا کہہ دیتے کہ اُسے کیا ہوگیا ہے ؟ (اگر زیادہ ناراض ہوتے تو فرماتے) اس کی پیشانی خاک آلود ہو۔ (بخاری، کتاب الادب: ۶۰۴۶)
چنانچہ ایک صحابی نے رسول مکرمe سے عرض کیا کہ مجھے کوئی نصیحت فرمائیں تو آپ نے ارشاد فرمایا کہ [لَا تَغضَب] یعنی غصہ مت کیا کرو۔ (بخاری، کتاب الادب: ۶۱۱۶)
حضرت ابو صالح‘ نبی اکرمe کے صحابہ کرام] میں سے ایک شخص سے بیان کرتے ہیں کہ اس نے عرض کیا کہ اللہ کے سچے رسول! مُجھے ایسا عمل(صالح) بتائیں جو مجھے جنت میں داخل کرادے اور آپ مجھے زیادہ مسائل نہ بتائیں تو آپ نے ارشاد فرمایا کہ [لَا تَغضَب] غصہ مت کیا کرو۔ (مسند ابی یعلی: ۳/۱۵۹۳)
یہ اور اس قسم کی دیگر احادیث مبارکہ اس شخص کی فضیلت بیان کر رہی ہیں جو شخص اپنے غیض وغضب اور غصے پر قابو پالے پھر ان کے لیے رب العالمین کی رضا ہے۔ بہر حال لڑائی جھگڑا، غیض وغضب،غصہ اور آپے سے باہر نکل جانا خودسنگین مسائل سے ہیں نہ کہ کسی مسئلہ کا حل
إذا کُنتَ فی کُلِّ الامورِ مُعاتِباً
صَدیقُکَ لَمْ تَلقَ الذی لا تُعاتِبُہ
یعنی تم ہر کام میں اپنے دوست پر نکتہ چینی کروگے اور اُسے ڈانٹتے رہو گے تو یاد رکھو ایک دن تمہاری ڈانٹ برداشت کرنے والا کوئی نہیں ہوگا۔
بلاشبہ غصہ بھی ایک فطری چیز ہے‘ غصہ آنا کوئی بعید امر نہیں لیکن اگر غصہ کو اپنے اوپر غالب کر دیا جائے تو پھر انسان کے لیے شدید نقصان دہ ثابت ہو گا۔ تجربہ گواہ ہے کہ غصہ کی حالت میں آدمی کا چہرہ اور آنکھیں سرخ ہوجاتی ہیں ، گردن کی رگیں پھُول جاتی ہیں اور انسان بے قابو ہوجاتاہے۔ غصہ کا ایک منفی پہلو یہ بھی ہے کہ یہ اپنے مرتبہ سے کم والے پر ہی شدید ہوتاہے۔ ایسے میں غصہ کی حالت میں اپنی طبیعت کو ہمیشہ اپنے قابو میں رکھو‘ اگر غصہ آبھی جائے تو زبان پر قابو رکھو اور زبان سے اُس کا اظہار تک نہ کرو۔ غیر مہذب الفاظ کو اپنی زبان سے نہ نکالو اور ایسی جگہ مت جاو جہاں لڑائی جھگڑے کا امکان ہو یا تمہاری قدرومنزلت نہ ہو۔ چونکہ جو لوگ آسودگی اور تنگی میں اپنا مال اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اور غصے کو روکتے ہیں اور لوگوں کے قصور معاف کر تے ہیں اللہ تعالیٰ ایسے نیکوکار بندوں کو پسند کرتا۔
’’غصہ بے وقوفی سے شروع ہوتاہے اور پچھتاوے پر جاکر ختم ہوتا ہے۔‘‘ (فیثاغورث)
’’جو شخص اپنے غصے کو برداشت کرتاہے وہ دوسروں کے غصے سے خود کو بھی محفوظ رکھتاہے۔‘‘ (سقراط)
بھلائی اس میں ہے کہ ہمیں ہمیشہ دھیمی آواز میں نرمی اور وقار سے بات کر نی چاہیے چونکہ اچھی اور خوبصورت باتوں کا اثر ہمارے قلوب پر براہ راست ہوتاہے۔ جب دل میں غیض وغضب ، ضد وحسد،نفرت وکدورت کے جذبات موجزن ہوں گے تو آپس کے فاصلے مزید بڑھ جائیں گے۔ جبکہ محبت آمیز رویہ، نرم اور میٹھے الفاظ کی ادائیگی، خندہ پیشانی سے پیش آنے کی وجہ سے پرانے اختلافات بھی ختم ہوجائیں گے۔ اس کے برعکس غصہ، غیض وغضب،نفرت وحقارت،سب وشتم سے بھری ہوئی آواز میں بات کرنے سے اپنے بھی ایک دن پرائے ہوجائیں گے۔ چونکہ بادلوں کی گھن گرج،چمک دمک سے دل تو دہل جائیں گے مگر صرف باد وباراں اور شبنم کے نرم ونازک قطروں سے ہی جسم وجان کو سکون وطمانیت عطا ہوگی۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے :
کم فی المقابرِ من قتیلِ لسانِہ
کانت تہابُ لقائَہ الشجعانُ
ماہرین نفسیات غصے کو لمحاتی پاگل پن کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ اعلیٰ ظرفی،اعتدال پسندی، ٹھنڈے دل ودماغ سے مشکل سے مشکل مسائل اور اختلافات پر بخوبی قابو پایا جاسکتاہے جبکہ مشتعل دماغ مصائب ومشکلات بڑھا سکتا ہے درحقیقت لڑائی جھگڑا، غصہ وغضب انسان کی گھریلو زندگی تباہ وبرباد کر دیتے ہیں۔ غصیل آدمی باہمی مقابلوں میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا۔ غصہ ایک ایسی آتش فشاں چنگاری ہے جو ابتدائی مراحل میں بجھائی نہ جاسکی تو انتہائی خوفناک آگ کی صورت اختیار کر کے پورے چمنستان حیات کو چند لمحات میں خاکستر کر دیتی ہے جس میں جھلسنے اور پچھتاوے کے سوااور کوئی چارہ نہیں ۔ آئے دنوں یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ غصہ ہمیشہ اپنے سے کمتر شخص پر ہی آتاہے مثلاً: بیوی، بچے، شاگرداورملازم وغیرہ جب کہ ہم اپنے ماتحتوں اور ملازموں کو خوب سزا دیتے ہیں اور سارا وقت اُن کو پریشان کیے رکھتے ہیں۔ تجربہ شاہد ہے کہ آئے دن لڑائی جھگڑوں کے پیچھے غصہ کے اندھے جذبات،مشتعل دماغ اور انا پرستی شامل ہوتی ہے۔ اگر انسان اپنے ہی غصے پر قابو پالے تو مختلف لا تعداد ذہنی اور نفسیاتی بیماریوں سے بھی بچ سکتاہے بلکہ معاشرتی سطح پر اپنا کرداربخوبی ادا کرسکتاہے۔ غصہ ایک آگ ہے جو صرف صبر وتحمل سے بجھائی جاسکتی ہے، غصہ کو بروقت روکا نہ گیا تو نفرت اور تشدد پیدا کرتاہے۔ پھر نفرت وتشدد بھی ایک ایسی مہلک بیماری ہے جس سے شاید ہی کوئی اور بیماری بری ہو۔ صبر وتحمل سے اعلی انسانیت کے اوصاف حمیدہ پیدا ہوتے ہیں جبکہ بے صبری، عدم برداشت انسان کو اخلاقی پستی میں گرادیتی ہے۔ غصہ ہمیشہ منفی ذہن پیدا کرتاہے جبکہ اصل انسان کی پہچان اس کی مثبت سوچ اور اعلیٰ انسانی اوصاف ہوا کرتے ہیں جن کی تعلیم ہمیشہ انبیاء کرام علیہم السلام دیتے آئے ہیں۔ غصہ جہالت سے شروع ہوکر ندامت وپریشانی پر جاکر اختتام پذیر ہوتاہے ۔ غصیل آدمی کو ہمیشہ شدید ندامت اور رنج وافسوس ہی حاصل ہوتاہے۔ غصے کی حالت میں چونکہ انسان کبھی نارمل نہیں رہتا لہٰذا اس کی سوچنے، سمجھنے کی صلاحیت مفقود ہوکر ندامت وبدنامی کا منہ دیکھتاہے۔
ماہرین نفسیات کے ہاں غصہ ایک نفسیاتی بیماری کا نام ہے جس میں عقل وشعور، حوش وحواس اور اعتدال پسندی پر ہمیشہ جوش وجذبات کے دبیز پردے پڑے ہوئے ہوتے ہیں پھر یہ تکبر وغرور کا مریض بنا دیتا ہے۔ غصہ کی حالت میں انسان بڑے بڑے فسادات اور نقص عامہ پیدا کرنے کا موجب بنتاہے جس کی وجہ سے خود غصہ کرنے والے کی صحت بھی تباہ ہوکر رہ جاتی ہے۔ شدید جذبات کی صورت میں تنفس تیز ہوجاتاہے ، خون میں حدت پیدا ہوکر جوش مارتاہے، انسان آپے سے باہر ہوجاتاہے۔ لہٰذا رسول اللہe نے ابتدائی نسخہ یہ تجویز فرمایا ہے کہ تعوذ پڑھنا چاہیے، گفتگو سے احتراز کیا جائے،صبر وتحمل کا دامن ہاتھوں سے نہ جانے دیا جائے‘ آدمی کھڑا ہو تو بیٹھ جائے اور وضو کرے وغیرہ۔ چونکہ غصے کی حالت میں انسان سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے محروم ہو کر بے قابو جذبات کے ہاتھوں گالم گلوچ ، الزام تراشی، بہتان بازی ، مارپیٹ سے بھی آگے بڑھتے ہوئے کبھی تو خود کشی کی بھی نوبت پہنچ جاتی ہے۔ اطباء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ ہر وقت اٹھتے بیٹھتے غیض وغضب کے عالم میں رہنے کی وجہ سے انسان متعدد مہلک موذی امراض کا شکار ہو سکتاہے۔ مثلاً: ہائی بلڈ پریشر، امراض قلب ودماغ، ذیابیطیس اور معدے کے متعدی امراض کا مریض بن سکتا ہے۔ ہمیشہ غصے میں رہنے والے لوگ پورے معاشرے سے کٹ کر اپنی،ضد تعصب ،تنگ نظری، بے ہودہ جملے بازی، طعن وتشنیع، الزام تراشی کے مریض بن کر پورے معاشرے سے کٹ جاتے ہیں‘ پھر گھٹ گھٹ کر جینے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو غصے پر قابو پانے اور غصے کے اثرات سے محفوظ رکھے۔ شاید ہی کوئی ایسا شخص ہوجسے غصہ نہ آتاہو مگر غصہ آنے کے بعد اس پر قابو پانا اچھے لوگوں کا اصول ہوتاہے۔ غصہ کے مسموم اثرات سے خود کو محفوظ رکھنا چاہیے مثلاً: غرور،بدگمانی، حسد وبغض ، تعصب وتنگ نظری سے خود کو محفوظ ومامون رکھنا چاہیے ۔ تحمل مزاجی، برداشت،اعتدال ، صبر وشکر کی عادت اختیار کرنا چاہیے۔ زندگی کے ہر معاملے میں اللہ تعالیٰ کی مرضی ومنشا کو ہمیشہ ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے۔ اپنے تمام معاملات کو غیض وغضب ، غصہ واشتعال کی بجائے محبت ومودت، نرمی وصبر سے حل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
اپنے آپ کو بلا وجہ غیض وغضب‘ غصہ اور گناہوں سے بچا کر اللہ تعالیٰ کا خوف اختیار کرتے ہوئے اسلام کے ابدی اور آفاقی اصولوں کے تحت زندگی بسر کرنی چاہیے۔ یہ زندگی بہت ہی مختصر ہے‘ اس میں دشمنیاں نہ پالی جائیں، اپنی توانائیاں عداوتوں کے پیچھے ضائع کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں راہ ہدایت پر چلنے کی توفیق بخشے ۔ آمین
لسانُ الفتی نصْفٌ وَنِصْفٌ فُؤادُہُ
فَلَمْ یَبْقَ إلّا صُورَۃُ اللَّحْمِ والدَّمِ



No comments:

Post a Comment