مولانا ابوحفص عثمانی ... میرے محسن ومربی 38-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Saturday, October 12, 2019

مولانا ابوحفص عثمانی ... میرے محسن ومربی 38-2019


مولانا ابوحفص عثمانی... میرے محسن ومربی

(چوتھی قسط)        تحریر: الشیخ مولانا ارشاد الحق اثری﷾
امر واقعہ یہ ہے کہ اس قسم کے مناقشات اور مختلف فیہ مسائل کے بارے میں وقتا فوقتا مولانا عثمانیa سے بات ہوتی رہتی تھی۔ وہ سن رسیدہ تھے اور جامعہ کے انتظامی امور کو انجام دیتے ہوئے تھک جاتے تو راقم کو بلا لیتے۔ راقم ان کے پاؤں دباتا اور وہ فرماتے کہ پاؤں کو دبانے کے ساتھ ساتھ پاؤں کی انگلیوں کو بھی اوپر کی جانب کرو۔ اس سے تھکن دور ہوتی ہے اور اس کے ساتھ کسی نہ کسی موضوع کی تار بھی ہلا دیتے ہیں۔ تو جس قدر میرے پاس ’’مصالحہ‘‘ ہوتا میں بھی کوئی کسر نہ رہنے دیتا۔ یقین جانیے ایک بار اسی طرح کسی مسئلہ پر بات ہونے لگی تو فرمانے لگے کہ معلوم ہوتا ہے تمہارے پاس آثار السنن ہے اور تمہارا جمع وخرچ اس پر موقوف ہے۔ تمہاری آنکھیں تب کھلیں گی جب تم ’’ابکار المنن‘‘ پڑھو گے۔ میں نے عرض کیا‘ کیا آثار السنن کا کوئی جواب ہے؟ تو فرمایا: ہاں ہاں! مولانا عبدالرحمن محدث مبارک پوری نے اس کا جواب ’’ابکار المنن فی تنقید آثار السنن‘‘ کے نام سے دیا ہے۔ عرض کیا‘ یہ کتاب جامعہ کی لائبریری میں ہے تو مجھے نظر نہیں آئی۔ --ان دنوں حضرت مولانا علی محمد حنیف سلفی صاحب جامعہ کی لائبریری کے انچارج تھے۔ یہ ان کی راقم پر شفقت تھی کہ جب فرصت پاتا تو ان سے لائبریری کی چابی لے کر میں لائبریری کی ’’سیر‘‘ کیا کرتا تھا۔ انہوں نے کبھی بھی اس بارے میں تحفظات کا احساس نہیں فرمایا۔ ان کی یاد آئی ہے تو اس بات کا بھی ذکر ہو جائے کہ حفیظ جالندی کی شاہنامہ اسلام جو چار جلدوں میں تھی میں نے ان سے انہی کے دام بتلانے پر دس روپے میں خریدی تھی۔ انہوں نے دورہ تفسیر شیخ القرآن مولانا غلام اللہ خاں سے کیا تھا اور خلاصہ سُور کے نام سے ایک کاپی میں اس کے نوٹس تھے اور وہ نوٹس راقم نے نقل کیے تھے۔ بلکہ یہ ان کی انتہائی محبت تھی کہ ایک بار رمضان المبارک کے بعد شوال میں کراچی جاتے ہوئے لیاقت پور تشریف لائے اور اسٹیشن سے میرے گھر بغیر کسی پیشگی اطلاع کے تشریف لائے۔ ایک روز قیام فرمایا اور رات کی گاڑی پر عازم کراچی ہوئے۔ اللہ تعالیٰ ان پر اپنی ان گنت رحمتیں فرمائے۔ بڑے ہی شفیق استاد تھے۔ ان سے کئی یادیں وابستہ ہیں مگر یہ ان کا محل نہیں۔-- بات ہو رہی تھی ’’ابکار المنن‘‘ کی۔ میں نے حضرت عثمانی صاحب سے عرض کیا کہ کیا یہ کتاب کہیں سے مل سکتی ہے؟ فرمایا: بازار میں دستیاب نہیں البتہ میرے کتب خانہ میں ہے‘ میں وہ منگوا لوں گا۔ چنانچہ انہوں نے محض راقم کے لیے اپنے بیٹے محمد ادریس کو دائرہ دین پناہ بھیجا اور اسے الماری نمبر‘ خانہ نمبر اور کتاب نمبر لکھ کے دیا اور یوں وہ گھر سے یہ کتاب لے آیا۔ یہ کتاب پڑھی تو اس کی تنقید اور آثار السنن پر مولانا مبارک پوری کی گرفت سے سابقہ بندھن ڈھیلے پڑنے لگے۔
یہاں یہ بات بھی عرض کر دینا مناسب ہے کہ اس کتاب کا تعارف میں نے جامعہ کے طلبہ سے بالخصوص مولانا محمود احمد غضنفر اور مولانا حافظ عبدالستار حسن سے کیا اور اس خواہش کا اظہار کیا کہ اس کتاب کی اشاعت کا اہتمام جمعیۃ الطلبہ جامعہ سلفیہ کی جانب سے ہونا چاہیے۔ یہ بات طلبہ میں جگہ پکڑ گئی اور طے پایا کہ آئندہ عید الاضحی کی چھٹیوں میں جب سب گھر جائیں تو اپنے اپنے ذرائع سے اس کتاب کی اشاعت فنڈ کے لیے کچھ نہ کچھ ضرور لیتے آئیں۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ یوں ۱۹۶۶ء میں کچھ فنڈ اس کی طباعت کے لیے جمع ہو گیا۔ مگر شومئ قسمت کہ یہ سال جامعہ میں ہونے والی ہڑتال کی نظر ہو گیا اور یوں اس کی طباعت معرض التواء میں پڑ گئی۔ لیکن طلبہ میں یہ بات گھر کر گئی تھی۔ چنانچہ بعد میں جمعیۃ الطلبہ جامعہ سلفیہ ۱۹۷۸ء میں ابکار المنن کی طبع ثانی کا اہتمام کیا۔ والحمد للہ علی ذلک!
مولانا ابوالاعلیٰ مودودیa کی ’’خلافت وملوکیت‘‘ پہلے ان کے ماہنامہ ’’ترجمان القرآن‘‘ میں شائع ہوئی‘ اس کے بعد وہ کتابی شکل میں طبع ہوئی۔ اہل السنہ کے حلقہ میں اس پر رد وقدح ہوئی اور اس کے کئی جوابات دیئے گئے۔ محمود عباس صاحب نے پہلے اس کا جواب ’’تبصرہ محمودی بر ہفوات مودودی‘‘ کے نام سے دیا۔ محترم مولانا حافظ صلاح الدین یوسفd کا تبصرہ پہلے الاعتصام میں شائع ہوتا رہا پھر علیحدہ طور پر ’’خلافت وملوکیت کی تاریخی وشرعی حیثیت‘‘ کے نام سے کتابی صورت میں وہ اشاعت پذیر ہوا۔
حضرت مولانا ظفر احمد عثمانی مرحوم نے ’’دفاع سیدنا عثمانt‘‘ کے عنوان سے ایک کتابچہ لکھا۔ حضرت مولانا مفتی تقی عثمانیd نے بھی اس پر خوب لکھا۔ یہ بحث اور نقد ونظر کا سلسلہ جاری تھا کہ ترجمان القرآن ستمبر ۱۹۶۵ء کے شمارہ ۵۶ میں یہ بھی لکھا گیا کہ ’’مسعودی بلاشبہ معتزلی تھا مگر یہ کہنا صحیح نہیں کہ وہ غالی شیعہ تھا۔‘‘ اس پر میں نے تعجب کا اظہار مولانا عثمانی سے کیا تو انہوں نے اپنی نوٹ بک سے جس کا ذکر پہلے ہوا ہے‘ کچھ حوالے مسعودی کے شیعہ ہونے کے لکھوائے جن میں ایک حوالہ تو لسان المیزان ج۴‘ ص ۲۲۵ کا تھا کہ [کان شیعیا معتزلیا] دوسرا تحفہ اثناء عشریہ ۴۶ کا اور تیسرا ابوالفضل طہرانی الشیعی کی شفاء الصدور بشرح زیارت العشور صفحہ ۳۱۴ کا جس میں لکھا ہے:
[مسعودی علیہ الرحمہ از اعظم قدماء الشیعہ است]
اب تو اس بارے میں اَور بھی حوالے دیئے جا سکتے ہیں۔
اس کے علاوہ بھی صحابہ کرام] کے باہمی مشاجرات کے بارے میں لکھا ہے کہ وہ سلف امت کے ہاں اجتہادی معاملہ ہے۔ میں نے یہ عریضہ مولانا مودودی کی خدمت میں ارسال کیا تو اس کا جواب مولانا مودودی کے معاون خصوصی جناب مولانا غلام علی نے مولانا کی ہدایت میں جو دیا وہ مختصرا دیکھئے:
’’1 مسعودی کے اعتزال اور تشیع کا ذکر خود ترجمان کے مضمون میں کر دیا گیا ہے۔
2 صحابہ کرام] کی ہر انفرادی غلطی کو اجتہادی غلطی قرار نہیں دیا جا سکتا…الخ!‘‘
یہ جواب انہوں نے ۲۳ ستمبر ۱۹۶۵ء کو لکھوایا تھا اور اس پر دونوں حضرات کے دستخط بھی ہیں۔ کیا اسے سوال کا جواب کہا جا سکتا ہے؟ اس کا فیصلہ قارئین کرام کر سکتے ہیں۔ میں نے الفاظ پر لکیر لگا دی ہے ان پر غور کرنے سے جواب کی حقیقت سمجھی جا سکتی ہے۔ تا ہم یہ جواب ان کے بڑے پن کا مظہر ہے کہ ایک طالب علم کے سوال کو انہوں نے نظر انداز نہیں کیا۔
مولانا عثمانی مرحوم سے اس قسم کے مسائل ومباحث پر میں نے خوب استفادہ کیا۔ جب کبھی کوئی مضمون کسی رسالے میں ان کے ذوقِ سلیم کے مطابق شائع ہوتا تو از راہ کرم مجھے بھی اسے پڑھنے کا حکم فرماتے۔ امام ابوالحجاج یوسف بن عبدالرحمن المزیa کی معرکۃ الآراء کتاب ’’تحفۃ الاشراف بمعرفۃ الاطراف‘‘ کی ابتدائی جلدیں ۱۹۶۵/۱۹۶۶ء میں شائع ہوئیں تو ان پر تبصرہ اور اس کتاب کے فوائد پر مشتمل مضمون مولانا عبیداللہ رحمانی محدث مبارک پوری کا غالباً ترجمان دہلی میں شائع ہوا تو مولانا عثمانی نے مجھے بلا کے یہ مضمون پڑھنے کا حکم فرمایا۔ اس مضمون کے کچھ اقتباس آج بھی راقم کے پاس محفوظ ہیں۔ طوالت کا خوف نہ ہوتا تو اس کی بعض مثالیں یہاں لکھ دیتا۔
اس دور میں جامعہ کی لائبریری چند الماریوں پر مشتمل تھی اور ان میں اکثر وبیشتر درسی کتب تھیں کیونکہ جامعہ ابھی اپنے ابتدائی دور سے گذر رہا تھا۔ ایک بحث کے ضمن میں مجھے حافظ ابن حجرa کی ’’تعریف اہل التقدیس بمراتب الموصوفین بالتدلیس‘‘ جو طبقات المدلسین کے نام سے معروف ہے کی ضرورت پڑی مگر جامعہ کی لائبریری میں یہ کتاب نہیں تھی۔ میں نے مولانا عثمانی مرحوم سے اس کا تذکرہ کیا تو انہوں نے فرمایا میرے مکتبہ میں موجود ہے اور میں وہاں سے منگوا لوں گا۔ چنانچہ جب ان کے بیٹے محمد ادریس صاحب گھر دائرۃ دین پناہ گئے تو مولانا مرحوم نے الماری نمبر‘ خانہ نمبر اور کتاب نمبر لکھ دیا اور وہ گھر سے کتاب لے آئے۔ مولانا مرحوم نے مجھے بلایا اور طبقات المدلسین مجھے عنایت فرمائی اور فرمایا: ’’یہ پڑھنے کے لیے ہے نقل کرنے کے لیے نہیں۔‘‘ اور یہ اس لیے کہ یہ کتاب مصر کی مطبوعہ تھی‘ کاغذ خاصہ بوسیدہ ہو گیا تھا۔ معمولی دباؤ سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتا۔ افسوس کہ اس پر سن طباعت لکھا ہوا نہ تھا۔
میں ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کتاب لے آیا۔ سردیوں کے ایام تھے‘ میرے ہم جماعت اور کمرے کے ساتھی سو جاتے تو میں سرہانے پر کتاب رکھ کر بڑی احتیاط سے اپنی کاپی میں نقل کرنے لگتا‘ یوں دو راتوں کے کچھ حصہ میں اسے نقل کر لیا‘ آخری ایک دو صفحہ رہ گئے تو وہ تیسری رات مغرب وعشاء کے ما بین مکمل کر لیے۔
میری وہ کاپی میرے سامنے ہے جس پر لکھنے کی ابتدائی تاریخ ۱۹ فروری ۱۹۶۶ء ہے اور اختتامی تاریخ ۲۱ فروری ۱۹۶۶ء ہے۔ چوتھے روز کتاب واپس کرنے کے لیے مولانا عثمانیa کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے کتاب کو باہر اور اندر سے دیکھا تو اطمینان کا اظہار فرمایا کہ کتاب میں کوئی شکن یا پھٹن نہیں۔ ادھر میں نے بھی اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا کہ ان کا اعتماد بحال رہا۔
اس کتاب کو نقل کرنے کا اقدام اگرچہ ان کی اجازت سے نہ تھا‘ اللہ سبحانہ وتعالیٰ تمام کوتاہیاں اپنے فضل وکرم سے معاف فرمائے‘ مگر مولانا عثمانی کا مقصد یہ تھا کہ بوسیدہ اوراق پر مشتمل کتاب کو نقل کیا جائے تو کتاب شکست وریخت کا شکار ہو جاتی ہے۔ ان کے اس خدشہ کو ملحوظ رکھتے ہوئے بے حد احتیاط سے میں نے اسے نقل کیا اور کسی شکوہ وشکایت کی نوبت نہ آئی۔
آج تو کتابوں کی فراوانی ہے اور ان کی نشر واشاعت بھی خوب ہو رہی ہے۔ مگر افسوس کہ اب انہیں پڑھنے والے بہت کم ہیں۔ جب پڑھنے کا ذوق تھا تب کتابیں نایاب تھیں اور ڈھونڈنے سے بھی کم ہی ملتی تھیں۔
کتابوں کا جو شوق مولانا مرحوم نے دلایا اسی کا نتیجہ تھا کہ کئی کتابیں راقم نے نقل کیں۔ چنانچہ امام ابن ابی حاتم کی کتاب المراسیل‘ امام مسلم کی المنفردات الوحدان‘ امام نسائی کی الضعفاء والمتروکین اور اسی کے ساتھ ملحق امام نسائی کی ہی فوائد
1 تسمیۃ من لم یرو عنہ غیر رجل واحد 2 ذکر من حدث عنہ ابن ابی عروبہ ولم یسمع عنہ 3 الکذابون المعروفون بوضع الحدیث 4 احسن الاسانید التی تروی عن رسول اللہﷺ 5 تسمیۃ فقہاء الانصار من اصحاب رسول اللہﷺ ومن بعدہم 6 طبقات الرواۃ عن نافع 7طبقات المتروکین 8 طبقات الرواۃ عن الاعمش
ان کے علاوہ: التبیین لاسماء المدلسین، الاغتباط بمن رمی بالاختلاط، الالزامات والتتبع، النبذ الکافیۃ فی اصول الفقہ الظاہریۃ، التمییز للامام مسلم، من تکلم فیہ وہو موثق، الفوز الکرام للشیخ محمد قائم سندھی، بیان خطأ من اخطأ علی الشافعی، جواب ابی مسعود الدمشقی، النکت لابن حجر وغیرہ کتب اپنے ہاتھ سے لکھیں۔
۱۹۶۶ء میں تقریب التہذیب بھی نقل کرنا شروع کی‘ خلف بن محمد تک کے ا سماء لکھے تھے کہ معلوم ہوا یہ چھپ رہی ہے تو پھر مزید نقل کرنا ترک کر دیا۔
جامعہ کی لائبریری میں میزان الاعتدال کا ایک مصری نسخہ تھا اور وہ بھی بوسیدہ۔ ایک دفعہ اسی کے بارے میں ان سے بات ہوئی تو مولانا عثمانیa نے فرمایا میزان الاعتدال ہی نہیں اس کے ساتھ اس کی ’’لسان‘‘ بھی ضروری ہے اور وہ ہے ’’لسان المیزان‘‘ مگر جامعہ میں اس کا بھی کوئی نسخہ نہ تھا۔ میں نے عرض کیا کہ لسان المیزان کیسے مل سکتی ہے کیا یہ بازار میں دستیاب ہے؟ انہوں نے فرمایا: نہیں البتہ میرے پاس یہ کتاب ہے اور میں فروخت کرنا چاہتا ہوں مگر اس کی جلد اول ناقص ہے۔ عرض کیا ناقص کتاب لینے کا فائدہ؟ وہ اس پر خاموش ہو گئے۔ یہ بات میں نے مولانا علی محمد حنیفa سے کی تو انہوں نے فرمایا: تم یہ کتاب عثمانی صاحب سے لے لو پہلی جلد مولانا سید عبدالشکور کے پاس ہے میں یہ جلد تمہیں ان سے لے دوں گا۔
قصہ مختصر میں نے مولانا عثمانی صاحب سے لسان المیزان کی پانچ جلدیں تین سو روپے میں خرید لیں۔ اب پہلی جلد کی فکر ہوئی۔ مولانا شاہ عبدالشکور صاحب گاہے بگاہے جامعہ میں تشریف لایا کرتے تھے۔ جب بھی تشریف لاتے راقم مولانا علی محمد حنیف سے عرض کرتا کہ لسان المیزان کی پہلی جلد کے بارے میں شاہ صاحب سے بات کریں۔ مگر شاہ صاحب تھے کہ وہ یہ بات خاموشی سے سنتے اور بس خاموش ہی رہتے‘ نفی یا اثبات میں کوئی جواب نہ دیتے۔ دو تین مرتبہ ایسا ہی ہوا۔ بالآخر ایک بار میں نے جسارت کرتے ہوئے شاہ صاحب سے عرض کیا کہ ایک جلد مجھے دے دیں یا پھر یہ پانچ جلدیں بھی آپ لے لیں۔ انہوں نے بلا تامل فورا فرمایا: لاؤ مجھے دو۔ اس مجلس میں مولانا محمد عبداللہ امجد بھی تشریف فرما تھے۔ شاہ صاحب نے ان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ رہی اس کی قیمت تو وہ جب چاہیں ان سے لے لیں۔ چنانچہ شاہ صاحب کا یہ نسخہ مکمل ہو گیا۔ میں نے بعد میں تین سو روپے کی بات مولانا امجد سے کی تو انہوں نے فرمایا میرا یہ خط لے جاؤ اور جھال خانوانہ کی مسجد کریمیہ میں حضرت مولانا محمد عبداللہ کو دو‘ تمہیں یہ پیسے ان سے مل جائیں گے۔ بالآخر مجھے یہ تین سو روپے مل گئے۔ میزان الاعتدال چار جلدوں میں نئی نئی چھپ کر آئی تھی‘ میں نے میزان الاعتدال اور بعض دوسری کتابیں خرید لیں۔
ایک روز عصر کی نماز کے بعد مولانا عثمانیa کی خدمت میں حاضر تھا کہ ایک صاحب حاضر خدمت ہوئے اور ایک استفتاء کا پرچا انہیں دیتے ہوئے جواب کا تقاضا کیا۔ مولانا مرحوم نے ایک نظر اسے دیکھا اور فرمایا کہ اب چھٹی ہو گئی ہے۔ حضرت شیخ الحدیث صاحب گھر تشریف لے گئے ہیں‘ آپ دو روز بعد آئیں میں ان سے اس کا جواب لکھوا رکھوں گا آپ آکے لے جائیں۔ وہ صاحب کمرہ سے باہر ہوئے تو میں نے عرض کیا‘ یہ کوئی طلاق کا مسئلہ ہو گا آپ سے اکثر یہی مسئلہ دریافت کیا جاتا ہے۔
مولانا نے مسکراتے ہوئے فرمایا: نہیں یہ سوال طلاق کے متعلق نہیں۔ ہاں تو تمہارا کیا موقف ہے طلاق ثلاثہ کے بارے میں؟ میں نے عرض کیا کہ یک بارگی دی ہوئی تین طلاقیں تین ہی ہوتی ہیں جمہور کا یہی موقف ہے۔
فرمانے لگے‘ رسول اللہe نے تو تین طلاقیں دینے والے کے بارے میں فرمایا ہے:
[أیلعب بکتاب اللہ وأنا بین اظہرکم]
میں نے عرض کیا کہ اس کی سند میں مخرمہ بن بکیر اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں جبکہ مخرمہ کا اپنے باپ سے سماع نہیں۔ مولانا مرحوم نے فرمایا کہ یہ حدیث ایک اور سند سے بھی مروی ہے۔ میں نے عرض کیا کہ یہ صرف سنن نسائی میں ہے کسی اور کتاب میں یہ حدیث نہیں۔ اگر اس کی کوئی اور سند آپ دکھا دیں تو میں آپ کو دس روپے کی مٹھائی کھلاؤں گا۔ میری اس جرأت رندانہ سے انہوں نے متعدد کتب لائبریری سے منگوائیں مگر کہیں سے اس کی دوسری سند نہ ملی۔ بالآخر فرمانے لگے تمہیں کیسے یقین ہے کہ یہ صرف سنن نسائی کی روایت ہے؟ میں نے ’’فکر ہر کس بہ ہمت اوست‘‘ کے مصداق عرض کیا کہ مشکوٰۃ میں یہ روایت صرف نسائی کے حوالے سے ہے اگر صحاح یا مسند امام احمد یا امام طبرانی کی معاجم وغیرہ میں یہ روایت ہوتی تو صاحب مشکوٰۃ اس کا بھی حوالہ دیتے۔ میری یہ بات سن کے وہ مسکرا پڑے اور فرمایا نہیں اس کی اور سند بھی موجود ہے میں تمہیں بتلاؤں گا۔
یہ بات ہوئی اور کافی دن گذر گئے‘ اتفاق سے وہ گھر دائرہ دین پناہ تشریف لے گئے۔ وہاں سے واپس تشریف لائے تو عصر کی نماز سے فارغ ہو کے مسجد سے باہر صحن میں کھڑے ہیں‘ میں مسجد سے نکلا تو مجھے آواز دی۔ اسی اثناء میں کئی طالب علم وہاں جمع ہو گئے۔ فرمانے لگے: مولوی ارشاد! وہ حدیث مل گئی ہے‘ صرف متن پڑھوں یا اسے بالاسناد پڑھوں؟ عرض کیا متن مع سند پڑھیں‘ سند سے معلوم ہو گا کہ متن کی حیثیت کیا ہے؟ چنانچہ انہوں نے کھڑے کھڑے حدیث شریف مع سند پڑھی۔ اب قارئین کرام بھی اسے پڑھ لیں:
[قال الإمام أحمد: حدثنا سعد بن إبراہیم ثنا أبی عن محمد بن إسحاق حدثنی داؤد بن الحصین عن عکرمۃ مولی ابن عباس عن ابن عباس قال: طلق رکانۃ بن عبدیزید أخو بنی مطلب امرأتہ ثلاثا فی مجلس واحد فحزن علیہا حزنا شدیدا۔ قال فسألہ رسول اللہﷺ: ’کیف طلقتہا؟‘ قال طلقتہا ثلاثا۔ قال: فقال: ’فی مجلس واحد؟‘ قال: نعم۔ قال: فإنما تلک واحد فارجعہا إن شئت‘۔ قال: فرجعہا]
میں نے عرض کیا اس کا جواب ابھی یا کسی اور موقعہ پر؟ فرمانے لگے: میں ادھار کا قائل نہیں سودا نقد چاہیے۔ عرض کیا: اولا اس کا متن وہ نہیں جو سنن نسائی کی حدیث کا ہے۔ ثانیا: میں عرض کروں کہ ابن اسحاق اس میں متکلم فیہ ہے تو آپ اس کا دفاع کریں گے کہ وہ صدوق وثقہ ہے اس کی بجائے داؤد بن الحصین اسے عکرمہ سے روایت کرتے ہیں جبکہ امام علی بن المدینی فرماتے ہیں کہ داؤد بن الحصین کی روایات عکرمہ سے منکر ہیں۔ میرا یہ نقد وتبصرہ سن کر مولانا مرحوم نے خاموشی اختیار کی‘ کوئی بات نہ کہی اور اپنے کمرے کی طرف چل دیئے۔ طلبہ بھی یہ سن کر تتر بتر ہو گئے۔
عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اس قسم کے اختلافی مسائل پر ان سے بات ہوتی رہتی تھی اور یہ ان کی شفقت اور وسعت ظرفی تھی کہ راقم کو وہ ہی نہیں جامعہ کا پورا ماحول برداشت کر رہا تھا۔ کسی اور جگہ ہوتا تو شاید گوشمالی بھی ہوتی اور مدرسہ سے نکال بھی دیا جاتا۔
ایک روز عصر کی نماز سے پہلے مولانا عثمانی مرحوم سنتیں پڑھ رہے تھے اور چار سنتیں اکٹھی ایک سلام سے پڑھ رہے تھے۔ ادھر جماعت کا وقت ہو گیا تو حضرت شیخ الحدیث مولانا حافظ محمد عبداللہ بڈھیمالویa ذرا سخت لہجہ سے فرمانے لگے کہ بعض حضرات وقت کا خیال نہیں رکھتے اکٹھی چار سنتیں پڑھنے لگتے ہیں۔ دو‘ دو کر کے پڑھنی چاہئیں۔ مولانا عثمانی سنتوں سے فارغ ہوئے تو کسی ملال کا اظہار نہ فرمایا۔ حافظ صاحب نے عصر کی نماز پڑھائی‘ نماز سے فارغ ہوئے‘ مسنون اوراد ووظائف سے فارغ ہو کے مولانا عثمانی اٹھے تو مجھے فرمایا کہ میرے کمرے میں آئیں۔ مجھے وقتی طور پر پریشانی ہوئی کہ معلوم نہیں کیا بات ہے کہ مجھے بلایا گیا ہے۔ چنانچہ میں کچھ دیر بعد ان کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے عصر سے پہلے کی سنتوں کے بارے میں فرمایا کہ یہ اکٹھی ایک سلام سے پڑھنی چاہئیں۔ چنانچہ انہوں نے اپنے پاس پڑی مرعاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ المصابیح سے [باب السنن وفضائلہا] کے تحت جامع ترمذی کی حدیث سیدنا علیt نکال کے اس کی شرح کے الفاظ پڑھ کے سنائے۔ چنانچہ حدیث کے الفاظ ہیں:
[کان رسول اللہﷺ یصلی قبل العصر أربع رکعات، یفصل بینہن بالتسلیم علی الملائکۃ المقربین ومن تبعہم من المسلمین والمؤمنین]
کہ رسول اللہe عصر سے پہلے چار رکعتیں پڑھتے تھے اور ان کے ما بین ملائکہ مقربین اور ان کی پیروی کرنے والے مسلمانوں اور ایمان والوں پر سلام سے ’’فصل‘‘ کرتے تھے۔ سلام سے ’’فصل‘‘ کا مفہوم بعض نے ’’السلام علیکم ورحمۃ اللہ‘‘ کا لیا ہے یعنی دو‘ دو رکعتوں سے چار رکعتیں پڑھتے تھے۔ لیکن شارح مشکوٰۃ محدث مبارک پوری نے اس سے تشہد میں سلام مراد لیا ہے۔ یہی مفہوم امام اسحاق بن راہویہ‘ امام بغوی‘ علامہ طیبی‘ علامہ علی قاری اور شارح ترمذی مولانا عبدالرحمن محدث مبارک پوری نے بیان کیا ہے۔
یوں موقعہ بموقعہ مولانا مرحوم شفقت فرماتے۔ مسائل اور کتابوں کے بارے میں رہنمائی فرماتے۔ ان کی انہی نوازشوں سے میرے دل میں تحقیق وتتبع کا شوق پیدا ہوا۔ اسی شوق نے مجھے اس میدان میں مزید آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کیے۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ ان کے درجات بلند کرے اور ان کی بشری لغزشوں سے صرف نظر فرمائے۔   ……… (جاری)


No comments:

Post a Comment

View My Stats