دعوت دین سیرت طیبہ کی روشنی میں 41-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Saturday, November 02, 2019

دعوت دین سیرت طیبہ کی روشنی میں 41-2019


دعوت دین سیرت طیبہ کی روشنی میں

(دوسری قسط)  تحریر: جناب حافظ محمد فیاض الیاس اثری
۵۔ غیرت و حمیت کی بیداری:
اصلاح اور تربیت کے لیے مخاطب کی نفسیات کا خیال رکھتے ہوئے اس کی غیرت کو بھی جھنجھوڑ ا جا سکتا ہے۔ یہ اسلوب بھی دعوت کے لیے موقع محل کی مناسبت سے اختیار کیا جا سکتا ہے۔اس کے لیے داعی کا نفس شناس ہونا انتہائی ضروری ہے۔ کہیں دعوت و اصلاح کی بجائے مزید اختلاف اور خرابی جنم نہ لے اور فتنہ کھڑا ہو جائے، اس کے لیے پر خلوص ، خیر خواہانہ اور دعوتِ فکر پر مبنی طریقہ تبلیغ ہونا ضروری ہے۔ آنحضرت e کی سیرت طیبہ سے اس کی مثال اس طرح سے ملتی ہے کہ ایک نوجوان آپ کے پاس آکر زنا کی اجازت مانگتا ہے ، اس پر لوگ اسے برا بھلا کہتے ہیں اور اسے ڈانٹتے ہیں، لیکن رسولِ رحمت اسے اپنے قریب بٹھا کر انتہائی خیر خواہانہ انداز میں اس کی غیرت کو جھنجھوڑتے ہیں۔ آپ اس سے پوچھتے ہیں: [اَتُحِبُّه لِاُمِّك؟] کیا تم اپنی والدہ کے متعلق اس طرح کا سوچ سکتے ہو، اس پر غیرت سے بھرے لہجے میں بولا کہ اللہ کی قسم! آپ پر میری جان قربان ہو، میں تو کبھی یہ برداشت نہیں کروں گا۔ آپ نے فرمایا: دیگر لوگ بھی تو اپنی والدہ کے بارے ایسا گوارا نہیں کر سکتے۔یوں آپ نے باری باری والدہ، بیٹی، خالہ اور پھوپھی کے بارے پوچھا، ہربار اس کا ایک ہی جواب تھا کہ میں تو ایسا گوارا نہیں کروں گا اور آپ بھی یہی فرماتے کہ لوگ بھی اپنی والدہ، بیٹی، خالہ اور پھوپھی کے بارے اسے گوارہ نہیں کر سکتے۔
اب اسے حقیقت سمجھ آچکی تھی اور اس کی غیرت و حمیت اس قدر پیدا ہو چکی تھی کہ اس بھیانک گناہ سے بچ سکتا تھا۔ آپ نے اس کے گناہوں کی معافی ، قلبی طہارت اور پاکدامنی کی دعا فرمائی اور جانے دیا۔ یہ ایسا پاکباز بن گیا کہ کسی کی طرف نگاہ اٹھا کر بھی نہ دیکھتا تھا۔ (مسند احمد: ۲۲۲۱۱، والسلسلۃ الصحیحۃ: ۳۷۰)
دین اسلام کی غیرت اور اسلامی اقدار و اخلاق کی حمیت سے انسان شان و عظمت سے ہمکنار ہوتا ہے اور اسی کی بدولت انسان مشکل سے مشکل امور سرانجام دینے کے لیے بھی تیار ہو جاتا ہے۔
 ۶۔ قصص و واقعات:
توحید و رسالت کی تفہیم اور آخرت کی فکر دلانے کے لیے سابقہ اقوام و رسل کے قصے اور واقعات بھی بیان کیے جا سکتے ہیں ۔ یہی اسلوب قرآن کریم میں کثیر اختیار کیا گیا ہے۔ قصوں اور واقعات میں قابل ذکر اور نصیحت آموز امور کا تذکرہ ہ مفید ہوتا ہے۔ قصہ برائے قصہ کی بجائے برائے تذکیر و تعلیم اور نصیحت و موعظت ہو۔ قرآن کریم میں متعدد انبیائے کرام o اور ان کی قوموں کے قصے مذکور ہیں۔ سیدنا موسیٰ و عیسیٰ، سیدنا ابراہیم و نوح، سیدنا صالح و شعیبo کی اپنی اپنی قوموں کو دعوت توحید و آخرت بارے قصے مذکور ہیں۔ سورت انبیاء، سورت ھود اور اعراف میں متعدد پیغمبروں کے دعوتی واقعات کا تذکرہ ہے۔
اسی طرح قومِ عاد و ثمود اور فرعون و نمرود کے واقعات کا ذکر بھی کیا۔ سیدنا آدم و حواi ، اصحابِ کہف، گائے ، بنی اسرائیل اور سیدنا یوسفuکا واقعہ بھی تفصیل سے ذکر کیا ہے۔ قصص نام کی قرآن کریم میں ایک مستقل سورت بھی ہے۔
ان قصوں میں توحید و آخرت پر مبنی امور کو اجاگر کیا گیا ۔ انبیا ئے کرامo کی اپنی امتوں کو دعوتِ توحید اور مخالفین کی سرکشی کو نمایاں کیا گیا ہے اور ساتھ امت کے لیے نصیحت و موعظت کا بھی اہتمام فرمایا گیا ہے ۔ اللہ عزوجل نے ان واقعات و قصص کے تذکرے کا مقصد بھی یہی بیان فرمایا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
{فَاقْصُصِ الْقَصَصَ لَعَلَّھُمْ یَتَفَكرُوْنَ}
’’آپ قصے بیان کریں شائد کہ یہ غوروفکر کرنے لگیں۔‘‘ (الاعراف: ۱۷۶)
دوسری جگہ فرمایا:
{لَقَدْ كانَ فِیْ قَصِصِھِمْ عِبْرة لِاوُلِی الاَلْبَابِ}
’’ان کے قصوں میں اہل خرد و عقل کے لیے سامان عبرت ہے۔‘‘ (یوسف: ۱۱۱)
سورت آل عمران میں سیدہ مریمr کی کفالت، ولادت عیسیٰ اور ان کے معجزات و نبوت کا تذکرہ کرنے کے بعد فرمایا:
{اِنَّ ھٰذَا لَھُوَ الْقَصَصُ الْحَقُّ}(آل عمران:  ۶۲)
’’یقینا یہ بالکل برحق قصہ ہے۔‘‘
رسول اللہe نے بھی متعدد قصے بیان فرمائے۔ دعوت و تبلیغ کے لیے سابقہ انبیاء و رسل کے قصے اور سیرت و تاریخ کے قابلِ استناد واقعات بیان کرنا مفید ہوتا ہے۔ اس کے لیے مناسبت ، موقع محل اور انتخاب واقعہ عمدہ ہونا ضروری ہے۔ واقعہ کے اہم اجزاء پر خاص توجہ دلانی چاہیے، ان میں پند و نصائح کا پہلو غالب ہونا چاہیے۔ دعوتی ،فکری ، انقلابی اور پیغمبرانہ منھاجِ دعوت کو خوب نمایاں کرنا چاہیے۔
 ۷۔ اسلوب تدریج:
دعوتی مراحل و اسلوب میں سے اہم ترین طریقہ تدریج بھی ہے۔ تدریج کا مطلب مرحلہ وار احکامات شرعیہ کی دعوت وتبلیغ اور ان کا پابند بنانا ہے۔ قبولِ اسلام، تفہیم توحید و رسالت ،ایمان آخرت اور امورِ خیر کی انجام دہی جیسے امور میں تدریج کا خیال رکھنا مفید بھی ہے اور شرعی حکمت و مصلحت بھی، تھوڑا تھوڑا قرآن کریم کا نزول اور نبوی دعوت کے مراحل اسی اسلوب تدریج کی واضح مثال ہیں۔ یک بارگی اسلام کی تمام تعلیمات پر عمل پیرا ہونا نہ تو شریعت کا حکم ہے اورنہ ہی عقلاً ایسا ممکن ہے۔ اسلام کی تکمیل بھی تھوڑی تھوڑی کرکے ۲۳ سال میں ہوئی۔
سیدنا معاذt کو یمن بھیجتے وقت آپ نے انہیں اسی اصول کی تعلیم فرمائی تھی۔ اہل کتاب کو پہلے قبول اسلام کی دعوت ، پھر نمازِ پنجگانہ کی فرضیت اور پھر زکوٰۃ کی ادائیگی کی ترغیب دیے جانے کا آپ نے انہیں پابند فرمایا۔(صحیح البخاری: ۱۴۵۸، صحیح مسلم:۱۹) شراب کی حرمت بھی اسی اصول تدریج کی عکاس ہے۔
کفار و مشرکین کو دعوت دین دیتے ہوئے عملی سستی کے مرتکب مسلمان کی اصلا ح میں بھی اس طریقہ کار اور اسلوب کو اختیار کرنا مفید ہو تا ہے۔ کمزور ایمان کی وجہ سے یک بارگی تمام امورِ خیر کو انجام دینا اور برے اعمال سے بچنا تقریبا ناممکن ہوتا ہے۔ اس سے آدمی قریب آنے کی بجائے مزید دور بھاگ سکتا ہے: ’اَلأَھَمُّ فَالْأَھَمُّ‘ پہلے اہم ترین امور کی دعوت و اصلاح پھر ان سے کم درجے کی اور پھر ان سے بھی کم اہمیت و افادیت کے حامل امور کی پابندی کا درس مناسب ترین حکمت عملی ہے۔
جسمانی بیماری کی طرح روحانی سقم کا علاج بھی آہستہ آہستہ کیا جائے تو نتیجہ حوصلہ افزا اور قابلِ فرحت ہوتا ہے۔ جلد بازی فائدے کی بجائے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔
دعوت و تبلیغ، تعلیم و تدریس، امر بالمعروف و نھی عن المنکر ، اخلاق و کردار کی اصلاح ، اسلامی معاشرے کا قیام اور اسلامی ریاست کا حصول اسی اصولِ تدریج کا متقاضی ہے۔
لیکن اس حکمت و اصول کو دلیل بنا کر عملی کوتاہی اور اصلاح میں سستی جیسے امور کسی طرح بھی روا نہیں اور نہ ہی شریعت میں اس کی اجازت ہے۔
 ۸۔ تکرار بیان:
اہم امور کی تفہیم اور ان کی اہمیت اجاگر کرنے کے لیے دعوت دیتے ہوئے تکرارکلام بھی ایک مفید اسلوب ہے۔ ایک ہی لفظ ، جملے، واقعہ اور قصے کا تکرار موقع محل کی مناسبت سے قابلِ ملامت نہیں۔ قرآنِ کریم میں اس کی کثیر مثالیں مذکور ہیں۔ انبیائے کرامo کے قصے، نافرمان قوموں پر آنے والے عذا ب اور کئی احکام ومعاملات بارے متعدد بار ہدایات دی گئی ہیں۔ قرآنِ کریم میں تکرار الفاظ و کلمات اور آیات کا بھی تکرار ہے۔ سورۃ رحمان میں ایک ہی جملہ کئی ایک بار دہرایا گیا ہے۔ سیدنا نوح، سیدنا ابراہیم، سیدنا موسیٰ و عیسیٰ اور دیگر انبیائے کرامo کے واقعات کا ایک سے زائد بار ذکر ہے۔
قرآن کریم میں یہ تکرار بے مقصد اور باعث تشویش نہیں بلکہ باعث تذکیر و نصیحت اور سامانِ موعظت ہے۔ اللہ عزوجل خود فرماتے ہیں:
{نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّھُمْ یَفْقَھُوْنَ}(الانعام: ۶۵)
’’ہم احکام و آیات بار بار بیان کرتے ہیں تاکہ یہ سمجھ لیں۔‘‘
رسول اللہe نے بھی اسی اسلوب دعوت اور اندازِ تبلیغ کو اختیارکیا۔ آپ کی دعوتی سرگرمیوں میں ایسی کثیر مثالیں مذکور ہیں۔رسول اللہe کے متعلق سیدنا انس بن مالکt کا تو کہنا ہے کہ: ’اِذَا تَکَلَّمَ بِکَلِمَۃٍ اَعَادَھَا ثَلَاثًا‘ (صحیح البخاری: ۹۴)’’آپ اہم بات تین بار دہرایا کرتے۔‘‘
آپ سامعین میں سے کسی کی درخواست پر بھی کوئی بات دہرا دیا کرتے تھے اور خود بھی ایسا کر لیا کرتے تھے۔ سیدنا ضماد ازدt کی فرمائش پر آپe نے انہیں تین بار اِنَّ الْحَمْدَ لِلّٰہِ… خطبہ پڑھ کر سنایا تو وہ اسی وقت مسلمان ہو گئے۔ (صحیح مسلم: ۸۶۸)
دو، تین، سات، اور اس سے بھی زیادہ بار آپ کبھی کوئی اہم بات دہرا دیا کرتے۔ [لَا صَامَ مَنْ صَاعَ  الاَبَدَ] تین بار فرمایا۔ کبیرہ گناہ بیان کرتے ہوئے آپ نے [اَلَا وَ قَوْلُ الزُّوْرِ] ’’خبردار ! جھوٹ سے بچو‘‘ اس قدر تکرار سے فرمایا کہ صحابہ کرام بھی آپ کی خاموشی کی خواہش کرنے لگے۔(صحیح بخاری: ۲۶۵۴)
ایک ہی لفظ ،جملہ اور مکمل حدیث بھی بار بار بیان فرما دیا کرتے۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو tنے رسول اللہeکی زبانی بنی اسرائیل کے ذوالکفل آدمی کا قصہ سات سے بھی زائد مرتبہ سنا۔ (سنن الترمذی: ۲۴۹۶)
اسی طرح سیدنا عمرو بن عبسہt نے وضوء کا طریقہ رسول اللہe کی زبانِ نبوت سے سات سے بھی زائد بار سنا۔ (صحیح مسلم: ۸۳۲)
دعوت و تبلیغ میںواقعہ یا مسئلہ کے تکرار میں بھی نفسیات، موقع محل اور اسلوبِ بیان کا خاص اہتمام ہونا چاہیے۔ تکرار سامعین کے لیے بوجھ اور بے فیض محسوس نہ ہو۔
 ۹۔ استفہامیہ اسلوب:
اقسامِ کلام میں سے ایک استفہام بھی ہے ، اسی طرح امر اور نہی بھی اقسامِ کلام میں سے ہے۔ استفہام کا مطلب پوچھنا، سوال کرنا اور استفسار کرنا ہے۔ قرآن و حدیث میں تفہیم دین کے لیے یہ اسلوب کثیر استعمال ہوا ہے۔ مخاطب کی توجہ حاصل کرنے کے لیے ،سامعین کی علمی استعداد معلوم کرنے کے لیے اور بات کی اہمیت اجاگر کرنے کے لیے سامعین سے سوالات کیے جاتے ہیں۔ سورۃ رعد اور سورت مومنون میں اللہ عزوجل نے اپنے حبیب کو اس اسلوب کی تعلیم دی ہے ۔ سورۃ عنکبوت ، لقمان ، زمر اور زخرف میں بھی اسی اسلوب دعوت کا تذکرہ ہے اور اس کے لیے باقاعدہ رب تعالیٰ نے الگ الگ چیزوں کے بارے استفسار کرنے کی رہنمائی کی ہے اور اس کے لیے استعمال بھی لفظِ سوال ہی کیا ہے۔ جیسے زمین و آسمان کے خالق ، سورج چاند کو مسخر کرنے والے اور آسمان سے پانی نازل کرنے والے کے بارے سوال کرنے کا فرمایا اور ساتھ ہی بتلایا کہ ان سوالوں کے جواب میں یہ’’ اللہ‘‘  ہی کہیں گے۔
یوں ہی اللہ عزوجل نے اپنے حبیب کے ذریعے اپنی مخلوق سے اپنی ربوبیت ، الوہیت اور اختیارات بارے سوالات کیے ہیں۔
رسول اللہe بھی مختلف مقاصد کے تحت استفسار فرمایا کرتے اوردعوت کی غرض سے سوالات کیا کرتے تھے۔ ایک بار آپ نے مفلس کے بارے سوال کیا اور پھر خود ہی بتلایا کہ میری امت کا مفلس روزِ قیامت نماز، روزہ اور زکوٰۃ کی نیکیوں کے علاوہ گالی گلوچ، تہمت ،اکلِ مالِ حرام، کشت و خون اور ظلم و زیادتی کی وجہ سے گناہ بھی اپنے ساتھ لے آئے گا۔ مظلومین کو اس کی نیکیاں دی جائیں گی اور نیکیاں ختم ہونے کی صورت میں حق داروں کے گناہ اس کے کھاتے میں ڈال کر اسے جہنم رسید کردیا جائے گا۔(سنن الترمذی: ۱۸ ۲۴)
خطبہ حجۃ الوداع میں آپ نے مخاطبین سے بار بار استفسار کیا۔ مہینے، شہر اور دن کے متعلق پوچھا اور صحابہ کرامy کے عدمِ جواب پر خود ہی بتلا بھی دیا۔
دعوت کے دوران، وعظ و تبلیغ کے آغاز میں اوراختتام میں سے جہاں مناسب ہو مخاطبین سے مختلف سوالات کیے جا سکتے ہیں۔ مقصد بات کی تفہیم اور اہمیت بتلانا ہو نہ کر صرف وقت گزاری۔
 ۱۰۔ وصیت و نصیحت:
زندگی کے خاص لمحات اور مواقع یا زندگی کے آخری ایام میں کی ہوئی بات کی خاص اہمیت ہوتی ہے اوراسی کو نصیحت اور وصیت کہا جاتا ہے۔ داعی الی اللہ ایسے موقع کی تلاش میں رہتا ہے کہ سامعین کی دلچسپی اور خواہش ہو بات سننے کی اور انہیں کوئی ایسی خاص بات کہی جائے جسے زندگی بھر یاد رکھا جائے، اللہ عزوجل نے اہم ترین امور بارے رہنمائی کرتے ہوئے اسی لفظ وصیت کا استعمال کیا ہے۔ فرمایا:
’’ہم نے تم سے پہلے لوگوں کو اور تمہیں یہی وصیت کی تھی کہ تم صرف اللہ سے ڈرو، اگر تم کفر کرو گے تو سن لو ! آسمانوں اور زمین کے درمیان موجود سب کچھ تو اسی کا ہے۔‘‘ (النساء: ۴ َ/۱۳۱)
اس کے ساتھ ہی انسانوں کی موت و حیات اور اپنی قدرت کے بارے بتلایا۔
والدین جنہیں مجازی رب کہا جاتاہے کیونکہ انسان کی تخلیق اور رزق روزی کا دنیا میں یہی ذریعہ اور سبب ہوتے ہیں۔ والدین کے متعلق خاص طور پر فرمایا:
{وَوَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْه حُسْنا} (العنكبوت: ۸)
’’ہم نے انسان کو اس کے اپنے والدین سے حسن سلوک کی وصیت کی ہے۔‘‘
امت محمدیہ کو فرمایا کہ
’’جس کی سیدنا نوح، ابراہیم، موسیٰ اور عیسیٰo نے اپنی اپنی قوم کو وصیت کی تھی وہی تمہارا دین و مذہب اور منشور زندگی ہے کہ دین کی بالا دستی قائم کرو اور باہمی اختلاف میں مت پڑو۔‘‘ (الشورٰی: ۱۳)
سیدنا یعقوبu کی جان کنی میں کی ہوئی وصیت کا باقاعدہ تذکرہ کیا اور فرمایا:
{اَمْ كنْتُمْ شُهدَآئَ اِذْ حَضَرَ یَعْقُوْبَ الْمَوْتُ اِذْ قَالَ لِبَنِیْه مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ بَعْدِیْ قَالُوْا نَعْبُدُ اِلٰهك وَ اِلٰه اٰبَآپك اِبْرٰهٖمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ اِلٰها وَّاحِدًا وَّ نَحْنُ لَه مُسْلِمُوْنَ}(البقرة: ۱۳۳)
’’کیا تم یعقوب کے وقت وفات وہاں موجود تھے جب انہوں نے اپنے بیٹوں کو وصیت کرتے پوچھا تھا کہ تم میرے بعد کس کی عبادت کرو گے ، انھوں نے جواب دیا کہ ہم تو صرف آپ کے الٰہ اور آپ کے آباء و اجداد ابراہیم، اسماعیل اور اسحاق کے صرف ایک الٰہ کی عباد ت کریں گے اور ہم اسی کے اطاعت گزار ہیں۔‘‘
رسول اللہe نے بھی اپنی امت کو متعدد نصیحتیں کیں۔ ایک نصیحت فرمائی کہ مرنے کے بعد سب سے پہلے انسان کا پیٹ بدبو زدہ ہو گا اس لیے ہر صورت رزق حلال ہی کی کوشش کیا کرو۔(صحیح البخاری:۷۱۵۲) انصار اہل ایمان سے خاص حسن سلوک کی وصیت فرمائی۔ مشرکین کو جزیرۃ العرب سے نکال بھگانے کی وصیت کی۔ اللہ عزوجل کے تقویٰ اور امیر کی اطاعت و فرمانبرداری کی وصیت بھی فرمائی۔ مزید یہ کہ اپنی سنت پر عمل کرنے ، خلفائے راشدین کے رستے پر گامزن رہنے اور بدعات سے خود کو بچائے رکھنے کی وصیت فرمائی۔ رسول اللہeنے اپنی زندگی کے آخری طویل ترین خطاب خطبہ حجۃ الوداع میں اور مرض الوفات میں اپنی امت کو وصیتیں ہی تو کی تھیں جن کی اہل اسلام کے ہاں خاص اہمیت ہے۔ آنحضرت کی وصیتوں کے بارے میں مستقل کتابیں بھی تالیف کی گئی ہیں ۔ اسلاف کی وصیتوں کو بھی غیر معمولی اہمیت دی جاتی ہے۔ دعوت کے لیے وصیت اور نصیحت کا اسلوب بھی مفید ہے بشرطیکہ داعی اس کا اہل ہو اور لوگوں کے ہاں اس کی بات کی اہمیت ہو۔    
دعوت دین کے لیے کوئی بھی جائز، مناسب اور مفید اسلوب اختیار کرنا داعی کی فہم وفراست کا آئینہ دار ہوتا ہے۔


No comments:

Post a Comment