قادیانیت ... پس منظر اور مقاصد 41-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Saturday, November 02, 2019

قادیانیت ... پس منظر اور مقاصد 41-2019


قادیانیت ... پس منظر اور مقاصد

تحریر: جناب ڈاکٹر سعید احمد چنیوٹی
قادیانیت کی بنیاد کسی روحانیت یا فلسفے پر نہیں بلکہ یہ خالصتاً سیاسی اٹھان کی حامل تحریک ہے جس کا مقصد مسلمانوں میں تخریب وانتشار اور اپنے آقائے ولی نعمت یہود ونصاریٰ کی خدمت گذاری ہے۔ چنانچہ قادیانی مذہب وفلسفہ کی بنیاد اس سیاسی عزم پر مشتمل ہے کہ ’’گورنمنٹ برطانیہ کی اطاعت عین عبادت ہے۔‘‘
برصغیر میں جو لوگ اسلام پر حملہ آور تھے اور امت مسلمہ کو انتشار کا شکار کرنا چاہتے تھے انہیں مسلمانوں کی صفوں سے کچھ معاونین کی ضرورت تھی۔ انہوں نے مرزا قادیانی کا کندھا استعمال کر کے اپنے مقاصد کی تکمیل کی۔ اس کے لیے انہوں نے قادیانیت کو اخلاقی‘ مالی اور سیاسی تعاون بھی مہیا کیا۔ انگریز کو اس سے سروکار نہیں کہ مرزا مجدد ہے‘ مسیح موعود ہے یا نبی‘ انہیں ایسے شخص کی ضرورت تھی جو امت مسلمہ کے اتحاد کو پارہ پارہ کر دے۔ مسلمانان برصغیر خصوصا اہل ہند مضبوط امت مسلمہ بن کر نہ ابھر سکیں‘ اس بھیانک مشن کے لیے انگریز نے جن لوگوں کا انتخاب کیا ان میں سے سرفہرست مرزا قادیانی تھا جس نے نئی امت کی بنیاد رکھی اور جدید امت نئی نبوت کے بغیر وجود نہیں پا سکتی تھی۔
چنانچہ مرزا قادیانی نے متعدد مقامات پر ایسی عبارات تحریر کیں جن سے اسلام سے ان کا رشتہ مشکوک دکھائی دیتا ہے اور وہ ایک الگ امت‘ تحریک‘ خلافت ونبوت اور ایسے انقلاب کے مدعی ہیں جن کا اسلام سے کوئی دور کا بھی واسطہ نہیں۔
ہندوستان کے مسلمان متعدد وجوہ کی بنا پر پسماندگی‘ جہالت اور ذلت ومحکومیت کی زندگی بسر کر رہے تھے۔ بظاہر اس ملک میں‘ انقلاب وحریت اور غلامی سے نجات کی کوئی صورت نہ تھی۔
مرزا قادیانی کی فکر:
مولانا محمد حنیف ندویa لکھتے ہیں:
’’۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی کے بعد طبیعتوں میں ایک طرح کی مایوسی تھی‘ ایک طرف انگریز اور امریکہ کے پھیلائے ہوئے پادری اسلام پر حملہ کر رہے تھے تو دوسری طرف دیانند اسلام کے خلاف زہر اگل رہا تھا۔ مولانا محمد علی مونگیریa‘ مولانا ثناء اللہ امرتسریa اور قاضی سلیمان منصور پوریa ان کے جواب میں سنجیدہ اور متین علمی لٹریچر کا انبار لگا رہے تھے مگر اس میں وہ ادعا نہ تھا ہمیشہ مسلمانوں نے جس سے دھوکہ کھایا۔
مرزا قادیانی نے اس نفسیاتی ماحول سے فائدہ اٹھایا اور حامی اسلام کے روپ میں میدان مناظرہ میں کود پڑا اور پھر ادعاء ولاف زنی کے ایسے ایسے کرشمے دکھائے کہ یہ حضرات اس فن میں مرزا قادیانی کا مقابلہ نہ کر سکے۔‘‘ (مرزائیت نئے زاویوں سے: ص ۱۴۴)
 مرزا قادیانی کا آغاز:
مرزا قادیانی نے اپنے لیے مذہب کی بنیاد اس ’’غلام آباد‘‘ میں اس وقت رکھی جب کہ ہندوستان کے مسلمان اپنی محکومی اور غلامی کی وجہ سے مذہبی اور سیاسی پستی کی انتہا کو پہنچ چکے تھے۔ بظاہر اس غلامی اور تعبد سے نکلنے اور حریت وآزادی کے لیے سر اٹھانے کی کوئی امید نہ رہی تھی۔ اس وقت بانی فرقہ نے مسلمانوں کی درماندگی اور ذلت کا یقین رکھتے ہوئے اور مسلمانوں کی پستی کو ابدی زوال خیال کرتے ہوئے مجددیت‘ مہدویت‘ مسیحیت اور نبوت کے دعاوی کو بتدریج پیش کیا۔ جوں جوں حکومت وقت کی آئینی گرفت اس بد قسمت ملک کے رہنے والوں پر قوی تر ہوتی گئی‘ بانی فرقہ اپنے دعاوی کو پہلے سے بلند وارفع کرتا چلا گیا حتی کہ وہ وقت آگیا کہ بانی فرقہ کو یقین ہو گیا کہ انگریز حکومت کا دیا ہوا امن وامان جہاں اس کے دعاوی کی بلا خطر اشاعت اور آزادانہ تبلیغ کا ضامن ہے وہاں حکومت کی قوت وسطوت ملک پر وہ سکہ بٹھا چکی ہے کہ دعاوی کو اگر انتہائی منزل پر پہنچا کر بالکل نئے مذہب اور نئی امت کی بنیاد رکھ دی جائے تو مسلمانوں کی قوت مزاحمت نہ ہو سکے گی۔ بلکہ بہت ممکن اور قرین قیاس ہے کہ یہ نئی امت کی تجویز حکومت وقت کے منشا کے مطابق ہو اور اس کے حاکمانہ اغراض کو زیادہ مستحکم کرنے والی ثابت ہوئی۔ (سید داؤد غزنوی: ۱/۳۸۸)
مرزا قادیانی انگریز کی افتراق انگیز حکمت عملی کی پیداوار ہے۔ انگریز کے بل بوتے پر اس نے ترقی کی منزلیں طے کیں۔ مستقبل میں بھی اس کی کامیابی اسی میں مضمر ہے کہ انگریز اس کی سرپرستی کرے۔ انگریزی اقتدار عالم اسلامی میں اگر رہتا ہے تو مرزائیت کے لیے بھی گنجائش ہے اور یہ اقتدار اگر ہٹتا اور سمٹتا ہے تو مرزائیت کے لیے پنپنے کی بھی کوئی امید نہیں رہتی۔ انگریز سرپرست اور بقول اس کے ان کی تلوار ہے۔ چند حوالہ جات اس کے ثبوت میں ملاحظہ فرمائیے جن سے عیاں ہے کہ ان کے عزائم کیا ہیں اور ان کا وجود عالم اسلام کے لیے کتنا خطرناک ہے:
حضرت مسیح موعود (مرزا قادیان) فرماتے ہیں کہ ’’میں وہ مہدی معہود ہوں اور گورنمنٹ برطانیہ میری وہ تلوار ہے جس کے مقابلہ میں ان علماء کی کچھ پیش نہیں جاتی۔‘‘ (الفضل قادیان: جلد ۶‘ صفحہ ۴۲‘ مورخہ ۷ ستمبر ۱۹۱۸ء)
’’ہماری تو دعا ہے کہ اس گورنمنٹ کو آسمانی گورنمنٹ ہر میدان میں کامیاب کرے اور بصرہ وبغداد تو کیا چیز بلکہ ہماری تو دعا ہے کہ ساری دنیا میں اس کا راج قائم ہو جائے۔‘‘ (الفضل قادیان: جلد ۴‘ ۶ مئی ۱۹۱۷ء)
’’موجودہ زمانے کے متعلق جو پیشگوئیاں ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ ہمیں انگریز کے ساتھ تعاون کرنا پڑے گا اور ان کی ترقی کے لیے خواہشمند ہوں گے اور جہاں جہاں ان کی حکومت ہو گی وہاں احمدیت کی تبلیغ کے لیے اللہ تعالیٰ کے فضل سے راستہ کھل جائے گا۔‘‘ (الفضل قادیان: جلد ۲‘ صفحہ ۴۔ ۱۶ ستمبر ۱۹۳۹ء)
’’میں سولہ برس سے برابر اپنی تالیفات میں اس بات پر زور دے رہا ہوں کہ مسلمان ہند پر اطاعت گورنمنٹ برطانیہ فرض ہے۔‘‘ (اشتہار ۱۰ ستمبر ۱۸۹۴)
’’اللہ تعالیٰ نے اپنے سلسلے کی ترقی کے لیے اسی سرزمین کو چنا ہے جو گورنمنٹ برطانیہ کے ماتحت ہے۔ اس لیے بھی مبارکباد کے قابل ہے اگر کوئی سلطنت اس سے بڑھ کر اچھی اور عمدہ ہوئی تو خدا تعالیٰ اپنے سلسلے کی نشو ونما کے لیے اسی کو چنتا۔ پس یہ حکومت جس قدر وسیع ہو گی ہمارا سلسلہ بھی وسیع ہوتا جائے گا۔ (خطبہ جمعہ میاں محمود مندرجہ الفضل جلد ۴‘ نمبر ۱۶۔ ۶ مارچ ۱۹۱۷ء)
فتنہ ملت بیضا ہے امامت اس کی
جو مسلماں کو سلاطین کا پرستار کرے
یہ وہ حالات تھے جب مرزا قادیانی نے اپنے مذموم خیالات کے بل بوتے پر اپنے ارد گرد گمراہ لوگوں کا ہجوم اکٹھا کر لیا تھا۔ مرزا کو اپنی دعوت‘ حوصلوں اور بلند ارادوں کی تکمیل کے لیے مناسب زمانہ اور مناسب جگہ اور مناسب حکومت ملی۔ مذہبی بحثوں کی گرم بازاری‘ عامیانہ ذوق جستجو‘ الغرض ہر چیز اس کے لیے معاون اور سازگار ثابت ہوئی۔ ایسے نازک وقت میں انگریزی حکومت کی مکارانہ نظروں نے مرزا قادیانی کی حکومت کی طرف اٹھی ہوئی حریصانہ نگاہوں کو تاڑ لیا۔ مرزا قادیانی نے سن شعور کے بعد اپنے خاندان کی روایات کے مطابق انگریزی حکومت سے رابطہ قائم کیا۔ انگریزوں نے اس مڈل فیل نبی کا سرسری امتحان لے کر مسلمانوں میں خوفناک فتنہ کھڑا کرنے کے لیے مرزا قادیانی کو جھوٹے نبی کے عہدے کے لیے منتخب کر لیا۔
انگریز حکومت کی نظروں میں جو چیز خار کی طرح کھٹکتی تھی وہ مسلمانوں کی وحدت تھی‘ وہ جانتے تھے کہ جب تک مسلمانوں کا ایمان واسلام باقی اور ان کی اجتماعی قوت برقرار ہے اس وقت تک ہندوستان میں انگریز کا قدم نہیں جم سکتا۔ لہٰذا مسلمانوں کو ان کے ایمان وعقیدے سے برگشتہ کرنے اور ان کی اجتماعی طاقت کو پاش پاش کرنے کے لیے ضروری ہے کہ مسلمان قوم کو اسلامی جذبہ کے لحاظ سے اس قدر مفلوج کر دیا جائے کہ ان میں اپنی کھوئی ہوئی عظمت حاصل کرنے کی ہمت تک نہ رہے۔ اس وحدت کے بارے میں ڈاکٹر محمد اقبالa لکھتے ہیں:
’’مسلمان ان تحریکوں کے مقابلے میں زیادہ حساس ہے جو اس کی وحدت کے لیے خطرناک ہیں‘ چنانچہ ایسی جماعت جو تاریخی طور پر اسلام سے وابستہ ہو لیکن اپنی بنا کسی نبوت پر رکھے اور بزعم خود الہامات پر اعتقاد نہ رکھنے والوں کو کافر سمجھے۔ مسلمان اسے اسلام کی وحدت کے لیے ایک خطرہ تصور کرے گا۔ یہ اس لیے کہ اسلامی وحدت ختم نبوت سے ہی استوار ہوتی ہے۔‘‘ (حرف اقبال: صفحہ ۱۳۶ - ۱۳۷)
 قادیانیت ایک الگ امت ہے:
قادیانیت کا فتنہ اسلامی دنیا میں نئے طرز کا ہے اور یہ فتنہ ہر اعتبار سے پہلے فتنوں سے کہیں بڑھ کر منظم وسیع اور خطرناک ہے۔ یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ اسلام کی چودہ سو سالہ زندگی میں اس سے قبل کبھی بھی امت مسلمہ کو اس قسم کے فتنہ سے سابقہ نہیں پڑا جس نے امت کے تمام طبقوں کو نشانہ بنایا۔ علمی‘ سماجی‘ سیاسی اور معاشی تمام شعبوں میں اثر ونفوذ کے حربے استعمال کیے۔
منفرد عقائد اور معاشرہ کی بنیاد رکھی‘ جب ایک گروہ عملا معاشرہ میں اپنی جداگانہ حیثیت قائم کر لیتا ہے‘ اپنی عصبیت‘ تعلقات اور وابستگی اور حلقہ ارادت سے نئے مرکز اپنا لیتا ہے تو وہ الگ قوم اور امت ہے۔ اس معیار پر قادیانی حضرات کو پرکھیے‘ ان کی نمازیں الگ‘ مساجد جداگانہ‘ ان کے مراکز دعوت اور انداز دعوت جداگانہ اور معاشرتی اعتبار سے اتنی بیگانگی ہے کہ کوئی قادیانی عام مسلمانوں سے رشتہ ناطہ جائز نہیں سمجھتا‘ اس لیے وہ امت مسلمہ سے الگ ہے۔
 نئی امت کا اعلان:
مرزا قادیانی نے ان الفاظ سے ایک نئی امت کی بنیاد ڈالی:
’’جو شخص نبوت کا دعویٰ کرے گا‘ اس دعویٰ میں ضروری ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی ہستی کا اقرار کرے اور نیز یہ بھی کہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے میرے پر وحی نازل ہوتی ہے اور نیز خلق اللہ کو وہ کلام سنا دے جو اس پر خدا تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوا ہے اور ایک امت بنا دے جو اس کو نبی سمجھتی ہو اور اس کی کتاب کو کتاب اللہ جانتی ہو۔‘‘ (ارشاد مرزا- الحکم قادیان: نمبر ۲۱ جلد ۷)
ان تحریرات کے بعد جو خود مرزا قادیانی اور اس کے خلفاء کے اعلانات وہدایات ہیں اس امر کے فیصلہ کرنے میں کوئی دقت نہیں کہ مرزا قادیانی کے متبعین تمام مسلمانوں سے الگ ایک امت اور علیحدہ جماعت ہیں جن کا امت مسلمہ اور امت محمدیہ سے کوئی تعلق نہیں۔
مرزا قادیانی کے دعویٰ نبوت کے خلاف تمام امت مسلمہ متفق ہے اور اس بنیادی مذہبی اختلاف کے علاوہ امت مسلمہ کا ان سے سیاسی اختلاف بھی ہے۔ مرزا قادیانی انگریز کے اقتدار کو جائز نہیں بلکہ قابل فخر بنا کر پیش کرتا ہے۔ اس کے دائرہ اقتدار کو مضبوط بنانے میں کردار ادا کیا۔ دعائیں کیں کہ اس ذلت وتحقیر کے طوق کو عزت وافتخار کا طوق زریں سمجھ کر زیب گلو کر لیں۔ علامہ اقبال فرماتے ہیں:
گفت دیں را رونق از محکومی است
زندگانی از خودی محرومی است
دراصل ایسی جماعت جس کے اصول پھسپھسے‘ بے ثبات‘ مفادات اور گفتار دولت پرستی پر مبنی ہوں‘ سیاسی مفادات اور دنیاوی اغراض جن کا مطمع نظر ہو اور ’’گورنمنٹ برطانیہ کی اطاعت عین عبادت ہے۔‘‘ جن کا نصب العین اور ماٹو ہو ان افراد سے ختم نبوت اور علمی مضامین پر مباحثہ کرنا‘ حیات مسیح ووفات مسیح کے موضوعات زیر بحث لانا اس دور میں تضیع اوقات ہے۔
اگر آپ انہیں دعوت اسلام دینا چاہتے ہیں اور اتمام حجت مقصود ہے‘ پہلے ان کے تعلیم یافتہ طبقہ کو نفس نبوت سمجھائیے کہ منصب نبوت کیا چیز ہے؟ نبوت کے مقاصد کیا ہیں؟ نبی آتے کس لیے ہیں؟ ان کا مشن کیا ہے؟ اور کن حالات میں ان کی بعثت ہوتی ہے؟ وہ معاشرہ‘ قوم‘ ملک وملت کی اصلاح کے لیے کیا پیغام لائے ہیں اور ان کے اہداف کیا ہوتے ہیں‘ وہ پہلے سے جاری نظام میں کس انقلاب کے خواہاں ہوتے ہیں؟ ان کا دعوتی مشن تدریجی ہوتا ہے‘ مخاطبین کے اذہان‘ سطح علمی کے مطابق ان کی گفتگو ہوتی ہے؟ قوم‘ وطن‘ ملک وملت کے حالات وظروف پر ان کی نظر کتنی عمیق اور دور رس ہوتی ہے۔ کس طرح اپنے پاکیزہ خیالات‘ اقوال کی صداقت وتاثیر اور اعمال وکردار کی پختگی انسانوں کی کردار سازی کا فریضہ سرانجام دیتے ہیں۔ بلکہ قبل از نبوت بھی اصلاح انسانیت‘ تطہیر معاشرہ اور تزکیہ نفوس میں ان کا اسوۂ حسنہ بے مثال وبے نظیر اور قابل فخر ہوتا ہے۔
کیا مرزا قادیانی کے متبعین ان کے قول وفعل اور کردار کا کوئی قابل فخر پہلو پیش کر سکتے ہیں؟ ان کی تاریخ شاہد ہے‘ ان کی تالیفات سے عیاں ہے کہ وہ مقاصد نبوت کے ابجد سے بھی ناواقف ہیں۔ کردار واعمال کی حدود وقیود سے نا آشنا ہیں۔ اصلاح معاشرہ اور تعمیر انسانیت کی کارکردگی صفر ہے۔تو پھر قرآنی آیات کی تاویلات‘ احادیث نبویہ کی تحریفات‘ اقوال ائمہ کی غلط تعبیرات سے ایک جھوٹی اور خیالی نبوت کی خاکہ کشی کرنے سے کیا فائدہ؟ ایسی جعلی تصویر میں رنگ بھرنے سے کیا حاصل؟ ہمارے خیال میں یہ سوال اتنا سیدھا‘ نکھرا ہوا اور صاف ہے کہ ہر مرزائی اپنی سابقہ غلطی پر متنبہ ہو گا اور یہ کہہ کر مرزا سے علیحدگی اختیار کرے گا کہ کس عزت فروش اور گھٹیا مدعی کو مان رکھا ہے۔
لہٰذا ایسی حالت میں جس کا مطمع نظر امت مسلمہ کی بربادی ہو‘ مسلمانوں کی شان وشوکت کی تباہی ہو‘ خلافت اسلامیہ کی بیخ کنی ہو۔ جو گرگٹ کی طرح رنگ بدلتے ہوں‘ کبھی سیاست کے لبادہ میں کبھی مذہب کے روپ میں۔
ماہر فلسفہ قادیانیت شورش کاشمیری نے ان کا کیا خوب تجزیہ کرتے ہوئے لکھا:
’’قادیانی مذہب کی پناہ لیتے ہیں لیکن سیاست کا ناٹک کھیلتے ہیں‘ جب کوئی ان کے سیاسی عزائم کا محاسبہ کرتا ہے تو وہ مذہب کے حصار میں بیٹھ کر ’’ہم اقلیت ہیں‘‘ کا ناد بجا دیتے ہیں اور عالمی ضمیر کو معاونت کے لیے پکارتے ہیں جس سے حقائق نا آشنا دنیا سمجھتی ہے کہ پاکستان کے جنونی مسلمان گویا ایک چھوٹی سی اقلیت کو کچل دینا چاہتے ہیں۔‘‘ (عجمی اسرائیل: ۲)
دور حاضر میں قادیانی مظلومانہ لبادہ میں اپنے مشن کے لیے پہلے سے زیادہ کہیں سرگرم ہیں‘ بظاہر خاموشی نظر آتی ہے مگر ان کی جڑیں مزید گہری اور پختہ ہو چکی ہیں۔ ان کے گماشتوں میں اضافہ در اضافہ ہو رہا ہے۔ حالات سنگین سے سنگین ہو چکے ہیں۔ اگر عالم اسلام نے عموما اور اہل پاکستان نے خصوصا اس فتنہ کا سد باب نہ کیا اور بھیانک خطرہ کا ادراک نہ کیا تو قادیانی ملک پاکستان اور اسلام کے لیے مزید مشکلات پیدا کر سکتے ہیں۔
بایں ہمہ اگر اسلام اور پاکستان کی فلاح وبہبود اور ترقی وتعمیر مطلوب ہے تو پھر قادیانیوں اور ان کی طرح کے بھیڑ نما بھیڑیوں کی تطہیر لازم ہے اسلام اور قرآن وحدیث سے تمسک از حد ضروری ہے۔


No comments:

Post a Comment