وما ارسلنک الا رحمۃ للعالمین 42-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Saturday, November 09, 2019

وما ارسلنک الا رحمۃ للعالمین 42-2019


وما ارسلنک الا رحمۃ للعالمین

ربیع الاول کا مہینہ بلاشبہ خیر وبرکات سے لبریز اور پوری انسانیت کے لیے روحانی مسرت کا پیامبر ہے۔ اس ماہ کی نویں تاریخ کو نبی اکرمe دنیا میں تشریف فرما ہوئے اور آپe نے اپنے عالمگیر پیغام سے دنیا میں ایسا صحت مند اور روح پرور انقلاب برپا کیا جس نے نوع انسان کو جہالت سے علم ودانش‘ حیوانیت سے تہذیب وتمدن‘ گمراہی سے رشد وہدایت اور عبادت مخلوق سے عبادت خالق کی طرف منتقل فرمایا۔ الغرض اہل ایمان نے توحید خداوندی کو حرز جاں بناتے ہوئے غیر اللہ سے تعلق توڑ کر ایک خدا سے اپنا تعلق جوڑ لیا۔ چنانچہ رسول اللہe نے نبوت کے تئیس سالہ دور میں وہ کارہائے نمایاں سرانجام دیے جس کی مثال پوری تاریخ عالم میں نہیں ملتی۔
آپe کا یہ کتنا بڑا اعزاز اور مرتبہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپe کو جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا۔ جیسا کہ قرآن مجید میں آیا ہے {وَمَآ اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعٰلَمِیْنَ} یعنی ’’ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔‘‘ اس سے واضح ہوتا ہے کہ آپe کی ذات گرامی رحمت ہی رحمت ہے۔ آپe نے دشمنوں اور غیر مسلموں سے بھی حسن سلوک کیا۔ تاریخ شاہد ہے کہ آپe کے طائف کے تبلیغی سفر میں مشرکین نے آپe سے جو ظالمانہ سلوک کیا اس کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔ آپe نے پتھر کھا کر اور گالیاں سن کر فرمایا تھا [اَللّٰہُمَّ اہْدِ قَوْمِیْ فَاِنَّہُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ] یعنی ’’اے اللہ! میری قوم کو ہدایت دے بلاشبہ وہ نہیں جانتے۔‘‘ آپ کی مکی زندگی میں مشرکین نے آپ کا اور آپe کے صحابہ کرام] کا جینا دو بھر کر رکھا تھا۔ ایک طرف ظلم وتشدد‘ وحشت وبربریت‘ ریشہ دوانی اور دوسری طرف رحمۃ للعالمین کا فتح مکہ کے وقت یہ اعلان کہ {لَا تَثْرِیْبَ عَلَیْکُمُ الْیَوْمَ} آج تم پر کوئی الزام نہیں جاؤ تم سب آزاد ہو۔ انتقام کا شائبہ تک نہیں بلکہ محبت ومودت‘ رحمت ورافت اور امن وسلامتی کا سمندر اپنے جوبن پر تھا۔
ربیع الاول میں لوگ بعض غیر شرعی طریقوں سے رسول اللہe سے محبت وعقیدت کا اظہار کرتے ہیں جو خود فریبی ہے۔ کیونکہ رسول اللہe سے محبت کا تقاضا یہ ہے کہ آپe نے سیرت طیبہ کے جو نقش ونگار چھوڑے ہیں انہی نقوش کو اپنی زندگی کا رہبر اور سفر حیات میں دلیل راہ بتایا جائے اور سیرت طیبہ اور اسوۂ حسنہ کی روشنی میں زندگی کے لیل ونہار بسر کیے جائیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: {قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْکُمُ اللّٰہُ} کہ ’’اگر تم اللہ سے محبت کرنا چاہتے ہو تو میری اتباع کرو‘ اللہ تعالیٰ تم سے محبت کرے گا۔‘‘
حقیقی بات یہ ہے کہ محبت کا اظہار صرف زبان سے نہیں عمل سے ہونا چاہیے۔ جو وہ حکم دیں اس پر عمل کیا جائے‘ جسے وہ پسند کریں اسے پسند کیا جائے جس سے وہ روکیں‘ رک جانا چاہیے۔ آپe کی اطاعت واتباع کو زندگی کا شعار بنایا جائے‘ اس سے دل ایمان کی دولت کا مالک بن جائے گا اور اللہ تعالیٰ تم سے محبت کرے گا اور تم سے راضی ہو جائے گا۔ یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔
نبی اکرمe کا یہ ارشاد گرامی ہر وقت پیش نظر رہنا چاہیے کہ جب کسی قوم میں کوئی بدعت ایجاد ہوتی ہے تو ایک سنت درمیان سے اٹھ جاتی ہے۔ شیخ الاسلام حضرت امام ابن تیمیہa نے مسلمانوں کے عروج وزوال کا تجزیہ کرتے ہوئے اس حقیقت کا اظہار کیا ہے کہ جب قوموں میں بدعت اور رسوم ورواج زور پکڑتے ہیں تو وہ بلندیوں سے پستیوں کی جانب آگرتی ہیں اور جب بدعات وشرکیات سے بچ کر خالص دین حنیف کی اتباع کی جاتی ہے تو پستیاں بلندیوں میں تبدیل ہو جاتی ہیں۔
ذرا غور فرمائیے! آج دنیا میں مسلمان کم وبیش ڈیڑھ ارب کے قریب ہیں اور ان کی ساٹھ خود مختار مملکتیں بہت سے وسائل کے ساتھ موجود ہیں۔ اس کے باوجود وہ مجبور ومقہور اور بڑی طاقتوں کے دست نگر ہیں۔ ہمارا قبلۂ اول ابھی تک یہود کے قبضہ میں ہے۔ پاکستان کی شہ رگ کشمیر میں مسلمان ہنود کے ظلم وستم کا شکار اور موت وحیات کی کشمکش میں مبتلا ہیں۔ مسلمانوں میں یہ سکت نہیں کہ وہ انہیں حق خود ارادیت دلا سکیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم نے اسلامی تعلیمات پر عمل پیرائی سے اعراض کر رکھا ہے۔ پھر مسلمان دنیا میں اتحاد واتفاق کی دولت سے تہی دامن ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ قرآن مجید کے پیغام اور آپe کے اسوۂ حسنہ کو زندگی کا لائحہ عمل بنا لیا جائے تا کہ دارین میں کامیابی سے ہمکنار ہو سکیں۔ ہمیں امید ہے کہ اہل ایمان ربیع الاول میں آپ کے اسوۂ حسنہ کو فراموش نہیں کریں گے۔ اپنی بات کو اس شعر پر ختم کرتے ہیں    ؎
تیری صورت سے ہے عالم میں بہاروں کو ثبات
تیری سیرت کے سوا دنیا میں رکھا کیا ہے؟!


No comments:

Post a Comment