خطبۂ حرم ... قرآن کریم کی تلاوت وتدبر کی فضیلت 42-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Saturday, November 09, 2019

خطبۂ حرم ... قرآن کریم کی تلاوت وتدبر کی فضیلت 42-2019


خطبۂ حرم ... قرآن کریم کی تلاوت وتدبر کی فضیلت

امام الحرم المکی فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر اُسامہ خیاط d
ترجمہ: جناب محمد عاطف الیاس
حمد و ثناء کے بعد!
سب سے سچا کلام اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے۔ بہترین طریقہ نبی اکرم e کا طریقہ ہے۔ ایجاد کردہ عبادتیں بدترین کام ہیں۔ ہر ایجاد کردہ عبادت بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے اور ہر گمراہی جہنم کی طرف لیجاتی ہے۔
اللہ کے بندو! اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم e پر قرآن کریم نازل کیا اور انہیں اس کی فضیلت سے خبردار کیا۔ اللہ نے قرآن کریم میں خود بھی بتایا اور نبی اکرم e کی احادیث کے ذریعے بھی لوگوں کو بتایا کہ جو قرآن کی پناہ میں آتا ہے، قرآن اس کے لیے بہترین قلعہ ہے، جو قرآن میں ہدایت تلاش کرتا ہے، قرآن اسے ہدایت دیتا ہے، جو اسے حاصل کر لیتا ہے، وہ دوسری چیزوں سے بے نیاز ہو جاتا ہے۔ جو اس کی پیروی کرتا ہے، قرآن اسے جہنم سے بچا لیتا ہے۔ جو اس کے نور سے روشناس ہونا چاہتا ہے، قرآن اس کے لیے نور ہے۔ یہ دلوں کے لیے شفا ہے، اہل ایمان کے لیے ہدایت اور رحمت ہے۔ پھر اللہ کریم نے اپنے بندوں کو حکم دیا کہ وہ اس پر ایمان لائیں، اس کی واضح آیات پر عمل کریں۔ اس میں جن چیزوں کو جائز ٹھہرایا گیا ہے، انہیں جائز سمجھیں، جن چیزوں کو ناجائز کہا گیا ہے، انہیں نا جائز سمجھیں۔ متشابہات پر ایمان رکھیں، اس کی مثالوں سے عبرت پکڑیں۔ یوں کہیں کہ
’’ہمارا اُن پر ایمان ہے، یہ سب ہمارے رب ہی کی طرف سے ہیں۔‘‘ (آل عمران: ۷)
پھر اس کی تلاوت کرنے اور اس پر عمل کرنے پر جہنم سے نجات اور جنت میں داخلے کا وعدہ کیا ہے۔ پھر اپنی مخلوق کو نصیحت کی کہ جب وہ اس کی کتاب کی تلاوت کریں تو اپنے دلوں سے اس پر غور وفکر بھی کریں۔ جب اسے کسی دوسرے سے سنیں تو بہترین طریقے سن سنیں۔ ایسا کرنے پر ان سے اجر عظیم کا وعدہ بھی کیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو بتایا کہ جو قرآن کریم کی تلاوت کرتا ہے اور اللہ سے تجارت کی چاہت رکھتا ہے تو وہ اسے ایسا منافع دیتا ہے جس سے زیادہ کوئی منافع نہیں۔ اسے دنیا میں ہی محسوس کرا دیتا ہے کہ اللہ کے ساتھ تجارت میں دنیا وآخرت کی برکات ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
’’جو لوگ کتاب اللہ کی تلاوت کرتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے اُنہیں رزق دیا ہے اس میں سے کھلے اور چھپے خرچ کرتے ہیں، یقیناً وہ ایک ایسی تجارت کے متوقع ہیں جس میں ہرگز خسارہ نہ ہوگا۔ (اس تجارت میں انہوں نے اپنا سب کچھ اِس لیے کھپایا ہے) تاکہ اللہ اُن کے اجر پورے کے پورے اُن کو دے اور مزید اپنے فضل سے ان کو عطا فرمائے‘ بے شک اللہ بخشنے والا اور قدردان ہے۔ (اے نبی!) جو کتاب ہم نے تمہاری طرف وحی کے ذریعہ سے بھیجی ہے وہی حق ہے، تصدیق کرتی ہوئی آئی ہے اُن کتابوں کی جو اِس سے پہلے آئی تھیں بے شک اللہ اپنے بندوں کے حال سے باخبر ہے اور ہر چیز پر نگاہ رکھنے والا ہے۔ پھر ہم نے اس کتاب کا وارث بنا دیا اُن لوگوں کو جنہیں ہم نے (اِس وراثت کے لیے) اپنے بندوں میں سے چن لیا‘ اب کوئی تو ان میں سے اپنے نفس پر ظلم کرنے والا ہے اور کوئی بیچ کی راہ ہے، اور کوئی اللہ کے اذن سے نیکیوں میں سبقت کرنے والا ہے، یہی بہت بڑا فضل ہے ہمیشہ رہنے والی جنتیں ہیں جن میں یہ لوگ داخل ہوں گے‘ وہاں انہیں سونے کے کنگنوں اور موتیوں سے آراستہ کیا جائے گا، وہاں ان کا لباس ریشم ہوگا  اور وہ کہیں گے کہ شکر ہے اُس خدا کا جس نے ہم سے غم دور کر دیا، یقیناً ہمارا رب معاف کرنے والا اور قدر فرمانے والا ہے جس نے ہمیں اپنے فضل سے ابدی قیام کی جگہ ٹھہرا دیا، اب یہاں نہ ہمیں کوئی مشقت پیش آتی ہے اور نہ تکان لاحق ہوتی ہے۔‘‘ (فاطر: ۲۹-۳۵)
اسی طرح فرمانِ الٰہی ہے:
’’حقیقت یہ ہے کہ یہ قرآن وہ راہ دکھاتا ہے جو بالکل سیدھی ہے‘ جو لو گ اسے مان کر بھلے کام کرنے لگیں انہیں یہ بشارت دیتا ہے کہ ان کے لیے بڑا اجر ہے۔ جو لوگ آخرت کو نہ مانیں انہیں یہ خبر دیتا ہے کہ ان کے لیے ہم نے دردناک عذاب مہیا کر رکھا ہے۔‘‘ (الاسراء: ۹-۱۰)
اسی طرح فرمایا:
’’ہم اِس قرآن کے سلسلہ تنزیل میں وہ کچھ نازل کر رہے ہیں جو ماننے والوں کے لیے تو شفا اور رحمت ہے، مگر ظالموں کے لیے خسارے کے سوا اور کسی چیز میں اضافہ نہیں کرتا۔‘‘ (الاسراء: ۸۲)
اسی طرح فرمایا:
’’لوگو! تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے نصیحت آ گئی ہے‘ یہ وہ چیز ہے جو دلوں کے امراض کی شفا ہے اور جو اسے قبول کر لیں ان کے لیے رہنمائی اور رحمت ہے۔ اے نبیؐ! کہو کہ یہ اللہ کا فضل اور اس کی مہربانی ہے کہ یہ چیز اس نے بھیجی، اس پر تو لوگوں کو خوشی منانی چاہیے، یہ اُن سب چیزوں سے بہتر ہے جنہیں لوگ سمیٹ رہے ہیں۔‘‘ یونس: ۵۶-۵۷)
اسی طرح فرمانِ الٰہی ہے:
’’لوگو! تمہارے رب کی طرف سے تمہارے پاس دلیل روشن آ گئی ہے اور ہم نے تمہاری طرف ایسی روشنی بھیج دی ہے جو تمہیں صاف صاف راستہ دکھانے والی ہے‘ اب جو لوگ اللہ کی بات مان لیں گے اور اس کی پناہ ڈھونڈیں گے ان کو اللہ اپنی رحمت اور اپنے فضل و کرم کے دامن میں لے لے گا اور اپنی طرف آنے کا سیدھا راستہ ان کو دکھا دے گا۔‘‘ النساء: ۱۷۴-۱۷۵)
اسی طرح اللہ پاک کا فرمان ہے:
’’سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوط پکڑ لو اور تفرقہ میں نہ پڑو‘ اللہ کے اُس احسان کو یاد رکھو جو اس نے تم پر کیا ہے تم ایک دوسرے کے دشمن تھے، اُس نے تمہارے دل جوڑ دیے اور اس کے فضل و کرم سے تم بھائی بھائی بن گئے‘ تم آگ سے بھرے ہوئے ایک گڑھے کے کنارے کھڑے تھے، اللہ نے تم کو اس سے بچا لیا۔ اس طرح اللہ اپنی نشانیاں تمہارے سامنے روشن کرتا ہے شاید کہ اِن علامتوں سے تمہیں اپنی فلاح کا سیدھا راستہ نظر آ جائے۔‘‘ (آل عمران: ۱۰۳)
قرآن ہی اللہ کی رسی ہے۔اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
’’اللہ نے بہترین کلام اتارا ہے، ایک ایسی کتاب جس کے تمام اجزاء ہم رنگ ہیں اور جس میں بار بار مضامین دہرائے گئے ہیں اُسے سن کر اُن لوگوں کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں جو اپنے رب سے ڈرنے والے ہیں، اور پھر ان کے جسم اور ان کے دل نرم ہو کر اللہ کے ذکر کی طرف راغب ہو جاتے ہیں۔ یہ اللہ کی ہدایت ہے جس سے وہ راہ راست پر لے آتا ہے جسے چاہتا ہے اور جسے اللہ ہی ہدایت نہ دے اس کے لیے پھر کوئی ہادی نہیں۔ـ‘‘ (الزمر: ۲۳)
اسی طرح بلند ذات نے فرمایا:
’’یہ ایک بڑی برکت والی کتاب ہے جو (اے محمدؐ) ہم نے تمہاری طرف نازل کی ہے تاکہ یہ لوگ اس کی آیات پر غور کریں اور عقل و فکر رکھنے والے اس سے سبق لیں۔‘‘ (صٰ: ۲۹)
اسی طرح فرمایا:
’’اِسی طرح ہم نے اِسے قرآن عربی بنا کر نازل کیا ہے اور اس میں طرح طرح سے تنبیہات کی ہیں‘ شاید کہ یہ لوگ کج روی سے بچیں یا ان میں کچھ ہوش کے آثار اِس کی بدولت پیدا ہوں۔‘‘ (طٰہٰ: ۱۱۳)
پھر اللہ نے یہ وعدہ بھی کیا ہے کہ جو شخص قرآن کریم کو پورے ادب کے ساتھ سنے گا، اس سے عبرت پکڑے گا، اس کی اتباع کا فرض ادا کرے گا، اس پر عمل کرے گا تو وہ اسے ہر خیر کی بشارت دے گا۔ اللہ تعالیٰ نے ایسے شخص کے ساتھ بھی بہترین ثواب کا وعدہ کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
’’(پس (اے نبیؐ) بشارت دے دو میرے اُن بندوں کو جو بات کو غور سے سنتے ہیں اور اس کے بہترین پہلو کی پیروی کرتے ہیں‘ یہ وہ لوگ ہیں جن کو اللہ نے ہدایت بخشی ہے اور یہی دانشمند ہیں۔‘‘ الزمر: ۱۷-۱۸)
ہمارے پروردگار کے کلام کے سارے پہلو ہی اچھے ہیں، پڑھنے والے کے لیے بھی اور سننے والے کے لیے بھی۔ اس آیت میں یہ ان لوگوں کا حال بیان کیا گیا ہے جو جب قرآن کو سنتے ہیں تو اللہ کا قرب حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ اپناتے ہیں، اللہ کی بتائی ہوئی باتوں میں سے  اللہ کی خوشنودی کے حصول کے لیے اور اس کی رحمت پانے کے لیے بہترین ذریعہ اپناتے ہیں۔ جب اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان سنتے ہیں:
’’جب قرآن تمہارے سامنے پڑھا جائے تو اسے توجہ سے سنو اور خاموش رہو، شاید کہ تم پر بھی رحمت ہو جائے۔‘‘ (الاعراف: ۲۰۴)
تو ان کے سننے کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ ذہن نشین کر لیتے ہیں کہ کون سی چیز ان کے لیے جائز اور کون سی نا جائز۔ جو اللہ کے اس فرمان کو سنتے ہیں:
’’بس تم اِس قرآن کے ذریعہ سے ہر اُس شخص کو نصیحت کر دو جو میری تنبیہ سے ڈرے۔‘‘ (ق: ۴۵)
اللہ تعالیٰ نے ہمیں جنوں کے متعلق بھی بتایا کہ جب انہوں نے قرآن کریم سنا تو کیسے بہترین انداز میں سنا اور کس طرح اللہ کی بات پر عمل کیا، پھر لوٹے اور قرآن کے ذریعے اپنی قوم کو بہترین نصیحت کی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
’’اے نبیؐ! کہو، میری طرف وحی بھیجی گئی ہے کہ جنوں کے ایک گروہ نے غور سے سنا پھر (جا کر اپنی قوم کے لوگوں سے) کہا: ہم نے ایک بڑا ہی عجیب قرآن سنا ہے جو راہ راست کی طرف رہنمائی کرتا ہے‘ اِس لیے ہم اُس پر ایمان لے آئے ہیں اور اب ہم ہرگز اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کریں گے۔‘‘ الجن: ۱-۲)
اسی طرح فرمانِ الٰہی ہے:
’’(اور وہ واقعہ بھی قابل ذکر ہے) جب ہم جنوں کے ایک گروہ کو تمہاری طرف لے آئے تھے تاکہ قرآن سنیں جب وہ اُس جگہ پہنچے (جہاں تم قرآن پڑھ رہے تھے) تو انہوں نے آپس میں کہا خاموش ہو جاؤ پھر جب وہ پڑھا جا چکا تو وہ خبردار کرنے والے بن کر اپنی قوم کی طرف پلٹے۔ انہوں نے جا کر کہا، اے ہماری قوم کے لوگو! ہم نے ایک کتاب سنی ہے جو موسیٰؑ کے بعد نازل کی گئی ہے، تصدیق کرنے والی ہے اپنے سے پہلے آئی ہوئی کتابوں کی، رہنمائی کرتی ہے حق اور راہ راست کی طرف اے ہماری قوم کے لوگو! اللہ کی طرف بلانے والے کی دعوت قبول کر لو اور اس پر ایمان لے آؤ، اللہ تمہارے گناہوں سے درگزر فرمائے گا اور تمہیں عذاب الیم سے بچا دے گا۔‘‘ (الاحزاب: ۲۹-۳۱)
سورہ ق والقرآن میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایسی چیزیں بتائی ہیں جو زمین وآسمان میں اس کی عظیم مخلوقات کے بارے میں ہمیں بہت کچھ بتاتی ہیں، اس کی تخلیق میں عجیب عجیب چیزیں دکھاتی ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اسی سورت میں موت کاذکر کیا اور اس کی ہولناکی بیان کی، پھر آگ اور اس کے عذاب کا ذکر کیا۔ پھر جنت کا ذکر کیا اور تبایا کہ اس نے اپنے ولیوں کے لیے کیا تیار کر رکھا ہے۔ فرمایا:
’’وہاں ان کے لیے وہ سب کچھ ہوگا جو وہ چاہیں گے، اور ہمارے پاس اس سے زیادہ بھی بہت کچھ ان کے لیے ہے۔‘‘ (ق: ۳۵)
پھر یہ سب بیان کرنے کے بعد فرمایا:
’’اِس تاریخ میں عبرت کا سبق ہے ہر اس شخص کے لیے جو دل رکھتا ہو، یا جو توجہ سے بات کو سنے۔‘‘ (ق: ۳۷)
بتایا کہ جو اپنے کانوں سے قرآن کریم کو سنتا ہے، اسے چاہیے کہ وہ سنائی جانے والی آیات کو اپنے دل سے دیکھ بھی لے، تاکہ اسے قرآن کریم کی تلاوت اور اسے سننے کا فائدہ بھی ہو۔
پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کو قرآن کریم پر تدبر کرنے پر بھی ابھارا ہے۔ فرمایا:
’’کیا ان لوگوں نے قرآن پر غور نہیں کیا، یا دلوں پر اُن کے قفل چڑھے ہوئے ہیں؟‘‘(محمد: ۲۴)
اسی طرح فرمانِ الٰہی ہے:
’’کیا یہ لوگ قرآن پر غور نہیں کرتے؟ اگر یہ اللہ کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو اِس میں بہت کچھ اختلاف بیانی پائی جاتی۔‘‘ (النساء: ۸۲)
اللہ آپ کی نگہبانی فرمائے! کیا تم نہیں دیکھتے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو اپنے کلام پر غور وفکر کرنے پر ابھارتا ہے۔ جو اللہ کے کلام پر تدبر کرتا ہے وہ اپنے پروردگار کو پہچان لیتا ہے، اس کی عظیم سلطنت اور قدرت کو بھی جان لیتا ہے، اہل ایمان پر اس کی خصوصی کرم نوازی کو بھی جان لیتا ہے۔ وہ جان لیتا ہے کہ ایک فرض اللہ کی عبادت بجا لانا ہے۔ پھر وہ اس فرض کی ادائیگی میں لگ جاتا ہے اور جن چیزوں سے پروردگار نے روکا ہے، ان سے رک جاتا ہے۔ جن کی اللہ نے امید دلائی ہے، ان چیزوں کی امید میں رہتا ہے۔ قرآن کریم کی تلاوت اور اسے سنتے وقت جس کا یہ حال ہو، قرآن اس کے لیے شفا بن جاتا ہے۔ وہ بغیر مال کے ہی بے نیاز ہو جاتا ہے۔ بغیر قبیلے کے ہی عزت والا بن جاتا ہے۔ جن چیزوں سے دوسرے لوگ دور بھاگتے ہیں، وہ اسی میں اپنا انس محسوس کرنے لگتا ہے۔ کیونکہ قرآن کریم کی تلاوت ایک عبادت ہے اور عبادت غفلت میں نہیں ہو سکتی۔ سیدنا ابن مسعودt بیان کرتے ہیں: ’’اسے یوں مت پھیلاؤ جیسے بیکار کھجوروں کو پھیلایا جاتا ہے، اسے یوں مت ہلاؤ جیسے بالوں کو ہلایا جاتا ہے، اس کی شان دار آیات کو رک روک کر پڑھو۔ دلوں کو ان سے حرکت دو۔ سورتوں کو ختم کرنا اپنا مقصد نہ بناؤ‘‘۔
دوسرا خطبہ
حمد وصلوٰۃ کے بعد:
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ سے ڈرو اور سچے لوگوں کا ساتھ دو۔‘‘ (التوبہ: ۱۱۹)
اسی طرح فرمانِ الٰہی ہے:
’’جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے، وہ اُسے اس طرح پڑھتے ہیں جیسا کہ پڑھنے کا حق ہے۔‘‘ (البقرۃ: ۱۲۱)
یعنی: اس کی یوں پیروی کرتے ہیں جیسے پیروی کرنے کا حق ہے۔ دل سے پڑھتے ہیں، زبان سے الفاظ ادا کرتے ہیں۔ اس کے احکام کو عمل میں بھی لاتے ہیں۔ اس کے حروف کو بھی جانتے ہیں اور رکنے اور ملانے کے مقامات کو بھی جانتے ہیں۔ اس پر یوں عمل کرتے ہیں جیسے عمل کرنے کا حق ہے۔ رسول اللہ e نے فرمایا: ’’کچھ لوگ اللہ کے خاص اور قریبی لوگ ہیں۔ کہا گیا: اے اللہ کے رسول! یہ کون لوگ ہیں؟ آپ e نے فرمایا: اہلِ قرآن اللہ کے قریبی اور اس کے خاص لوگ ہیں‘‘، اسی طرح آپ e نے فرمایا: ’’صاحبِ قرآن سے کہا جائے گا: پڑھتا جا اور چڑھتا جا۔ ویسے تلاوت کر جیسے تو دنیا میں کرتا تھا۔ تمہارا مقام وہی ہو گا جہاں تو آخری آیت تلاوت کرے گا‘‘ اسی طرح آپ e نے فرمایا: ’’تم میں بہترین لوگ وہ ہیں جو قرآن کریم کو پڑھتے اور پڑھاتے ہیں۔‘‘ اسی طرح آپ e نے فرمایا: ’’کون چاہتا ہے کہ بطحان یا عقیق جائے، اور وہاں سے روزانہ  دو موٹے تازے اور رنگت میں سفیدی کی طرف مائل اونٹ لے آئے۔ وہ بھی بغیر کسی گناہ یا قطع رحمی کے! لوگوں نے کہا: یہ تو ہم سب چاہتے ہیں۔ آپe نے فرمایا: اگر کوئی شخص مسجد میں جا کر دو آیتیں سیکھ لے تو یہ اس کے لیے دو اونٹوں سے بہتر ہے، تین سیکھ لے تو تین سے بہتر ہے۔ چار سیکھ لے تو چار سے بہتر ہے۔ جتنی آیتیں سیکھ لے اتنے اونٹوں سے بہتر ہے۔‘‘ اسی طرح رسول اللہ e نے فرمایا: ’’جب بھی کچھ لوگ اللہ کے کسی گھر میں اکٹھے ہو جاتے ہیں اور وہاں آپس میں کتاب اللہ کو پڑھتے پڑھاتے ہیں، تو ان پر سکینت ضرور نازل ہو جاتی ہے، رحمت ضرور ان پر چھا جاتی ہے، فرشتے ضرور انہیں گھیر لیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ فرشتوں میں ان کا ذکر کرتا ہے۔‘‘ سیدنا ابن عباسw سے کہا گیا: ’’کون سا عمل افضل ہے؟ انہوں نے فرمایا: اللہ کا ذکر تو سب سے بڑی چیز ہے۔ جب بھی کچھ لوگ اللہ کے کسی گھر میں اکٹھے ہو جاتے ہیں، وہاں بیٹھ کر کتاب اللہ کو پڑھتے پڑھاتے ہیں، تو فرشتے ضرور انہیں اپنے پروں سے ڈھانپ لیتے ہیں، اور جب تک وہ وہاں بیٹھے رہتے ہیں، اللہ کے مہمان ہوتے ہیں۔ الّا یہ کہ وہ کسی اور بات میں مصروف ہو جائیں‘‘۔
’’اللہ کے بندو! اللہ عدل، احسان اور صلہ رحمی کا حکم دیتا ہے۔ بدی، بے حیائی اور ظلم و زیادتی سے منع کرتا ہے۔ وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے، تاکہ تم سبق لو۔‘‘ (النحل: ۹۰)
اللہ کو یاد کرو! وہ تمہیں یاد رکھے گا۔ اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرو، وہ تمہیں اور عطا فرمائے گا۔ اللہ کا ذکر تو اس سے بھی بڑی چیز ہے۔ اور اللہ آپ کے اعمال سے باخبر ہے۔


No comments:

Post a Comment