رحمتِ دو عالم ﷺ کی حیات ووصال 42-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Saturday, November 09, 2019

رحمتِ دو عالم ﷺ کی حیات ووصال 42-2019


رحمتِ دو عالم ﷺ کی حیات ووصال

تحریر: جناب مولانا امیر افضل اعوان
خالق کائنات کی طرف سے ایک لاکھ چوبیس ہزار کے قریب انبیاء کرامo مبعوث فرمانے، ۳ آسمانی کتابیں اور لاتعداد صحیفے نازل کئے جانے کے باوجود یہاں بنی اسرائیل جیسی سرکش اور اسی قبیل کی دیگرنافرمان قوموں کی وجہ سے دنیا ابھی تک جہالت کی تاریکیوں میں ڈوبی ہوئی تھی کہ خالق کائنات نے بنی نوح انسان کو راہ راست پر لانے کے لئے سلسلہ نبوت ختم کرتے ہوئے سرور کائنات محمد مجتبیٰe کو اپنا آخری رسولe بناکر بھجوایا اور الہامی کتابوں کے نزول کا سلسلہ بھی موقوف کرتے ہوئے قرآن مجید نازل فرمایا۔ بلاشبہ رسول کریمe کی دنیا میں آمد کے ساتھ ہی جہالت کی تاریکیاںچھٹ گئیں اور انسان کو اس کی عظمت حقیقی سے آشنائی میسر آئی۔ ربیع الاول کا مہینہ اس لحاظ سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے کہ اس میں سرور کائنات ، پیکر حسن و جمال، رحمت مجسم پیغمبر اعظم e کی ولادت با سعادت ہوئی۔ ربیع الاول کی نو تاریخ عام الفیل بمطابق ۲۲ اپریل ۵۷۱ء سوموار کا دن تھا ، وقت صبح صادق کا اور موسم بہار کا تھا ، رات کی ظلمتیں چھٹ رہی تھیں ، دن کا اجالا ہر سو پھیل رہا تھاایسے عالم میںبنی انسان کا مقدر سنورنے والی ایک عظیم المرتبت ہستی دنیا میں نزول پذیر ہوئی کہ جس کا نہ کوئی پہلے ثانی گزرا اور نہ ہی تا ابد اور کوئی آئے گا۔
تاریخ کے صفحات پر نظر ڈالیں توبخوبی احساس ہوتا ہے کہ ہمارے پیارے نبی حضرت محمدe کی تشریف آوری سے قبل پوری  دنیا کفر و ضلالت کے اندھیروں میں ڈوبی ہوئی تھی اور لوگوں کی مذہبی، اخلاقی، تمدنی، معاشی اور معاشرتی زندگی موت سے بھی بدتر تھی۔ ہر طرف کفر ہی کفر تھا ، شرافت ، دیانت ، شرم و حیا ، انصاف ، محبت واخوت، چادر اور چار دیواری کے تقدس کو کوئی اہمیت نہیں دی جاتی تھی۔ ہر جانب جہالت پنجے گاڑے ہوئے تھی اور عملاً جنگل کا قانون نافذ تھاجس کی وجہ سے زنا، شراب نوشی، چوریاں ، ڈکیتیاں ، لوٹ مار سمیت طرح طرح کے ظلم و ستم کا بازار گرم تھا بالخصوص اللہ تعالی کی ذات و صفات میں غیر اللہ کو شریک ٹھہرانا ان تمام برائیوں میں سرفہرست تھا۔ چاند ، سورج ، نجوم ، کواکب ، جنات اور آگ کی پرستش، بت پرستی عام تھی یہاں تک کہ بیت اللہ میں سینکڑوں بتوں کی پوجا کی جاتی تھی ، الغرض یہ کہ عرب کے لوگ اپنے افعال و کردار کے لحاظ سے انتہائی پستی میں تھے۔
دنیا تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی تھی کہ رحمت الٰہی کو جوش آیا اورنسل آدم بالخصوص جہنم کے کنارے پر پہنچنے والے اہل عرب کی اصلاح اور نجات کیلئے حضرت محمد e کو نبی بنا کر دنیا میں بھیجا تاکہ انسان کو راہ راست پر لایا جاسکے۔ قرآ ن کریم میںاس حوالہ سے ارشاد ربانی ہے کہ
’’(اے محمد !) کہہ دو کہ لوگو! میں تم سب کی طرف خدا کا بھیجا ہوا ہوں (یعنی اس کا رسولe) (وہ) جو آسمانوں اور زمین کا بادشاہ ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہی زندگانی بخشتا ہے اور وہی موت دیتا ہے۔ تو خدا پر اور اس کے رسول پیغمبر امیe پر ایمان لائو جو خدا پر اور اسکے (تمام) کلام پر ایمان رکھتے ہیں اور ان کی پیروی کرو تاکہ ہدایت پاؤ۔‘‘ (الاعراف: ۱۵۸)
یہ آیت سید عالمe کی عالمگیر رسالت کی دلیل ہے کہ آپ e تمام خَلق کے رسول e ہیں۔ بخاری ومسلم کی حدیث ہے حضوراکرمe فرماتے ہیں کہ پانچ چیزیں مجھے ایسی عطا ہوئیں جو مجھ سے پہلے کسی کو نہ ملیں:
1          ہر نبی ؑ خاص قوم کی طرف مبعوث ہوتاتھا اور میں سْرخ و سیاہ کی طرف مبعوث فرمایا گیا۔
2          میرے لئے غنیمتیں حلال کی گئیں اور مجھ سے پہلے کسی کے لئے نہیں ہوئی تھیں۔
3          میرے لئے زمین پاک اور پاک کرنے والی (قابلِ تَیَمّْم) اور مسجد کی گئی جس کسی کو کہیں نماز کا وقت آئے وہیں پڑھ لے۔
4          دشمن پر ایک ماہ کی مَسافت تک میرا رعب ڈال کر میری مدد فرمائی گئی۔
5          مجھے شفاعت عنایت کی گئی، مسلم شریف کی حدیث میں یہ بھی ہے کہ میں تمام خَلق کی طرف رسول بنایا گیا اور میرے ساتھ انبیاء  ؑختم کئے گئے۔
نبی کریمe کی شان بارے قرآن کریم میں خالق کائنات خود ارشاد فرما ہے کہ
’’یقینا تمہارے لئے رسول اللہe میں عمدہ نمونہ ( موجود ) ہے۔‘‘ (الاحزاب)
رسول اللہe کا ارشاد پاک ہے کہ
’’اللہ نے سیدنا اسماعیلu کی اولاد سے کنا نہ کو‘ کنانہ میں سے قریش کو اور قریش میں سے بنی ہاشم کو پسند فرمایا اور بنی ہاشم میں سے مجھ کو چن لیا۔‘‘ (مشکوٰۃ)
اللہ پاک خود نبی کریمeکی شان رسالت بارے قرآن مجید میں فرماتا ہے کہ
’’وہی ہے جس نے اپنے رسولe کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا تاکہ اسے ہر دین پر غالب کرے اور اللہ تعالیٰ کافی ہے گواہی دینے والا۔‘‘ (الفتح: ۲۸)
ایک اور مقام پر فرمایا گیا کہ
’’ (اے محمد !) ہم نے تم کو سچائی کے ساتھ خوشخبری سنانے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے اور اہل دوزخ کے بارے میں تم سے کچھ پرسش نہیں ہوگی۔‘‘ (البقرہ:۱۱۹)
یہاں آپe کی نبوت کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا جارہا ہے کہ آپe کا کام صرف اللہ کا پیغام بندوں تک پہنچا دینا ہے، اب اگر لوگ ایمان نہیں لاتے اور دوزخ کے مستحق ٹھہرتے ہیں تو اس سلسلہ میں آپ e پر کچھ الزام نہیں۔
رسول اکرم e کی نبوت کی گواہی دیتے ہوئے قرآن کریم میں ایک اور مقام پرخودخالق کائنات ارشاد فرما ہے کہ
’’(اے آدم زاد) تجھ کو جو فائدہ پہنچے وہ خدا کی طرف سے ہے اور جو نقصان پہنچے وہ تیری ہی (شامت اعمال کی) وجہ سے ہے اور (اے محمد!) ہم نے تم کو لوگوں (کی ہدایت) کے لیے پیغمبر بنا کر بھیجا ہے اور (اس بات کا) خدا ہی گواہ کافی ہے۔‘‘ (النساء: ۷۹)
اللہ رب العزت نبی کریم e کی شان رسالت اور قرآن پاک کی اہمیت بارے ایک اور مقام پر ارشاد فرما ہے کہ
’’یہ خدا کی آیتیں ہیں جو ہم تم کو سچائی کے ساتھ پڑھ کر سناتے ہیں (اور اے محمدe) تم بلاشبہ پیغمبروں میں سے ہو۔‘‘ (البقرہ: ۲۵۲)
خالق کائنات نے رسول کریمe کو جہاں اور درجات دیئے وہیں انہیں مقام محمود سے سرفراز کر نے کی بھی نوید سنائی‘ سیدنا ابن مسعودؓ سے روایت ہے کہ آنحضرتeسے پوچھا گیا کہ مقام محمود اور اس کی اہمیت وخصوصیت ) کیا ہے ؟ جس کا اس آیت میں آپe سے وعدہ کیا گیا ہے
’’اور رات کے کچھ حصے میں تہجد بھی پڑھا کرو، جو کہ آپ کے لئے ایک زائد عبادت ہے، بعید نہیں کہ آپ کا رب آپ کو سرفراز فرما دے مقام محمود سے۔‘‘ (الاسراء: ۷۹)
تو آپ eنے فرمایا : ’’اس دن ( کہ جب مجھے یہ مقام محمود عطا ہوگا ) اللہ تعالیٰ اپنی کرسی پر نزول جلال فرمائے گا اور وہ کرسی چرچرائے گی۔ جیسا کہ نئے چمڑے کی تنگ زین چرچراتی ہے اور اس کرسی کی کشادگی ووسعت اتنی ہے جتنی کہ زمین وآسمان کی درمیانی فضا ، پھر تم سب کو برہنہ پا۔ ننگے بدن اور بے ختنہ ( میدان حشر ) میں لایا جائے گا اور اس دن سب سے پہلے جس شخص کو لباس پہنا جائے گا وہ سیدنا ابراہیمu ہوں گے‘ چنانچہ اللہ تعالیٰ (فرشتوں کو ) حکم دے گا کہ میرے دوست کو لباس پہناؤ ، اور جنت کی چادروں میں سے ملائم کتان کی دو سفید چادریں لا کر سیدنا ابراہیمu کو پہنائی جائیں گی ، ان کے بعد مجھ کو لباس پہنایا جائے گا اور پھر میں اللہ تعالیٰ کے دائیں جانب کھڑا ہوں گا اور ( یہ اعزاز ملنے پر ) اگلے پچھلے تمام لوگ مجھ پر رشک کریں گے۔‘‘ (دارمی۔ بحوالہ مشکوٰۃ شریف، جلد پنجم، حدیث ۱۶۴)
اس حدیث میں ’’ پرودگار کی کرسی ‘‘کی کشادگی و وسعت کو بیان کرنے کے لئے زمین وآسمان کی درمیانی فضا کی مثال دی گئی ہے۔
آپ eاخلاق اور شرم و حیا کے حوالہ سے ایک مثالی شخصیت تھے۔ نہ ہی آپ e نے نازیبا بات کی اور نہ کبھی برداشت کی‘ اس حوالہ سے ایک حدیث مبارکہ میں آتا ہے‘ سیدنا ابوسعید خدریt کہتے ہیں کہ رسول کریمe پردہ میں رہنے والی کنواری لڑکی سے بھی زیادہ باحیا تھے ، جب کوئی خلاف مزاج بات (طبعی طور پر غیر پسندیدہ یا غیر شرعی ہونے کی وجہ سے) پیش آجاتی تو ہم آپe کے چہرہ مبارک سے آپe کی ناگواری کو محسوس کرلیتے( بخاری ومسلم۔ بحوالہ مشکوۃ شریف، جلد پنجم، حدیث ۳۹۶)
حدیث کے آخری جزو کا مطلب یہ ہے کہ جب آپeکے سامنے کوئی ایسی بات پیش آتی جو طبعی طور پر غیر پسندیدہ یا غیر شرعی ہونے کی وجہ سے آپe کے مزاج کے خلاف ہوتی تو اس کی ناگواری کے اثر سے چہرہ مبارک فورًا متغیرہوجاتا اور ہم اس تغیر سے آپ e کی ناگواری کو محسوس کرکے اس کے دفیعہ کی کوشش کرتے۔ چنانچہ آپe کے چہرہ سے ناگواری کے اثرات ختم ہوجاتے تھے اور یہ محسوس ہونے لگتا تھا کہ آپe بالکل غصہ نہیں ہوئے تھے لیکن یہ اس صورت میں ہوتا تھا جب اس خلاف مزاج بات کا تعلق کسی طبعی امر سے ہوتا یا کسی ایسے شرعی امر سے ہوتا جس کا ارتکاب حرام ناجائز بلکہ مکروہ ہوتا۔‘‘ مشکوۃ شریف، جلد پنجم، حدیث: ۳۹۶)
قرآن کریم کی حقانیت اور آپe کی رسالت کے حوالہ سے قرآن کریم میں ایک اور مقام پر خالق کائنات ارشاد فرما ہے کہ
’’اس نے (اے محمد!) تم پر سچی کتاب نازل کی جو پہلی (آسمانی) کتابوں کی تصدیق کرتی ہے اور اسی نے تورات اور انجیل نازل کی۔‘‘ (آل عمران: ۳)
ایک اور مقام پر فرمایا گیا کہ
’’اور اب ہم نے اتارا آپ eکی طرف (اے پیغمبر!) اس کتاب (عظیم) کو حق کے ساتھ، تصدیق کرنے والی بنا کر، ان تمام کتابوں کے لئے جو کہ اس سے پہلے آچکی ہیں، اور محافظ (و نگہبان) بنا کر ان پر، پس آپe فیصلہ کریں ان کے درمیان اس کے مطابق جو اللہ نے اتارا ہے، اور ان کی خواہشوں کی پیروی نہ کرنا اس حق سے (ہٹ کر) جو کہ آچکا آپ (e) کے پاس، ہم نے تم میں سے ہر ایک (امت) کے لئے مقرر کی ایک شریعت اور راہ عمل، اور اگر اللہ چاہتا تو تم سب کو ایک ہی امت بنا دیتا، لیکن (اس نے ایسے نہیں کیا) تاکہ وہ تمہاری آزمائش کرے ان احکام میں جو اس نے تم کو دیے ہیں، پس تم لوگ ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرو نیکیوں میں، اور تم سب کو بہر حال لوٹ کر جانا ہے اللہ کی طرف، پھر وہ خبر کر دے گا تم کو ان سب کاموں کی جن میں تم لوگ اختلاف کرتے رہے تھے (اپنی فرصت حیات میں)۔‘‘ (المائدہ: ۴۸)
ایک اور مقام پر ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ
’’اور ہم نے اس قرآن کو حق کے ساتھ اتارا اور یہ بھی حق کے ساتھ اترا، ہم نے آپeکو صرف خوشخبری سنانے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے۔‘‘ (الاسراء: ۱۰۵)
ایک اور مقام پر فرمایا گیا کہ
’’یقینا ہم نے تجھے گواہی دینے والا اور خوشخبری سنانے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا۔‘‘ (الفتح: ۸)
بلاشبہ آپ e رحمت للعالمین ہیں اور اس کی گواہی خود خالق کائنات دے رہا ہے کہ
’’اور ہم نے آپ eکو تمام جہان والوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔‘‘ (الانبیاء: ۱۰۷)
اسی طرح ایک اور مقام پر اللہ پاک نے فرمایا کہ
’’بیشک (اے نبی!) ہم نے آپ eکو ایک کھلم کھلا فتح دی ہے۔‘‘ (محمد: ۱)
آپ e کی شان بیان کرتے ہوئے فرمایا گیا:
’’یقینا ہم نے تجھے (حوض) کوثر (اور بہت کچھ) دیا ہے۔‘‘ (الکوثر: ۱)
قرآن کریم میں رسول کریمe کی عظمت بارے متعدد مقامات پر ارشادات الٰہی موجود ہیں‘ ایک اور جگہ فرمایا گیا کہ
’’ہم نے تیرا ذکر بلند کر دیا۔‘‘ (الشرح: ۴)
یعنی پیغمبروں اور فرشتوں میں آپ e کا نام بلند ہے، دنیا میں تمام سمجھدار انسان نہایت عزت و وقعت سے آپ e کا ذکر کرتے ہیں، غور فرمائیے کہ اذان، اقامت، خطبہ، کلمہ طیبہ اور التحیات وغیرہ میں اللہ کے نام کے بعد آپ e کا نام لیا جاتا ہے اور خدا نے جہاں بندوں کو اپنی اطاعت کا حکم دیا ہے وہیں ساتھ، ساتھ آپe کی فرمانبرداری کی تاکید کی ہے، لطف کی بات یہ ہے کہ یہ پیشین گوئی اللہ تعالیٰ نے اس وقت کی تھی جب مکہ کے لوگوں کے علاوہ آپ eکو کوئی جانتا تک نہ تھا اور وہ بھی آپ eکے دشمن اور آپ e کی ہستی کو دنیا سے ختم کر دینے پر تلے ہوئے تھے، قرآن کی یہ پیشینگوئی خود قرآن کی صداقت پر کھلا ہوا ثبوت ہے۔ اس وقت کون یہ اندازہ کرسکتا تھا کہ آپ eکا ذکر خیر اس شان کے ساتھ اور اتنے وسیع پیمانے پر ہوگا۔
آپ e کی آمد مبارک کی بشارت انجیل میں بھی موجود ہے ، آپ e دعائے ابراہیم ؑبن کر آئے:
’’اے ہمارے رب !ان میں انہیں میں سے رسول بھیج جو ان کے پاس تیری آیتیں پڑھے ، انہیں کتاب و حکمت سکھائے اور انہیں پاک کرے یقینا تو غلبہ والا حکمت والا ہے۔‘‘ (البقرۃ)
اسی طرح آپ e بشارت عیسیٰ بن کر آئے:
’’اور جب مریم کے بیٹے عیسی ٰ ؑ نے کہا اے (میری قوم) بنی اسرائیل! میں تم سب کی طرف اللہ کا رسولؑ ہوں، مجھ سے پہلے کی کتاب تورات کی میں تصدیق کرنے والا ہوں اور اپنے بعد آنے والے ایک رسولe کی میں تمہیں بشارت ( خوشخبری ) سنانے والا ہوں جن کا نام احمد(e) ہے۔‘‘ (الصف)
پیغمبر دو جہاںeاس دنیا میں اس حالت میں تشریف لائے کہ آپ eکی ولادت با سعادت سے قبل ہی آپ e کے والد گرامی اس دنیا سے رحلت کر چکے تھے ، آپ e جب چھ سال کی عمر کو پہنچے تو ماں کی شفقت سے بھی محروم ہو گئے اور آٹھ سال کی عمر میں دادا جان کا سایہ عاطفیت بھی نہ رہا جس کے بعد آپ e کے چچا ابو طالب نے آپ e کے سر پر دست شفقت رکھا، آپ e  بچپن سے ہی محنت کے عادی تھے اور اپنی نو عمری میں بکریاں چراتے تھے‘ جب جوانی کی دہلیز پر قدم رکھا تو تجارت کو روزگار کے طور پر منتخب کیا اور مکہ مکرمہ کی صاحب ثروت خاتون خدیجۃالکبری ؓ کا سامان لے کر ان کے غلام کے ہمراہ تجارتی قافلہ کے ساتھ شام جانے کا قصد کیا جہاں ان کا مال تجارت بڑے نفع کے ساتھ فروخت ہوا، آپ e کی ذہانت و امانت اور صداقت سے اور غلام کی زبانی آپ e کے اخلاق کریمانہ اور حسن معاملگی سے متاثر ہو کرآپ e کو نکاح کا پیغام بھیج دیا حالانکہ وہ بیوہ اور نبی کریمe سے عمر میں پندرہ سال بڑی تھیں۔
آپ e نے اپنے چچا سے مشاورت کے بعد ۲۵ سال کی عمر میں سیدہ خدیجۃ الکبریٰr  سے نکاح کر لیا، آپ e نے نبوت سے پہلے نہ تو کبھی شراب کو منہ لگایا نہ ہی آستانوں کا ذبیحہ کھایا اور نہ ہی غیر اللہ کی نذر و نیاز کو ہاتھ تک لگایا، جب آپ e کی عمر ۴۰ سال کی ہوئی تو آپ e زیادہ وقت غار حرا میں عبادت و ریا ضت اور تفکر میں گزارتے ، جہاں ۲۱ ویں رمضان المبارک کی شب اللہ پاک کی طرف سے جبریلu تشریف لائے اور ختم المرسلین eکے سر مبارک پر کائنات کی سرداری کا تاج سجا دیا ، ارشاد ہوا:
’’پڑھ اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا، جس نے انسان کو خون کے لوتھڑے سے پیدا کیا، پڑھتا رہ تیرا رب بڑے کرم والا ہے ، جس نے قلم کے ذریعے (علم) سکھایا جس نے انسان کو وہ سکھایا جسے وہ نہیں جانتا تھا۔‘‘ (العلق)
پھر کئی دن گزرنے کے بعد ایک دن آپ e چادر اوڑھے محو استراحت تھے کہ رب کائنات کی طرف سے دوسری وحی نازل ہوئی جس میں اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا کہ
’’اے کپڑا اوڑھنے والے! کھڑا ہو جا اور آگاہ کر دے اور اپنے رب ہی کی بڑائیاں بیان کر۔‘‘ (مدثر)
جس کے بعد آپ e نے مکہ کی تیرہ سالہ زندگی میں اللہ کی توحید اور اس کی یکتائی کا پرچم بلند کئے رکھا، اس دوران آپ e کو بہت زیادہ مصائب و آلام کا سامنا کرنا پڑا، آپ e کو راہ حق سے دور کرنے کیلئے کیا کیا لالچ نہ دئیے گئے یہاںتک کہ مکہ کی سرداری کا عہدہ بھی پیش کیا گیا مگر آپ e کو کسی بھی طریقے سے راہ راست سے پھسلایا نہ جا سکا، آپ e کی ذات مبارکہ اور اس کی اہمیت بارے ایک حدیث منقول ہے:
سیدنا ابوہریرہt روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہe نے فرمایا کہ مجھے چھ وجوہ سے انبیاء کرام ؑ پر فضیلت دی گئی ہے: مجھے جوامع الکلم عطا فرمائے گئے، رعب کے ذریعے میری مدد کی گئی، میرے لئے مال غنیمت کو حلال کردیا گیا اور میرے لئے تمام روئے زمین پاک کرنے والی اور نماز کی جگہ بنا دی گئی اور مجھے تمام مخلوق کی طرف بھیجا گیا اور مجھ پر نبوت ختم کر دی گئی۔(یعنی میں خاتم الانبیاء ہوں)۔‘‘ (صحیح مسلم، جلد اول، حدیث: ۱۱۶۲)
سیدہ خدیجہr کے انتقال کے بعد آپe پریشان رہنے لگے‘ دوسری طرف کفار مکہ نے مظالم کی انتہا کر رکھی تھی، اللہ تعالی نے ان کٹھن حالات میں آپe  کے غم کو ہلکا کرنے کیلئے آپ e کو معراج کروائی، آپe نے اس سفر میں مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ اور مسجد اقصیٰ سے سدرۃ المنتہیٰ اور بیت المعور کا نظارہ کیا جس سے آپ eکواللہ کا قرب حاصل ہوا اور ساتھ ہی اپنے رب سے ہمکلام ہونے کا شرف بھی حاصل ہوا، جس کے بعد آپ e اللہ کے حکم سے مکۃ المکرمہ چھوڑ کر یثرب کی طر ف ہجرت کر گئے اور کچھ ہی دنوں میں یثرب مدینۃ النبی e کے نام سے مشہور ہو گیا اور اسے اسلامی ریاست کا پہلا دارالخلافہ بننے کا اعزا حاصل ہوا۔ آغاز اسلام سے ہی کفار مکہ اور مسلمانوں کے درمیان  شروع ہونے والی کشیدگی بڑھتی گئی اور کفر و اسلام کے درمیان کئی جنگیں بھی ہوئیں جن میں زیادہ تر مشہور جنگ بدر ، جنگ احد ، جنگ احزاب ، جنگ خیبر اور جنگ تبوک ہیں۔ آٹھ ہجری کو مکہ فتح ہوا اور دس ہجری میں آپ e نے کم و بیش سوا لاکھ صحابہ کرام] کے ساتھ فریضہ حج ادا فرمایا اور میدان عرفات میں تاریخی خطبہ حج ارشاد فرمایا، اسی دورانیہ میں اللہ تعالی نے یہ وحی نازل فرما کر اسلام کے مکمل ہونے کا اعلان فرما دیا کہ
’’آج میں نے تمہارے لئے دین کو کامل کر دیا اور تم پر اپنا انعام بھرپور کر دیا اور تمہارے لئے اسلام کے دین ہونے پر رضا مند ہو گیا۔‘‘(المائدہ)
حجۃ الوداع سے واپس مدینہ منورہ تشریف لانے کے بعد آپ e کی طبعیت ۲۹ صفر کو بگڑ گئی اور آپ e تیرہ چودہ روز تک سخت علیل رہے۔ اس حالت میں بھی آپe اکثر نمازوں کی امامت خود ہی فرماتے، جب آپ e کی علالت شدت اختیار کر گئی تو آپ e نے سیدنا ابو بکر ؓ کو امام مقرر فرما دیا جنہوں نے آپ eکی حیات طیبہ میں سترہ نمازوں کی امامت کا شرف اور اعزاز حاصل کیا ۔
بارہ ربیع الاول طلوع آفتاب کے بعد آپ e پر بار بار غشی پڑنے لگی، اس کے باوجود آپ e نے مسواک کی اور اپنے سامنے پڑے پانی کے پیالہ میں دونوں ہاتھ ڈبو کر اپنے چہرے انور پر ملتے رہے اور ساتھ ہی فرماتے تھے ’’اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ، موت کی بڑی تکلیف ہے‘‘ اسی کیفیت میں رسول اللہ e کا وصال ہو گیا۔ ’’چونکہ مرض الموت کی ابتداء کے دن و تاریخ اور وفات کے دن وتاریخ کے بارے میں اختلافی اقوال ہیں اس لئے تعین کے ساتھ یہ کہنا بھی مشکل ہے کہ آپ e کتنے دن مرض الموت میں مبتلا رہے۔ چنانچہ علماء کرام نے لکھا ہے کہ مذکورہ اختلاف اقوال کی بناء پر آپ e بارہ یا اٹھارہ دن بیمار رہے اور علماء کرام کے معتمد قول کے مطابق ۱۲ ربیع الاول دوشنبہ (پیر) کے دن اس دار فانی سے آپ e نے انتقال فرمایا۔ ام المؤمنین سیدہ ام سلمہr بیان کرتی ہیں کہ وفات کے دن میں نے اپنا ہاتھ سرکار دوعالم e کے سینہ مبارک پر رکھ کر دیکھا تھا اس دن کے بعد سے کئی ہفتوں تک میرے (اس ہاتھ سے مشک کی خوشبو آتی رہی حالانکہ میں ہر کھانے کے وقت (اور ویسے بھی وضو وغیرہ ) پابندی سے ہاتھ دھویا کرتی تھی۔
ان احادیث مبارکہ سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ رسول کریم e اپنے وصال کے آخری ایام میں شدید تکلیف میں مبتلا تھے ،دوسرے یہ کہ آپ e کی تاریخ پیدائش بارے تو مختلف روایات ہیں مگر ان کے ۱۲ ربیع اول کو وصال کے حوالہ سے زیادہ ابہام موجود نہیں۔ غور فرمائیے کہ ان کے وصال کے وہ ایام جب آپ e مرض الموت کی وجہ سے شدید تکلیف میں مبتلا تھے یہ صورتحال ہمارے لئے لمحہ ء فکریہ ہے۔


No comments:

Post a Comment