سنت کی پیروی 43-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Saturday, November 16, 2019

سنت کی پیروی 43-2019


سنت کی پیروی

تحریر: جناب مولانا حافظ عبدالجبار
موجودہ زمانے میں ہم دیکھتے ہیں کہ مسلمان انتہائی ذلت و رسوائی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ وہ اس بات کا شکوہ کر رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی نصرت و مدد ان کے ساتھ کیوں نہیں آتی اور انہیں قوت و غلبہ اور اقوام عالم میں عزت اور بلند مقام کب حاصل ہو گا۔ جب کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:
{وَكانَ حَقّاً عَلَیْْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِیْنَ} (روم: ۴۷)
’’ہم پر مومنوں کی مدد کرنا لازم ہے۔‘‘
اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ کی نصرت و مدد کے بغیر ہم کبھی غالب نہیں ہو سکتے خواہ ہم جتنا بھی دنیاوی ساز و سامان اور قوت و لشکر تیار کر لیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:
{وَمَا النَّصْرُ إِلاَّ مِنْ عِندِ اللّه إِنَّ اللّه عَزِیْزٌ حَكیْمٌ}(الانفال: ۱۰)
’’اور مدد صرف اللہ ہی کی طرف سے ہے جو کہ زبردست حکمت والا ہے۔‘‘
لیکن اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کے لئے اپنی نصرت و مدد کے لئے کچھ شرطیں رکھی ہیں۔ مثلا اس نے فرمایا ہیـ:
{إِن تَنصُرُوا اللَّه یَنصُرْكمْ وَیُثَبِّتْ اَقْدَامَكمْ} (محمد:۷)
’’اگر تم اللہ کے (دین کی) مدد کرو گے تو وہ تمہاری مدد کرے گا۔‘‘
یعنی جو مومن بندے اللہ کے دین کی حفاظت اور اس کی تبلیغ و دعوت کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کی حفاظت کرتا ہے، انہیں غیر اقوام پر فتح و نصرت عطا کرتا ہے، جیسے کہ صحابہ کرام] اور قرون اولیٰ کے مسلمانوں کی روشن تاریخ ہے۔ وہ دین کے ہو گئے تھے تو اللہ بھی ان کا ہو گیا تھا، انہوں نے دین کو غالب کیا تو اللہ تعالیٰ نے انہیں بھی دنیا پر غالب فرما دیا۔
جن چیزوں سے اللہ کی مدد حاصل ہوتی ہے ان میں ایک اہم چیز اس کے رسولe کی اتباع ہے۔ رسول اللہe کے حکم کی مخالفت کرنا یا ان کے بتائے ہوئے طریقوں پر نہ چلنا بہت بڑا گناہ ہے اور اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ رسوائی و ذلت مسلط کر دیتا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
{فَلْیَحْذَرِ الَّذِیْنَ یُخَالِفُونَ عَنْ اَمْرِه اَن تُصِیْبَهمْ فِتْنَة اَوْ یُصِیْبَهمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ} (نور)
’’جو لوگ رسول کے حکم کی مخالفت کرتے ہیں انہیں ڈرتے رہنا چاہیے کہ کہیں ان پر کوئی زبردست آفت نہ آپڑے۔‘‘
پس ایک مومن کو نبیe کے طریقے اور سنت کو ہر وقت سامنے رکھنا چاہئے اس لئے کہ جو اقوال و اعمال اس کے مطابق ہوں گے وہی بارگاہ الٰہی میں مقبول ہوں گے اور دوسرے سب رد کر دئیے جائیں گے۔ آپe کا فرمان ہے:
[من عمل عملا لیس علیه امرنا فھورد] (بخاری)
’’جس نے ایسا کام کیا جو ہمارے طریقے پر نہیں تو وہ مردود ہے۔‘‘
ایک حدیث میں یہ الفاظ ہیں:
[وجعل الذلة والصغار علی من خالف امری] (رواه احمد عن عبدالله بن عمرt)
’’اور اللہ نے ذلت و پستی ان لوگوں کے مقدر کر دی ہے جو میرے حکم کی مخالفت کرتے ہیں۔‘‘
صحابہ کرام‘ رسول اللہe کی حکم عدولی کو بہت بڑا گناہ سمجھتے تھے اور آپe کی اتباع و اطاعت ہی کو اپنے لئے دنیا میں عزت و غلبہ کا سبب اور آخرت میں نجات کا ذریعہ سمجھتے تھے۔ آپ کے ادنیٰ اشارے پر اپنی جان اور اپنا مال قربان کر دیتے۔ آپ کے فرمان کو بجا لانے میں ذرا بھی پس و پیش نہ کرتے اور اس پر کوئی مصالحت نہیں کرتے تھے خواہ وہ جنگ کی حالت ہی کیوں نہ ہو، خواہ انہیں اطاعت کی صورت میں بظاہر نقصان نظر آ رہا ہو۔ اس کی چند مثالیں پیشِ خدمت ہیں:
1          جنگ خیبر میں جب کہ صحابہ کرام کو سخت بھوک لگی ہوئی تھی اور وہ اپنی ہانڈیوں میں گدھے کا گوشت پکا رہے تھے، ان کے پاس اچانک رسول اللہe کا یہ فرمان پہنچا کہ گدھے کا گوشت کھانا منع ہے، چنانچہ انہوں نے بغیر کسی تردد کے اپنی ہانڈیاں الٹ دیں اور اپنی مرغوب غذا کو پھینک دیا۔
صحیح بخاری میں انسt سے مروی ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہe کے پاس ایک آنے والا آیا اور کہنے لگا: گدھوں کو تو لوگ چٹ کر گئے، آپe یہ سن کر خاموش رہے، پھر وہ دوسری بار آپe کے پاس آیا اور کہنے لگا: گدھوں کو تو لوگ چٹ کر گئے، آپ خاموش رہے، پھر وہ تیسری بار آپe کے پاس آیا اور کہنے لگا: گدھے فنا ہو گئے۔ آخر آپe نے ایک پکارنے والے کو حکم دیا، اس نے لوگوں میں منادی کی کہ اللہ اور اس کے رسول گدھوں کے گوشت سے تم کو منع کرتے ہیں، چنانچہ اسی وقت ہانڈیاں الٹ دی گئیں، ان میں گدھوں کا گوشت ابل رہا تھا۔ (بخاری، کتاب المغازی)
2          اسی طرح جب شراب کی حرمت کا حکم نازل ہوا اور رسول اللہe کا فرمان صحابہ کرام تک پہنچا تو انہوں نے فوراً شراب بہا دی، یہاں تک کہ مدینہ کی گلیوں میں شراب بہنے لگی، جب کہ وہ شراب کے بڑے عادی تھے اور انہیں اس کی لت پڑی ہوئی تھی۔
امام بخاریؒ نے سیدنا انسt سے روایت کیا ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں کھڑے ہو کر سیدنا ابوطلحہ t اور فلاں فلاں کو شراب پلا رہا تھا اتنے میں ایک آدمی آیا اور کہنے لگا: کیا تمہیں خبر پہنچی ہے کہ شراب حرام کر دی گئی؟ سیدنا ابوطلحہ اور ان کے ساتھیوں نے کہا: انس! ان کوزوں کو بہا دو۔ اس کے بعد جب سے اس آدمی نے خبر دی انہوں نے کبھی شراب کا پوچھا اور نہ پی۔ (بخاری، کتاب التفسیر)
3          اسی طرح سفر میں کسی جگہ قیام کرنے کے آداب کے بارے میں نبی کریمe کے فرمان کی اطاعت کرنے میں صحابہ کرام] نے کس طرح سبقت کی، اس کی مثال ہمیں ابودائود کی اس روایت سے ملتی ہے:
سیدنا ابوثعلبہ خشنیt کہتے ہیں کہ لوگ جب کسی جگہ پڑائو ڈالتے تو گھاٹیوں اور وادیوں میں بکھر جاتے، رسول اللہe نے فرمایا:
[ان تفرقكم فی ھذه الشعاب والاودیة انما ذلكم من الشیطان]
’’تمہارا ان گھاٹیوں اور وادیوں میں بکھر جانا شیطان کی طرف سے ہے۔‘‘
پھر (آپ کے اس فرمان کے بعد) جب لوگ کسی جگہ ٹھہرتے تو بعض بعض سے اس طرح مل کر ٹھہرتا کہ یہ کہا جانے لگا:
[لو بسط علیھم ثوب لعمھم] (ابوداود، كتاب الجھاد)
’’اگر ان کے اوپر ایک کپڑا بچھا دیا جائے تو ان سب کو وہ کپڑا ڈھانپ لے گا۔‘‘
4          نبی کریمe کی اطاعت میں صرف مرد ہی آگے آگے نہیں رہتے تھے بلکہ صحابیات بھی آپ کے ہر حکم کی اطاعت پوری طرح بغیر کسی تردد و استفسار کے کرتی تھیں۔ اس کی چند ایک مثالیں درج ذیل ہیں:
٭           سیدنا عبداللہ بن عمرw کہتے ہیں کہ ایک عورت رسول اللہeکے پاس آئی، اس کے ساتھ اس کی ایک بیٹی تھی جس کے ہاتھ میں سونے کے دو موٹے کنگن تھے، آپe نے فرمایا: کیا تم اس کی زکوٰۃ دیتی ہو؟ اس نے کہا: نہیں، آپe نے فرمایا:
[ایسرك ان یسورك الله بھما یوم القیامة سوارین من نار؟] (ابوداود)
’’کیا تم یہ پسند کرو گی کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ان کے بدلے تمہیں آگ کے دو کنگن پہنائے؟‘‘
یہ سن کر اس نے دونوں کنگن اتار دئیے اور انہیں رسول اللہe کی طرف پھینک دیا اور کہنے لگی کہ یہ اللہ اور اس کے رسول کے لئے ہیں۔
٭           ایک دوسری مثال بھی ملاحظہ فرمائیں جسے امام ابودائودؒ نے کتاب الآداب میں سیدنا ابواسید انصاریt سے روایت کیا ہے، وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہe کو فرماتے ہوئے سنا جب کہ آپe مسجد سے نکل رہے تھے اور راستے میں مرد، عورتوں کے ساتھ مل گئے تھے، آپe نے عورتوں کو فرمایا:
[استاخرن فانه لیس لكن ان تحققن الطریق، علیكن بحافات الطریق]
’’تم لوگ (مسجد سے) بعد میں نکلو، اس لئے کہ تمہارے لئے راستے کے بیچ حصہ میں چلنا مناسب نہیں بلکہ تم راستے کے کنارے پر چلو۔‘‘
راوی کہتے ہیں کہ پھر عورتیں دیوار سے چپک کر چلنے لگیں یہاں تک کہ ان کا کپڑا دیوار سے چپکنے کی وجہ سے دیوار سے لٹک جاتا۔
5          آخر میں حالت جنگ میں صحابہ کرام] کے جذبۂ اطاعت رسول کی مثال بیان کرتا ہوں۔
صحابہ کرام] ہر حال میں رسول اللہe کی اطاعت و اتباع اپنے اوپر واجب سمجھتے تھے اور اس سے ذرا بھی انحراف اپنی ہلاکت و بربادی کا موجب سمجھتے تھے۔ وہ اس معاملے میں کسی بھی مصلحت پسندی سے کام نہیں لیتے تھے۔ مثلاً اللہ کے رسولe نے مردوں کے لئے ریشم پہننا اور اسے بچھانا منع فرمایا ہے: حدیث میں یہ الفاظ ہیں:ـ
[انما یلبس ھذه من لاخلاق له فی الآخرة]
’’اسے وہ لوگ پہنتے ہیں جن کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔‘‘
ابن ابی لیلیٰ کہتے ہیں کہ سیدنا حذیفہt نے پانی طلب کیا، ایک کسان چاندی کے برتن میں پانی لایا، سیدنا حذیفہt نے اسے لیا اور پھینک دیا اور فرمایا کہ رسول اللہe نے ہمیں سونے اور چاندی کے برتنوں میں کھانے اور پینے سے منع فرمایا ہے اور خالص ریشم اور موٹا ریشم پہننے اور اس پر بیٹھنے سے منع کیا ہے۔ (بخاری، مسلم)
صحابہ کرام کے سامنے آپe کا یہ فرمان موجود تھا چنانچہ یرموک میں جب مسلمانوں کا لشکر اترا اور رومی فوج کے امیر کے ساتھ صحابہ کرام] کی ایک جماعت کی ملاقات اس کے خیمے میں طے کی گئی جو ریشم سے بنا تھا، جس میں ریشم بچھایا گیا تھا تو صحابہ کرام] نے اس میں داخل ہونے سے انکار کر دیا اور کہا کہ یہ ریشم سے بنا ہے اور ریشم کو ہم لوگ اپنے لئے حلال نہیں سمجھتے۔ پھر انہوں نے امیر کو خیمہ سے باہر ایسی جگہ بیٹھنے پر مجبور کر دیا جہاں وہ بیٹھنا چاہتے تھے۔ جب ہرقل تک یہ بات پہنچی تو اس نے کہا: کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا! ارے یہ پہلی ذلت ہے۔ اب شام شام نہ رہے گا، اب رومیوں کی بربادی حتمی ہے۔ (تاریخ طبری، البدایۃ والنھایۃ)
معلوم ہوا کہ نبی کریمe کی اتباع و اطاعت ہی ہمیں ذلت و رسوائی کے غار سے نکال سکتی ہے اور اللہ کی نصرت و مدد کا ہمیں مستحق بنا سکتی ہے۔
امام مالکa نے سچ کہا ہے کہ یہ امت انہی چیزوں سے درست ہو سکتی ہے جن سے اس امت کے پہلے لوگ درست ہوئے تھے۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے سلف صالحین یعنی صحابہ و تابعین کے نقش قدم پر چلیں اور عقائد و عبادات سے لے کر معاملات تک میں رسول اللہe کے قول و فعل کی اتباع کریں اور شرک و بدعت سے بچیں، اس میں ہماری کامیابی و کامرانی، فتح و غلبہ کا راز مضمر ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق دے۔ آمین!


No comments:

Post a Comment

View My Stats