درس قرآن وحدیث 43-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Saturday, November 16, 2019

درس قرآن وحدیث 43-2019


درسِ قرآن
گناہوں کے لیے حیلہ کرنا
ارشادِ باری ہے:
﴿وَ سْـَٔلْهُمْ عَنِ الْقَرْيَةِ الَّتِيْ كَانَتْ حَاضِرَةَ الْبَحْرِ١ۘ اِذْ يَعْدُوْنَ فِي السَّبْتِ اِذْ تَاْتِيْهِمْ حِيْتَانُهُمْ يَوْمَ سَبْتِهِمْ شُرَّعًا وَّ يَوْمَ لَا يَسْبِتُوْنَ١ۙ لَا تَاْتِيْهِمْ﴾
اے نبی! ان (یہود مدینہ) سے بستی (ایلہ) کے بارہ میں پوچھیں جو سمندر کے ساحل پر واقع تھی،جب وہ لوگ ہفتہ کے دن کے بارہ میں حد سے گز ر جاتے تھے، کیونکہ ہفتہ کے دن ان کی مچھلیاں ان کے پاس (پانی میں )ظاہر ہو کر آجاتی تھیں اور جس دن ہفتہ نہ ہوتا مچھلیاں نہیں آتی تھیں۔‘‘
انسان زندگی میں بعض اوقات ایسے حالات سے گزرتاہےکہ اپنی ضرورت کی تکمیل اور خواہش کو عملی جامہ پہنانےکے لیے غلط اقدامات  کا سہارا لیتا ہے اور پھر انہی غلط اقدامات کی تأویل کرکے، اپنے آپ کو جھوٹی تسلی دیتے ہوئے ضمیر کو مطمئن کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔ شریعت نے اس حوالہ سے ہماری رہنمائی فرمائی ہے اور واضح طور پر ان جھوٹی تسلیوں ، حیلوں بہانوں سے غلط کو صحیح قرار دینے کو انتہائی سنگین جرم قرار دیا ہے۔
اس سلسلہ میں مذکورہ آیت میں بنی اسرائیل کا واقعہ ذکر فرمایا ہے  ۔انہیں حکم  دیا گیا تھا کہ ہفتہ کے دن کاروبار نہ کریں ، بلکہ اس دن کو آرام اور اللہ کی عبادت کے لیے مختص کریں۔اس بستی والوں کا  پیشہ و کاروبار ماہی گیری تھا۔اکثر ایسا ہوتا کہ ہفتہ کے دن مچھلیاں سینہ تان تان کر سطح سمندر پر آتیں اور بقیہ چھے دن یہی مچھلیاں سطح سمندر پر ظاہر نہیں ہوا کرتی تھیں۔اس میں ان کی آزمائش بھی مقصود تھی۔ اب انہوں نے فریب اور حیلہ سازی کرتے ہوئے سمندر کے کنارے بڑے بڑے حوض بنالیے‘ ہفتہ کے دن  پانی کے ساتھ مچھلیاں ان حوضوں میں آتیں اور یہ لوگ انہیں اگلے روز پکڑ لیتے اور اپنے آپ کو تسلی دیتے کہ ہم نے کون سا مچھلیاں ہفتہ کے دن پکڑی ہیں ۔گویا وہ حیلہ سازی کرکے اللہ کی نافرمانی کو اللہ کی اطاعت سمجھ رہے تھے ، اللہ تعالی نے اس حیلہ سازی کو ناپسند فرمایا اور انہیں بد ترین سزا دی گئی:
﴿وَ لَقَدْ عَلِمْتُمُ الَّذِيْنَ اعْتَدَوْا مِنْكُمْ فِي السَّبْتِ فَقُلْنَا لَهُمْ كُوْنُوْا قِرَدَةً خٰسِـِٕيْنَۚ۰۰۶۵﴾
’’اور تم اپنے ان لوگوں کو بھی خوب جانتے ہو جنہوں نے ہفتہ کے دن (کے قانون) کے بارہ میں زیادتی کی تھی، لہٰذا ہم نے ان سے کہا بندر بن جاؤ‘ تم پر دھتکار پڑتی رہے۔‘‘
نبی کریمe نے فرمایا  تھا: ’’وہ کام مت کروجو یہود نےکیا ،ورنہ تم اللہ کی حرام کردہ چیزوں کو معمولی حیلوں سے حلال کر لو گے۔‘‘
مذکورہ آیت مبارکہ اور فرمان رسولe میں دعوت فکر ہے ان لوگوں کےلیے جو سود جیسے سنگین گناہ کے ارتکاب کے بعد جھوٹی تسلیوں اور اسلامی اصطلاحات کا سہارا لے کر اپنے ضمیر کو مطمئن کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

درسِ حدیث
دیہاتی عورت کی زبان سے سیرت رسولﷺ
فرمان نبویﷺ ہے:
ہجرت مدینہ کے وقت رسول اللہ e کا گذر ایک بدوی خاتون ام معبدؓ کے خیمے کے پاس سے ہوا جو اپنی کمزور اور لاغر بکری کے ساتھ خیمے میں موجود تھی۔ باقی بکریاں ریوڑ کے ساتھ تھیں۔ آپe نے اس خاتون سے پینے کے لیے کوئی چیز طلب کی تو اس نے کہا کہ اس وقت اس لاغر بکری کے سوا کچھ بھی نہیں اگر یہ بکری دودھ دیتی ہوتی تو میں آپ کو اس کا دودھ نکالنے کی اجازت دے دیتی۔
تو آپe نے اس بکری کی پشت پر ہاتھ پھیرا اور اس کے تھنوں کو ہاتھ لگایا تو دودھ کے سوتے پھوٹ پڑے اور آپe نے اس کے گھر میں موجود سارے برتن دودھ سے بھر دیئے۔ آپe کے کوچ فرمانے کے بعد اس بدوی خاتون کا شوہر آیا تو دیکھا کہ گھر کے سارے برتن دودھ سے بھرے پڑے ہیں۔ اس نے پوچھا کہ یہ دودھ کہاں سے آیا ہے؟ تو سیدہ ام معبدr نے کہا:
’’یہ برکت ہے ایک شخص کی جو ابھی اِدھر سے گذرا تھا۔ اس نے کہا کہ ذرا اس کا حال تو بتاؤ اس پر وہ بولی: میں نے ایک شخص کو دیکھا جس کی نظافت نمایاں‘ جس کا چہرہ روشن اور جس کی بناوٹ (خلق) میں حسن تھا۔ نہ موٹاپے کا عیب‘ نہ دُبلاپے کا نقص‘ خوش رو‘ حسین آنکھیں کشادہ اور سیاہ‘ پلکیں لمبی‘ آواز میں کھنک‘ گردن صراحی دار‘ داڑھی گھنی‘ بھویں کمان دار اور جٹی ہوئی‘ خاموشی میں وقار کا مجسمہ‘ گفتگو میں صفائی اور دلکشی۔ حسن کا پیکر اور جمال میں یگانہ روز گار دور سے دیکھو تو حسین ترین۔ قریب سے دیکھو تو شیریں ترین بھی جمیل ترین بھی۔ گفتگو میں مٹھاس نہ فضول گفتگو کرے اور نہ ضرورت کے وقت خاموش رہے۔ گفتگو اس انداز کی جیسے پروئے ہوئے موتی۔ ایسا میانہ قد جس میں نہ قابل نفرت درازی‘ نہ حقارت آمیز کوتاہی۔ اگر دو شاخوں کے درمیان ایک اور شاخ ہو‘ تو وہ دیکھنے میں ان تینوں شاخوں سے زیادہ تر وتازہ دکھائی دے اور قدر وقیمت میں ان سب سے زیادہ بہتر نظر آئے۔ اس کے کچھ جاں نثار تھے۔ جو اسے گھیرے رہتے۔ جب وہ بولتا تو سب خاموش ہو جاتے۔ جب کوئی حکم دیتا تو اس کی تعمیل کے لیے ٹوٹ پرتے۔ سب کا مخدوم سب کا مطاع۔ ترش روئی سے پاک اور قابل گرفت باتوں سے مبرا۔ ‘‘
ابومعبد بولے کہ ’’خدا کی قسم یہ وہی قریشی معلوم ہوتا ہے جس کا ذکر میں مکے میں سن چکا ہوں۔ میں ارادہ بھی کر چکا ہوں کہ اس کی صحبت نصیب ہو۔ اگر اس کی سبیل نظر آئی تو میں یہ ضرور کروں گا۔‘‘


No comments:

Post a Comment

View My Stats