طب وصحت ... اخروٹ ... غذائیت کا خزانہ 43-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Saturday, November 16, 2019

طب وصحت ... اخروٹ ... غذائیت کا خزانہ 43-2019


اخروٹ ... غذائیت کا خزانہ

تحریر: جناب حکیم راحت نسیم سوہدروی
سردیوں کے آغاز کے ساتھ ہی خشک میوہ جات کا استعمال شروع ہو جاتا ہے۔ یہ میوہ جات قوت بخش غذا کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں۔ ان سے جسم میں طاقت اور حرارت کا احساس ہوتا ہے اور موسم سرما کی سردی کا مقابلہ کیا جاتا ہے۔ ایسے ہی خشک میوہ جات میں ایک اخروٹ ہے جس کا مغز بڑے شوق سے استعمال ہوتا ہے جو بہت توانائی بخش اور مفید ہوتا ہے۔
مغزیات کا استعمال یوں تو تاریخ سے معلوم ہے بلکہ اندازہ یہ ہوتا ہے کہ خشک میوہ جات اور ان کے مغز زندگی کے ابتدائی دور میں بطور غذا استعمال ہوتے رہے ہیں مگر جدید تحقیق کی روشنی میں ان کی افادیت کا اندازہ ہونے پر پھر سے استعمال بڑھ رہا ہے۔ مغزیات میں بادام، اخروٹ، ناریل، مونگ پھلی، کاجو، پستہ وغیرہ شامل ہیں۔
ایک تحقیق کے مطابق مغزیات میں ۱۳ تا ۲۰ فی صد لحمیات، ۵۰ تا ۶۰ فیصد روغنیات، ۹ تا ۱۲ فیصد نشاستہ، ۳ تا ۵ فی صد کیلوریز اور کئی دوسری معدنیات کی مقدار ایک فی صد ہوتی ہے۔ تحقیق کے مطابق ایک سو گرام مغزیات میں چھ سو غذائی حرارے (کیلوریز) پیدا ہوتے ہیں۔ سبزیوں کے برعکس مغزیات میں روغن کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے بلکہ اس کے مجموعی وزن کے نصف برابر تیل پیدا ہوتا ہے۔ روغن پیدا کرنے کی صلاحیت سے ہی توانائی پیدا کرنے کی صلاحیت زیادہ ہوتی ہے۔ مغز کو طبعی حالت میں استعمال کرنا چاہیے۔ اخروٹ موسم سرما میں استعمال ہونے والے خشک میوہ جات میں اپنی غذائی افادیت کے لحاظ سے بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ سرد برفانی علاقوں کے لوگ موسم کی شدتوں کا مقابلہ کرنے کے لیے اس کا بکثرت استعمال کرتے ہیں اور میدانی علاقوں کے لوگوں میں بھی یہ رغبت سے استعمال ہوتا ہے۔ اپنے غذائی حراروں کے سبب موسم سرما میں جسم میں طاقت اور حرارت کا احساس دلاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ غذا اور دوا کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔
اخروٹ ایک درخت کا پھل ہے جس کا شمار ہمارے ہاں خشک میوہ جات میں ہوتا ہے۔ پاکستان میں اخروٹ کے درخت بلوچستان، سوات، مری، آزاد کشمیر کے علاقوں میں بہت زیادہ ہوتے ہیں۔ جبکہ ایران اور افغانستان میں بھی اخروٹ کے درخت بکثرت پائے جاتے ہیں۔ اخروٹ کے درخت کی لمبائی عموماً ایک سو سے ایک سو بیس فٹ تک ہوتی ہے اور گولائی بارہ سے تیس فٹ تک ہوتی ہے۔ تیس سال کے بعد اس درخت میں پھل آنے لگتا ہے اور بعض اوقات چالیس سال سے زیادہ عرصہ لگ جاتا ہے۔ جب اس کا پھل اکٹھا کیا جاتا ہے تو اسے استعمال نہیں کیا جاتا کیونکہ اس وقت ان میں دودھ جیسی رطوبت نکلتی ہے۔ تین ماہ کے بعد یہ دودھ جیسی رطوبت جم کر مغز بن جاتی ہے جسے مغز اخروٹ کا نام دیا جاتا ہے اور پھر اسے موسم سرما میں خشک میوہ کے طور پر غذائیت کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اخروٹ میں پائے جانے والے غذائی اجزاء کا جو کیمیائی تجزیہ کیا گیا ہے اس کے مطابق ایک ہزار گرام اخروٹ میں حسب ذیل اجزاء پائے جاتے ہیں:
پانی ۱، ۳ گرام، لحمیات، ۵، ۲۰ گرام، روغنیات، ۳، ۵۹ گرام، چکنائی، ۸،۱۴ گرام، ریشہ ۷،۱ گرام، راکھ، ۲،۲ گرام، کیلشیم ۱۵،۰ گرام، فاسفورس ۷۰،۵ گرام، فولاد ۰،۶ گرام، سوڈیم، ۰،۳ گرام، پوٹاشیم، ۶۰،۵ گرام، حیاتین بی و ۲۲،۰ گرام، حیاتین بی ٹو ۱۱، ۰ گرام، کیلوریز ۶۲۸ گرام، عام طور پر اخروٹ کا مغز ہی استعمال ہوتا ہے مگر اطباء کرام اخروٹ کا چھلکا، پتے اور جڑ وغیرہ بھی مختلف امراض کے لیے دوا کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ اخروٹ کے مغز کا مختلف طریقوں اور امراض میں استعمال کا طریقہ درج ذیل ہے۔
تقویت دماغ اور اعصاب کے لیے:
مغز اخروٹ دماغ اور اعصاب کو طاقت و توانائی بخشتا ہے، دو عدد اخروٹ کا مغز نکال کر مویز منقی کے ساتھ پیس کر روزانہ صبح نہار منہ دودھ کے ساتھ استعمال کیا جانا مفید ہے۔ اس طرح دماغ اور اعصاب کو طاقت ملتی ہے جس سے سر درد اور یادداشت بہتر ہوتی ہے اور عام جسمانی کمزوری دور ہوتی ہے۔
چہرے کی چھائیاں:
اخروٹ کا مغز جو پرانا ہو جائے چبا کر خراب زخموں اور ناسور کے لیے لگانا مفید ہے۔ تازہ مغز اخروٹ کا لیپ لگانے سے چہرے کی چھائیوں کو فائدہ ہوتا ہے۔
فالج اور لقوہ:
مغز اخروٹ اپنی گرم تاثیر کے سبب سرد امراض میں مفید ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شدید سردی سے ہونے والے امراض وجع المفاصل (جوڑوں کا درد) اور فالج و لقوہ میں مغز اخروٹ اور زیرہ سیاہ برابر وزن میں پیس کر شہد ملا کر جسم پر مالش کریں اور پھر چت لٹا کر اوپر لحاف اوڑھا دیں یہاں تک کہ پسینہ آجائے پھر جسم کو خشک کر کے سرد ہوا سے بچا کر اسے الگ کمرے میں رہنے کی تاکید کریں، چند دنوں میں بہتری ہو جائے گی۔
بدہضمی:
نظام ہضم کی اصلاح کے لیے اخروٹ کے مغز پیس کر ناف پر لیپ کریں، مروڑ رک جاتے ہیں۔ مغز اخروٹ کچھ عرصے سرکہ میں بھگو کر رکھنے کے بعد استعمال کریں تو معدہ کی کمزوری دور ہو جاتی ہے چونکہ مغز اخروٹ دیر ہضم ہوتا ہے اس لیے اسے کم مقدار میں استعمال کرنا چاہیے، اس میں تیل کی مقدار زیادہ ہوتی ہے اس لیے جلد خراب ہو جاتا ہے۔ چنانچہ زیادہ عرصے تک رکھنے کے بعد استعمال نہیں کرنا چاہیے۔
باؤلے کتے کا زہر:
مغز اخروٹ اور پیاز ہم وزن ملا کر تھوڑا سا نمک ملا کر بائولے کتے کے کاٹے پر لگانے سے اس کا زہر ختم ہو جاتا ہے۔
مغز اخروٹ کا مربہ:
یہ مربہ سرد مزاج والوں کے لیے بہت مفید ہے۔ سرد امراض میں جلدی افاقہ ہوتا ہے اور جگر کی برودت ختم ہو جاتی ہے۔ اس کی تیاری کا طریقہ یہ ہے کہ اخروٹ کا تازہ مغز لے کر اوپر کا باریک چھلکا ہٹا کر مٹی کی ہانڈی میں بھر کران کے اوپر تک پانی بھر دیں، پھر نمک ڈال کر چوبیس گھنٹے بعد نکال کر پانی سے صاف کر لیں اور سائے میں خشک کر کے شہد کا شیرہ بھر دیں کہ مغز ان کے نیچے ڈوب جائیں اب انہیں مرتبان میں رکھ کر استعمال کریں۔
اخروٹ کے چھلکے:
تازہ اخروٹ کے چھلکے جو سبز ہوتے ہیں کو اتار کر منجن کے طور پر استعمال کریں جس سے دانت صاف اور چمکدار ہو جاتے ہیں اور مسوڑھے مضبوط ہو جاتے ہیں۔ خون آنا بند ہو جاتا ہے۔ ہمارے ہاں لوگ پہاڑی مقامات سے تازہ اخروٹ لا کر بزرگ خواتین کو تحفے میں دیتے ہیں جو وہ دانتوں کو صاف کرنے کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ مغز اخروٹ کے منجن میں مزید درج ذیل دوائیں بھی شامل کی جاتی ہیں:
                اخروٹ کے خول ۲۰۰ گرام،
                سفید صندل ۲ گرام ،  پھٹکری بریاں ۵ گرام
                خوردنی نمک ۵ گرام، مشک کافور ۲ گرام
ان سب اجزاء کو پیس کر خوب باریک کر لیں اور چھان کر بطور منجن استعمال کریں۔ رات کو سونے سے قبل اس منجن کا استعمال کریں۔ یہ منجن دانتوں کے جملہ امراض کے لیے مفید ہے۔ پائیوریا سے بچنے کے لیے اخروٹ کی جڑ کی مسواک بھی مفید ہے۔ اس کے علاوہ اخروٹ کے بیرونی سبز چھلکے کو پانی میں جوش دے کر اس میں تھوڑا سا نمک ملا کر کلی کرنے سے فائدہ ہوتا ہے۔
بواسیر:
اخروٹ کی جڑ کو زیتون کے تیل میں جوش دیں کہ گل جائے پھر بواسیر کے مسوں پر لگا دیں۔
کھانسی اور گلے کے امراض:
بھنے ہوئے مغز اخروٹ کے ساتھ دو گرام ست ملٹھی، مغز کدو پانچ عدد اور گوند کیکر تین گرام ملا کر شہد کے ساتھ استعمال کرنے سے کھانسی اور گلے میں مفید ہے۔
اخروٹ کا تیل   اخروٹ میں روغن کی مقدار باقی خشک میوہ جات کی نسبت زیادہ ہوتی ہے، یہ کافی گرم ہوتا ہے۔ اس کی مالش سے دوران خون تیز ہو جاتا ہے جس سے پٹھوں میں موسم سرما میں ہونے والے درد کو فوری فائدہ ہوتا ہے اور فالج میں بھی مفید ہے۔ اخروٹ کا تیل اور زیتون کا تیل باہم ہم وزن ملا کر سر میں لگانا جوئیں ختم کرتا ہے۔
سیاہ بال:
بالوں کی سیاہی کو قائم رکھنے اور سفید ہوتے ہوئے بالوں کو روکنے کے لیے یہ تدبیر مفید ہے:
اخروٹ کا سبز چھلکا    ۱۵ گرام
پھٹکری                    ۲ گرام
بنولے کا تیل           ۲۵۰ گرام
بنولے کے تیل کو چینی کے برتن میں ڈال کر اس میں اخروٹ کے چھلکے ڈال لیں اور اس کو ہلکی آنچ پر اتنا گرم کریں کہ اخروٹ کے چھلکے میں سے نمی اڑ کر مکمل خشک ہو جائے یعنی رنگت سیاہ ہو جائے پھر تیل کو چھان کر استعمال کر سکتے ہیں۔


No comments:

Post a Comment

View My Stats