رسول مقبول ﷺ ہندو دانشوروں کی نظر میں 44-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Sunday, November 24, 2019

رسول مقبول ﷺ ہندو دانشوروں کی نظر میں 44-2019


رسول مقبول ﷺ ہندو دانشوروں کی نظر میں

تحریر: جناب مولانا حمید اللہ خان عزیز
تیری صورت سے ہے عالم میں بہاروں کو ثبات
تیری سیرت کے سوا دنیا میں رکھا کیا ہے
انسانی رشد وہدایت کے لئے شروع ہونے والا انبیاء ورسلo کا سلسلہ حضرت سیدنا محمدe پر ختم ہوا،اب ورفعنا لک ذکرک ’’اور ہم نے آپ کے ذکر کو بلند کیا۔‘‘ کی صدائیں گونج رہی ہیں۔
حضرت محمدe وہ مقدس ومطہر اور عظیم ہستی ہیں کہ جنہوں نے نوع انسان کو توحید رب العالمین کا پیغام سنا کر جینے کا سلیقہ سکھایا۔آپe معلم انسانیت تھے۔ آپe کی آمد تمام عالم کے لئے رحمت ثابت ہوئی۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ چودہ صدیوں کے ہر دور اور ہر زمانے میں آپe کی سیرت وصورت کو دنیا بھر کی بڑی بڑی یونیورسٹوں میں موضوع سخن بنایا گیا اور بنایا جا رہا ہے۔
اس تفصیل کو بیان کرنے کے لئے تو ہزاروں صفحات درکار ہیں۔ہم یہاں چند سطور میں [الفضل ما شھدت بہ الأعداء] کے تحت ہندو دانشوروں کی کتب سے عقیدت مندانہ چند جملے  اور پیرا گراف درج  کرتے ہیں کہ انہوں نے کونین کے تاجدار کو کس طرح خراج عقیدت پیش کیا۔
یاد رہے کہ ہندوؤں کی مشہور مذہبی کتب میں کئی مقامات پر واضح طور پر آپe کی بعثت کا اقرار کیا گیا  ہے۔دیکھئے ایک حوالہ:
 اتھر ویڈ کھنڈ:
’’اے لوگو!کان کھول کر سن لو،محمدe لوگوں میں مبعوث ہوں گے،اس کی بلند وبالاحقیقت آسمان کو چھوئے گی۔‘‘ (ورفعنالک الذکرک:ص ۹۶)
اب ہندو دانشوروں کے اعترافات پر ایک نظر ڈالتے ہیں:
۱: سوامی لکشمن جی (مؤلف:عرب کا چاند)
’’جہالت اور ضلالت کے مرکز اعظم جزیرہ نمائے عرب کے کوہِ فاران کی چوٹیوں سے ایک نور چمکا،جس نے دنیا کی حالت کو یکسر بدل دیا۔گوشہ گوشہ نورِہدایت سے جگمگایا اور ذرہ ذرہ کو فروغِ تابشِ حسن سے غیرتِ خورشید بنا دیا۔ آج سے چودہ صدیاں پیشتر اسی گمراہ ملک کے شہر مکہ مکرمہ کی گلیوں سے ایک انقلاب آفریں اٹھا، جس نے ظلم وستم کی فضاؤں میں تہلکہ مچا دیا۔یہیں سے ہدایت کا وہ سرچشمہ پھوٹا،جس نے اقلیمِ قلوب کی مرجھائی ہوئی کھیتیاں سرسبز و شاداب کر دیں۔اسی ریگستانی چمنستان میں روحانیت کا وہ پھول کھلا جس کی روح پرور مہک نے دہریت کی دماغ سوز بو سے گھرے ہوئے انسانوں کے مشامِ جان کو معطر ومعنبر کر دیا۔اسی برگ و گیاہ صحرا کے تیرہ وتارا افق سے ضلالت وجہالت کی سبِ وچور میں صداقت وحقانیت کا وہ ماہتابِ درخشاں طلوع ہوا،جس نے جہالت وباطل کی تاریکیوں کو دور کر کے ذرے ذرے کو اپنی ایمان پاش روشنی سے جگمگا کر رشکِ طور بنا دیا۔گویا ایک دفعہ پھر خزاں کی جگہ سعادت کی بہار آگئی۔‘‘ (عرب کا چاند: ص ۶۵-۶۶)
۲: سروجنی نائیڈو
’’اس پاک انسان نے اپنے آپ کو معبودیت اور پرستش کا محل قرار نہیں دیا۔اس کو انسان کی طاقت اور کمزوری کا پورا علم تھا۔وہ بنی نوع انسان کے اندر تھا۔لوگوں کے ساتھ بولتا، انہی کے ساتھ چلتا پھرتا اور کام کرتا تھا۔وہ خود بھی انسان تھا۔اپنے رات دن کے عملی نمونوں سے اس مقدس انسان نے یہ شاندار سبق اپنے پیروؤں کو سکھلایا کہ زبان سے جو کچھ کہتا ہے اور جس بات کی تلقین کرتا ہے اس پر خود بھی عمل پیرا ہونا ضروری اور اس کے حدِامکان کے اندر ہے۔وہ خدا ہو کر دنیا میں نہیں آیا بلکہ انسان ہو کر اور انسانوں ہی کی طرف آیا ہے۔
وہ پاک انسان، نفرت سے بھر پور،بغض وتعصب سے مخمور اور جہالت سے معمور دنیا کی طرف آیا اور اس صحرا کے اندر جو اس کی پیدائش کا گہوارہ تھا۔ایک نہ مٹنے والی صداقت کا اس پر انکشاف ہوا۔جو رب العالمین کے دو پاکیزہ الفاظ میں مضمر ہے۔یعنی اس خدا کو آپ نے پیش کیا جو تمام اقوام وممالک اور تمام مذاہب کا ایک ہی خدا ہے۔ اسلام میں حقیقی اور خالص جمہوریت کا رنگ پایا جاتا ہے جو اپنی اعلیٰ شان وشوکت کے لحاظ سے ہمارے زمانے کی نام نہاد جمہوریت سے بدرجہا بہتر ہے۔یہ وہ رنگ ہے جس کو اعلیٰ قرار دیا جا سکتا ہے۔اس کو نہ مذہب عیسوی پیدا کر سکا نہ ہی میرا مذہب۔جو تاریخ عالم میں بہت پرانا ہے۔اس کی تاریخ کا موجب ہے بلکہ وہ محمدe کی پاک مساعی کا نتیجہ ہے۔
۳: سردار دیوان سنگھ مفتون (ایڈیٹر:’’ریاست‘‘)
’’ایک روز مولوی صاحب نے مجھے رسول اللہ e کی وہ حدیث سنائی جس میں پیغمبر اسلام نے فرمایا ہے:
’’سلطان جابر کے سامنے کلمہ حق کہنا سب سے بڑا جہاد ہے۔‘‘
میں نے جب یہ حدیث سنی تو میں نے غور کیاکہ اس شخصیت کی بلندی کا کیا اندازہ کیا جا سکتا ہے،جس نے حاکمِ وقت کے سامنے حق وصداقت کی آواز کو دنیا میں سب سے بڑا جہاد قرار دیا ہو۔۔۔۔ان ہونٹوں کی قدر وقیمت کا کوئی اندازہ نہیں کیا جاسکتا جن ہونٹوں سے اس حدیث کے یہ الفاظ نکلے۔‘‘
۴: پنڈت گوپال کرشن (ایڈیٹر’’بھارت سماچار‘‘)
’’رشی محمد صاحب کی زندگی پر جب ہم وچار کرتے ہیں تو یہ بات صاف نظر آتی ہے کہ ایشور نے ان کو سنسار سدھارنے کے لئے بھیجا تھا۔ان کے اندر وہ شکتی موجود تھی جو ایک گریٹ ریفارمر(مصلح اعظم) اور ایک مہا پرش(عظیم ہستی)میں ہونی چاہیے۔
آپ نے عرب کے چرواہوں کو جو ظلم وستم کے عادی تھے۔انسانِ کامل بنا دیا اور ان کے اندر رحم وکرم، حلم وتواضع پیدا کر دی۔ ان میں مترما (مودت) اور پریم(محبت)کے جذبات پیدا کر دئیے۔ یہ لوگ جاہل اور وحشی تھے۔ پرنتو (مگر) چند ہی روز میں ان کو حکمرانوں کے اعلیٰ مرتبہ پر پہنچا دیا۔وہ اپنے بھائیوں کا خون بہانا ایک معمولی بات سمجھتے تھے مگر حضرت محمد صاحب کی تعلیم سے ایسے دیالو(رحم دل)ہو گئے کہ دنیا کی کھوئی ہوئی سلامتی اور اس کا امن دوبارہ قائم ہو گیا اور وہ خود بھی شانتی(امن) کے محافظ بن گئے۔‘‘
۵: مسٹر کے ایم منشی (سابق گورنر یوپی۔انڈیا)
’’رنگ،نسل،قومیت اور مذہب کے ہاتھوں بنی ہوئی دنیا کو آج بھی تعلیمات محمدیe کی ضرورت ہے۔‘‘
۶: مہاتما گاندھی (بانی موجودہ ہندوستان)
’’مغربی دنیا اندھیرے میں غرق تھی کہ ایک روشن ستارہ افق مشرق سے چمکا اور اس نے بے قرار دنیا کو روشنی،راحت،تسلی اور محبت کا پیغام دیا۔‘‘
۷: بی ایس کشالپہ
سید سلیمان ندویa کے ’’خطبات مدراس‘‘میں ایک ہندو کی اپنے مسلمان استاد سے گفتگو کا نقشہ ان الفاظ میں کھینچا گیا ہے کہ ہندوستان کے ماہر تعلیم بی ایس کشالپہ کہتے ہیں:
’’مجھے یہ کہنے میں ذرا بھی باک نہیں کہ بلاشبہ محمدe ایک سچے پیغمبر تھے،اس سچے محمدe کے بارے میں اس سے پہلے میرے دل میں جس قدر بد گمانیاں تھیں،میں روح محمدe سے اس کی معافی چاہتا ہوں اور بلامبالغہ کہتا ہوں کہ آج دنیا میں کسی شخص میں یہ طاقت نہیں کہ محمدe کے کریکٹر پر ایک دھبہ بھی لگا سکے۔‘‘
۸: لالہ بشن داس
’’جس عزت وتوقیر اور تعظیم وتکریم،صدق وارادت اور پریم کے ساتھ خاتم الانبیاء کا نام لیا جاتا ہے کسی دوسرے پیر، پیغمبر، ولی،گورو،رشی اور نبی کا نام ہرگز نہیں لیا جاتا،جو اخوت پیغمبر اسلام نے قائم کی ہے کوئی نہ کر سکا۔‘‘
۹: فراق گورکھ پوری
’’میرا اٹل ایمان ہے کہ حضرت محمدe اسلام کی ہستی بنی نوع انسان کے لئے ایک رحمت تھی۔ پیغمبر اسلام نے تاریخ وتمدن،تہذیب واخلاق کو وہ کچھ دیا ہے جو شاید ہی کوئی اور بڑی ہستی دے سکی ہو۔‘‘
۱۰: مہاتما سیتہ دھاری
’’حضرت محمد صاحبe کی زندگی دنیا کو بے شمار قیمتی سبق پڑھاتی ہے۔حضرت محمدe کی ہر ایک حیثیت دنیا کے لئے سبق دینے والی ہے۔ بشرطیکہ دیکھنے والی آنکھ،سمجھنے والا دماغ اور محسوس کرنے والا دل ہو۔‘‘
۱۱: لالہ رام ورما (ایڈیٹر:’’تیج‘‘)
’’جمہوریت،اخوت،مساوات یہ عطیات ہیں جو حضرت محمدe نے بنی نوع انسان کو عطا کیے اور حقیقت میں یہی وہ اصول ہیں جن کی ہر زمانہ اور ہر دور کے مصلحوں اور معلموں نے اشاعت کی ہے۔‘‘
۱۲: مسٹر اجیت پرشاد جین
’’آں حضرتe نے جو پیغام دیا ہے وہ تمام کائنات کے لئے ہے۔اگر صحیح جذبہ کے تحت دیکھا جائے تو غیر مسلم بھی ان کی تعلیم اور زندگی سے بہت کچھ سیکھتے ہیں۔‘‘
۱۳: پنڈت گووند بلبھ نپت
’’آپe کی تعلیم کسی ایک ملک یا ملت کے لئے نہیں تھی۔آپ کا پیغام ساری دنیا کے لئے تھا۔ آپe نے اتحاد،بھائی چارہ اور انسانی ہمدردی کے اصولوں پر زور دیا۔مَیں اسی مہتم بالشان ہستی کو ہدیہ عقیدت پیش کرتا ہوں۔‘‘
۱۴: راما کرشنا راؤ
’’آں حضرتe کی شخصیت کے کل تک تو پہنچنا مشکل ہے۔میں حضور پاکe کی صرف ایک جھلک دیکھ سکتا ہوں۔ خوب صورت مناظر کا ایک خوب صورت سلسلہ ہے۔ آپe جرنیل  ہیں، آپe بادشاہ ہیں،آپe سپہ سالار ہیں، آپe تاجر ہیں،آپe داعی ہیں، آپe فلاسفر ہیں،آپe خطیب ہیں، آپe مصلح ہیں،آپe یتیموں کی پناہ گاہ ہیں، آپe عورتوں کے نجات دھندہ ہیں،آپe جج ہیں، آپe ولی ہیں۔ یہ تمام اعلیٰ اور عظیم الشان کردار ایک ہی شخصیت کے ہیں۔ ہر شعبہ زندگی کے لئے آپe کی حیثیت مثالی ہے۔ آپe کے کارنامے کسی ایک شعبہ زندگی تک محدود نہیں بلکہ کسی قوم کی اصلاح کرنا عظمت کی علامت ہے۔ تو اس کا سہرا آں حضرتe کے سر سجتا ہے۔عرب قوم بربریت کا شکار تھی۔ اخلاقی پسماندگی کی ایسی گہرائیوں میں ڈوبی ہوئی تھی کہ اس کی مثال نہیں ملتی۔ آپe نے اس کی کایا پلٹ دی، ہیئت بدل دی اور پوری قوم کو سربلند کر دیا۔ اگر عظمت معاشرے کے منتشر عناصر کو بھائی چارے اور اخوت میں پرو دینے کا نام ہے تو یہ اعزاز بھی اللہ کے رسولe کے لئے خاص ہے۔اگر عظمت شکوک وتوہمات اور لایعنی رسومات سے نجات دینے کا نام ہے تو رسول اکرمe نے کروڑوں انسانوں کو بے معنی خوف اور بے بنیاد رسومات سے نجات دلائی۔اگر عظمت اعلی ترین کردار کے مظاہرے کا نام ہے تو آپe کو آپe کے دوستوں اور دشمنوں نے ’’الصادق اور الامین‘‘ قرار دیا۔
اگر فاتح عظیم ہوتا ہے تو ہمارے سامنے ایک ایسا شخص ہے جو بے سہارا یتیم اور عام انسان کے درجے سے بلند ہو کر عرب کا حکم ران بن جاتا ہے۔ایک ایسا حکم ران جس نے ایک عظیم الشان حکومت کی بنیاد رکھی جو آپe کے چودہ سو برس کے بعد بھی قائم ہے۔اگر عظمت کا معیار قائد سے اس کے پیروکاروں کا لگاؤ اور عشق ہے تو آپe کا نام دنیا بھر میں پھیلے ہوئے کروڑوں چاھنے والوں کے دلوں کے لئے آج بھی طلسماتی کشش رکھتا ہے۔آپe نے ایتھنز، روم، ایران، ہندوستان یا چین کے مکتبوں سے فلسفہ کی تعلیم حاصل نہ کی تھی اس کے باوجود آپe انسانیت کے سامنے دائمی سچائیاں اور اصول پیش کرتے رہے۔آپe اس فصاحت اور لطافت سے گفتگو فرماتے کہ فرطِ تاثر سے سننے والوں کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلتے۔‘‘
راما کرشنا راؤ مزید لکھتا ہے:
’’آپe شہنشاہِ عرب تھے لیکن اپنے جوتے اور کپڑے خود ہی ٹھیک کر لیتے تھے۔اپنی بکریوں کا دودھ دوھ لیا کرتے تھے۔چراغ جلا لیا کرتے تھے اور روزمرہ گھریلو کام کر لیا کرتے تھے۔مدینہ کا پورا قصبہ جہاں آپ نے زندگی گزاری، آپe کی زندگی کے آخری حصے میں خوش حال ہو چکا تھا۔ہر طرف سونے اور چاندی کی بہتات تھی،لیکن خوش حالی کے اس دور میں بھی شہنشاہِ عرب کے گھر میں کئی کئی روز تک چولہا نہ جلتا تھا اور آپe کی خوراک پانی اور کھجوروں پر ہی مشتمل رھتی۔ آپe کے گھر والے مسلسل کئی کئی راتیں فاقہ کشی میں گزار دیتے،کیوں کہ گھر میں شام کو کھانے کی کوئی چیز نہ ہوتی تھی۔سارے دن کی طویل مصروفیت کے بعد آپe کسی نرم بستر پر نہیں بلکہ کھجور کی چٹائی پر آرام فرماتے۔
رات کا بیشتر وقت آپe اپنے رب کے حضور رو رو کر گزارتے۔روایات کے مطابق روتے روتے آپe کی آواز رندھ جاتی۔
جب آپe کا انتقال ہوا تو آپe کے ترکے میں چند درہم تھے۔جس کا ایک حصہ قرض کی ادائیگی میں اور بقیہ ایک حاجت مند کو دے دیا گیا،جو دروازے پر آ گیاتھا۔
جس لباس میں آپe نے آخری سانس لی اس میں کئی پیوند لگے ہوئے تھے۔اس وقت آپe کے گھر میں تاریکی تھی اور جس گھر نے ساری کائنات میں روشنی پھیلائی تھی اس گھر میں اس لئے اندھیرا تھا کہ چراغ میں تیل نہ تھا۔ فتح ہو یا شکست، طاقت ہو یا محکومی، خوشحالی ہو یا تنگدستی، آپe کی ایک ہی شخصیت تھی اور آپe نے ایک ہی کردار کا مظاہرہ فرمایا۔جس طرح اللہ کے طریقے اور قوانین تبدیل نہیں ہوتے اسی طرح اس کے نبی بھی نہیں بدلتے۔‘‘
۱۵: موہن چند کرم داس گاندھی
’’اسلام نے تمام دنیا سے خراج تحسین وصول کیاجب مغرب پر تاریکی اور جہالت کی گھٹائیں چھائی ہوئی تھیں۔اس وقت مشرق سے ایک ستارہ نمودار ہوا۔ایک روشن ستارہ جس کی روشنی سے ظلمت کدے منور ہو گئے۔اسلام دین باطل نہیں، ہندوؤں کو اس کا مطالعہ کرنا چاہئے تاکہ وہ بھی میری طرح اس کی تعظیم کرنا سیکھ جائیں۔ میں یقین سے کہتا ہوں کہ اسلام نے بزورِشمشیر سرفرازی اور سربلندی حاصل نہیں کی بلکہ اس کی بنیاد نبی کا خلوص، خود داری پر آپ کا غلبہ، وعدوں کا پاس، غلام، دوست اور احباب سے یکساں محبت، آپ کی جرأت اور بے خوفی اللہ اور خود پر یقین جیسے اوصاف۔ لہٰذا یہ کہنا غلط ہے کہ اسلام تلوار کے زور سے پھیلا۔اس کی فتوحات میں یہی اوصاف حمیدہ شامل ہیں اور یہی وہ اوصاف ہیں جن کی مدد سے مسلمان تمام پابندیوں اور رکاوٹوں کے باوجود پیش قدمی کرتے چلے گئے۔‘‘
۱۶: شری راج ویدت پنڈت گدادھر پرشاد شرما (رئیس اعظم:الہ آباد)
’’میں ایک راسخ العقیدہ ہندو ہوں لیکن میں نے ہندو،عیسائی اور اسلامی مذاہب کے بانیوں کے حالاتِ زندگی کو اپنی بہترین توجہ کا مزاج دیا ہے۔ میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ اسلام دنیا کا بہترین مذہب ہے اور میں ببانگ دہل اعلان کرتا ہوں کہ میری رائے میں اگر کسی مذہب کو اخوت،باہمی اخلاق، تہذیب اور اتحاد،فراوانی اور کثرت کے ساتھ عطا کی گئی ہے تو وہ تمام مذاہب کا سردار اسلام ہے۔ اسلام کی فیاضی اور کشادہ دلی اس کا امتیازی نشان ہے۔ وہ بلالحاظ اس بات کے کہ کوئی امیر ہے یا غریب سب کو اپنی شفیق آغوش میں پناہ دیتا ہے۔اس کے دروازے سب کے لئے کھلے ہوئے ہیں۔ہر خیال ورنگ کے انسان اس کے زیر سایہ آرام وراحت کی زندگی بسر کر سکتے ہیں۔ اچھوت پن کی لعنت دور کرنے کی طاقت اسلام اور صرف اسلام میں ہے۔ پیغمبر اسلام تمام اوصافِ حسنہ کے مجسمہ تھے۔ مسلمان فطرتاً روحانیت پسند واقع ہوئے ہیں۔ انہیں مذہب واخلاق سے خاص لگاؤ ہے۔‘‘
۱۷: حکیم پنڈت کرشن دت شرما
ہندو طبیب حکیم پنڈت کرشن دت شرما نے سرکارِ دوعالمe کی شخصیت کا اعتراف ان الفاظ میں کیا ہے:
’’شعاع نور،مظہرِاتم،مینارہ ہدایت حضرت محمدe جمالِ کبریائی کی وہ شعاعِ رنگ ونور ہے جو ایک پیکرِانسانی میں جلوہ گر ہو کر ’’ظلمت کدہ جہاں کو ’’رشک صد جہاں‘‘ بنانے آئی تھی اور بنا گئی، محمدe انسانیت کا وہ مظہرِاتم ہیں جس کی انسانیت کے سامنے فرشتوں کی گردنیں جھک گئیں۔
محمدe وہ نابغہ روزگار ہستی ہیں،جس کے مافوق الفطرت کمالات کو سمجھنے سے عقل انسانی باوجود اپنی بلند پروازیوں میں تقلید کا ایک بہترین اور افضل ترین نمونہ بن گیا۔ان کی شخصیت مینارہ شرافت وہدایت اور ایسی سراج صداقت وحقانیت تھی،جس کی ضیاء پاشیاں ہر زمانے میں گم گشتگانِ راہ ہدایت کے لئے صراط ِمستقیم کا پیام ثابت ہوئیں اور ہوتی رہیں گی۔‘‘
۱۸: مسٹر شانتا رام
معروف ہندو مصنف اپنی کتاب ’’محمد (e) کا جیون چرتر‘‘میں لکھتا ہے کہ:
’’میں نے اپنی زندگی کا زیادہ تر حصہ مشاہیر کی سوانح حیات کے پڑھنے میں صرف کیا ہے۔،میں پورے یقین کے ساتھ کہتا ہوں کہ حضرت محمدe ایک ایسے عظیم انسان ہیں کہ ان کے مقابلے کا انسان روئے زمین کی تاریخ پر نظر نہیں آتا۔‘‘

No comments:

Post a Comment

View My Stats