رب رحمٰن کا احترام کیجیے! 44-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Sunday, November 24, 2019

رب رحمٰن کا احترام کیجیے! 44-2019


رب رحمٰن کا احترام کیجیے!

تحریر: جناب مولانا ابوعبداللہ
فرمان باری تعالیٰ ہے:
{وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّتَّخِذُ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ اَنْدَادًا یُّحِبُّوْنَہُمْ کَحُبِّ اللّٰہِ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْآ اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰہِ وَ لَوْ یَرَی الَّذِیْنَ ظَلَمُوْآ اِذْ یَرَوْنَ الْعَذَابَ اَنَّ الْقُوَّۃَ لِلّٰہِ جَمِیْعًا وَّ اَنَّ اللّٰہَ شَدِیْدُ الْعَذَابِ}
’’بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو اللہ کے شریک اوروں کو ٹھہرا کر ان سے ایسی محبت رکھتے ہیں، جیسی محبت اللہ سے ہونی چاہیے اور ایمان والے اللہ کی محبت میں بہت سخت ہوتے ہیں کاش کہ مشرک لوگ جانتے جب کہ اللہ کے عذاب کو دیکھ کر (جان لیں گے) کہ تمام طاقت اللہ ہی کو ہے اور اللہ سخت عذاب دینے والا ہے (تو ہرگز شرک نہ کرتے)۔‘‘ (البقرۃ: ۱۶۵)
کسی ذات کا ادب و احترام اور اس کی تعظیم اس ذات سے محبت کی دلیل ہوتی ہے جس طرح اس کی یا اس کے نام کی بے ادبی، تحقیر اور بے وقعتی اس ذات سے نفرت کی دلیل ہوتی ہے۔ چنانچہ فطرت انسانی پر پرورش پانے والا ہر شخص اپنے محسن کا شکرگزار اور اسکا ادب و احترام کرنے والا ہوتا ہے۔ چاہے اس کا احسان اس پر کتنا ہی معمولی کیوں نہ ہو۔ اگر اس کے احسانات اس پر کئی ایک ہوں تو یہ انسان اپنے اس محسن و مشفق کی تعریف کرتے نہیں تھکتا، دوران گفتگو اگر اس کا نام زباں پر آجائے تو نہایت ادب و احترام اور وقار کے ساتھ اسے ادا کرتا ہے اور اس کے نام کو ان چیزوں کی طرف منسوب نہیں کرتا جو اس کے لائق نہ ہوں۔ جبکہ یہ رویہ مخلوق کے ساتھ ارباب عقل کا ہوتا ہے تو تصور کیجئے اس وقت کیا رویہ ہونا چاہئے جب معاملہ خالق و مخلوق کا ہو، انعام کرنے والے اور انعام وصول کرنے والوں کا ہو، رازق کائنات اور فقیر و محتاج بندوں کا ہو، مالک الملوک بادشاہوں کے بادشاہ اور ذلیل و فقیر مخلوق کا ہو۔ یقیناً معاملہ ادب و احترام، عزت و تکریم سے کہیں بڑھ کر تعظیم و تجلیل اور غایت درجہ وقعت و توقیر کا ہونا چاہئے۔ مگر نہایت افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہم نے اپنے خالق و مالک اور اپنے رازق کی قدر نہیں کی۔ فرمان ذوالجلال ہے:
{وَ مَا قَدَرُوا اللّٰہَ حَقَّ قَدْرِہٖ وَ الْاَرْضُ جَمِیْعًا قَبْضَتُہٗ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ وَ السَّمٰوٰتُ مَطْوِیّٰتٌ بِیَمِیْنِہٖ سُبْحٰنَہٗ وَ تَعٰلٰی عَمَّا یُشْرِکُوْنَ} (الزمر: ۶۷)
’’اور ان لوگوں نے جیسی قدر اللہ تعالیٰ کی کرنی چاہیے تھی نہیں کی ساری زمین قیامت کے دن اس کی مٹھی میں ہوگی اور تمام آسمان اس کے داہنے ہاتھ میں لپیٹے ہوئے ہوں گے‘ وہ پاک اور برتر ہے ہر اس چیز سے جسے لوگ اس کا شریک بنائیں۔‘‘
رب ذوالجلال کے بلند و باکمال ناموں کو دنیا کے حقیر مال و متاع کی طرف منسوب کردیا مثلاً:
\          رحمٰن بریانی           \          رحمٰن ملک شاپ
\          رحمٰن آٹوز           \          رحمٰن پلازہ
\          رحمٰن گارڈن          \          ر حمٰن بیکرز وغیرہ وغیرہ
جبکہ یہ سراسر رب رحیم کے ساتھ گستاخی و بے ادبی ہے جس کی بنیاد یا تو لاعلمی ہے یا پھر اللہ رب العزت کے ناموں کے ذریعے دنیا کمانے کی لالچ۔
{وَ یَشْتَرُوْنَ بِہٖ ثَمَنًا قَلِیْلًا۔۔۔} (البقرۃ: ۱۷۴)
’’اور اسے تھوڑی تھوڑی سی قیمت پر بیچتے ہیں۔‘‘
الرحمان: رب تعالیٰ کے خاص ناموں میں سے ہے:
جن کا استعمال غیر اللہ کیلئے نہ تو بلا اضافت ’’عبد‘‘ کے جائز ہے جیسے کسی شخص کو صرف رحمان کہنا، جس طرح کسی کو صرف اللہ نہیں کہا جاسکتا بلکہ عبداللہ کہا جاتا ہے بالکل اسی طرح کسی کو صرف رحمان بھی نہیں کہا جاسکتا بلکہ عبدالرحمان کہا جائیگا۔ کیونکہ یہ دونوں نام اللہ کے ذاتی ناموں میں سے ہیں اور نہ ہی ان ناموں کے ذریعے دنیاوی مال و متاع اور فوائد اکٹھے کرنا درست ہے۔ اسی لئے رب تعالیٰ نے فرمایا:
{اَلرَّحْمٰنُ عَلَی الْعَرْشِ اسْتَوٰی} (طٰہٰ: ۵)
’’رحمان عرش پر مستوی ہے۔‘‘
اور فرمایا:
{قُلِ ادْعُوا اللّٰہَ اَوِ ادْعُوا الرَّحْمٰنَ اَیًّا مَّا تَدْعُوْا فَلَہُ الْاَسْمَآئُ الْحُسْنٰی}(الاسراء: ۱۱۰)
’’کہہ دیجئے کہ اللہ کو اللہ کہہ کر پکارو یا رحمٰن کہہ کر، جس نام سے بھی پکارو تمام اچھے نام اسی کے ہیں۔‘‘
اور اپنی کتاب میں کہیں اللہ رب العزت نے اس (رحمان) نام سے کسی مخلوق کو موصوف نہیں فرمایا جبکہ رحیم کے نام اپنے پیارے نبی کریمe کو ایک مقام پر موصوف فرمایا:
{لَقَدْ جَآئَکُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِکُمْ عَزِیْزٌ عَلَیْہِ مَا عَنِتُّمْ حَرِیْصٌ عَلَیْکُمْ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَئُوْفٌ رَّحِیْمٌ} (التوبہ: ۱۲۸)
’’تمہارے پاس ایک ایسے پیغمبر تشریف لائے ہیں جو تمہاری جنس سے ہیں‘ جن کو تمہارے نقصان کی بات نہایت گراں گزرتی ہے‘ جو تمہارے فائدے کے بڑے خواہش مند رہتے ہیں‘ ایمانداروں کے ساتھ بڑے شفیق اور مہربان ہیں۔‘‘
اسی طرح اس مبارک نام کو بری صفات کے ساتھ لینا یا ان کی طرف منسوب کرنا بھی اس مبارک نام (رحمان) کے ساتھ کفر و الحاد سے کم نہیں۔ جیسا کہ رحمان ڈکیت وغیرہ وغیرہ (نعوذ باللہ)۔
{وَ لِلّٰہِ الْاَسْمَآئُ الْحُسْنٰی فَادْعُوْہُ بِہَا وَ ذَرُوا الَّذِیْنَ یُلْحِدُوْنَ فِیْٓ اَسْمَآپہٖ۱ سَیُجْزَوْنَ مَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ} (الأعراف: ۱۸۰)
’’اور اچھے اچھے نام اللہ ہی کیلئے ہیں سو ان ناموں سے اللہ ہی کو موسوم کیا کرو اور ایسے لوگوں سے تعلق بھی نہ رکھو جو اس کے ناموں میں الحاد کرتے ہیں ان لوگوں کو ان کے کئے کی ضرور سزا ملے گی۔‘‘
 جو اس گستاخی و گناہ میں پڑے ہیں وہ کیا کریں؟
غلطی پر اصرار اس سے بڑی غلطی ہے اور جب یہ غلطی گناہ کبیرہ اور خالق کائنات کے ساتھ گستاخی اور اس کے ناموں میں الحاد ہو تو اس کا فوراً بدل دینا ہر مسلمان بلکہ ہر مخلوق پر یکساں فرض و واجب ہے۔ خصوصاً جب معاملہ اللہ رب العزت کے ماننے والوں کا ہو۔
جہاں تک بات شیطانی وسوسوں کی ہے کہ وہ یہ وسوسے ڈالے گا کہ تمہارا نام بہت بڑا ہوچکا ہے اور تم اس نام سے کمارہے ہو اور اگر نام تبدیل کیا تو کاروبار ٹھپ ہوجائیگا وغیرہ وغیرہ تو یہ سوائے شیطانی وسوسے کے کچھ نہیں۔ فرمان باری تعالیٰ ہے:
{اَلشَّیْطٰنُ یَعِدُکُمُ الْفَقْرَ وَ یَاْمُرُکُمْ بِالْفَحْشَآئِ۵ وَ اللّٰہُ یَعِدُکُمْ مَّغْفِرَۃً مِّنْہُ وَ فَضْلًا ۲ وَ اللّٰہُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ} (البقرۃ: ۱۶۸)
’’شیطان تمہیں فقیری سے دھمکاتا ہے اور بے حیائی کا حکم دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ تم سے اپنی بخشش اور فضل کا وعدہ کرتا ہے‘ اللہ تعالیٰ وسعت والا اور علم والا ہے۔‘‘
شیطان کے جھوٹے دعوؤں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ وہ بندے کو کہتا ہے کہ اگر نام تبدیل کردیا تو تم فقیر ہوجائوگے، کام ٹھپ ہوجائیگا وغیرہ وغیرہ جبکہ اللہ رب العزت ہر مخلوق کو رزق دینے والا ہے۔ فرمان باری تعالیٰ ہے:
{وَ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ٭ مَآ اُرِیْدُ مِنْہُمْ مِّنْ رِّزْقٍ وَّ مَآ اُرِیْدُ اَنْ یُّطْعِمُوْنِ٭ اِنَّ اللّٰہَ ہُوَ الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّۃِ الْمَتِیْنُ٭} (الذریات: ۵۶-۵۸)
’’میں نے جنات اور انسانوں کو محض اس لئے پیدا کیا ہے کہ وہ صرف میری عبادت کریں‘ نہ میں ان سے روزی چاہتا ہوں اور نہ میری یہ چاہت ہے کہ مجھے کھلائیں‘ اللہ تعالیٰ تو خود ہی سب کا روزی رساں‘ توانائی والا اور زور آور ہے۔‘‘
تصور کیجئے کہ اگر وہ غفور و رحیم ذات اپنی نافرمانی پر آپ کو اتنا رزق دیتی ہے تو کیا اپنی فرمانبرداری پر برکت سے بھرا رزق عنایت نہیں فرماسکتی! کتنے افسوس کی بات ہے کہ جو رب رحمان ہمیں دن رات بے پناہ نعمتوں سے نواز رہا ہے، بجائے اس کے کہ ہم اس کے مبارک ناموں کی عزت و توقیر کریں‘ ان کا غایت درجہ احترام کریں، ہم اپنی اس غلطی کو سدھارنے کو بھی راضی نہیں! صرف شیطان کے دلائے اس خوف سے کہ اگر نام تبدیل کیا تو کاروبار ٹھپ ہوجائیگا! حالانکہ رزق تو اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ فرمان باری تعالیٰ ہے:
{وَ مَا مِنْ دَآبَّۃٍ فِی الْاَرْضِ اِلَّا عَلَی اللّٰہِ رِزْقُہَا}
’’زمین پر چلنے پھرنے والے جتنے جاندار ہیں سب کی روزیاں اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہیں۔‘‘ (ہود: ۶)
اور ہمیں یہ بھی اچھی طرح جان لینا چاہیے کہ آپe کے فرمان مبارک کا مفہوم ہے کہ
’’بندے میں جب اللہ کی طرف سے فرشتہ روح پھونکنے آتا ہے تو اسی وقت اسکو چار چیزیں بھی لکھنے کا حکم دے دیا جاتا ہے: 1اس کا رزق 2اس کی عمر 3 اس کے اعمال 4 نیکوکار ہوگا یا بدکار۔‘‘ (رواہ مسلم، کتاب القدر)۔
اسی طرح آج کل لوگوں نے یہ وطیرہ بنا لیا ہے کہ اپنے کاروبار اور دکانوں کے نام ’’بسم اللہ شاپ‘‘ یا ما شاء اللہ جیسے رکھ لیتے ہیں جبکہ سارا کاروبار ہی جعلی‘ ملاوٹ اور دھوکے بازی پر مبنی ہوتا ہے۔ اس طرح کے اسلامی ناموں کی آڑ میں دھوکہ دہی درست نہیں۔ بلکہ ‘‘بسم اللہ‘‘ اور ’’ماشاء اللہ‘‘ جیسے نام رکھنے سے بھی اجتناب بہتر ہے۔
اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنی قدر کرنے کی توفیق عنایت فرمائے اور ہمیں صحیح اسلامی عقائد اپنانے کی توفیق بخشے۔ آمین یا رب العالمین۔
وما علینا الا البلاغ المبین


No comments:

Post a Comment

View My Stats