خطبۂ حرم ... سیرت نبوی اور واضح کامیابی 44-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Sunday, November 24, 2019

خطبۂ حرم ... سیرت نبوی اور واضح کامیابی 44-2019


خطبۂ حرم ... سیرت نبوی اور واضح کامیابی

امام الحرم المکی فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبدالرحمن السدیس d
ترجمہ: جناب مولانا محمد اجمل بھٹی
حمد و ثناء کے بعد!
برادرانِ اسلام! جو شخص حسن فہم کے ساتھ تاریخ کا مطالعہ کرے اور تاریخ کے میدانوں میں جستجو کے گھوڑے دوڑائے تو اسے چمکتے پانی سے بھی زیادہ صاف پانی کا چشمہ نظر آئے گا، خالص ٹپکتے شہد سے بھی صاف چشمہ اسے دکھائی دے گا۔ یہ خوبصورت چشمہ خیر البشر کی معطر اور عالی مرتبت سیرت کے روشن اور منور صفحات ہیں۔ اللہ کی رحمتیں اور سلامتی آپ پر ہو۔ آپ e ہی پاکیزہ طینت کا مرجع اور چار سو پھیلی نیکی کا سر چشمہ ہیں۔ شاعر نے کیا خوب کہا ہے:
’’اللہ نے انہیں رفعت و بلندی ہی عطا کی اور جسے عرش والا بلند کر دے اسے کوئی گرا نہیں سکتا۔‘‘
برادرانِ اسلام! بعثت نبوی سے پہلے تاریخ ایک اندھیری رات کی طرح تھی۔ حتیٰ کہ روشن اور واضح  ہدایت آ گئی۔ رسول اللہ e نے واضح آیات، پاکیزہ سنت اور معطر وپاکیزہ سیرت کے ساتھ حق کو ممتاز کیا۔
آپ کی سیرت ہی سب سے شیریں جھرناہے، سعادت مندی اور کامیابی، تعمیر و اصلاح کے خواہش مند پیروکاروں اور مقتدیوں کے لیے عظیم ترین چشمہ ہے۔ یہ بات ہر خاص و عام تسلیم کر چکا ہے۔ دلائل و نصوص نے یہ ثابت کیا ہے کہ آپ e کی سیرت وہ روشن اور جگمگاتا نور ہے، جو ہمارے عقیدے اور عبادات کے مسائل کا حل پیش کرتا ہے۔ سیرت و کردار اور تربیت و اخلاقیات کے لیے عالی منزل چشمہ ہے۔ انسانی اور عالمی تعلقات کے لیے چمکتا سورج ہے کیونکہ اس میں شرعی مقاصد اور ضروری آداب سبھی آ گئے ہیں۔
سیرت کے حالات کو پیش کرنے میں اگرچہ مختلف لوگوں کا طرزِ بیان مختلف ہوتا ہے لیکن یہاں ایک نہایت اہم پہلو کی طرف توجہ مبذول کرانا بھی ضروری ہے اور وہ ہے ’’اہداف و مقاصد کا پہلو۔‘‘
برادرانِ اسلام! سیرت نبوی بڑی واضح طور پر مقاصد شریعت سے لبریز ہے۔ بلکہ پاکیزہ اور معطر سیرت سے مزین ہونے کے بعد یہ مقاصد اور بھی روشن ہو گئے ہیں۔ رسالت محمدیہ کا عمومی مقصد انسانیت پر رحمت و شفقت کرنا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
﴿وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِيْنَ۰۰۱۰۷﴾(الانبيآء)
’’ ہم نے جو آپ کو بھیجا ہے تو یہ دراصل دنیا والوں کے حق میں ہماری رحمت ہے۔‘‘
یہ مقصد رب العالمین کی توحید کی دعوت اور عمدہ اخلاق کی تکمیل سے حاصل ہو گا۔ نبی کریم  e فرماتے ہیں: ’’مجھے عمدہ اخلاق کی تکمیل کے لیے بھیجا گیا ہے۔‘‘
سیدنا ابو امامہt بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہe نے فرمایا:’’ مجھے توحید پر مبنی رحمت و نرمی والا دین دے کر بھیجا گیا ہے۔‘‘
خیر البشر کی سیرت نے جس طرح ہماری دینی ضروریات کی حفاظت کی ہے، ہم اس طرح کی حفاظت بھلا کیسے کر سکتے تھے؟ دین کی حفاظت، عقیدے کے بیان اور معالم دین کی وضاحت کیلئے آپ e کی ہدایات اور توجیہات سے بڑھ کر خوبصورت ہدایات کوئی نہیں ہو سکتیں۔  پھر آپ e غیر مسلموں کو بھی دین کی دعوت دیتے۔ آپ کی دعوت میں دین اسلام کی عظمت، جامعیت ، کمال اور رحمت کا اعلان ہوتا تھا۔ مختلف بادشاہوں اور امراء کو لکھے گئے۔ خطوط میں خیر خواہی، مکالمہ، اصلاح اور محبت کا پیغام ہوتا تھا۔ آپ e انہیں محبت و الفت، امداد باہمی، سلامتی، اجتماع اور دین اسلام کو تھامنے کی دعوت دیتے۔ جو مسلمان ہو جاتا وہ سلامتی پا لیتا اور دوسرں کو سلامتی پہنچانے والا بن جاتا۔ اگر جنگ کے حالات پیدا ہوتے تو بھی نرمی، درگزر اور خون نہ بہانے کی جانب غالب ہوتی۔ آپ دو عظیم مقاصد کو اکٹھا کرتے۔ دین کی حفات اور انسانی جانوں کا تحفظ۔‘‘
مسند احمد میں ابن عباس wکی حدیث ہے: ’’آپ نے جب بھی کسی قوم سے جنگ لڑی، پہلے انہیں اسلام کی دعوت دی۔‘‘
صحیحین میں سیدنا علی tکی حدیث میں ہے کہ جنگ خیبر کے دن رسول اللہ eنے انہیں فرمایا: ’’آہستہ آہستہ جاؤ، جب یہودیوں کے میدان میں پہنچ جاؤ تو انہیں اسلام کی دعوت دینا، کیونکہ اللہ کی قسم! اگر اللہ تیرے ذریعے ایک آدمی کو ہدایت بخش دے تو وہ تیرے لیے (غنیمت کے) سرخ اونٹوں سے بہتر ہے۔‘‘ اللہ اکبر۔ شاعر کہتا ہے:
’’آپ کے اخلاق پر اخلاق ختم ہو جاتے ہیں، آپ کے اخلاق اخلاقیات کی تکمیل ہیں، آپ ابتدا ہی میں دوسروں کے انتہائی اخلاق پر غالب آ جاتے ہیں، آپ سے پہلے لوگوں نے ایک ہزار عالی اخلاق پیش کیے لیکن آپ ان سب پر غالب آ گئے۔‘‘
امت ایمان! پاکیزہ سیرت نبوی میں جو عالی مقاصد بیان ہوئے ہیں ا ن میں سے ایک یہ ہے کہ خواتین، بوڑھوں، زخمیوں، بیماروں، معذوروں، راہبوں وغیرہ کو قتل کرنے سے منع کیا ہے۔ آپ e نے انسانی جانوں کی حفاظت کے لیے انہیں قتل کرنے سے روک دیا۔ اسی طرح آپ e نے انسانی نسل کو محفوظ کرنے کیلئے بچوں کو قتل کرنے سے منع فرمایا۔
سیدنا عبداللہ بن عباس w بيان کرتے ہیں کہ رسول اللہ e جب کوئی لشکر بھیجتے تو فرماتے: ’’اللہ کے نام پر چلو، اللہ کی راہ میں جہاد کرو، بد عہدی مت کرو، خیانت مت کرو، لاشوں کی بے حرمتی نہ کرو، بچوں اور راہبوں کو مت قتل کرو۔‘‘
سیدنا انس tروایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ e نے فرمایا: ’’کسی انتہائی بوڑھے کو مت مارو، کسی بچے اور عورت کو مت قتل کرو، اصلاح کرو اور احسان کرو بلاشبہ اللہ احسان کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔‘‘ (ابوداود)
الفاظ کے یہ دائمی موتی اور بلند مرتبہ ستارے سیرت محمدیہ کے ہیں جو جامع رحمت اور نرمی کے جذبات سے لبریز ہیں۔ اسلام کے مبادیات اور شریعت کے عظیم مقاصد کے ساتھ چمک رہے ہیں۔
اسی طرح سیرت نبوی انسانی نسل کو قتل و بربادی سے بچانے کے لیے نرمی اور شفقت کے مقاصد کے ساتھ روشن ہے۔ عقل انسانی کی حفاظت بھی سیرت نبوی کے مقاصد میں شامل ہے۔ نبی کریمe نے نشہ آور اشیاء اور شراب سے منع کیا ہے۔ ہر وہ چیز جو ہوش وحواس ختم کر دے اس سے منع کر دیا۔ امام احمدhنے سیدہ ام سلمہrکی روایت بیان کی ہے کہ رسول اللہ e نے ہر نشہ آور حواس باختہ کرنے والی چیز سے منع کیا ہے۔‘‘
عقل حواس کی بنیاد  ہے اور فرائض کی سب سے بڑی  مخاطب ہے۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہ hفرماتے ہیں: ’’مقصود کے اعتبار سے عقل سب سے اہم چیز ہے ، نفع کے لحاظ سے سب سے عظیم حواس ہے۔ اسی کی بنا پر اسلامی احکامات اسی پر لاگو ہوتے ہیں۔ معاملات کے درست ہونے اور عبادات کی ادائیگی کے لیے عقل صحیح ہونے کی شرط ہے۔ امام شاطبی hفرماتے ہیں: ’’شریعت نے عقل کی حفاظت کا اس کے نقص کو دور کرنے کا حکم دیا ہے۔‘‘
اللہ تعالیٰ نے قران مجید میں فرمایا ہے:
﴿يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّمَا الْخَمْرُ وَ الْمَيْسِرُ وَ الْاَنْصَابُ وَ الْاَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطٰنِ فَاجْتَنِبُوْهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ۰۰۹۰﴾ (المآئدة)
’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو! یہ شراب اور جوا اور یہ آستانے اور پانسے، یہ سب گندے شیطانی کام ہیں، ان سے پرہیز کرو، امید ہے کہ تمہیں فلاح نصیب ہوگی۔‘‘
شاعر کہتا ہے: ’’آدمی کے لیے اللہ کی افضل ترین نعمت عقل ہے، اللہ کی نعمتوں میں اس کا مقابل کوئی نہیں۔ جب رحمان کسی شخص کی عقل مکمل کر دیتا ہے تو اس کے اخلاق اور مقاصد مکمل ہو جاتے ہیں۔‘‘
چونکہ عقل کو بڑی اہمیت حاصل ہے اس لیے اللہ کے رسول e نے اس کی حفاظت کا خوب اہتمام کیا ہے۔ لہٰذا آپ نے نشہ آور اشیاء اور منشیات سے روکنے کے علاوہ مسلمان شخص کو منع کیا کہ وہ دوسروں کی رائے کا مقلد ہو۔ سیدنا حذیفہ t کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ e نے فرمایا: ’’دوسرں کی رائے کے مقلد مت بنو، یہ مت کہو کہ اگر لوگ اچھا سلوک کریں گے تو ہم بھی  اچھا سلوک کریں گے اور اگر انہوں نے ظلم کیا تو ہم بھی ظلم کرینگے۔ خود کو احسان پر آمادہ کرو، اگر لوگ احسان کریں تو تم بھی احسان کرو۔ اگر وہ برا سلوک کریں تو تم ظلم مت کرو۔‘‘
اسی طرح رسول اللہ e نے اعتدال اور میانہ روی کا بھی اہتمام کیا ہے۔ غلو اور انتہا پسندی سے بچایا ہے۔ سیدنا سعد بن أبی وقاص کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ e نے سیدنا عثمان بن مظعون tکی دنیا سے کنارہ کشی کے لیے شادی نہ کرنے کی خواہش رد کر دی۔‘‘
اسی طرح آپ نے ان تین صحابہ کی خواہشات کو بھی رد کر دیا جو آپ کے گھر آپ کی عبادت کے بارے پوچھنے آئے تھے۔ جب عائشہ rنے انہیں آپ کی عبادت کے بارے بتایا تو انہوں نے اپنی عبادت کو بہت کم محسوس کیا۔ بلکہ آپ نے بڑے واضح اور علانیہ الفاظ میں سیدنا ابو موسیٰ اشعری اور معاذ wکو فرمایا:’’آسانی پیدا کرو، اور مشکل مت پیدا کرو، خوشخبری دواور نفرت مت پھیلاؤ، آپس میں متفق رہو اور باہم اختلاف نہ کرو۔‘‘ (بخاری ومسلم)
فضول باتیں کرنے والے، غافل دل والے اس سیرت سے رہنمائی کیوں نہیں لیتے کہ جن کے دلوں پر زنگ چڑھ چکا ہے۔ دنیا کی زندگی میں ان کی کوششیں برباد ہو چکی ہیں اور وہ اپنی گمراہی میں مگن ہیں، اور اندھیروں میں ٹکریں مار رہے ہیں۔ وہ اس چمکتے نور سے دور کیوں ہیں۔ وہ نور جو انہیں معاملات کو سمجھنے، مخلوق کیلئے آسانی پیدا کرنے اور انہیں مشکل سے بچانے کے لیے عقل کےخوبصورت  استعمال کی ترغیب دیتا ہے۔ شاعر کہتا ہے:
’’یہ وہ حسن ہے جو سارے جہاں کی خوبیاں اپنے دامن میں سمیٹ کر ہر خوبی سے کہیں آگے بڑھ گیا ہے۔‘‘
امت اسلام! پاکیزہ سیرت نبوی سے حکمت اور رہنمائی کا ایک اور موتی نکالا جا سکتا ہے جو ضروریات زندگی میں سے ہے اور وہ ’’مال‘‘ کی حفاظت ہے۔ اگرچہ وہ دشمن کا مال ہی کیوں نہ ہو۔ اسلام نے ان کی حفاظت کا حکم دیا ہے حتی کہ جنگ کے دوران بھی درخت اور فصلیں جلانے، جانور ہلاک کرنے اور  عمارتوں یا گھروں کو برباد کرنے سے منع کیا گیا ہے تاکہ معاشرہ تباہی و بربادی سے محفوظ رہے۔
اسی طرح معصوموں کو جکڑنے  اور ڈاکہ ڈالنے سے بھی منع کیا گیا ہے۔ کیونکہ اس سے مقصود زمین میں فساد پھیلانا ہوتا ہے اور اللہ فسادیوں کو پسند نہیں کرتا۔
سیدنا علی tبیان کرتے ہیں کہ نبی کریم eجب کوئی اسلامی لشکر روانہ کرتے تو فرماتے:
’’اللہ کا نام لے کر روانہ ہو جاؤ، کسی چشمے کو بند نہ کرنا، کوئی درخت نہ کاٹنا، سوائے اس درخت کے جو لڑائی میں رکاوٹ بنے، بد عہدی نہ کرنا اور خیانت نہ کرنا۔‘‘ (بیہقی)
امت اسلام! اس پاکیزہ عمدہ اور بلند مرتبہ سیرت میں دیگر ضروری مقاصد کے ساتھ ساتھ ضروریاتِ زندگی میں آسانی پیدا کرنا بھی ایک اہم مقصد ہے۔ مخلوق کے دینی امور میں وسعت دی گئی ہے اس سے انسانی فائدے میں رکاوٹ بننے والی تنگی، مشقت اور حرج کو دور کیا گیا ہے۔
رسول اللہ e نے فرمایا: ’’یہ دین آسان ہے، جس شخص نے بھی سختی کرنے کی کوشش کی، دین اس پر غالب آ گیا، لہٰذا درست عمل کرو، قریب قریب رہو اور خوشخبری دو۔‘‘ (بخاری)
رسول اللہ e نے اپنی سیرت میں آسانی اور محرمات کی تعظیم کو جمع کیا ہے، لہٰذا مقاصد کے حصول میں اور انجام کے اعتبار سے مثالی نظام قائم کیا ہے۔
6ھ میں آپ e نے صلح حدیبیہ کی، اس موقع پر آپ e نے فرمایا: ’’اس اللہ کی قسم ، جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! قریش مجھ سے ایسا کوئی بھی مطالبہ کریں جس سے اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کی تعظیم ہو تو میں ان کے مطالبے کو ضرور قبول کر لوں گا۔‘‘ (بخاری)
اس روز صحابہ کرام کوبہت زیادہ تکلیف اور تنگی محسوس ہوئی۔ ایسی کہ جس تکلیف کی شدت مضبوط پہاڑ بھی برداشت نہ کر سکتے۔ وہ خیال کر رہے تھے کہ انہوں نے قریش کی شرطیں مان کر دینی کمزوری کا اظہار کیا ہے۔ لیکن درحقیقت وہ فتح مبین تھی۔
سیدنا براء t بیان کرتے ہیں: ’’تم فتح مکہ کو عظیم فتح شمار کرتے ہو حالانکہ ہم صلح حدیبیہ کے دن بیعت رضوان کو فتح مبین سمجھتے ہیں۔‘‘صلح حدیبیہ سے مسلمانوں کو بڑی عظیم کامیابیاں حاصل ہوئیں۔ ان میں سے ایک اس بلند ترین اور عظیم اسلامی مقصد کا حصول بھی تھا۔ جسے کہا جاتا ہے: ’’عظیم فائدے کی خاطر کم تر فائدے کی قربانی دینا۔‘‘ اور بلاشبہ دین اسلام محبت و الفت، صلح جوئی،سلامتی اور درگزر کا دین ہے۔
اسلام انتہائی ناگزیر حالات میں جنگ کی اجازت دیتا ہے۔ رسول اللہ e فرماتے ہيں: ’’دشمن سے جنگ کی تمنا مت كرو، الله سے سلامتی کی دعاکرو، پھر جب دشمن سے سامنا ہوجائے تو صبر سے کام لو۔‘‘ اسی طرح آپ کے معاہدہ مدینہ میں بھی ایسی کئی مثالیں ہیں۔
نبی کریم e کا اخلاق اسی طرح تھا، حتی کہ آپ نے زمانہ جاہلیت میں ہونے والے معاہدے حلف الفضول کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا: ’’میں نے عبداللہ بن جدعان کے گھر ایک معاہدے میں شرکت کی۔ مجھے اس کے بدلے سرخ اونٹوں کا حصول بھی پسند نہیں۔ آج اگر زمانہ اسلام میں مجھے ایسے ہی معاہدے کی دوبارہ دعوت دی جائے تو میں ضرور قبول کر لوں گا۔‘‘ (بخاری)
ان کا یہ معاہدہ نیکی کا حکم دینے، برائی سے روکنے اور زائد مال تقسیم کرنے کیلئے تھا، اسی طرح لوگوں کے فائدے کی کئی دیگر چیزیں بھی اس میں شامل تھیں۔ جیسے ظلم کا خاتمہ، حقدار کو حق پہچاننا، عدل و انصاف کی فراہمی اور خیر میں تعاون کرنا۔ امن و امان اور سلامتی کو یقینی بنانا۔ اسی طرح سیرت نبوی کے ہر واقعے اور حادثے میں شریعت کے مقاصد واضح ہوتے ہیں۔
سید البشر کے پیروکارو! نبی مختار کی مبارک سیرت نبی کریم e سے محبت و الفت رکھنے والوں کے دلوں کو سیراب کرتی ہے اور ان کے دلوں کی آواز بن جاتی ہے۔ یہ کیسے نہ ہو، جبکہ آپ اللہ مالک الملک کے رسول ہیں۔ عدل و انصاف اور سلامتی کے علم برادر ہیں۔ آپ انسانیت کو انحطاط، بت پرستی اور گناہوں کے اندھیروں سے نکالنے کے لیے آئے ہیں۔
کیا آپ سے بڑھ کر انسانیت کے عظیم تربیت کرنے والے اور استاد کوئی ہیں؟ اور آپ سے بڑھ کر امت اسلامیہ کے افضل ترین معلم اور تہذیب سکھانے والے ہیں۔ خصوصاً دور حاضر میں جبکہ غلو، دہشت گردی، بم دھماکوں، گروہ بندی بدعات کی کثرت، دینی احکام کے ساتھ کھیلنے  اور شریعت کے مسلمات سے چھیڑ چھاڑ کا دور ہے۔
فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
﴿لَقَدْ مَنَّ اللّٰهُ عَلَى الْمُؤْمِنِيْنَ اِذْ بَعَثَ فِيْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْ اَنْفُسِهِمْ يَتْلُوْا عَلَيْهِمْ اٰيٰتِهٖ وَ يُزَكِّيْهِمْ وَ يُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ١ۚ وَ اِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ۰۰۱۶۴﴾ (اٰل عمران)
’’درحقیقت اہل ایمان پر تو اللہ نے یہ بہت بڑا احسان کیا ہے کہ اُن کے درمیان خود انہی میں سے ایک ایسا پیغمبر اٹھایا جو اس کی آیات انہیں سناتا ہے، اُن کی زندگیوں کو سنوارتا ہے اور اُن کو کتاب اور دانائی کی تعلیم دیتا ہے، حالانکہ اس سے پہلے یہی لوگ صریح گمراہیوں میں پڑے ہوئے تھے۔‘‘
دوسرا خطبہ
حمد وثناء کے بعد:
اے مسلمانوں کی جماعت! آج، جبکہ دنیا کو جنگوں اور مصیبتوں کا سامنا ہے، امت اسلامیہ کا فرض ہے کہ وہ سیرت نبی e کی طرف لوٹ آئے اور گہرائی  کے ساتھ اس کا مطالعہ کرے، زندگی کے ہر گوشے میں نبی اکرم e کی سیرت کے ساتھ جڑ جائے اور ہمیشہ جڑی رہے، اسے اچھی طرح سمجھ لے اور سیرت کے ہر پہلو پر عمل کرے، تاکہ وہ کمزوری اور  فتنوں کی زنجیروں سے آزاد ہو جائے جن میں وہ اس مشکل اور پریشان کن زمانے میں گھری ہوئی ہے۔
وقت کے ساتھ ساتھ کچھ لوگوں نے وحی الٰہی اور سنت نبوی کو چھوڑ کر دوسرے راستے اختیار کر لیے ہیں، سیرت کو محض قصہ کہانی کے طور پر لیا ہے اور سیرت نبوی کے مقاصد اور اہداف سے غافل ہو گئے ہیں۔ ایسے لوگوں نے ظاہری ہیئت اور شکل وصورت پر بہت زیادہ توجہ دی ہے جبکہ حقائق، اصلی اوصاف اور عظیم مقاصد سے غافل رہے ہیں۔
آئیے! ہم تباہ کن مکر کا نعرہ لگانے والوں کی زبان کو لگام دیں، بلند اور گونجتی آواز میں نعرہ لگائیں کہ دین کی عزت اورنصرت کا مرکز سیرت محمد e ہی ہے۔ سیرت کے واقعات کے مطالعہ اور تحقیق کے  ذریعے ہی امت کو عزت اورنصرت نصیب ہو سکتی ہے۔ سیرت رسول e اس دور کی وہ ترقی کی طرف لے جانے والی بولی  ہے کہ امت کو قیادت اور حکمرانی پر فائز کر سکتی ہے۔
علمائے امت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ساری دنیا کے سامنے مکمل خود اعتمادی اور پورے فخر کے ساتھ سیرت کے مقاصد بیان کریں۔ سیرت میں عدل، رحمت ،سلامتی، بہترین اخلاق، اعلیٰ کردار اور امن وامان کے پہلو بیان کریں۔
امت اسلامیہ کو آج سے بڑھ کر کبھی چراغ نبوت سے روشنائی حاصل کرنے کی اور آپ e کی معطر سیرت سے ہدایت حاصل کرنے کی اور اس کی روشنی میں چلنے کی اتنی ضرورت نہیں رہی، کیونکہ امت اسلامیہ آج ما تحتی، کمزوری اور کنارہ کشی کے ویرانوں میں بھٹک رہی ہے اور فتنہ فساد  کے ساتھ تو گویا کہ بندھ چکی ہے۔ نبی اکرمe کی ہدایات سے کوسوں دور جا چکی ہے اور اب تو دشمنان اسلام مسلمانوں کے مقامات میں بھی فسادی بن کر منڈلاتے پھرتے ہیں۔
دیکھیے! آج بھی وہ نبی اکرم e کا مقامِ معراج اور تیسری مقدس ترین مسجد میں  جنگ کے شعلے بھڑکا رہے ہیں اور دہشتگردی پھیلا رہے ہیں۔ اللہ ہماری اس مقدس مسجد کو یہودی غاصبوں سے نجات عطا فرما کر ہماری آنکھیں ٹھنڈی فرمائے اور قیامت تک اسے  باعزت اور با وقار رکھے۔
نوجوانان امت کا بھی فرض ہے کہ وہ اپنی فکر کی حفاظت کریں، مشکوک جھنڈوں کو گرا ڈالیں، غیر حقیقی نعروں کو ٹھکرا دیں اور سیرت کی گھنی چھاؤں کے سائے میں آ جائیں کیونکہ یہی ہمارا تاریخی سرمایہ ہے، یہی علمی، عملی، اخلاقی اور سماجی نصاب ہے کہ جس سے نبوی چراغ سے روشنی حاصل کر کے اسے پھیلانے والے اصول لیتے ہیں اور اپنی بقا کا سامان کرتے رہتے ہیں۔
آئیے! رسولوں کے سردار کی سیرت اور ہدایات پر عمل کریں اور سنت نبوی کو پھیلانے کے لیے عصر حاضر کے تمام تر وسائل استعمال کریں تاکہ ساری دنیا کے سامنے دین اسلام کی اچھائیاں واضح ہو جائیں۔
ہمیں سیرت کے مقاصد کو جاننے کے لیے اس کا تفصیلی  مطالعہ کرنا چاہیے، تاکہ اس دور میں کہ جس میں فتنوں کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر اپنے عروج پر ہے اور ہمارے بہت سے بھائیوں کو قتل وغارت، جلا وطنی اور جنگوں کا سامنا ہے، تاکہ ہم سیرت کی مدد سے اپنے اعمال کے نتائج دور اندیشی کے ساتھ معلوم کر سکیں۔


No comments:

Post a Comment

View My Stats