درس قرآن وحدیث 44-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Sunday, November 24, 2019

درس قرآن وحدیث 44-2019


درسِ قرآن
پریشانیوں میں صبر
ارشادِ باری ہے:
﴿رَبَّنَاۤ اِنِّيْۤ اَسْكَنْتُ مِنْ ذُرِّيَّتِيْ بِوَادٍ غَيْرِ ذِيْ زَرْعٍ عِنْدَ بَيْتِكَ الْمُحَرَّمِ﴾ (ابراھیم)
’’(سیدنا ابراہیم نے کہا)اے ہمارے پروردگار! میں نے اپنی بعض اولاد کو تیرے قابل احترم گھر کے پاس ایسے میدان میں لا بسایا ہے جہاں کوئی کھیتی نہیں(زندگی کے آثار نہیں) ۔‘‘
قرآن مجید میں قصص بیان کرنے کا مقصد اللہ کی سنتوں سے تعارف اور پھر امت محمدیe کے افراد کے لیے ان قصص سے عبرتوں کا حصول ہے ۔انہی قصص میں سے  ایک قصہ سیدنا اسماعیلu اور ان کی والدہ سیدہ ہاجرہr کا  ذکرہوا ہے اور اسی قصہ کی طرف مذکورہ آیت میں اشارہ کیاگیاہے۔
سیدنا ابراہیمu اپنے نومولود بیٹے اور زوجہ کو اللہ کے حکم سے ایسے بے آب و گیاہ میدان میں چھوڑ کر چلے گئے تھے جہاں بظاہر بالکل زندگی کے آثار نہ تھے، ان ماں بیٹے کے پاس زاد سفر صرف چند کھجوریں اور تھوڑا سا پانی تھا‘ وہ بھی جب ختم ہو گیا تو سیدہ ہاجرہr ممتا کے مشاعر کی ساتھ پانی کی تلاش میں ادھر ادھر بھاگیں اور ایک پہاڑی سے دوسری پہاڑی کے چکر کاٹنے لگیں کہ کہیں کوئی آدم زاد نظر آئے، اسی اثناء میں نومولود کی ایڑی کے پاس اللہ کے حکم سے پانی کاچشمہ پھوٹ پڑا جس سے ماں بیٹے نے اپنی پیاس بجھائی۔ مذکورہ قصہ میں دیگر امور کے ساتھ درج ذیل امور انتہائی غور طلب ہیں:
\          سیدنا ابراہیمu نے اللہ کے حکم کی تعمیل میں ذرا بھی تأمل نہیں کیا اور فوراً عزیز از جان کو اپنے سے علیحدہ کر دیا، اسی طرح آپ کی بیوی نے بھی سر تسلیم خم کیا اور ممتا کی تڑپ اور احساس کو اللہ کے علاوہ کسی کے آگے ظاہر نہیں کیا۔
\          سیدہ ہاجرہr اپنے  سرتاج سے بالکل بھی شکوہ کناں نہیں ہوئیں، بلکہ صبر اور تحمل سے اپنے خاوند کےفیصلہ کو قبول فرمایا۔
\          اللہ پر کامل یقین اور توکل کے ساتھ حرکت اور کوشش سے ہی راہیں کھلتی ہیں ، کوشش کے بغیر توکل اور توکل کےبغیر کوشش نامکمل رہتی ہے۔
\          سیدہ ہاجرہr تمام کائنات سے بےنیاز ہو کر اپنے لیے صرف اللہ ہی کو کافی خیال کیا‘ اسی سے مددواستعانت طلب کی اور ان کا یہ جملہ کہ ’’اللہ ہمیں ضائع نہیں کرے گا۔‘‘ میں اللہ پر ایمان کاعکس دیکھا جاسکتا ہے۔
\          سب سے اہم یہ قصہ آج کے مسلمان کو مصیبتوں اور پریشانیوں میں صبر کادرس دیتا ہے، ایک بندۂ مومن شکایت کرنے والا نہیں بلکہ مصیبت کے وقت صبر کرنے والا ہوتا ہے اور اسی صبر کی بدولت مشکلات سےنکلنے کا راستہ بنتا ہے۔

درسِ حدیث
سود خوری
فرمان نبویﷺ ہے:
[عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: "لَعَنَ اللهُ آكِلَ الرِّبَا، وَمُوكِلَهٗ، وَشَاهِدَيْهِ، وَكَاتِبَهٗ.] (مسند أحمد، حسن لشواهده)
سیدنا عبداللہ بن مسعودt سے روایت ہے کہ رسول اللہe نے ارشاد فرمایا: ’’اللہ نے سود کھانے والے‘ کھلانے والے‘ اس کے دونوں گواہوں اور سود کا حساب لکھنے والے پر لعنت فرمائی ہے۔‘‘ (مسند احمد)
اللہ تعالیٰ نے سود کو تمام آسمانی شریعتوں میں حرام قرار دیا ہے اور اسے حرام کرنے کا سبب یہ ہے کہ یہ نقصان دینے والا کام ہے۔ اس سے افراد کے درمیان دشمنی پیدا ہو جاتی ہے اور ایک دوسرے سے تعاون کا سلسلہ ختم ہو جاتا ہے۔ جبکہ تمام شریعتیں تعاون‘ ایثار اور باہمی تعلق کو قائم رکھنے کی طرف دعوت دیتی ہیں۔ سودی کاروبار سے خود غرضی اور نفس پرستی جنم لیتی ہے اور ہمدردی کا جذبہ ختم ہو جاتا ہے۔ سود خور بغیر محنت مال حاصل کر لیتا ہے اور دوسروں کی مجبوری سے ناجائز فائدہ اٹھاتا ہے۔ جبکہ اسلام نے تعلیم دی ہے کہ ایک مسلمان اپنے مجبور بھائی کو قرضِ حسنہ دے کر اس کی ضرورت پوری کرے اور ثواب حاصل کرے جبکہ سودی نظام میں ثواب کا کوئی تصور نہیں ہے۔ وہاں تو صرف پیسہ کمانے والی بات ہے۔ کچھ لوگ رقم ادھار دے کر اس پر اضافی رقم وصول کرتے ہیں اور کچھ جنس کے بدلے زیادہ جنس لیتے ہیں۔ مثلاً کسی نے ایک من گندم اُدھار لی اوروعدہ لیا کہ فصل پکنے پر ایک من کی بجائے سوا من گندم دوں گا۔ یہ دونوں صورتیں سود کی ہیں‘ لینے والا اور دینے والا دونوں خطا کار ہیں۔ قرآن پاک میں سود کو حرام قرار دیا گیا ہے‘ بلکہ فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ سود کو مٹا دیتا ہے۔‘‘ اور حکم دیا کہ سود چھوڑ دو اور اصل مال حاصل کرو۔ مزید فرمایا: ’’جو لوگ سود کھاتے ہیں وہ قیامت کے دن اپنے قدموں پر کھڑے نہیں ہو سکیں گے‘ بلکہ مخبوط الحواس کی طرح گرتے پڑتے رہیں گے۔‘‘ رسول اللہe نے اپنی امت کو سات مہلک کاموں سے بچنے کی تاکید فرمائی تو صحابہ کرامe نے عرض کیا‘ وہ کون سے کام ہیں؟ آپe نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا‘ جادو‘ کسی جان کو بغیر حق کے قتل کرنا‘ سود کھانا‘ یتیم کا مال کھانا‘ لڑائی میں پیٹھ پھیر کر بھاگنا اور مومن پاکدامن عورتوں پر تہمت لگانا۔‘‘
مذکور بالا حدیث میں حضور اکرمe نے سود کے معاملے میں پانچ لوگوں پر لعنت فرمائی ہے۔ سود لینے والا‘ دینے والا‘ لکھنے والا اور دونوں گواہ گناہ میں برابر شریک ہیں۔ آپe نے مزید فرمایا کہ ’’سود کے ننانوے گناہ ہیں‘ سب سے کم تر گناہ یہ ہے کہ جیسے کوئی انسان اپنی ماں کے ساتھ بدکاری کرے۔‘‘ اسی بنا پر تمام آسمانی شریعتوں میں اسے حرام قرار دیا گیا ہے۔ سود کبھی پنپ نہیں سکتا اور نہ ہی فائدہ مند ہو سکتا ہے جبکہ تجارت نفع بخش کام ہے۔


No comments:

Post a Comment

View My Stats