ذکر مصطفٰی ﷺ 43-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Saturday, November 16, 2019

ذکر مصطفٰی ﷺ 43-2019


ذکر مصطفیٰ ﷺ

تحریر: جناب سینیٹر پروفیسر ساجد میر﷾
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
{أَلَمْ نَشْرَحْ لَك صَدْرَك ٭ وَوَضَعْنَا عَنك وِزْرَك ٭ الَّذِیْ أَنقَضَ ظَهرَك ٭ وَرَفَعْنَا لَك ذِكرَك} (الانشراح: ۱-۴)
’’کیا ہم نے آپ کا سینہ نہیں کھول دیا اور آپ سے آپ کا بوجھ ہم نے اتار دیا جس نے تیری پیٹھ بوجھل کر دی تھی اور ہم نے آپ کا ذکر بلند کر دیا ہے۔‘‘
ربیع الاول کے مہینے میں نبی اکرمe کی ولادت باسعادت اور اس دنیا میں آپ کی تشریف آوری کے حوالے سے جلسے، کانفرنسیں اور تقریریں ہوتی ہیں اور آپ کو بجا طور پر خراج عقیدت پیش کیا جاتا ہے۔ ویسے تو یہ ایک ایسا عمل ہے جو کسی دن اور کسی مہینے کے ساتھ مخصوص نہیں ہونا چاہیے کیونکہ نبی اکرمe کی دنیا میں تشریف آوری اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے۔ فرمایا:
{وَمَا أَرْسَلْنَاك إِلَّا رَحْمَة لِّلْعَالَمِیْنَ} (الانبیاء: ۱۰۷)
آپ کو سارے جہانوں اور سارے جہان والوں کے لئے اللہ تعالیٰ نے خصوصی رحمت بنا کر بھیجا۔ آپe نے خود ایک حدیث میں بڑے خوبصورت الفاظ میں ارشاد فرمایا:
[انما انا رحمة مھداة] (سنن دارمی ۱/۲۱، رقم الحدیث: ۱۵)
میں اللہ تعالیٰ کی ایک ایسی رحمت ہوں جس کو اس نے مخلوق کو تحفے کے طور پر دیا ہے۔ میں مخلوق کے لئے اللہ تعالیٰ کا خاص تحفہ ہوں اور اس میں کوئی شک بھی نہیں۔ بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے صورت اور سیرت دونوں کا کمال آپ کی ذات بالا میں جمع فرما دیا ہے   ؎
تیری صورت سے ہے عالم میں بہاروں کو ثبات
اور تیری سیرت کے سوا دنیامیں رکھا کیا ہے؟
حقیقت میں یہ ایک بڑی طویل داستان ہے، اگر انسان اسے مختلف زاویوں سے بیان کرنا چاہے۔ نبی اکرمe کے فضائل، کردار، آپe کے اسوۂ، سیرت اور سنت کی بات ہو تو اس میں بہت وقت درکار ہے۔
اخلاق عالیہ:    
نبی اکرمe کے ذکر اور شان کو اللہ تعالیٰ نے بلند کرنے کا اعلان اس سورۃ مبارکہ میں باقی باتوں کے علاوہ فرمایا کہ
{وَرَفَعْنَا لَك ذِكرَك}
ہم نے آپ کی شان اور مرتبے کے ذکر کو، دوسرے لفظوں میں آپ کے مقام کو بہت اونچا اور بلند کر دیا ہے۔ یہ کردار کی ایسی بلندی ہے کہ اس کا اعتراف اپنوں نے بھی کیا، پرایوں نے بھی کیا۔ دوستوں نے بھی کیا، دشمنوں نے بھی کیا اور بلندی کردار، اخلاق عالیہ، سیرت مطہرہ اور اسوہ حسنہ کی تعریف میں اپنے تو اپنے ہیں، امتی تو امتی ہیں، عقیدت مند تو عقیدت مند ہیں، محبت رکھنے والے تو محبت رکھنے والے ہیں لیکن جو دشمن اور غیر ہیں انہیں بھی ماننا اور تسلیم کرنا پڑا کہ اگر دنیا میں بلندی کردار کوئی چیز ہے تو وہ محمد کریمe میں پائی جاتی ہے اور اس میں مزے کی بات یہ ہے کہ دور سے کوئی شخصیت، کوئی چیز، کوئی کردار بڑا اچھا اور بلند نظر آتا ہے۔ ذرا اور قریب آ کر کچھ عرصے تک دیکھتے رہیں تو پھر کچھ انسانی کمزوریاں بھی سامنے آتی ہیں۔ پھر پتہ چلتا ہے کہ ہم نے جس کو بہت اونچا، بہت بڑا اور اچھا سمجھا تھا وہ تو ایک عام انسان ہے۔ اس میں انسانی کمزوریاں بھی پائی جاتی ہیں۔ ہمارا تصور جو پہلے تھا وہ یا تو بالکل پاش پاش ہو جاتا ہے یا اس میں فرق ضرور پڑتا ہے۔ لیکن نبی کریمe کے اخلاق، کردار، سیرت اور اسوہ کی بلندی، خوبصورتی اور عظمت یہ ہے کہ جتنا کوئی قریب آتا ہے اتنا ہی اور گرویدہ ہوتا چلا جاتا ہے۔ جتنا کوئی قریب آتا ہے اتنا ہی اپنے آپ کو تعریف کرنے پر مجبور پاتا ہے۔ یہ نہیں ہوتا کہ قریب سے دیکھنے پر اس کے پہلے تصور کو کوئی ٹھیس پہنچے، یا اس میں کوئی فرق آئے بلکہ وہ اور زیادہ معترف ہوتا ہے کہ واقعی اللہ تعالیٰ نے آپ کو اخلاق، کردار، سیرت، حسن اور عظمت کی بلندی عطا فرمائی ہے۔
سردار ابوطالب آپ کے چچا ہیں لیکن اسلام قبول نہیں کیا۔ ابھی آپ نے نبوت کا اعلان بھی نہیں فرمایا، ابھی اللہ تعالیٰ نے آپ کو نبوت کے منصب پر فائز نہیں کیا، اللہ تعالیٰ کی تقدیر میں تو شروع سے آپe نبی ہیں۔ آپe نے ارشاد فرمایا:
[انا نبی وآدم بین التراب فی الطین او كما قال رسول اللهﷺ كنت نبیا وآدم بین الروح والطین] (صحیح، جامع الصغیر ۸۷۱۰)
کہ آدم کی ابھی تشکیل بھی نہیں ہوئی، حضرت آدمu کو ابھی بنایا بھی نہیں گیا تھا کہ اس وقت سے میں اللہ کے علم اور تقدیر میں نبی ہوں۔ کوئی آج کا نیا نبی نہیں، مجھے اللہ تعالیٰ نے ازل سے نبی مقرر فرمایا ہے لیکن نبوت کے ملنے اور نبوت کے اعلان سے پہلے جو آپe کا کردار تھا جسے قریبی لوگوں نے دیکھا، میں اس کی ایک مثال دینا چاہتا ہوں کہ آپe کے خطبہ نکاح میں جب حضرت خدیجۃ الکبریٰr سے آپ کا نکاح ہوا تو ابوطالب نے آپ کے سرپرست اور وکیل کی حیثیت سے وہاں ایک تقریر کی۔ سیرت ابن ہشام میں لکھا ہے کہ اس نے اس میں یہ الفاظ استعمال کئے:
[ان ابن أخی ھٰذا محمد بن عبدالله لا یوزن بهٖ رجل شرفاً وفضلا وعقلا] (سبل الھدی والرشاد فی سیرة خیر العباد: ۲/۱۶۵)
یہ جو میرا بھتیجا محمدe ہے میںاس کے بارے دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ آج مکے کا، بلکہ عرب کا کوئی جوان اپنے شرف، فضیلت اور اپنے حسن کردار کے حوالے سے اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا، یہ سب میں ممتاز ہے۔ یہ ساری قوم نے سنا لیکن کسی کو تردید کرنے اور یہ کہنے کی جرأت نہیں ہوئی کہ تو کیسے کہتا ہے کہ فلاں آدمی اس سے اچھا ہے، یا اسی طرح کا ہے، تو اپنے بھتیجے کی خاص تعریف کیوں کرتا ہے……!!!
آپﷺ کی عظمت و کردار کا نقشہ سیدہ خدیجہؓ کی زبانی: 
اس کے بعد یہی ام المومنین حضرت خدیجہr نے جن الفاظ میں نبی محترمe کو تسلی دی، جب آپ فطری طور پر پریشانی کا شکار ہوئے کہ اللہ تعالیٰ نے پوری دنیا کو مسلمان بنانے اور اللہ تعالیٰ کا پیغام سنانے کی اتنی بڑی ذمہ داری مجھ اکیلے فرد پر ڈال دی ہے،کیا ہوگا؟ کیسے کروں گا؟ اس وقت قدرتی طور پر آپ کو کچھ پریشانی تھی، حضرت خدیجہr نے ایک اچھی اور ہمدرد بیوی کی طرح تسلی دی اور تسلی کن الفاظ میں دی؟ آپ کے کردار اور عظمت کا ایک نقشہ کھینچ کر رکھ دیا۔
یاد رکھیں کہ یہ الفاظ اس کے ہیں جس نے قریب سے آپ کے دن رات کی زندگی کو دیکھا، اس کے علم میں ہے کہ آپ کا اصلی اور حقیقی کردار کیا ہے؟ انہوں نے کہا:
[انك لتصل الرحم وتحمل الكل وتقری الضیف وتكسب المعدوم وتعین علٰی نوائب الحق] (صحیح بخاری)
اللہ کے رسولe اور میرے آقائے نامدار! گھبراہٹ اور پریشانی کی کوئی بات نہیں، مجھے تو یقین ہے کہ آپ کو کوئی گزند، ضرر اور نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ اگر اللہ تعالیٰ نے آپ کو نبی بنایا ہے تو اس میں خیر ہی خیر ہوگی، اس میں گھبراہٹ کی کوئی بات نہیں۔ اس لئے کہ آپ بے بسوں کا سہارا ہیں۔ آپ مہمانوں کی مہمان نوازی کرتے ہیں اور جن پر کسی قسم کا بوجھ لدا ہوا ہو، آپ ان کا ہاتھ بٹاتے ہیں، ان کی مدد کرتے ہیں، آپ کا یہ کردار ہے جس کی نقشہ کشی حضرت خدیجہr نے کی۔
پورا قرآن نبی کریمﷺ کا اخلاق   
ہماری دوسری ماں ام المومنین حضرت عائشہr نے صرف تین لفظوں میں آپe کے کردار اور اخلاق کا نقشہ کھینچا ہے کہ ایک شخص جو آپ کا عزیز بھی ہے، تابعی بھی ہے، اس کو آپe کی صحبت کا موقع میسر نہیں آیا، اس نے آپr سے سوال کیا کہ ہمیں بتائیں نبی اکرمe کا کردار، آپ کا اخلاق، اسوہ، آپe کی سیرت اور زندگی کیسی تھی تا کہ ہم بھی اس سے سبق سیکھنے کی کوشش کریں۔
وہ اچھا دور تھا، اچھے لوگ تھے، صحابہ کرام] تابعین اور ان کے شاگردوں کی یہ کوشش ہوتی تھی کہ حدیث سیکھیں تو اس پر عمل بھی کریں۔ آج ہم بھی سیرت کا مطالعہ کریں تو عمل کی نیت سے کریں۔ سیرت کے بارے میں بیان ہو تو اس خیال سے کہ ہم نے اس کو اپنا ماڈل بنانا ہے اور اس سے کچھ سبق سیکھنا ہے۔ اسی نیت سے آپr سے پوچھا گیا کہ آپ کے کردار اور سیرت کا کوئی ہلکا پھلکا نقشہ ہمیں بتائیں تا کہ ہم اسی طرح بننے کی کوشش کریں۔
سیدہ عائشہr نے براہ راست جواب دینے کی بجائے جوابی سوال کیا:  الست تقرأ القرآن؟
’’پوچھنے والے! تو نے کبھی قرآن نہیں پڑھا؟‘‘
اس نے کہا جی ہاں! قرآن تو پڑھتا ہوں، مسلمان ہوں، قرآن کے بغیر کیسے گزار ہو سکتا ہے۔
سیدہ عائشہr نے تین لفظوں میں فرمایا:
[فان خلق نبی اللهﷺ كان القرآن] (صحیح مسلم، ۱/۵۱۲ رقم: ۶۴۶)
قرآن پڑھتا ہے تو جان لے کہ قرآن جس طرح کا انسان چاہتا ہے، جس طرح کا کردار چاہتا ہے، جس طرح کا اخلاق چاہتا ہے، جس طرح کا عمل چاہتا ہے، جس طرح کی زندگی چاہتا ہے، وہی زندگی اور وہی عمل رسول اکرمe کا تھا۔ ایک قرآن وہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے الفاظ اور کلام کی شکل میں اتارا اور کتاب کی شکل میں وہ تیار ہوا جو ہمارے سامنے موجود ہے اور ایک عملی قرآن جو مکے اور مدینے کی گلیوں میں چلتا پھرتا تھا اور جو قرآن پاک کے کہے پر عمل کر کے دکھاتا تھا کہ لوگو! اللہ تعالیٰ نے جو کتاب بھیجی ہے وہ قابل عمل ہے۔ اس پر کوئی عمل کرنا چاہے تو کر سکتا ہے۔ دیکھو میرا نمونہ کہ میں اس پر عمل کر کے دکھاتا ہوں، یہ وہ لوگ ہیں جو آپe کو قریب سے دیکھنے والے تھے، جتنا قریب آئے، اتنے ہی اور گرویدہ ہوتے گئے، اتنے ہی اور معتقد بنتے گئے۔
خادم رسولؐ سیدنا انسؓ کے تاثرات:  
اسی طرح سیدنا انسt جنہوں نے ایک خادم کی حیثیت سے آپe کے دن رات کو دیکھا اور قریب سے مشاہدہ کیا، وہ بیان فرماتے ہیں کہ میں ایک لمبے عرصے تک آپe کے ساتھ رہا، کوئی دوچار، دس دن یا دو چار ہفتوں کی بات نہیں، کہتے ہیں:
[خدمت النبیﷺ عشر سنین]
مسلسل دس برس تک میں آپ کے ساتھ رہا، آپ کی خدمت کرتا رہا، پھر کیا ہوا: فما قال لی اف قط۔
ان دس برسوں کی طویل مدت میں آپe نے مجھے کبھی اف تک نہیں کہا، ڈانٹا تک بھی نہیں، میں بچہ تھا مجھ سے غلطی ہو جاتی تھی، اگر آپ کسی کام کے لئے بھیجتے تو میں کھیل کود میں مصروف ہو جاتا، بھول جاتا کہ آپ نے کسی کام یا کسی آدمی کو بلانے کے لئے بھیجا ہے، آپ پیچھے آتے تھے، اگر آپ کو بڑا ہی غصہ آتا تو صرف یہ لفظ فرماتے:  یا ذالاذنین۔اے دو کانوں والے! اللہ تعالیٰ نے تجھے دو کان دئیے ہیں، میری بات کیوں نہیں سنتا، اس کے علاوہ مجھے کچھ نہیں کہتے تھے، دس برس کوئی ایک یا دو دن کی بات نہیں، ہم تو ایک مہینے میں اپنا آپ دکھا دیتے ہیں کہ یہ ہمارا غصہ اور جلال ہے، یہ ہماری طبیعت ہے لیکن نبی اکرمe کے اخلاق عالیہ پر قربان جائیں واقعی بے مثال ہیں کہ دس برس کی طویل مدت میں ایک بچے کو بھی شکایت کا موقعہ نہیں دیا۔
احترام نبوی کی بے نظیر مثالیں:  
یہ احترام اور محبت جو اپنوں کے دلوں میں تھا، غیروں نے بھی اس کا مشاہدہ کیا اور انہوں نے اقرار کیا کہ یہ بے مثال قسم کا احترام اور محبت ہے جو آپ کے کردار اور اخلاق کی وجہ سے ان کے دلوں میں پیدا ہوا تھا اس کا اعتراف کیا۔ حدیث پاک میں ہے کہ صحابہ کرامy آپe کی مجلس میں بیٹھے ہوتے تھے:
[وسكت الناس كان علٰی رؤوسھم الطیر] (صحیح بخاری: رقم: ۲۸۲۴)
اس طرح محسوس ہوتا تھا کہ ان کے کندھوں یا سروں پر پرندے بیٹھے ہیں، کیا مطلب؟ بے حس و حرکت بیٹھتے تھے، جیسے کوئی پرندہ بیٹھا ہے، ذرا حرکت کی تو وہ اڑ جائے گا۔ اسی طرح ادب و احترام کے ساتھ بیٹھتے تھے اور یہ احترام اور ادب مصنوعی اور عارضی نہیں تھا بلکہ دلی اور قلبی تھا جس کی بنیادی وجہ آپe کا حسن کردار اور حسن اخلاق تھا۔
{لَوْ كنتَ فَظّاً غَلِیْظَ الْقَلْبِ لاَنفَضُّواْ مِنْ حَوْلِك} (آل عمران: ۱۵۹)
اگر آپ (خدانخواستہ) سخت دل، تند خو اور بداخلاق ہوتے تو یہ لوگ آپ کے گرد جمع نہ ہوتے، بھاگ جاتے اور آپ کے گرد پروانوں کی طرح اکٹھے نہ ہوتے، اقبال نے اپنے رنگ میں بات کہی:
ہجوم کیوں ہے زیادہ شراب خانے میں
فقط یہ بات کہ پیر مغاں ہے مرد خلیق
اس کے خلیق ہونے کی وجہ سے مجلس کا رنگ باقی اور قائم ہے۔ رسول اکرمe کو اللہ تعالیٰ نے یہ خوبی بھی عطا فرمائی کہ جو احترام اور محبت صحابہ کرامy اور قریب آنے والوں کے دلوں میں آپ کے لئے پائی جاتی تھی، وہ حقیقی تھی، مصنوعی نہ تھی، ان کا احترام دوسروں نے بھی کیا۔
عروہ بن مسعود ورطہ حیرت میں   
عروہ جو قریش کا سفیر بن کر آیا اور اس نے آپe سے بات چیت کی، مسلمانوں کا رنگ ڈھنگ دیکھا، آپe کی عقیدت، احترام اور دلی محبت جو اس کے اندر تھی اس کو ملاحظہ کیا تو قریش کو جا کر کہا:
[یا معشر قریش انی جئت كسرٰی وقیصر والنجاشی فی ملكھم وانی والله ما رایت ملكا فی قوم قط مثل محمد فی اصحابه] (البدایة والنھایة: ۴/۱۸۱، سبل الھدی: ۱۱/۴۳۶)
میں نے دنیا کے دربار اور بادشاہ دیکھے ہیں، روم گیا ہوں، ایران گیا ہوں، شام گیا ہوں اور میں نے دیکھا ہے کہ ظاہری اور وقتی طور پر بادشاہوں کے درباری، امراء، اس کے ساتھی اور ماتحت احترام کرتے ہیں لیکن وہ دلی احترام نہیں ہوتا، جب کہ محمدe کے ساتھی جو احترام کرتے ہیں، ان جیسی محبت اور احترام دنیا بھر میں کہیں نہیں دیکھا۔
یہ اس کا بیان ہے جو ابھی مسلمان بھی نہیں ہوا تھا اور یہ اپنوں کی بات نہیں، بلکہ غیر بھی آپ کی عظمت و کردار، آپ کے اسوہ حسنہ کی خوبصورتی اور آپ کے اخلاق کو ماننے پر مجبور ہیں۔
جادو وہ جو سر چڑھ کر بولے:  
کفار مکہ کہتے تھے کہ عرب بھر میں اگر کوئی سچا، خیانت سے پاک اور دیانت دار انسان ہے تو وہ محمدe، وہ آپ کو صادق اور امین کہتے تھے اور کوہ صفا کے وعظ سے پہلے آپ نے ان سے پوچھا تھا کہ اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچانے سے پہلے میں تم سے پوچھتا ہوں کہ میرے کردار کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے؟ خاص طور پر بات کی سچائی کے بارے میں تم کیا کہتے ہو؟ مولانا حالی کے الفاظ میں    ؎
سمجھتے ہو تم مجھ کو صادق کہ کاذب؟
لبثت فیكم عمراً كیف وجدتمونی؟
یہ بتاؤ کہ تم مجھے سچا جانتے ہو یا جھوٹا سمجھتے ہو؟ سب نے بیک زبان ہو کر کہا کہ آج تک ہم نے یہی دیکھا ہے کہ آپ جب بھی بولے ہیں سچ بولے ہیں، جب بھی کہا ہے سچ کہا ہے۔
ابوسفیان جو قائد کفر تھے، ان کو بعد میں اسلام کی دولت ملی لیکن ایک لمبے عرصے تک یہی کافروں کے سردار تھے، بدر کی جنگ کے بعد کس نے ساری لڑائیاں منظم کیں؟ کس نے قوم کو ابھارا؟ کون میدان جنگ میں عرب کے لوگوں کو بار بار لے کر آیا؟ کس نے اپنا اور دوسروں کا مال خرچ کیا اور کروایا؟ یہی دشمنوں کے سردار ابوسفیان تھے، لیکن خود کہتے ہیں کہ میں اسی دشمنی کے زمانے میں (حدیبیہ کی عارضی طور پر صلح ہو چکی تھی) تجارتی سفر کے سلسلے میں روم گیا، روم کے بادشاہ کے پاس نبی اکرمe کا خط آیا ہوا تھا کہ اگر دنیا اور آخرت کی بہتری چاہتا ہے تو تو بھی مسلمان ہو جا۔ اسے یہ تجسس تھا کہ یہ کون شخص ہے جس نے مجھے اتنی بے باکی اور جرأت سے لکھا ہے۔
بادشاہ کو پتہ چلا کہ عرب کے تاجر آئے ہوئے ہیں، اس نے کہا ان کو بلائو۔ ابوسفیان ان کے لیڈر تھے، یہ آئے اور اس نے چند سوال کئے، ایک سوال یہ بھی تھا کہ دعویٰ نبوت سے پہلے آپ کا کردار کیا تھا؟ آپ جھوٹے تھے یا سچے تھے؟ تمہارا تجربہ کیا ہے؟ یہ بھی پوچھا کہ وہ عہد کی پابندی کرنے اور وعدے کو نبھانے والے تھے یا توڑنے والے ؟
ابوسفیان کہتے ہیں: اس وقت چونکہ دشمنی تھی، میرا دل چاہا کہ میں جواب میں ذرا آمیزش کرلوں اور کہہ دوں کہ ہاں کبھی کبھی جھوٹ بھی بول لیتے تھے، کبھی کبھی عہد کی پابندی نہیں بھی کرتے تھے۔ میں نے کہنا تو چاہا لیکن حق نے میری زبان کو پکڑ لیا، میرے منہ سے سچی بات ہی نکلی، جھوٹی بات نہیں نکل سکی۔ میں نے کہا ٹھیک ہے مخالف تو ہے، لیکن میں یہ مانتا ہوں کہ ہم نے آپ کا کوئی جھوٹ نہیں دیکھا۔ آپ کی کوئی بے کرداری، خیانت اور بدعہدی نہیں دیکھی۔
یہ وہ خراج تحسین ہے جو دشمن نے دشمنی کے وقت پیش کی اور کوئی اس وقت تردید کرنے یا کہنے والا موجود نہیں تھا کہ تم غلط یا صحیح کہہ رہے ہو، لیکن ضمیر کی آواز جو اندر تھی وہ باہر نکل آئی۔
یہ تو غیروں کی گواہیاں ہیں، اپنوں نے آپ کے حسن کردار کی گواہی دی مگر سب سے بڑی گواہی خود اللہ رب العالمین کی ہے کہ
{وَمَنْ اَصْدَقُ مِنَ اللّه حَدِیْثاً} (النساء: ۸۷)
{وَمَنْ اَصْدَقُ مِنَ اللّه قِیْلاً} (النساء: ۱۲۲)
اللہ تعالیٰ کی بات سے سچی اور صحیح بات اور کسی کی نہیں ہو سکتی۔
 اللہ بھی اپنے پیغمبر کے کردار کا گواہ ہے:
اللہ تعالیٰ نے بھی اپنے نبیe کے حسن کردار اور حسن اخلاق کی گواہی دی:
{وَإِنَّك لَعَلی خُلُقٍ عَظِیْمٍ} (القلم: ۴)
بلاشبہ آپ کردار اور اخلاق کے بڑے ہی اونچے پیمانے پر ہیں۔ بڑی ہی اونچی سطح پر آپ کو فائز کیا گیا ہے اور دنیا میں آپ کی زندگی وہ پاکباز، مطہر، مقدس اور واحد زندگی ہے کہ جس کی عظمت اور پاکیزگی کی قسم رب قدوس نے کھائی ہے:
{لَعَمْرُك إِنَّهمْ لَفِیْ سَكرَتِهمْ یَعْمَهونَ} (الحجر: ۷۲)
اللہ تعالیٰ نے کبھی کسی کی زندگی کی قسم اس طرح نہیں کھائی، اس لئے پاک زندگی ہے تو آپ کی زندگی ہے۔
{ورفعنا لك ذكرك} (الانشراح)
کہ ذکر بھی بلند ہے، زندگی بھی بلند ہے اور کردار بھی بلند ہے۔ فرمایا کہ آپ کی عمر کی قسم کہ آپ ہدایت کے راستے پر ہیں، عملی طور پر چلنے والے ہیں اور آپ کے کردار کے بارے میں مخالفوں اور دشمنوں کو چیلنج دلایا:
{فَقَدْ لَبِثْتُ فِیْكمْ عُمُراً مِّن قَبْلِه أَفَلاَ تَعْقِلُونَ} (یونس: ۱۶)
اے انکار کرنے والو! تمہارے درمیان میری زندگی گزری ہے، چالیس برس تمہارے اندر رہا ہوں، میرا بچپن بھی تمہارے سامنے ہے، میری جوانی بھی تمہارے سامنے ہے اور موجودہ عمر کو بھی تم دیکھ رہے ہو۔ تم میری قوم کے لوگ ہو، تمہارے درمیان رہا ہوں، کوئی اجنبی اور باہر سے آیا ہوا نہیں، بتائو! میری پوری زندگی میں کوئی قابل اعتراض بات ہے؟ ان چالیس برسوں میں کوئی ایسی بات، چھوٹی یا بڑی تم نے کبھی دیکھی ہے تو بیان کرو۔
یہ ایک ایسا چیلنج ہے جس طرح قرآن مجید کے اس چیلنج کو وہ لوگ قبول نہیں کر سکے کہ اگر قرآن کو نہیں مانتے تو اس جیسا قرآن لائو، اگر پورا قرآن نہیں لاتے تو دس سورتیں بنا کر لے آئو۔ اگر دس سورتیں بھی نہیں لا سکتے تو ایک ہی سورۃ لے آئو۔
وہ خطیب تھے، ادیب تھے، لبیب تھے، عقل مند تھے، ان میں بڑے بڑے شاعر اور مقرر تھے، ان میں بڑے بڑے پڑھے لکھے بھی تھے، انہوں نے کوشش کی مگر کامیاب نہیں ہوئے، اپنی کوشش پر خود ہی نادم ہوئے کہ قرآن مجید کی فصاحت و بلاغت اور اس کے حسن تاثیر کا مقابلہ ہم نہیں کر سکتے۔ اس سلسلے میں بہت سی باتیں ہیں، تفاسیر میں لکھا ہے کہ جب یہ سورۃ مبارکہ نازل ہوئی:
{إِنَّا اَعْطَیْْنَاك الْكوْثَرَ ٭ فَصَلِّ لِرَبِّك وَانْحَرْ٭ إِنَّ شَانِئَك هوَ الْأَبْتَرُ ٭} (الكوثر: ۱-۳)
یہ چھوٹی سی سورۃ تھی، اس کی خوبصورتی، تاثیر، معنی اور گہرائی کو دیکھ کر ایک مسلمان نے کعبے کی دیوار کے ساتھ اس کو لکھ کر لٹکا دیا۔ اس زمانے کے طریقے اور رواج کے مطابق کہ جو شاعر، قصیدہ نگار اور نظم لکھنے والا اپنی نظم اور قصیدے کو بہت شاندار سمجھتا تھا، لوگ بھی اسے داد دیتے تھے، اس کو کعبے کی دیوار کے ساتھ لٹکاتے تھے اور اس وقت تک لٹکتی رہتی جب تک کہ اس جیسی یا اس سے بہتر کوئی اور نظم نہ آجائے۔ ایسی نظموں کو معلقات (لٹکی ہوئی نظمیں اور قصیدے) کہتے تھے اور اب تک عربی میں ان کو پڑھا جاتا ہے۔ ان میں سات سب سے مشہور ہیں۔ پھر تین اور ہیں۔ یہ دس سب سے زیادہ مشہور ہوئے جو کعبے کے ساتھ اس طرح لٹکائے گئے۔ اس مسلمان نے بھی اس سورۃ کو لٹکا دیا، اب کافروں نے کہا کہ یہ تو چیلنج ہے، اپنے شاعروں، ادیبوں اور خطیبوں کو اکٹھا کرو، اس کا مقابلہ کریں، چھوٹی سی سورۃ ہے، کون سی بڑی بات ہے۔ چنانچہ انہوں نے کوشش کی، جو لکھتے خود ہی پڑھتے اور خود ہی نادم ہو کر پھاڑ دیتے کہ اس کا مقابلہ تو نہیں ہو سکتا۔ بالآخر ہار کر کسی نے اس کے نیچے لکھ دیا:
ما ھذا قول البشر۔
یہ کسی بشر کا کلام ہی نہیں، ہم اس کا مقابلہ کیسے کریں۔ یہ تو قرآن مجید کی بات ہے۔ اسی طرح آپ کے کردار کے بارے میں جو چیلنج دیا گیا:
{فَقَدْ لَبِثْتُ فِیْكمْ عُمُراً مِّن قَبْلِه} (یونس: ۱۶)
اے مخالفو! میں نے ایک لمبی زندگی تمہارے درمیان گزاری ہے، بتائو! کہاں اعتراض کی انگلی اٹھاتے ہو، اگر اعتراض کر سکتے ہو تو کرو، لیکن وہ اس چیلنج کو بھی قبول کرنے کی جرأت نہ کر سکے۔ یہ ہے آپe کا کردار اور عظمت، یہی اللہ تعالیٰ کے فرمانے کی بنیادی وجہ ہے کہ {ورفعنا لک ذکرک} اپنوں میں پرایوں میں، اگلوں اور پچھلوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیe کو رفعت و شان بھی عطا فرمائی ہے اور آپe کے ذکر اور شان کو بلند بھی کیا ہے۔
غیر مسلموں کا خراج تحسین:   
انگریزی کے ایک معروف ادیب جس کی نثر اور ادب کو اب تک اتنا عرصہ گزر جانے کے باوجود انگریزی ادب میں ایک مقام حاصل ہے۔
اس نے اپنی اس بے مثال طرز نگارش اور نثر میں ایک کتاب لکھی ہے اور بھی کئی لکھی ہیں جن میں سے ایک کتاب جس کا نام ہے Heroes and hero worship کہ دنیا میں ہیرو یا بڑے لوگ مختلف میدانوں میں کون کون سے ہوئے، تاریخ میں سب سے بڑا بادشاہ اور بہتر کون ہے؟ سب سے بڑا جرنیل اور فاتح کون ہے؟ سب سے بڑا منتظم، لوگوں کو فائدہ پہنچانے والا کون ہے؟ وغیرہ
اسی طرح اس نے ایک باب لکھا The Hero as Prophet کہ انبیاء اور رسولوں میں سب سے بڑا ہیرو کون ہے؟ وہ خود عیسائی ہے، آج کے یورپ اور امریکہ کے عیسائیوں کی طرح برائے نام عیسائی نہیں، متعصب اور کٹر قسم کا عیسائی، خود مانتا ہے کہ میں عیسائی ہوں لیکن کہتا ہے کہ جب میں انتخاب کرنے لگا اور تھوڑا بہت انصاف کا مادہ جو اللہ تعالیٰ نے مجھے دیا ہے اس کو استعمال کیا تو حضرت عیسیٰu، حضرت موسیٰu، جناب ابراہیمu یا کسی اور کی بجائے مجھے مان کر لکھنا پڑا اور کہنا پڑا کہ اگر انبیاء کرامo کے ہیرو ہیں تو محمدe ہیں۔ آپ کے متعلق پورا ایک باب لکھا اور آپ کی عظمت و کردار کو تسلیم کیا، شواہد اور دلائل سے ثابت کیا کہ آپ واقعی انبیاء کے ہیرو اور آخر الانبیاءe ہیں۔
ایک امریکن مائیکل ہارٹ جس نے دنیا بھر کے سو مشاہیر پوری تاریخ سے چنے اور کتاب کا نام رکھا The Hundred سو مشہور لوگ۔ شروع سے اب تک انسانیت کی پوری تاریخ پڑھی، دیکھی، پرکھی اور ان میں سے سو آدمی چنے کہ سب سے ممتاز کون سے افراد ہیں؟ سائنس کے میدان میں، ادب کے میدان میں، جرأت و بہادری کے میدان میں، فتوحات کے میدان میں، حکمرانی اور بادشاہی کے میدان میں، مختلف حوالوں سے سو سب سے بڑے آدمی کون ہیں؟ اور ان کے احوال بھی لکھے کہ میں نے ان کو کیوں چنا ہے؟ کس وجہ سے وہ عظیم ہیں؟ پوری تاریخ میں کس وجہ سے وہ سو میں شمار ہونے کے لائق ہیں۔ پھر اس نے کہا کہ اب میں ایک مشکل فیصلہ کرنا چاہتا ہوں کہ جو ان سو میں سے سب سے بڑا، ہر حوالے سے ان سو میں پہلے نمبر پر جو آدمی آ سکتا ہے جس نے انسانیت کی خدمت بھی کی ہو، جس نے انسانیت کی قیادت بھی کی ہو، جو انسانی تاریخ پر سب سے زیادہ اثر انداز بھی ہوا ہو، جس کا اپنا کردار اور اخلاق بھی سب سے اونچا اور بلند ہو، جو سب سے بے مثال ہو، وہ کون ہے؟ لکھنے والا عیسائی ہے لیکن وہ یہ ماننے، کہنے اور لکھنے پر مجبور ہوا کہ پوری انسانی تاریخ میں وہ عظیم ترین شخصیت ’’محمدﷺ‘‘ ہیں۔
اس نے بہت سی باتیں لکھیں، ایک بات بطور دلیل یہ بھی لکھی: ’’کہ میں نے پوری تاریخ میں سے آپ کی شخصیت کو اس لئے چنا ہے کہ دوسری صفات کے علاوہ مختلف سطحوں پر، دنیاوی طور پر بھی اور روحانی انقلاب لانے کے حوالے سے بھی جو عظیم ترین کامیابی اللہ تعالیٰ نے آپ کو دی ہے، وہ کسی اور کو نہیں دی۔
دنیا میں جتنے بھی مصلحین نبی ہوئے ہیں ان میں سب سے زیادہ کامیابی اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا فرمائی۔ وہ کامیابی کیا ہے؟ اس کا ہلکا سا جائزہ لیں کہ بہت سے انبیاء آئے اور انہوں نے بڑی محنت کی۔ نوحu نے پتھر اور گالیاں کھانے کے باوجود ساڑھے نو سو برس تک لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی بات سنائی۔ دوسرے انبیاء کرامo نے بھی بڑی محنت کی لیکن:
ایں سعادت بزور بازو نیست
تانہ بخشد خدائے بخشندہ
رسول اللہﷺ کی دعوت کا اثر:  
اللہ تعالیٰ جس کو یہ سعادت دے کہ آپ نے تئیس برس کے قلیل عرصے میں بلکہ مکے کی زندگی نکال کر بارہ، تیرہ برس میں آپ کے کردار، آپ کی سیرت، آپ کے عملی نمونے اور تعلیمات کی وجہ سے جو انقلاب آیا، اس کی مثال پوری تاریخ میں نہیں ملتی کہ اتنے کم وقت میں اتنے زیادہ لوگوں کی اصلاح، ان کے کردار کو بدلنا، ان کی زندگی کو بدلنا، ان کے دلوں کو بدلنا، ان کی ذہنیت کو بدلنا اور کسی نے نہیں کی جتنی آپ نے کی ہے۔ وہ لوگ جو جہالت کے آخری درجے ظلم، شقاوت اور بدترین کردار کا شاہکار بن چکے تھے، جو آپس میں لڑتے تھے، معمولی لین دین کے جھگڑے، ان کے درمیان پھر ایسی صلح ہوئی اور ان کا کردار ایسا بدلا کہ لینے کی بجائے دینے پر جھگڑے تھے کہ بھائی یہ حق تمہارا ہے، تم کیوں نہیں لیتے، تم اپنا حق لے کر مجھے کیوں فارغ اور سبکدوش نہیں کرتے۔
حدیث پاک میں آتا ہے:
[جاء رجلان من الانصار یختصمان الٰی رسول اللهﷺ فی مواریث بینھما]
کہ دو آدمی لڑتے ہوئے دعویٰ لے کر نبیe کے پاس آئے، کوئی مال اور جائیداد تھی جس پر دونوں کا دعویٰ تھا، دونوں کے پاس دلائل تھے، آپe نے دونوں کی بات سننے سے پہلے ایک چھوٹا سا وعظ فرمایا، آپeنے دو تین جملے ارشاد فرمائے:
[انما انا بشر ولعل بعضكم الحن بحجتهٖ فانی اقضی بینكم علٰی نحوما اسمع فمن قضیت له من حق اخیه شیئاً فلا یاخذه]
آپe نے فرمایا: میں تمہاری بات سنتا ہوں لیکن بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ سننے والا کسی ایسے شخص کی بات سے متاثر ہو جاتا ہے جو اصل حقدار نہیں۔ کیونکہ اس کی زبان بہتر ہے، اسکا دلیل پیش کرنے کا انداز اچھا ہے، میں ایک بات تمہیں بتا دوں کہ میں اللہ تعالیٰ کا نبی ہوں اور اس کے ساتھ میں بشر بھی ہوں، اگر میں نے کسی کی بات سے متاثر ہو کر درست فیصلہ نہ کیا، مجھ سے کوئی غلط فیصلہ ہو گیا تو یہ نہ سمجھنا کہ میرے فیصلے کی وجہ سے اس کا حق بن جائے گا جس کا اصل میں حق نہیں۔ اصل میں جس کا حق ہوتا ہے اسی کا ہوتا ہے۔ کسی نبی یا جج کے غلط فیصلے کی وجہ سے حق نہیں بنتا۔ حق وہی ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے دیا ہو۔
آپe نے اتنی سی بات فرمائی، اب اس میں رونے دھونے والی بات ہمیں تو کوئی نظر نہیں آتی، ہمارے تو دل ما شاء اللہ بڑے پکے ہیں لیکن ان دو صحابیوں پر اتنی سی بات کا یہ اثر ہوا کہ اتنی سی بات پر دونوں رونے لگ گئے، ان کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور دونوں نے کہا کہ:  ’’حقی لا خی‘‘ میں نہیں لیتا اس کو دے دیں۔ میں آخرت کی جوابدہی نہیں کر سکتا۔ اللہ تعالیٰ کو جواب نہیں دے سکتا۔ شک کا معاملہ بھی ہے، میں سمجھتا ہوں کہ میرا حق ہے لیکن پھر بھی میں اس کے حق میں دست بردار ہوتا ہوں، میرا حق بھی میرے بھائی کو دے دیں۔
یہ وہ کردار ہے کہ انسان انسان رہے فرشتے نہیں بنے لیکن ان کی سوچ اور ذہنیت بدل گئی، ان کا عمل بدل گیا، ان کے اخلاق بدل گئے اور وہ صحیح معنوں میں انسان بن گئے۔ یہ رسول اکرمe کی تعلیمات، سیرت اور آپe کے اسوۂ حسنہ اور نمونے کا لایا ہوا انقلاب ہے جس کا اعتراف اپنوں نے بھی کیا، غیروں نے بھی کیا، دشمنوں نے بھی کیا اور دوستوں نے بھی کیا۔
کیا آج ہمارے لئے یہ باتیں صرف بیان کرنے اور سننے کے لئے ہیں یا کچھ سیکھنے کے لئے بھی ہیں؟ کچھ نہ کچھ ان سے سیکھنے اور سبق لینے کی کوشش کرنی چاہیے، بالکل اس طرح کا نہیں تو نقل کر کے کچھ نہ کچھ اس طرح بننے کی کوشش کرنی چاہیے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں نبی اکرمe کے اسوۂ حسنہ، آپ کی سیرت اور ذات سے محبت اور تعلق بھی عطا فرمائے اور اس پر عمل کی توفیق بھی عطا فرمائے۔ آمین!


No comments:

Post a Comment

View My Stats