جذبۂ حُبِّ رسول اور صحابہ کرامؓ 45-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Sunday, December 01, 2019

جذبۂ حُبِّ رسول اور صحابہ کرامؓ 45-2019


جذبۂ حُبِّ رسول اور صحابہ کرام]

تحریر: جناب مولانا عبدالرحمن ثاقب (سکھر)
امام اعظم،امام دین،رحمت للعالمین جناب محمد رسول اللہ e سے دل وجان سے محبت کرنا ایمان کا جزء لازم ہے۔ جو قلب اس دولت سے خالی ہے وہ ایمان سے بھی خالی ہے اور یہ محبت دنیا وما فیہا سے بڑھ کر ہونی چاہیے۔ اس محبت میں ہر چیز کو قربان کردینا اہل ایمان کا شیوہ ہوتاہے۔ وہ دنیا کی بڑی سے بڑی چیز کو اس محبت میں آڑے نہیں آنے دیتے بلکہ وہ اس کے حصول کے لیے ہرچیز کو قربان کر دینا اپنے لیے باعث فخر وسعادت سمجھتے ہیں چہ جائیکہ اس راہ میں اپنی جان ہی کیوں نہ قربان کرنا پڑے۔
مقام رسولﷺ:
جس ہستی سے اہل ایمان اس قدر محبت کرتے ہیں اس کا مقام ومرتبہ کیا ہے؟ اس بارے میں سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ
[قَالَ رَسُولُ الله ﷺ: اَنَا سَیِّدُ وَلَدِ آدَمَ یَوْمَ الْقِیَامَة، وَاَوَّلُ مَنْ یَنْشَقُّ عَنْه الْقَبْرُ، وَاَوَّلُ شَافِعٍ وَاَوَّلُ مُشَفَّعٍ۔] (مسلم: ۲۲۷۸)
’’رسول اللہ e نے فرمایا کہ قیامت کے دن میں سیدنا آدمu کی اولاد کا سردار ہوں گا اور میری قبر مبارک سب سے پہلے کھلے گی اور میں ہی سب سے پہلے شفاعت کرنے والا ہوں گا اور میری ہی شفاعت سب سے پہلے قبول کی جائے گی۔‘‘
اللہ رب العالمین نے جناب محمدe کو سید ولد آدم،خاتم المرسلین، رحمۃ للعالمین،شفیع المذنبین اورسرور کائنات بنایا۔ آپ کے مقام ومرتبہ کو خطیب کی خطابت‘ شاعر کی شاعری اور ادیب کا قلم بیان نہیں کرسکتا۔
بعد از خدا بزرگ توئ قصہ مختصر
لیکن اس کے باوجود آپ کی عاجزی وانکساری کی انتہا یہ ہے کہ آپ e ارشاد فرماتے ہیں کہ
[لاَ تُطْرُونِی، كمَا اَطْرَتْ النَّصَارَی ابْنَ مَرْیَمَ، فَإِنَّمَا اَنَا عَبْدُه، فَقُولُوا عَبْدُ الله، وَرَسُولُه۔] (بخاری: ۳۴۴۵)
’’مجھے میرے مقام ومرتبہ سے زیادہ نہ بڑھاؤ جیسا کہ نصاریٰ نے سیدناعیسیٰ بن مریمu کو آپ کے مقام ومرتبہ سے بڑھا دیا تھا‘ میں تو صرف اس کا بندہ ہوں پس تم مجھے اس کا بندہ اور رسول ہی کہو۔‘‘
حالانکہ آپe سید ولد آدم اور امام الانبیاء ہیں لہٰذا آپ کی سیرت کا تذکرہ کرنے کا تقاضا یہ بھی ہے کہ غلو سے بچا جائے۔
رفاقت رسول ﷺ کو مال ومتاع پر ترجیح:
اگر کسی مومن کو یہ اختیار دیا جائے کہ تمہیں دنیا کا مال ومتاع چاہیے یا رسول اللہ e کا ساتھ چاہیے؟ تو ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ وہ ہرچیز سے محبوب صرف آپ کی رفاقت کو جانے۔ ایسی عظیم ہستیاں گزری ہیں کہ جنہوں نے دل کی گہرائیوں سے محبت رسول کو ہی دنیا کے مال ومتاع پر ترجیح دی۔ سیدنا ربیعہ بن کعب اسلمیt بیان کرتے ہیں کہ
[كنْتُ اَبِیتُ مَعَ رَسُولِ اللهﷺ فَاَتَیْتُه بِوَضُوئِه وَحَاجَتِه فَقَالَ لِی: سَلْ فَقُلْتُ: اَسْاَلُك مُرَافَقَتَك فِی الْجَنَّة۔ قَالَ: اَوْ غَیْرَ ذَلِك قُلْتُ: هوَ ذَاك۔ قَالَ: فَاَعِنِّی عَلَی نَفْسِك بِكثْرَة السُّجُودِ۔] (مسلم: ۴۸۹)
’’میں رسول اللہ e کے پڑوس میں رات بسر کرتا تھا‘ آپ کی خدمت میں وضو کیلئے پانی اور دیگر ضروریات کی چیزیں لے کر حاضر ہوا تو آپ نے مجھ سے فرمایا کہ کسی چیز کی فرمائش کرو؟ میں نے عرض کی کہ میں جنت میں آپ کی رفاقت کا سوال کرتا ہوں۔ آپ e نے پھر فرمایا کوئی اور فرمائش ہے؟ میں نے عرض کی صرف یہی ایک گزارش ہے۔ رسول اللہ e نے فرمایا کہ اس فرمائش کو پورا کرنے میں زیادہ سجدے کرکے میرا تعاون کرو۔‘‘
قارئین کرام! دیکھیے کہ محب صادق کو فرمائش کا موقع میسر آیا تو بلا تردد رسول مکرم e کی جنت میں رفاقت کا سوال کیا۔ دوسری مرتبہ موقع دیاگیا پھر بھی اس فرمائش کو دہرایا‘ کسی اور فرمائش کا تصور بھی ان کے ذہن میں نہ آیا۔ (ماخوذ از نبی کریم e سے محبت اور اس کی علامتیں از ڈاکٹر فضل الٰہیd)
محبت رسول ﷺ:
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشادفرمایا
{قُلْ اِنْ كانَ اٰبَاؤُكمْ وَاَبْنَاؤُكمْ وَاِخْوَانُكمْ وَاَزْوَاجُكمْ وَعَشِیْرَتُكمْ وَاَمْوَالُ اقْتَرَفْتُمُوْها وَتِجَارَة تَخْشَوْنَ كسَادَها وَمَسٰكنُ تَرْضَوْنَهآ اَحَبَّ اِلَیْكمْ مِّنَ اللّٰه وَرَسُوْلِهٖ وَجِهادٍ فِیْ سَبِیْلِهٖ فَتَرَبَّصُوْا حَتّٰی یَاْتِیَ اللّٰه بِاَمْرِهٖ وَاللّٰه لَا یَهدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ} (التوبة: ۲۴)
’’آپ کہہ دیجئے کہ اگر تمہارے باپ اور تمہارے لڑکے اور تمہارے بھائی اور تمہاری بیویاں اور تمہارے کنبے قبیلے اور تمہارے کمائے ہوئے مال اور وہ تجارت جس کی کمی سے تم ڈرتے ہو اور وہ حویلیاں جنہیں تم پسند کرتے ہو اگر یہ تمہیں اللہ، اس کے رسول اور اس کی راہ کے جہاد سے بھی زیادہ عزیز ہیں تو تم انتظار کرو کہ اللہ تعالیٰ اپنا عذاب لے آئے‘ اللہ تعالیٰ فاسقوں کو ہدایت نہیں دیتا۔‘‘
نیز رسول اللہ e نے ارشاد فرمایا:
[لاَ یُؤْمِنُ اَحَدُكمْ، حَتَّی اَكونَ اَحَبَّ إِلَیْه مِنْ وَالِدِه وَوَلَدِه وَالنَّاسِ اَجْمَعِینَ۔] (متفق علیه)
’’تم میں سے کوئی شخص (کامل)مومن نہیں ہوسکتا جب تک کہ وہ اپنے ماں باپ،اولاد اور سب لوگوں سے بڑھ کر مجھ سے محبت کرنے والا نہ ہوجائے۔‘‘
مزید ارشاد گرامی ہے:
[ثَلاَثٌ مَنْ كنَّ فِیه وَجَدَ حَلاَوَة الإِیمَانِ: اَنْ یَكونَ الله وَرَسُولُه اَحَبَّ إِلَیْه مِمَّا سِوَاهمَا، وَاَنْ یُحِبَّ المَرْئَ لاَ یُحِبُّه إِلَّا لِله، وَاَنْ یَكرَه اَنْ یَعُودَ فِی الكفْرِ كمَا یَكرَه اَنْ یُقْذَفَ فِی النَّارِ۔] (بخاری: ۱۶)
’’تین خصلتیں ایسی ہیں کہ جو کسی شخص میں موجود ہوں تو ان کے ذریعے ایمان کی لذت اور اس کی مٹھاس کو پالیتا ہے: ایک یہ کہ اللہ اور اس کے رسولe کے ساتھ سب سے زیادہ محبت ہو۔ دوسری یہ کہ اسے کسی شخص سے محبت ہو تو محض اللہ کی رضا کی خاطر۔ تیسری یہ کہ اسے کفر کی طرف لوٹنا اسی طرح ناپسند ہو جیسا کہ جہنم میں ڈالا جانا اس کو ناپسند ہے۔‘‘
محبت رسول ﷺ کے تقاضے:
حافظ ابن رجبa فرماتے ہیں کہ جو شخص اللہ اور اس کے رسول e سے دل کی گہرائیوں سے محبت رکھتا ہے تو یہ محبت تقاضا کرتی ہے کہ وہ شخص اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ e کے پسندیدہ طریقے اپنائے اور ناپسندیدہ طریقے چھوڑ دے اور ان احکامات پر عمل پیرا ہو جن احکامات سے اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول e خوش ہو۔ اللہ اور اس کے رسولe کو ناراض کرنے والی باتوں اور کاموں سے دور رہے۔ اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ e کی مرضی والے کام کرتا رہے یہی محبت کا تقاضا ہے اگر اس شخص نے کوئی ایسا کام کیا جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی محبت کے خلاف تھا یعنی اللہ اور رسول e کا ناپسندیدہ عمل کیا یا ان کے پسندیدہ عمل کو چھوڑ دیا تو یہ دلیل ہے کہ اسکے دل میں ان کی محبت کم ہے‘ لہٰذا اس کو توبہ کرنا چاہیے اور اپنی محبت کی تکمیل کرنا چاہیے جو اس پر لازم ہے۔ (تیسیر العزیز الحمید)
سیدنا عبد الرحمن بن قرادt بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم e نے ایک دن وضو کیا‘ آپ کے اصحاب آپ کے وضو کے پانی کو اپنے جسموں پر ملنے لگے‘ نبی کریم e نے ان سے پوچھا کہ تم اس طرح کیوں کر رہے ہو؟ انہوں نے عرض کی اللہ اور اس کے رسول e کی محبت کی بنا ء پر۔ نبی کریم e نے فرمایا کہ جس شخص کو یہ بات اچھی لگتی ہو کہ وہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرے یا اللہ اور اس کا رسول اس سے محبت کرے تو اس کو چاہیے کہ جب وہ بات کرے تو سچ بولے اور جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو امانت کا حق ادا کرے اور اپنے ہمسایوں سے اچھا برتاؤ کرے۔ (شعب الایمان للبیہقی)
نیز سیدنا ابو ہریرہt بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہe نے فرمایا:
[كلُّ اُمَّتِی یَدْخُلُونَ الجَنَّة إِلَّا مَنْ اَبَی، قَالُوا: یَا رَسُولَ الله، وَمَنْ یَاْبَی؟ قَالَ: مَنْ اَطَاعَنِی دَخَلَ الجَنَّة وَمَنْ عَصَانِی فَقَدْ اَبَی۔] (البخاری: ۷۲۸۰)
’’میری ساری امت جنت میں داخل ہوگی سوائے اس کے جس نے جنت میں جانے سے انکار کیا۔ صحابہ کرام] نے پوچھا کہ جنت میں جانے سے انکار کرنے والا کون ہوگا؟ آپ نے فرمایا ’’جس نے میری اطاعت کی وہ جنت میں داخل ہوگا اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے جنت میں جانے سے انکار کیا۔‘‘
علامہ عینی حنفیa لکھتے ہیں کہ اس بات کو اچھی طرح ذہن نشین کرلو کہ رسول اللہ e کی محبت آپ کی تابعداری کرنے اور نافرمانی ترک کرنے کا ارادہ ہے اور یہ اسلام کے واجبات میں سے ہے۔ (عمدۃ القاری، ماخوذ از نبی کریم e سے محبت اور اس کی علامتیں)
محبت کی لازوال مثالیں:
صحابہ کرام] نے رسول اللہ e سے محبت کرنے کا حق ادا کر دیا اور ایسی مثالیں پیش کیں کہ ان کی نظیر تاریخ میں ملنا مشکل ہے۔ سیدنا عروہ بن مسعود ثقفیt نے صلح حدیبیہ کے موقعہ پر قریش مکہ کی طرف سے آپ کے پاس سفیر بن کر آئے۔ عروہ بن مسعود نے جہاں پر سفارت کاری کا فریضہ سرانجام دیا وہاں پر نبی کریم e کے ساتھ صحابہ کرام] کے تعلق کامنظر دیکھنے لگا پھر اپنے رفقاء کے پاس آیا اور بولا:
اَیْ قَوْمِ، وَالله لَقَدْ وَفَدْتُ عَلَی المُلُوك، وَوَفَدْتُ عَلَی قَیْصَرَ، وَكسْرَی، وَالنَّجَاشِیِّ، وَالله إِنْ رَاَیْتُ مَلِكا قَطُّ یُعَظِّمُه اَصْحَابُه مَا یُعَظِّمُ اَصْحَابُ مُحَمَّدٍﷺ مُحَمَّدًا، وَاللَّه إِنْ تَنَخَّمَ نُخَامَة إِلَّا وَقَعَتْ فِی كفِّ رَجُلٍ مِنْهمْ، فَدَلَك بِها وَجْهه وَجِلْدَه، وَإِذَا اَمَرَهمْ ابْتَدَرُوا اَمْرَه، وَإِذَا تَوَضَّاَ كادُوا یَقْتَتِلُونَ عَلَی وَضُوئِه، وَإِذَا تَكلَّمَ خَفَضُوا اَصْوَاتَهمْ عِنْدَه، وَمَا یُحِدُّونَ إِلَیْه النَّظَرَ تَعْظِیمًا لَه۔] (البخاری، الحدیث: ۲۷۳۱)
’’اے لوگو اللہ کی قسم! میں بادشاہوں کے دربار میں گیا، قیصر وکسریٰ اور نجاشی کے دربار میں گیا، مگر اللہ کی قسم! میں نے کسی بادشاہ کو ایسا نہیں دیکھا کہ اس کے مصاحب اس کی اتنی تعظیم کرتے ہوں جتنی محمد کی تعظیم اس کے اصحاب کرتے ہیں، اللہ کی قسم! جب تھوکتے ہیں تو وہ جس کسی کے ہاتھ پر پڑتا ہے، وہ اس کو اپنے چہرے اور بدن پر مل لیتا ہے اور جب وہ کسی بات کے کرنے کا حکم دیتے ہیں تو ان کے اصحاب بہت جلد اس حکم کی تعمیل کرتے ہیں۔ جب وضو کرتے ہیں تو ان کے غسالہ وضو کیلئے لڑتے مرتے ہیں‘ اپنی آوازیں ان کے سامنے پست رکھتے ہیں، نیز بغرض تعظیم ان کی طرف دیکھتے تک نہیں۔‘‘
اسی طرح غزوئہ بدر کے لیے جب رسول اللہ e نے مشورہ لیا تو جہاں پر سیدنا ابو بکر صدیق،سیدنا عمر فاروق اور مقداد] نے کھڑے ہوکر بڑی عمدہ باتیں کیں وہاں پر انصار کی طرف سے سیدنا سعد بن معاذt بھی کھڑے ہوئے اور رسول اللہ e سے عرض کیا کہ میں انصار کی طرف سے بول رہا ہوں اور ان کی طرف سے جواب دے رہا ہوں۔ عرض ہے کہ آپ جہاں چاہیں تشریف لے چلیں جس سے چاہیں تعلق استوار کرلیں اور جس سے چاہیں کاٹ لیں۔ ہمارے مال میں سے جو چاہیں لے لیں اور جو چاہیں دیدیں اور جو آپ لے لیں گے وہ ہمارے نزدیک اس سے زیادہ پسند ہوگا۔ جسے آپ چھوڑ دیں گے اور اس معاملے میں آپ کا جو فیصلہ ہوگا ہمارا فیصلہ بہر حال اس کے تابع ہوگا۔ اللہ کی قسم! اگر آپ پیش قدمی کرتے ہوئے برک غماد تک جائیں تو ہم بھی آپ کے ساتھ چلیں گے۔ اگر آپ ہمیں لے کر سمندر میں کود جانا چاہیں تو ہم اس میں بھی کود جائیں گے۔(ماخوذ از الرحیق المختوم، ص: ۳۴۵)
نیز ایک اور محب رسول e کی سیرت پڑھ کر اپنے ایمان کا ہم بھی جائزہ لیں اور اپنے ضمیر کو ٹٹول کر دیکھیں کہ ہماری محبت کیسی اور کتنی ہے۔ سیدنا زید بن ثابتt کہتے ہیں کہ رسول اللہ e نے احد کے روز مجھے سعد بن ربیع کی تلاش میں بھیجا اور فرمایا کہ اگر تو انہیں دیکھے تو میری طرف سے انہیں سلام کہنا اور کہنا کہ رسول اللہ e دریافت فرمارہے تھے کہ تمہارا کیا حال ہے؟ راوی(زید) کہتے ہیں کہ میں مقتولین میں پھرنے لگا‘ آخر میں سعد کے پاس آیا ان کا دم لبوں پر تھا نیزوں، تلواروں اور تیروں کے بدن پر ستر نشانات تھے‘ میں نے کہا اے سعد! رسول اللہ e نے تمہیں سلام کہا ہے اور دریافت فرما رہے تھے کہ تمہارا کیا حال ہے؟ انہوںنے جواب دیا رسول اللہ e پر سلام، آپ سے عرض کرنا اے اللہ کے رسول! میں جنت کی خوشبو پارہا ہوں اور میری قوم انصار سے کہنا کہ اگر رسول اللہ e کو کوئی تکلیف پہنچی اور تم میں ایک آنکھ جھپکنے والی بھی باقی ہوئی تو یادرکھو اللہ کے ہاں تمہارا کوئی عذر سنا نہ جائے گا‘ اس کے فوراً بعد ان کی روح جسد عنصری سے پرواز کر گئی۔ (زاد المعاد: ۲/۱۹۲-۱۹۳)
ایک طرف صحابہ کرام] کے ایمان اور آپ سے محبت کا یہ عالم ہے تو دوسری طرف رسول اللہ e پر ایمان لانے والی صحابیات بھی اس محبت میں مردوں سے پیچھے نہیں رہیں۔ رسول اللہ e جب غزوئہ احد سے واپس مدینہ منورہ لوٹے تو آپ e کا گزر بنودینار کی ایک خاتون کے پاس سے ہوا جس کا شوہر، بھائی اور والد تینوں شہادت سے سرفراز ہوچکے تھے۔ جب انہیں ان لوگوں کی شہادت کی خبر دی گئی تو کہنے لگی کہ رسول اللہ e کا کیا ہوا؟ لوگوں نے کہا کہ ام فلاں! رسول اللہ e خیریت سے ہیں اور بحمد اللہ جیسا تم چاہتی ہو ویسے ہی ہیں۔ خاتون نے کہا کہ ذرا مجھے دکھلا دو میں بھی آپ کا وجود مبارک دیکھ لوں۔ لوگوں نے اشارے سے بلایا جب ان کی نظر آپ e پر پڑی تو بے ساختہ پکار اٹھیں:
كل مصیبة بعدك جلل
’’آپ کے بعد ہر مصیبت ہیچ ہے۔‘‘ (سیرت ابن ہشام بحوالہ: الرحیق المختوم ص: ۴۵۹)
گیارہ انصار اور طلحہ رضی اللہ عنہم کی جانثاری:
سیدنا جابرt بیان کرتے ہیں کہ غزوہ احد کے دن جب مسلمان بھگدڑ میں منتشر ہوگئے تو رسول اللہ e کے ساتھ صرف گیارہ انصاری صحابہ اور طلحہ بن عبید اللہ] رہ گئے۔ مشرکوں نے آپ کا گھیرا ڈال لیا تو آپ نے نگاہ اٹھا کر فرمایا کہ اب ہماری طرف سے کون لڑے گا؟ طلحہ بن عبید اللہ نے عرض کی اے اللہ کے رسول! میں، آپ e نے فرمایا کہ تم اپنی جگہ رہو۔ ایک انصاری شخص بولا کہ یا رسول اللہ! میں، آپ نے فرمایا: تو پھر وہ لڑا حتی کہ شہید ہوگیا پھر آپ e نے لوگوں کی طرف دیکھا اور فرمایا کہ کون حفاظت کرے گا، قوم کی؟ طلحہ نے کہا کہ میں۔ تو آپ e نے فرمایا تم اپنی جگہ رہو، ایک شخص انصاری بولا میں یا رسول اللہ! آپ نے فرمایا تو پھر وہ لڑا یہاں تک کہ شہید ہوگیا پھر برابر آپ اسی طرح فرماتے رہے اور ایک ایک انصاری مرد لڑائی کے لیے نکلتا گیا اور لڑکرشہید ہوتا رہا یہاں تک کہ فقط رسول اللہ e اور طلحہ رہ گئے۔ اس وقت آپ نے فرمایا اب کون لڑے گا؟ طلحہ نے کہا کہ میں‘ پھر طلحہ بھی لڑے پہلے گیارہ شخصوں کی مانند یہاں تک کہ ان کے ہاتھ پر ایک ضرب لگی اور انگلیاں کٹ گئیں‘ انہوں نے کہا کہ حس(یعنی آہ) رسول اللہ e نے فرمایا: اگر تو بسم اللہ کہتا (جب تجھے زخم لگا تھا) تو فرشتے تجھے اُٹھا لیتے اور لوگ دیکھتے رہتے پھر اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کو پھیر دیا۔ (سنن نسائی، باب ما یقول من یطعنہ العدو)
ہمیں بھی چاہیے کہ ہم بھی صحابہ] کی طرح اس عظیم المرتبت نبی کریم e سے اپنی جان،مال، عزت وآبرو سے بڑھ کر محبت کریں جیسا کہ انہوں نے آپ سے محبت کی۔
غزوئہ احد میں جونہی مسلمانوں کی فتح کا پانسہ پلٹ گیا اور دیکھتے ہی دیکھتے صحابہ کرام کی کثیر تعداد شہید ہوگئی‘ بہت سے صحابہ زخمی ہوگئے‘ جناب رسالت مآب e بھی شدید زخمی ہوگئے، اسی اثناء میں آپ کی شہادت کی خبر بھی اُڑ گئی بس پھر کیا تھا کہ صحابہ کرام کی ہمتیں جواب دے گئیں‘ اداسی ان کے انگ انگ میں سرایت کر گئی‘ صفیں منتشر ہوگئیں، عزائم سرد پڑ گئے اور صحابہ بدنظمی کا شکار ہوگئے مگر جیسے جیسے مسلمانوں کو رسول اللہ e کی سلامتی کی اطلاع ملی ان کی صفیں مجتمع ہونے لگیں۔ نبی کریم e گھاٹی میں واقع اپنے کیمپ تک پہنچنے میں کامیاب ہوگئے تو اس موقع پر کفار بھی نشانے لے لے کر تیر چلانے لگے‘ اس موقع پر صحابہ کرام] نے جس جانثاری سے حالات کی سنگینی کا مقابلہ کیا اور آپ کی حفاظت کے لیے جس جرأت ودلیری کا مظاہرہ کیا وہ اپنی مثال آپ ہے۔ سیدنا طلحہ،ابو دجانہ، ابو عبیدہ بن الجراح،فاطمہ وعلی، ام ایمن، حمنہ بنت جحش، بنو دینار کی صحابیہ اور والدہ اور سیدنا سعد بن معاذ] کی محبت آبِ زر سے لکھی جانے کے لائق ہے۔


No comments:

Post a Comment

View My Stats