اسلام کا نظریۂ اجماع 45-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Sunday, December 01, 2019

اسلام کا نظریۂ اجماع 45-2019


اسلام کا نظریۂ اجماع

تحریر: جناب پروفیسر حافظ محمد شریف شاکر
قرآن مجید کلام الٰہی ہونے کی حیثیت سے اسلامی قانون کا اصل الاصول اور مآخذِ اوّل ہے ۔ قرآن کریم کے بعد رسول اللہ e کی حدیث و سنت کو شرعی قانون کی حیثیت حاصل ہے ۔ یہ دونوں چیزیں وحی الٰہی پر مشتمل ہیں ، ارشاد الٰہی ہے :
{وَمَا یَنْطِقُ عَنِ الْهوٰی٭ إِنْ هوَ إِلَّا وَحْیٌ یُوحٰی} (النجم: ۳-۴)
’’اور آپ e خواہش سے گفتگو نہیں فرماتے جو کچھ آپ کلام کرتے ہیں وہ وحی ہوتی ہے جو آپ کی طرف وحی کی جاتی ہے۔‘‘
قرآن وسنت کے بعد اجماع اُمت کا مرتبہ ہے، لہٰذا درج ذیل سطور میں اسی موضوع پر گفتگو کی جائے گی۔
اجماع کا لغوی مفہوم:
لغوی لحاظ سے ’’اجماع‘‘ عزم اور اتفاق کا معنیٰ دیتاہے: اتفقوا (ڈاکٹر اسماعیل وغیرہ: المعجم الوسیط: ص ۱/۱۳۵) قوم متفق ہو گئی۔
عزم کا مفہوم قرآن مجید میں یوں بیان کیا گیا ہے:
{فَاَجْمِعُوْا اَمْرَكمْ} (سور ة یونس: ۷۱)
’’پس تم پختہ ارادہ کرو‘‘
بمعنی اتفاق: (اجمع) القوم: اتفقوا (المعجم الوسیط: ص ۱/۱۳۵)
اورحدیث اس معنی کو یوں واضح کر تی ہے:
[من لم یجمع الصیام قبل الفجر فلا صیام له۔] (الترمذی، حدیث: ۷۳۰)
’’جوشخص فجر سے پہلے روزہ کا عزم نہ کرے اس کا روزہ نہیں۔‘‘
 اجماع کا اصطلاحی مفہوم:
[الاجماع وھو اتفاق المجتھدین من امة محمدﷺ فی عصر علی حكم شرعی۔] (التلویح علیٰ التوضیح: ص ۵۲۲)
’’ محمد e کی امت کا کسی ایک زمانہ میں شرعی حکم پر متفق ہونے کو اجماع کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔‘‘
[اجماع ھذه الامة بعدما توفی رسول اللّٰهﷺ فی فروع الدین حجة موجبة  للعمل بھا شرعاً۔] (الشاشی: ص ۷۸)
’’رسول اللہ e کی وفات کے بعد آپ کی اُمت [کے مجتہدین] کا فروعِ دین میں اس پر عمل کرنے کے لیے اجماع کرنا شرعاً حجۃ موجبہ ہے۔‘‘
[اتفاق علماء العصرمن امة محمدﷺ علی امرمن امور الدین۔] (روضة الناظر وجنة المناظر: ص: ۱/۲۷۳)
’’محمدe کی امت میں سے علمائے عصر کا کسی دینی مسئلہ پر اتفاق کر نا اجماع کہلاتاہے۔‘‘
[الاجماع وھو فی اللغة الاتفاق وفی الشریعة اتفاق۔ مجتھدین صالحین من امة محمد(ﷺ) فی عصر واحد علی امر قولی او فعلی۔] (نور الانوار: ص: ۲۱۹)
’’لغت میں اجماع کا معنی اتفاق،اور شریعت میں محمد e کی امت کے صالح مجتہدین کا کسی ایک زمانہ میں کسی قولی یا فعلی امر پر اتفاق کرناہے۔‘‘
[اما فی الاصطلاح  فھو اتفاق مجتھدی امة محمدﷺ بعد وفاته فی عصر من الاعصار علی امر من الامور۔] (ارشاد الفحول الی تحقیق الحق من علم الأصول: ص: ۶۳)
’’محمد e کی امت کے مجتہدین کا آپ e کی وفات کے بعد کسی زمانہ میں کسی امر پر متفق ہونا اصطلاحاً اجماع کہلاتاہے۔‘‘
متأخر الذکر تعریف کی توضیح کرتے ہوئے علامہ شوکانی لکھتے ہیں:
اتفاق سے مراد اعتقاد یا قول یا عمل میںاشتراک ہے اور اس تعریف کرنے والے کے قول [مجتھدی امة محمد] کے ساتھ عوام کا اتفاق خارج ہوجاتا ہے کیونکہ ان کا اتفاق یا اختلاف معتبر نہیں۔ مجتہدین کی امت محمد e سے نسبت کے ساتھ سابقہ امتوں کا اتفاق خارج ہوگیا اور ’’بعد وفاتہ‘‘ قول کے ساتھ آپ e کے زمانے کااجماع خارج ہوجاتا ہے۔کیونکہ یہ معتبر نہیں۔ اور [فی عصرمن الاعصار] قول کے ساتھ یہ وہم جاتا رہتا ہے کہ شاید مجتہدین سے مراد قیامت تک کے تمام زمانوں میںامت کے تمام مجتہدین مراد ہوں،بلاشبہ یہ باطل وہم ہے کیونکہ اس سے اجماع کے عدم ثبوت کا نتیجہ اخذ ہوتا ہے جبکہ روزِ قیامت سے پہلے اور روزِ قیامت کے بعد کوئی اجماع نہیں ، اجماع کی ضرورت ہی نہیں۔ اور ’’العصر‘‘ سے مرادان لوگوں کا زمانہ ہے جو اس وقت اہل اجتہاد میں سے ہوں جس وقت میں مسئلہ پیدا ہوا۔ جو شخص مسئلہ پید اہونے کے بعد مجتہد بنا اسے مجتہد شمار نہیں کیا جائے گااگرچہ اس میں مجتہدین کی شرائط موجود ہوں۔ اور اس کا قول ’’ علی امر من الامور‘‘ کسی ایک امر پر تمام شرعی ، عقلی، عرفی اور لغوی مسائل کو شامل ہے۔ (ارشاد الفحول للشوکانی:  ص ۶۳)
امکان اجماع:
اجماع کی مندرجہ بالا تعریف کی رو سے کیا اجماع کا وقوع پذیر ہونا ممکن ہے؟کتب اصولِ فقہ کا مطالعہ کرنے سے اس بارے میں مختلف خیالات سامنے آتے ہیں۔ ڈاکٹر زیدان لکھتے ہیں کہ جمہور امت اجماع کے منعقد ہونے اس کے عملاً واقع ہونے کے امکان کے قائل ہیں۔اور بعض اس کے اصلاً انعقاد کے عدم امکان اور اس کے عدم وقوع کے قائل ہیں۔ایسے لوگوں میں سے نظام معتزلی ہیں۔ (الوجیز فی اصول الفقہ: ص ۱۸۹)
نظام اور شیعہ کے مذہب کا ذکر کرتے ہوئے شوکانیa اور نواب صد یق حسن خانa لکھتے ہیں کہ ایک قوم اس کے محال ہونے کی قائل ہے جن میں سے نظام اور بعض شیعہ ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ لوگوں کا ایک ایسے حکم پر متفق ہونا جو ضروری طور پر نا معلوم ہو اسی طرح محال ہے ،جس طرح ایک وقت میں ایک کھانے پر اور ایک ہی کلمہ بولنے پر ان کا متفق ہونا محال ہے۔ ایک جماعت نے اس کے فی نفسہ ممکن ہونے کا مذھب اختیار کیا ہے۔ (حصول المامول من علم الأصول: ص ۵۸؛ ارشاد الفحول للشوکانی:ص ۷۳-۷۴)
نظام اور بعض شیعہ نے اجماع کے عدم جواز کے ثبوت میں جو دلیل پیش کی ہے وہ قابل التفات نہیں۔
ابن قدامہ مقدسیa امکان اجماع کے ثبوت میں لکھتے ہیں کہ بہت سے احکام پر صحابہ جمع ہوئے ہیں:
ودلیل امكان وقوعه انه وقع فعلا وقع فی عصر الصحابة ونقلت لنا عنھم  اجماعات كثیرة : كاجماعھم علی ان للجدة السدس فی المیراث، واجماعھم علی بطلان زواج المسلمة بغیر المسلم،واجماعھم علی صحة النكاح من غیر مھر مسمی ، واجماعھم علی عدم قسمة الاراضی المفتوحة علی الفاتحین واجماعھم علی ان الاخوة والاخوات لاب یقومون مقام الاشقاء عند عدمھم واجماعھم علی ان الابن الصلبی یحجب ابن الابن الی غیر ذلك من الاجماعات الكثیرة۔] (الوجیز فی اصول الفقه: ص ۱۹۰)
’’اس کے امکان وقوع کی دلیل یہ ہے کہ اجماع بالفعل واقع ہو چکا ہے۔صحابہ کے عہد میں واقع ہوا اور صحابہ کے بہت سے اجماعات (روایت کے ذریعے)منقول ہو کر ہم تک پہنچے ہیں :جیسے صحابہ کا اس پر اجماع ہے کہ کسی مسلمان عورت کا نکاح غیر مسلم مرد کے ساتھ نہیں ہو سکتا ، اور اس بات پر ان کا اجماع ہے کہ اگر نکاح کے وقت مہر مقرر نہ کیا جائے تو نکاح درست ہو گا ۔اور اس پر[بھی ]ان کا اجماع ہو چکا ہے کہ مفتوحہ زمینوں کو فاتحین کے درمیان تقسیم نہیں کیا جائے گا ۔اور ان کا اس پر (بھی) اجماع ہوا کہ حقیقی میراث میں حقیقی بہنوں اور بھائیوں کے موجود نہ ہونے کی صورت میں باپ شریک بہنوں اور بھائیوں کو ان کے قائم مقام سمجھا جائے ۔اور ان کا اس پر (بھی) اجماع ہے کہ صلبی بیٹا پوتے کو میراث سے محروم کر دے گا۔ ایسے اور بھی بہت سے اجماعات ہیں۔‘‘
مندرجہ بالا تمام اجماعات کا تعلق عصر صحابہ سے ہے۔ صحابہ کے بعد اس کا امکان مشکل بلکہ نا ممکن ہے ، کیونکہ ممالک اسلامیہ اورغیر اسلامیہ میں علماء اور اصحاب علم وفضل اس کثرت سے پھیلے ہوئے ہیں کہ ان کا احصاء نا ممکن ہے ،اگرچہ ابن قدامہ مقدسی(م۶۲۰ھ)نے علمائے عصر کے اجماع کے بارے میں لکھا ہے کہ اجماع کی پہچان بالمشافہہ یا خبر دینے سے ہو جاتی ہے ،کیونکہ جن لوگوں کا قول اجماع میں معتبر سمجھا جاتا ہے،وہ علمائے مجتہدین ہیں اور وہ مشہور و معروف ہیں ، آفاق عالم سے ان کے اقوال پہچانے جا سکتے ہیں۔ (روضۃ الناظر وجنۃ المناظر: ص ۱/۲۷۵-۲۷۶)
تاہم مقدسی کی یہ بات نا قابل عمل ہے کیونکہ علمائے اقطار عالم میںپھیلے ہوے ہیں‘ اس لئے سب کے بارے میں معلومات نا ممکن ہیں۔ چنانچہ مقدسی کے اس قول کے تحت صاحب نزہۃ الخاطر العاطر، ابو المعالی (م۴۷۸ھ) سے اور بیضاوی (م۶۸۵ھ)سے یوں نقل کرتے ہیں:
[قال ابوالمعالی: والانصاف انه لا طریق لنا الی معرفة الاجماع الا فی زمن الصحابة۔ وقال البیضاوی ان الوقوف علیه لا یتعذر فی ایام الصحابة فانھم كانوا قلیلین محصورین ومجتمعین فی الحجاز ومن خرج منھم بعد فتح البلاد كان معروفا فی موضعه۔] (نزھة الخاطر العاطر: (شرح روضة الناظر وجنة المناظر): ص ۱/۲۷۶)
’’ابوالمعالی کہتے ہیں کہ انصاف یہ ہے کہ عصر صحابہ میں ہونے والے اجماع کے سوا کسی اجماع کی معرفت کا ہمارے پاس کوئی طریق نہیں۔ بیضاوی کہتے ہیں کہ عہد صحابہ میں اجماع پر مطلع ہونا مشکل نہیں تھا کیونکہ وہ تعداد میں کم اور گنے چنے تھے اور وہ حجاز ہی میں جمع تھے اور جو ان (صحابہ)کے پاس سے فتوحات ممالک کے بعد جا چکے تھے وہ بھی اپنی جگہ پر متعارف تھے۔
ابوالمعالی اور بیضاوی کے اقوال کی تائید میں ’’ابن بدران دومی‘‘(م۱۳۴۶ھ)لکھتے ہیں :
[ھذا ھوالحق البین، وقول المصنف عن العلماء المجتھدین ’ھم مشتھرون معروفون‘ دعوی بلا دلیل،ولو كنا فی زمنه وطالبناه بمعرفة مجتھدی عصره من اھل الاندلس والھند لربما كان لا یعرف واحدا منھم۔] (نزھة الخاطر العاطر: ص: ۱/۲۷۶)
’’یہ واضح حق ہے اور مصنف کا علماء مجتہدین کے بارے میں یہ کہنا کہ’’وہ مشہورومعروف‘‘ہیں یہ دعوی بلا دلیل ہے۔اگر ہم مصنف کے زمانے میں ہوتے اور ان سے ان کے زمانے کے اندلس وہندوستان کے مجتہدین کے تعارف کا مطالبہ کرتے تو وہ بسا اوقات ان میں سے کسی ایک سے بھی متعارف نہ ہو سکتے۔‘‘
آپ مزید لکھتے ہیں کہ ایسے اجماع کے بارے میں یہ کہنا کہ یہ محال نہیں،یہ مندرجہ ذیل وجوہ کی بنا پر مشکل ہے کہ
اولاً:         مجمعین کا مشرق ومغرب میں منتشر ہو جانا ہے اور ان میںسے کسی ایک کا مجمعین سے اس طرح مخفی رہ جانا کہ وہ قیدی یا محبوس یا کسی پہاڑ یا کسی قریہ میں الگ تھلگ ہو،اور یہ بھی ممکن ہے کہ وہ گمنام ہو کہ کسی کو پتہ ہی نہ ہو کہ وہ مجتہدین میں سے ہے۔
ثانیاً:        ہو سکتا ہے ان میں سے بعض سے جھوٹ صادر ہو جائے اور وہ ظالم بادشاہ کے خوف سے یا صاحب منصب مجتہد کے ڈر سے اپنے اعتقاد کے خلاف فتوی صادر کر دے۔
ثالثاً:        یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کوئی ایک مجتہد دوسرے مجتہد کے فتوی صادر کرنے سے پہلے رجوع کر لے۔ (نزھۃ الخاطر العاطر: ص ۲۷۵)
مندرجہ بالا خدشات کے پیش نظر آج کل کے مجتہدین کے اجماع کا وقوع پذیر ہونا ناممکن نظر آتا ہے ۔
ابن امیر الحاج ’’التحریر ‘‘کی شرح میں لکھتے ہیں کہ اجماع کی قطعی حجیت کے لئے مجمعین کا صحابہ ہونا شرط نہیں۔ یہ بات ظاہریہ کے خلاف ہے :وہ کہتے ہیں کہ لازم اجماع عصر صحابہ کے ساتھ مختص ہے،پس بعد والوں کا اجماع حجت نہیں، ابن حبان کا ظاہر کلام صحیح ابن حبان میں یہی ہے ۔اور امام احمد بن حنبل کے اس بارے میںدو قول ہیں ۔ان میں سے ایک ہاں کی صورت میں ہے ظاہریہ کی طرح،اور آپؒکے اصحاب کے ہاں دونوں قولوں میں یہ قول زیادہ صحیح ہے۔ (التقریر والتحبیر فی شرح التحریر: ص ۳/۹۷)
یہ عقیدہ صرف ظاہریہ کا نہیں بلکہ اہل سنت کے امام ،امام احمد بن حنبل نے بھی ایک روایت کے مطابق اسے اختیار کیا ہے۔ یعنی صحابہ کے سوا دیگر مجتہدین کا کسی مسئلہ پر مجتمع اور متفق ہونا نا ممکن ہے‘ اسی کی تائید میں صاحب ’’کشف الاسرار‘‘لکھتے ہیں:
’’اجماع صرف صحابہ کا ہوسکتاہے اور یہ مذہب اہل ظاہر میں سے دائود اور اس کی جماعت کا ہے اور احمد بن حنبل سے منقول دو روایتوں میں سے ایک میں آپ کا یہی مذہب ہے کیونکہ اجماع صرف امر بالمعروف اور نہی عن المنکر میںصحابہ ہی اصل ہیں کیونکہ اللہ کے قول {كنتم خیر امة اخرجت للناس} اور اس کے قول {وكذلك جعلنكم امة وسطا} کے وہی مخاطب تھے نہ کہ ان کے غیر، جبکہ خطاب موجود کو پہنچتا ہے نہ کہ معدوم کو۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کے قول {ویتبع غیر سبیل المؤمنین} اور آپu کا قول [لاتجتمع امتی علی الضلالة۔] نبیu کے زمانہ میںموجود صحابہ ہی کے ساتھ مخصوص ہے ۔ جبکہ وہی کل مومن اور کل اُمت تھے کیونکہ جو اس وقت تک وجود میں نہیںتھے وہ ایمان کے ساتھ متصف نہیں ہوںگے اور نہ وہ امت میں شمار ہوں گے۔ صحابہ ہی کا اجماع اس لیے بھی معتبر ہے کہ اجماع میں کل کا اتفاق ضروری ہے اور اتفاق کے بارے میں علم ،کل کا مشاہدہ کرنے سے حاصل ہوگا۔ جب کہ یہ بھی معلوم ہوکہ ان کے سوا یہاں کوئی اورموجود نہیں ہے، لیکن تمام زمانوں میں تمام مومنین کی کسی چیز پر اتفاق و اجماع کی معرفت حاصل کرنا زمین کے مشارق ومغارب میں ان کی کثرت اور ان کے متفرق ہونے کی وجہ سے محال ہے۔‘‘ (کشف الاسرار علی اصول البزدوی: ص ۳/۲۴۰-۲۴۱)
امام شوکانی، اصفہانی (م۷۴۹ھ) سے یوں نقل کرتے ہیں کہ اصفہانی نے اجماع صحابہ کے سوا دیگر اجماع میں اختلاف کیا ہے اور آپ نے کہا ہے کہ صحابہ کے اجماع کے سوا کسی اور اجماع پر مطلع ہونا دشوار ہے، جبکہ صحابہ میں سے اجماع کرنے والے صحابہ تو قلیل تھے لیکن اس وقت اور اسلام کے پھیلائو اور علماء کی کثرت کے بعد اجماع کے بارے معلومات کی طمع نہیں رہی۔
اصفہانی نے کہا کہ احمدبن حنبلa کا زمانہ صحابہ سے قریب ، آپ کا حافظہ قوی اور امورنقلیہ پر آپ کو وسیع معلومات تھیں‘ اس کے باوجود آپ نے یہی مذہب اختیار کیا۔اصفہانی نے مزید کہا کہ انصاف پسند شخص جانتاہے کہ اسے اجماع سے متعلق کتب میں لکھے ہوئے کے سوا اور کوئی خبر دستیاب نہیں ہوسکتی۔ یہ بھی واضح ہے کہ اجماع کے بارے میں کسی قسم کی اطلاع، سماع کے سوا اور اہل تواتر کے، اسے ہماری طرف منتقل کرنے کے سوا حاصل نہیں ہوسکتی۔عصر صحابہ میں تو اس کی طرف راہ نکلتی تھی لیکن بعد والوں میں نہیں۔ (ارشادالفحول: ص ۶۵)
 حجیت اجماع اور دلیل اجماع :
اجماع کی حجیت کے بارے میں حافظ ابن حزمa لکھتے ہیں:
[اتفقنا نحن و اكثر المخالفین لنا علی ان الاجماع من علماء اھل الاسلام حجة و حق مقطوع به فی دین اللّٰه عز وجل۔] (الاحكام فی اصول الاحكام: ص ۴/۱۲۸)
’’ہم اور ہمارے اکثر مخالفین اس پرمتفق ہیں کہ اہل اسلام کے علماء کا اجماع اللہ عزوجل کے دین میں حجت اور قطعی حق ہے۔‘‘
شیخ الاسلام ابن تیمیہa اجماع کی حجیت اور اس کی دلیل یوں ذکر کرتے ہیں کہ اجماع امت حق ہے ،امت گمراہی پرجمع نہیں ہوسکتی جیسا کہ اللہ نے اس امت کی یہ صفت کتاب و سنت میں بیان کی ہے ۔پس اللہ نے فرمایا :
{كنْتُمْ خَیْرَ اُمَّة اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمِرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْھَوْنَ عَنِ الْمُنْكرِ وَتُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰه}
’’تم بہترین امت ہو جسے لوگوں کے (فائدہ کے) لیے پیدا کیاگیا ہے ۔تم معروف کا حکم دیتے ہو اور منکر سے روکتے ہو اور تم اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔‘‘
ان کی یہ صفت کہ وہ ہر نیکی کا حکم دیتے ہیں اورہر برائی سے روکتے ہیں ،اسی طرح ہے جس طرح اللہ نے اس صفت کے ساتھ اپنے نبی e کو اپنے اس فرمان میں موصوف کیا ہے:
{ اَ لَّذِیْ یَجِدُوْنَه مَكتُوباً عِندَهمْ فِیْ التَّوْرَاة وَالإِنْجِیْلِ یَأْمُرُهم بِالْمَعْرُوفِ وَیَنْهاهمْ عَنِ الْمُنكرِ }
’’جسے وہ اپنے ہاں تورات اورانجیل میں لکھا ہو ا پائیں گے کہ وہ انہیں نیکی کا حکم دے گا اوران کو برائی سے روکے گا۔‘‘
اسی وصف کے ساتھ اپنے فرمان میں مومنوں کو موصوف کیا:
{وَالْمُؤْمِنُوْنَ وَالْمُؤْمِنٰتُ بَعْضُهمْ أَوْلِیَاء  بَعْضٍ یَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَیَنْهوْنَ عَنِ الْمُنكرِ}
’’ایمان والے مرد اور ایمان والی عورتیں ایک دوسرے کے دوست ہیں‘ نیکی کا حکم دیتے ہیں اوربرائی سے روکتے ہیں۔‘‘
لہٰذا اگر امت دین میں کوئی ایسی بات کہے جو گمراہی ہو تو گویا اس امت نے اس دین میں نہ نیکی کا حکم دیا اورنہ برائی سے روکا اوراللہ نے فرمایا:
{وَكذٰلِك جَعَلْنَاكمْ أُمَّة وَسَطاً لِّتَكونُواْ شُهدَاء  عَلَی النَّاسِ وَیَكونَ الرَّسُولُ عَلَیْْكمْ شَهیْداً }
’’اور اسی طرح ہم نے تمہیں عادل و افضل امت بنایا تاکہ تم لوگوں پر گواہ ہوجائو ،اوررسول تم پر گواہ ہوجائیں۔‘‘
وسط سے مرادعادل اور بہتر ہے، اوراللہ نے انہیں لوگوں پر گواہ بنایااوران کی شہادت کو رسول کی شھادت کے قائم مقام ٹھہرایا۔ (مجموع فتاویٰ شیخ الاسلام: ص ۱۹/۱۷۶-۱۷۷)
رسول اللہ e کا ارشاد گرامی ہے:
[لایزال من امتی امة قائمةبامراللّٰه لا یضرھم من خذلھم ولا من خالفھم حتی یأتیھم امراللّٰه وھم علی ذلك۔] (صحیح  البخاری، حدیث ۳۶۴۱)
’’میری امت میں سے ایک گروہ ہمیشہ اللہ کے حکم پر قائم رہے گا،ان کا کوئی مخالف اور ان کا ساتھ چھوڑنے والا ان کو نقصان نہیں پہنچا سکے گا،اور وہ اسی پر قائم رہیں گے یہاں تک کہ ان کو اللہ کا حکم (موت)آجائے ۔‘‘
[لا تزال طائفة من امتی قائمة بامراللّٰه لا یضرھم من خذلھم او خالفھم حتی یائتی امراللّٰه وھم ظاھرون علی الناس۔] (صحیح مسلم، حدیث ۳۹۵۰)
حافظ ابن حزمa ان دو حدیثوں کو نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں:
[فصح انه لا تجتمع امة محمدﷺ علی غیرالحق ابدا، لانه علیه السلام قد انذر بانه لایزال منھم قائم بالحق ابدا۔] (الاحكام لابن حزم، ص: ۴/۱۳۱)
’’یہ بات صحیح ثابت ہے کہ محمد e کی امت غیر حق پر کبھی مجتمع نہیں ہو گی کیونکہ آپ نے ڈرایا ہے کہ ان میں سے قائم بالحق ہمیشہ رہے گا ۔‘‘
اس حدیث سے یہ بات بخوبی سمجھ آتی ہے کہ قائم بامراللہ (امر الٰہی قائم کرنے والی جماعت)کے سوا باقی کی گمراہی کا خطرہ بد ستور موجود ہے اور یہ بات مندرجہ ذیل احادیث سے خوب سمجھی جا سکتی ہے:
[ان اللّٰه لا یقبض العلم انتزاعا ینتزعه من العباد ولكن یقبض العلم بقبض العلماء حتی اذا لم یبق عالم اتخذ الناس رؤسا جھالا فسئلوا فافتوا بغیر علم فضلوا واضلوا۔] (صحیح البخاری، حدیث: ۱۰۰)
’’بے شک اللہ تعالی بندوں سے علم چھین کر اپنے قبضے میں نہیں لیں گے ، لیکن علماء کو فوت کر کے علم اُٹھا لیں گے۔جب کوئی عالم باقی نہیں رہے گا لوگ جاہلوں کو سردار بنا لیں گے پھر ان (جاہلوں) سے مسائل پوچھے جائیں گے تو یہ بغیر علم کے فتوے دیں گے ۔یہ خود گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو گمراہ کریں گے۔‘‘
[’لتتبعن سنن من كان قبلكم شبرا شبرا وذراعا ذراعا حتی لو دخلوا جحر ضب تبعتموھم۔‘ قلنا یا رسول اللّٰهﷺ! آلیھود والنصاری؟ قال: ’فمن؟‘] (البخاری، حدیث: ۷۳۲۰)
’’تم ضرور پہلے لوگوں کے نقش قدم پرایک ایک بالشت اور ایک ایک ہاتھ چلو گے یہاں تک کہ اگر وہ گوہ کے بل میں داخل ہوئے ہوں گے تو تم ان کی پیروی کرو گے ۔ہم نے کہا یا رسول اللہ! آپ کی مراد یہودو نصاری ہیں؟ آپe نے فرمایا:تو اور کون؟‘‘
خلاصہ کلام یہ ہوا کہ امت مسلمہ گمراہی پر مجتمع نہیں ہوسکتی ،امت کا ایک گروہ لازماً دین حق پر قائم رہے گا۔ اور اسی گروہ کے علماء کا اجما ع معتبر تصور ہو گا۔
حجیت اجماع کے انہی دلائل کا ذکر کرتے ہوئے علامہ شنقیطی ،امام ابن قدامہ حنبلی (م:۶۲۰ھ) کے کلام پر یوں تبصرہ کرتے ہیںکہ’روضۃ الناظر‘کے مؤلف ابن قدامہ حنبلی نے حجیت اجماع کے لیے دو دلیلوں سے استد لال کیا ہے:
1          کتاب اللہ سے اور وہ اللہ تعالیٰ کا فرمان {ومن یشاقق الرسول من بعد ما تبین له الھدیٰ} ہے، کیونکہ اس میں طریق مومنین کے ماسوا کی اتباع پر وعید سنائی گئی ہے اور ان مومنین کا طریق وہ ہے جس پر انہوں نے اجماع کیا ہے اور اس آیت کے ساتھ اجماع کی دلیل پکڑنے میں کئی بحثیں اور مناقشے ہیں۔
2          سنت ِ رسول سے استدلال کیا ہے جیسے آپ e کا فرمان [لاتجمع امتی علی ضلالة۔] اور جیسے آپ کا فرمان: [لاتزال طائفة من امتی علی الحق ۔ ۔ ۔ الخ] اورجماعت پر اُبھارنے اور جماعت سے عدم شذوذ کی اور اس جیسی دیگر حدیثیں ہیں۔ مؤلف نے ذکر کیا ہے کہ صحابہ بلانکیر حجیت ِ اجماع پر اس جیسی احادیث سے استدلال کیا کرتے تھے۔ (مذکرۃ اصول الفقہ علی روضۃ الناظر: ص ۲۷۰-۲۷۱)
……(جاری)


No comments:

Post a Comment

View My Stats