قرآن فہمی کے انسانی زندگی پر اثرات 45-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Sunday, December 01, 2019

قرآن فہمی کے انسانی زندگی پر اثرات 45-2019


قرآن فہمی کے انسانی زندگی پر اثرات

تحریر: جناب مولانا امیر افضل اعوان
اللہ پاک کی خا ص عنایت اور کرم نوازی ہے کہ اس نے ہمیں امت مسلمہ میں پیدا کیا ، ہم اپنے ماتھے پر محمدی کا تاج سجائے دنیا میں آئے بلاشبہ یہ درجہ ہر لحاظ سے ہمیں ایک ممتاز مقام سے سرفراز کرتا ہے، مگر کیا کبھی ہم نے غور کرنے کی ضرورت محسوس کی کہ بحیثیت محمدی ہماری بھی کچھ ذمہ داریاں ہیں، جب کہ اس حوالہ سے بھی بڑی وضاحت کے ساتھ احکامات موجود ہیں، آج اگر ہم اپنی زندگیوں پر نظر ڈالیں تو بخوبی احساس ہوگا کہ ہم اپنے دنیا میں آنے کے مقصد کو بھی بھلا کر اغیار کے ہاتھوں کی کٹھ پتیاں بن کر ان ہی کے مذموم ایجنڈہ کی تکمیل کے لئے سرگرداں ہیں، جس کی وجہ یہ ہے کہ دور حاضر میں مسلمان ذریعہ رشد وہدایت یعنی قرآن کریم سے راہنمائی لینے کی بجائے اس سے فرار کی راہیں تلاش کرتا نظر آتا ہے، اس لحاظ سے دیکھا جائے تو قرآن کریم پڑھنے، سیکھنے اور سمجھنے کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔
یہود و نصاریٰ نہیں چاہیں گئے کہ مسلمان اپنے دین کی طرف حقیقی معنوں میں رجوع کریں کیوں کہ اس طرح ان کے مذموم مقاصد کی راہ میں رکاوٹیں حائل ہوجاتی ہیں، مگر یہ بھی اٹل حقیقت ہے کہ دونوں جہانوں کی کامیابی کے لئے ہمیں دین سے تعلق مضبوط بنانا ہوگا، بنی نوع انسان کی ہدایت و راہنمائی کے لئے اللہ پاک خود قرآن پڑھنے کا حکم دیتا ہے:
’’نماز کو قائم کریں آفتاب کے ڈھلنے سے لے کر رات کی تاریکی تک اور فجر کا قرآن پڑھنا بھی یقینا فجر کے وقت کا قرآن پڑھنا حاضر کیا گیا۔‘‘ (الاسراء: ۷۸)
پھر قرآن پڑھنے کے بعد اس پر غور کرنے بارے حکم ہوتا ہے:
’’کیا یہ قرآن میں غورو فکر نہیں کرتے؟ یا ان کے دلوں پر ان کے تالے لگ گئے ہیں۔‘‘ (محمد: ۲۴)
اسی طرح یہ بھی آتا ہے کہ قرآ ن پاک مشکل نہیں بہت آسان ہے سمجھنے والے کے لئے اور نصیحت حاصل کرنے والے کے لئے:
’’اور بیشک ہم نے قرآن کو سمجھنے کے لئے آسان کر دیا ہے پس کیا کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ہے۔‘‘ (القمر: ۱۷)
قر آن پاک پڑھنے کے حوالہ سے ایک حدیث مبارکہ میں آتا ہے کہ
سیدہ عائشہr نبی e سے روایت کرتی ہیں آپ eنے فرمایا کہ ’’اس شخص کی مثال جو قرآن پڑھتا ہے اور وہ حافظ ہے تو سفرہ کرام (بزرگ فرشتوں) کے ساتھ ہوگا اور اس شخص کی مثال جو قرآن پڑھتا ہے اور وہ اس کو حفظ کرتا ہے اور حفظ کرنا اس پر دشوار ہوتا ہے تو اس کے لئے دو اجر ہیں۔‘‘ (بخاری: جلد دوم، حدیث: ۲۱۵۴)
قرآن کریم پڑھنے کے بارے میں ایک اور حدیث شریف میں آتا ہے کہ
سیدنا ابوہریرہt روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہe نے فرمایا کہ ’’حسد (رشک) صرف دو شخصوں پر (جائز) ہے، ایک اس شخص پر جسے اللہ تعالیٰ نے قرآن دیا ہے اور وہ اسے دن رات پڑھتا ہے اور اس کا پڑوسی اسے سن کر کہتا ہے کہ کاش! مجھے بھی اس کی طرح پڑھنا نصیب ہوتا تو میں بھی اسی طرح عمل کرتا، دوسرے اس شخص پر جسے اللہ تعالیٰ نے دولت دی ہو اور وہ اسے راہ حق میں خرچ کرتا ہے، پھر کوئی اس پر رشک کرتے ہوئے کہے کہ کاش مجھے بھی یہ مال میسرآتا تو میں بھی اسے اسی طرح صرف کرتا۔‘‘ (بخاری، جلد سوم، حدیث: ۱۸)
مطالعہ قرآن کی اہمیت اس قدر ہے کہ حضور نبی کریم e جب کوئی لشکر بھیجتے تھے تو لوگوں سے قرآن پاک سنتے تھے، چنانچہ
سیدنا ابوہریرہt فرماتے ہیں کہ حضور e نے خاصی تعداد میں ایک لشکر بھیجنا چاہا تو ان سے قرآن مجید پڑھوایا، ہر فرد کو جتنا قرآن مجید آتا تھا اس سے پڑھوایا (اس دوران) ایک نو عمر صحابی کے پاس آئے اور اس سے پوچھا ، تمہیں کتنا قرآن مجید یاد ہے۔ اس نے کہا مجھے اتنا اور سورۃ البقرہ یاد ہے۔ آپ e نے فرمایا کہ ’’کیا تمہیں سورۃ البقرہ بھی یاد ہے؟‘‘ اس نے عرض کیا ہاں۔ آپe نے فرمایا: ’’جائو تم ان سب کے امیر ہو۔‘‘
اسی طرح ایک اور حدیث مبارکہ میں آتاہے کہ سیدنا عثمان بن عفانt روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہe نے ارشاد فرمایا کہ ’’تم میں وہ شخص سب سے بہتر ہے جو قرآن سیکھے اور سکھائے۔‘‘ (بخاری، جلد سوم، حدیث: ۲۰)
قرآن پاک پڑھنے اور سمجھنے کے بھی درجات ہیں اس حدیث میں اس حوالہ سے بڑی وضاحت کے ساتھ بیان فرمایا گیا ہے:
سیدنا ابوموسیٰt روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہe نے فرمایا: ’’جو مومن قرآن پڑھتا ہے اور اس پر عمل کرتا ہے وہ مثل سنگترے کے ہے، جس کا مزہ اچھا ہے اور بو بھی اچھی ہے اور جو مسلمان قرآن نہیں پڑھتا اور عمل کرتا ہے تو وہ کھجور کی طرح ہے کہ اس کا مزہ تو اچھا ہے، مگر بو کچھ نہیں اور اس منافق کی مثال جو قرآن پڑھتا ہے خوشبودار پھول کی طرح ہے کہ اس کی بو تو اچھی ہے، مگر مزہ کڑوا ہے، اور اس منافق کی مثال جو قرآن نہیں پڑھتا اندرائن کے پھل کی سی ہے، جس کا مزہ بھی برا ہے اور بو بھی خراب۔‘‘ (بخاری، جلد سوم، حدیث: ۵۳)
قرآن پاک پڑھنے کے حوالہ سے قرآن و حدیث میں اور بھی متعدد مقامات پر حکم اور اس کی فضیلت کا بیان ہے، مگر موجودہ معاشرہ میں کچھ آوازیں سنائی دیتی ہیں کہ قرآن کو پہلے سمجھنا چاہیے اور پھر پڑھنا چاہیے اور سمجھنے سے پہلے قرآن کا پڑھنا غلط کہا جاتا ہے جو کہ درست نہ ہیں، بلاشبہ قرآن پاک کو سمجھ کر پڑھنے کی بہت اہمیت و فضیلت ہے مگر اس حوالہ سے نہ سمجھنے والوں پر نہ پڑھنے کی پابندی لگانا درست نہیں کیوں کہ قرآ ن پاک پڑھنا بذات خود ایک باعث رحمت وبرکت عمل ہے۔
قیامت کے دن بھی قرآن پڑھنے والے کو اعلیٰ مقام میسر ہو گا، اس کی عزت و تکریم کا منظر خود تاجدار کائنات e نے یوں فرمایا:
’’رو ز قیامت صاحب قرآن ( قرآن مجید پرھنے والا اور عمل کرنے والا ) آئے گا تو قرآن کہے گا کہ اے رب! اسے زیور پہنا، تو صاحب قرآن کو عزت کا تاج پہنایا جائے گا۔ قرآن پھر کہے گا: اے میرے رب! اسے اور بھی پہنا، تو اسے عزت و بزرگی کا لباس پہنا دیا جائے گا، پھر کہے گا: اے میرے مولا! اب اس سے راضی ہو جا (اس کی تمام خطائیں معاف کر دے) تو اللہ تعالیٰ اس سے راضی ہو جائے گا اور اس سے کہا جائے گا کہ قرآن پڑھتا جا اور (جنت کے زینے چڑھتا جا اور اللہ تعالیٰ ہر آیت کے بدلے میں اس کی نیکی بڑھاتا جائے گا۔ ‘‘ (ترمذی، کتاب فضائل القرآن)
قرآن مجید سیکھنے اور سکھانے کو نفلی عبادات سے بھی افضل قرار دیا گیا ہے ۔ ابن ماجہ میں حدیث مبارکہ ہے:
سیدنا ابو ذرt روایت کرتے ہیں کہ حضور e نے فرمایا: ’’اے ابوذر! اگر تو جا کر اللہ کی کتاب کی ایک آیت کسی کو سکھائے تو یہ تیرے لئے سو رکعت پڑھنے سے بہتر ہے۔‘‘ (ابودائود، السنن، ۹۷، رقم: ۹۱۲)
درج بالا آیات قرآنی اور احادیث مبارکہ کی روشنی میں مطالعہ قرآن کی اہمیت اور بھی واضح ہوجاتی ہے، مگر افسو س کہ آج ہم اپنی اصل سے ہٹ اور کٹ کر رہ گئے ہیںجس کی وجہ سے ایک بڑی اکثریت کے باوجود دور حاضر میں مسلمان یہود ونصاریٰ کے زیر نگیں نظر آتے ہیں۔
دنیا کے دیگر ممالک میں بھی صورتحال مختلف نہیں مگر پاکستان میں تو حالا ت اور بھی ابتر نظر آتے ہیں‘ دو قومی نظریہ کو سامنے لاتے ہوئے اسلام کے نام پر حاصل کئے گئے  اس ملک ’’ اسلامی جمہوریہ پاکستان ‘‘ میں سوچے سمجھے منصوبہ کے تحت اسلامی قوانین کی بجائے انگریزی قانون مسلط کر دیا گیا ہے۔ یہی صورتحال دیگر اسلامی ممالک میں نظر آتی ہے کہ جہاں اسلام مخالف قوتیں پوری شدت کے ساتھ مصروف عمل ہیں، پاکستان ایک اسلامی ملک ہے مگر یہاں اسلام سے متصادم قوانیں نافذکئے گئے ہیں،قرآن مجید چور کے ہاتھ کاٹنے کا حکم دیتا ہے مگر ہم کسی کے ہاتھ کاٹنے کو بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہیں،قرآن کریم زانی کو سنگسار کرنے کا حکم دیتا ہے جب کہ ہم اس کو بھی تسلیم نہیں کرتے ، اسی طرح دیگر اسلامی قوانین بھی ہماری طبع نازک پر ناگوار گزرتے ہیں، کیوں کہ یہود و نصاریٰ ہمارے گرد ایک ایسا جال بن چکے ہیں کہ ہمیں اپنی ہی بصیرت پر شبہ محسوس ہوتا ہے، بلاشبہ یہ مقام فکر ہے کہ ایک طرف ہم بڑے فخر سے خود کو مسلمان، رسول کریم e کا امتی اور قرآن کا داعی کہتے ہیں اور دوسری جانب قول و فعل کے واضح تضاد کے ساتھ آدھے تیتر ، آدھے بیڑ والی کیفیت سے بھی دوچار ہیں۔ ہماری اسمبلیوں میں بھی قرآنی قوانین کی بجائے مغربی استحصالی نظام کے تحت کام ہوتا ہے اور ہماری زندگیوں میں بھی یہ ہی صورتحال بڑی شدت سے حاوی نظر آتی ہے، آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم قرآن مجید کو محبت سے پڑھیں ، اگر پڑھنا نہیں آتا تو پڑھنا سیکھیں جس کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ قرآن پاک کا ترجمہ پڑھیں اور اسے سمجھ کر اس کے مطابق عمل کریں تا کہ دنیا و آخرت کی کامیابی حاصل ہو سکے ۔


No comments:

Post a Comment

View My Stats