مخلوط تعلیم اور ہماری مذہبی اقدار 45-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Sunday, December 01, 2019

مخلوط تعلیم اور ہماری مذہبی اقدار 45-2019


مخلوط تعلیم اور ہماری مذہبی اقدار

تحریر: جناب نعیم الغفور
لڑکے اور لڑکیوں کا ایک ہی درسگا ہ میں تعلیم حاصل کرنا مخلوط تعلیم کہلاتا ہے جسے انگلش میں ــ’’کو ایجوکیشن‘‘ کہتے ہیں۔
یہ تصور تعلیم دراصل مغربی تہذیب کا نظام تعلیم ہے۔ جہاں مرد و زن کے آزادانہ اختلاط پر کسی بھی نوعیت کی کوئی مذہبی ،اخلاقی،سماجی یا قانونی پابندی عائد نہیں ۔اس طریقہ تعلیم کی ابتداء سب سے پہلے سوئٹزر لینڈ میں ہوئی اور آج یورپ ، امریکہ افریقہ ،آسٹریلیااور ایشیاء کے بیشتر ممالک میں یہی طریقہ تعلیم مروج ہے ۔چونکہ ہماری مذہبی اقدار مردوں اور عورتوں کے آزادانہ اور بے مہار میل جول کی  اجازت نہیں دیتیں‘ اس لئے ہمارے ہاں مخلوط تعلیم کا مسئلہ ایک نزاعی مسئلہ بن گیا ہے ۔ ایک طبقہ اس کی تائید و حمایت میں دلائل کا انبار پیش کرتاہے او ر اس کے فروغ کا داعی ہے جبکہ دوسراطبقہ اس طریقہ تعلیم کو اسلامی معاشرت کے لئے زہر قاتل قرار دیتا ہے۔
مخلوط تعلیم کے حق میں یہ دلیل بڑی شد و مد سے دی جاتی ہے کہ ہمارا ملک ایک پسماندہ اور ترقی پذیر ملک ہے۔ اس غریب ملک کے وسائل اس بات کی اجازت نہیں دیتے کہ تعلیم کی ابتدائی سطح سے لے کر اعلیٰ سطح تک لڑکے اور لڑکیو ں کے لئے الگ الگ تعلیمی ادارے قائم کیے جائیں ۔لہٰذا اگر مخلوط تعلیم کا طریقہ اختیار کیا جائے تو اخراجات میں خاطر خواہ کمی ہوگی اور پھر اس سے معیار تعلیم بھی بلند ہوگا۔ کیوں کہ ایسی صور ت میں لڑکے اور لڑکیوں کے مابین مقابلہ اور مسابقت کی فضا پیدا ہو گی اور زیادہ محنت کا جذبہ ابھرے گا ۔لڑکیاں ،لڑکوں کو مات دینے کی کوشش کریں گی اور لڑکے ،لڑکیوں سے بہتر کارکردگی دکھانے کے لئے شب و روز محنت کریں گے۔ اس ضمن یہ ایک دلیل یہ دی جاتی ہے کہ آزادانہ ماحول میں لڑکوں اور لڑکیوں کے مل جل کر تعلیم حاصل کرنے سے ان کی شخصیت کی صحیح تعمیر ہوتی اور صنفی جذبات کی ہیجانی کیفیت ختم ہو کررہ جاتی ہے ۔یوں ایک صاف ستھری جذباتی فضاء میں تحصیل علم کا عمل جاری رہتا ہے ۔باہمی میل جول سے فریقین کو ایک دوسرے کو سمجھنے اور پرکھنے کا موقع ملتا ہے۔ وہ ایک دوسرے سے بہت کچھ سیکھتے ہیں جس کا مثبت اثر ان کی آئندہ زندگی پر پڑتا ہے ۔آپس میں خیالات و نظریات کے تبادلہ سے بہت سی غلط فہمیاں دور ہوتی ہیں اور لڑکے اور لڑکیوں دونوں میں خود اعتمادی پیدا ہو تی ہے۔ اس ضمن میں ایک استدلال یہ ہے کہ آج کے ترقی یافتہ دور میں کوئی بھی معاشرہ اس امر کا متحمل نہیں ہو سکتا کہ وہ عورتوں کو زندگی کی دوڑ سے الگ کر کے گھر میں بٹھا دے ۔چنانچہ زندگی کے ہر شعبہ میں عورتوں کو مردوں کے شانہ بشانہ کام کرنے کے مواقع فراہم کرنا نا گزیر ہے۔اس کے لئے ضروری ہے کہ انہیں شروع سے ہی مردوں کے پہلو بہ پہلو کام کرنے کی جازت دی جائے تاکہ ان کی باہمی جھجک دور ہو سکے ، اوراس تربیت کے لئے درس گاہوں سے بہتر کوئی جگہ نہیں۔ اس نظریہ کے حامل افراد کا کہنا ہے کہ کسی بھی معاشرہ کی اقتصادی و سماجی خوشحالی کے لئے مخلوط تعلیم کا ہونا بہت ضروری ہے ۔
دوسری طرف وہ لو گ ہیں جو مخلوط تعلیم کے حق میں نہیں ہیں۔ ان کے نقطہ نظر کے مطابق اس طریقہ تعلیم کے حامی افراد خود فریبی میں مبتلا ہیں کیوں کہ اگر ہم ان ممالک کے معاشرتی نظام کا جائزہ لیں جہاں مخلوط تعلیم رائج ہے تو ہم پر یہ حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ وہاں عفت و عصمت اور اخلاقی و مذہبی اقدار کا جنازہ نکل چکا ہے ۔کہا تو یہ جاتا ہے کہ لڑکوں اور لڑکیوں کے یکجا تعلیم حاصل کرنے سے ان میں مقابلہ اور مسابقت کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ طلبہ و طالبات میں منفی نوعیت کے جنسی جذبات ،ہیجانات اور میلانات سر اٹھانے لگتے ہیں  اور وہ تعلیم کی بجائے ایک دوسرے میں دلچسپی لینا شروع کر دیتے ہیں ۔یوں درسگاہیں تعلیم کی بجائے جنسی جذبات کے اشتعال و اظہار کی تجربہ گاہیں بن جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج صر ف یورپ اور امریکہ کے تعلیمی اداروں میں لاکھوں لڑکیاں بن بیاہی مائیں بن جاتی ہیں اور ان سے کسی بھی طرح کی کوئی اخلاقی ،مذہبی یا قانونی باز پرس نہیں ہوتی۔
مخلوط تعلیم کے حق میں پیش کی جانے والی مقابلہ بازی کی یہ دلیل نہایت ہی مغالطہ انگیز اور چشم پوشی پر مبنی ہے۔انسانی جسم کی ساخت ،رنگ روپ اور رفتار و گفتار میں جنسی کشش کے لا محدود اسباب موجود ہیں ۔شباب میں، کہ جب انسان میں شعور کی پختگی بہت کم ہوتی ہے اگر اسے صنفِ مخالف سے ملاقات کے مسلسل مواقع میسر آئیں تو اسکے لئے اپنے صنفی جذبات پر قابو رکھنا بہت مشکل ہو جاتا ہے ۔چنانچہ لڑکے اور لڑکیاں اکٹھے تعلیم کے نام پر ہوتے ہیں مگر یہ آزادانہ اور بے روک وٹوک اختلاط ان کے اذہان کو سکون بخشنے کی بجائے انہیں ہر وقت ایک ہیجانی کیفیت سے دوچار رکھتا ہے ۔ایسی صور ت میں انہیں وہ ذہنی یکسوئی اور قلبی آسودگی کیونکر حاصل ہوسکتی ہے ،کہ جو معیاری حصول علم کے ضروری ہے۔
یہ امر بالائے شک ہے کہ تعلیم کا مقصد آئندہ زندگی کے لئے شخصیت کی تربیت و نشوونما کرنا ہے۔ یہ بھی بجا ہے کہ مرداور عورت زندگی کی گاڑی کے دو پہیے ہیں لہٰذا ان دونوں کی یکساں طور پر مناسب تعلیم وتربیت ہونی چاہیے ۔لیکن اس سے مخلوط تعلیم کا جواز اخذ کرنا صریحا غلط ہے ،کیونکہ عورت کی زندگی کے اکثر مسائل آج بھی نہ صرف مرد سے جدا ہیں ،بلکہ مرد ان سے بخوبی آگاہ بھی نہیں۔ اس لئے ایک لڑکی اپنے مسائل و مشکلات اور دیگر ذاتی امور کا اظہار جس طرح کھل کر ایک استانی کے سامنے کر سکتی ہے ویسے ایک مرد استاد کے سامنے نہیں کر سکتی اور عورت ہی اس کی صحیح راہنمائی کر سکتی ہے ۔ پھر مرد اور عورت کی فطری صلاحیتیں بھی ایک دوسرے سے مختلف ہیں ،اس لئے ان کی ذمہ داریوں کی نوعیت بھی مختلف ہے ۔عورت کا جسمانی نظام اس طرز کا ہے کہ وہ بچے کو جنم دے جبکہ مرد کو کسب معاش اور گھر سے باہر کی زندگی کی کٹھن ذمہ داریوں سے نبردآزما ہونا پڑتا ہے ۔لہٰذا تہذیب مخلوط تعلیم یا کسی اور حوالہ سے ان دونوں پر زندگی کے تمام شعبوں کی ذمہ داریاں یکساں طور عائد کرناخلاف فطرت ہے۔ جب مرد اور عورت کے فرائض ہی جدا جدا ہیں تو ایک ہی درس گاہ میں مخلوط تعلیم کے ذریعے ان دونوں کی تعلیم اور تربیت کا اہتمام کیونکر ہو سکتا ہے؟
دراصل مخلوط تعلیم کا نظریہ مغربی تہذیب کا پیدا کردہ ہے اور اس کا مقصود مطلوب سوائے اسکے اور کچھ نہیں کہ عورت حریم خانہ سے باہر نکل کر شمع انجمن بن جائے ۔لہٰذا ایسی تعلیم جو عورت سے گوہر عفت و عصمت کو چھین لے اس کے حق میں کسی بھی طرح بہتر نہیں ہو سکتی۔
اس ساری بحث کے قطع نظر اگر ہم اسلامی نقطہ نظر سے دیکھیں تو بھی ہمیں مخلوط تعلیم کا کو ئی جواز نظر نہیںآتا۔ مخلوط تعلیم مردوں اور عورتوں کے آزادانہ اختلاط کو پروان چڑھاتی ہے ،جبکہ اسلام اس کو روکتا ہے ۔اسلام تو حیاء و حجاب کاروادار ہے اور نا محرم سے دور رہنے کا حکم دیتا ہے۔
بحث بالا سے حاصل یہ ہوتا ہے کہ مخلوط تعلیم کسی بھی معاشرے کے لئے سود مند نہیں اور بطور خاص اسلامی معاشرہ اس بات کا قطعاروادار نہیں ہو سکتا کہ لڑکے اور لڑکیا ں ایک ہی درسگاہ میں بے حجاب طور پر علم حاصل کریں ۔ لہٰذا اس میں افراط و تفریط سے گریز کرتے ہوئے ایک درمیانی راہ یہ ہے کہ ابتدائی تعلیم کی سطح پر مخلوط تعلیم کو رواج دینے میں کوئی مضائقہ نہیں ،کیونکہ اس سطح تک کی مخلوط تعلیم کسی اخلاقی بگاڑکا موجب نہیں بن سکتی ۔مگر اس کے بعد اعلیٰ سطح تک کی مخلوط تعلیم الگ الگ درسگاہوں کا ہونا بہت ضروری ہے تاکہ طلبہ و طالبات اپنی اپنی تعلیمی ضروریات بھی پوری کر سکیں اور مخلوط تعلیم کے مضر اثرات سے بھی محفوظ رہ سکیں۔


No comments:

Post a Comment

View My Stats