جنسی تعلیم یا فحاشی کا فروغ 45-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Sunday, December 01, 2019

جنسی تعلیم یا فحاشی کا فروغ 45-2019


جنسی تعلیم یا فحاشی کا فروغ

تحریر: جناب محمد فہیم شاکر
قصور سمیت ملک بھر میں ہونے والے واقعات کے بغور جائزہ لیں تو نظر آتا ہے کہ یہ سارے اغواء، زیادتی اور قتل کے کیسز ہیں یعنی فوجداری واقعات ہیں ان کی روک تھام پولیس اور انتظامیہ کے ذمے ہے۔ لیکن تکلیف دہ بات تو یہ ہے کہ ان کو ٹھیک کرنے کی بجائے کمال ہوشیاری سے ان کی ذمہ داری والدین اور تعلیمی اداروں پر ڈالی جا رہی ہے۔ ان سارے واقعات کا سیکس ایجوکیشن سے دور کا بھی تعلق نہیں‘ لیکن مغربی فنڈنگ پر چلنے والی این جی اوز ان سب کی آڑ میں اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنے پر تلی ہوئی ہیں‘ پاکستان میں جنسی تعلیم کے فروغ کا مطالبہ کر رہی ہیں۔
ذیل میں ہم انہی باتوں کا جائزہ لیں گے کہ جنسی تعلیم سے کیا مراد لی جا رہی ہے اور پاکستان میںاس کے فروغ کے لئے کیوں اتنی کوششیں کی جا رہی ہیںاور اسلام اس حوالے سے کیا راہنمائی کرتا ہے؟
یہاں پر یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ بچوں کو جنسی تعلیم دینا بذات خود معاشرے میں بگاڑ کا سبب بن سکتی ہے‘ اس سے کسی بگاڑ کا خاتمہ نہیں ہو سکتا۔ وہ سارا کچھ جو بچے ٹیلی ویژن پر دیکھتے ہیں اسے سکول جا کر دہراتے ہیں جس سے دیگر بچے متاثر ہو کر وہی کام کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ کیا ہم نہیں جانتے کہ تعلیمی اداروں میں آئے روز مینہ بازار کا انعقاد ہوتا ہے‘ ثقافتی شوز کے نام پر بچیوں کے ڈانس کروائے جا رہے ہیں‘ یہ سب عریانی کے اسباق ہی تو ہیں۔ اسی لئے ایک معروف صحافی نے کہا تھا کہ بچوں میں جنسی تعلیم بے حیائی کے فروغ کا سبب بن سکتی ہے۔ ۳۱ دسمبر ۲۰۱۳ء کو اپنے ایک بیان میں آندھرا پردیش ہائی کورٹ کے جج جسٹس ایل نرسمہا ریڈی نے کہا کہ ہائی سکولز میں جنسی تعلیم دینے سے بچوں کے ذہنوں میں خرابی ہو رہی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ مشترکہ خاندان سسٹم ختم ہونے سے بچوں میں عدم تحفظ کا احساس پیدا ہو گیا ہے جبکہ اسلام ہرگز ایسا معاشرہ نہیں چاہتا جہاں انسانوں کی خواہشات کو بے لگام چھوڑ دیا گیا ہو‘ بلکہ اسلام دین فطرت ہونے کے ناطے انسانوں کی فطری ضروریات کا خیال رکھتا ہے اور انہیں جائز طریقے سے پورا کرنے کا مکمل سامان اور راہنمائی فراہم کرتا ہے تاکہ معاشرہ بے لگام گھوڑے پر سوار ہوکر اپنا اخلاقی وجود نہ کھو بیٹھے۔ لیکن جیسے جیسے ہمارے معاشرے نے اسلام سے دوری اختیاری کرکے اہل مغرب کی اندھی تقلید شروع کی تو اپنی بنیاد بھی بھول بیٹھے اور روز بروز زوال کا شکار ہوئے اور ہمارے مقامی نام نہاد دانشوروں نے اس زوال کو مزید گہرا کرنے میں اپنا کردار خوب نبھایا ہے۔ اگر غور سے دیکھا جائے تو مغرب کسی بھی چیز کو پردے میں رکھنے کا قائل نہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ان کے ہاں مختصر لباس استعمال کیا جاتا ہے لیکن حیرت ہوتی ہے پاکستان کے نا م نہاد دانشوروں پر جو کہتے ہیں کہ کم کپڑے پہننا فحاشی نہیںبلکہ کم کپڑے پہننے والوں کی زندگی میںمداخلت کرنا فحاشی ہے۔ ایسا کہنا ہے فرنود عالم کا، اب جبکہ ان کی سوچوں کا معیار ہی ایسا ہے تو ان سے بحث بھینس کے آگے بین بجانے والی بات ہے۔
پاکستان میں بچوں کو جنسی تعلیم دینے پر زور وہ لوگ دے رہے ہیںجو خود بچوں کی نازیبا ویڈیوز مہنگے داموں خریدتے ہیں۔ ایسے ہی چلتے چلتے یورپ کا حال سنتے جائیے کہ سابق برطانوی فٹبال کوچ بیری بیٹیل پر بچوں سے زیادتی کے ۴۸ مقدمات درج ہیں اور اس پر اسے عدالتی کاروائی کا سامنا کرنا پڑا۔ اسی طرح سابق انٹرنیشنل فٹ بالر صتیو میرلیٹ کو کم عمر لڑکے پر جنسی حملے کے الزام میں شامل تفتیش کیا گیا۔
برطانیہ جہاں تعلیمی اداروں میں سیکس ایجوکیشن دی جاتی ہے اسی ملک کے معتبر ترین نشریاتی ادارے کے نمائندے جمی سوائل کے مرنے کے بعد معلوم ہوا کہ مرنے والے نے اپنے کیرئیر کے دوران ۴۵۰ لوگوں بشمول بچوں سے جنسی زیادی کی۔ اسی طرح بی بی سی (BBC) اردو کی ۱۹ اپریل ۲۰۱۷ء کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ یورپ اور جنوبی امریکہ کے حکام نے سوشل سائیٹ وٹس ایپ کے ذریعے بچوں کے جنسی استحصال پر مبنی تصاویر کو تقسیم کرنے والے نیٹ ورک کے درجنوں افراد کو گرفتار کیا ہے۔
بچوں کے جنسی استحصال کی تصاویر اور ویڈیوز کو انٹرنیٹ پر ڈالنے کے معاملے میں یورپ گلوبل ہب بن رہا ہے۔
اسی طرح بی بی سی اردو کی ۳ اپریل ۲۰۱۷ء کی رپورٹ کے مطابق انٹرنیشنل واچ فاونڈیشن نے اپنی سالانہ رپورٹ میں کہا کہ دنیا بھر میںغلط استعمال والے مواد کا ۶۰ فیصد اب یورپ میں پایا جاتا ہے جو کہ پہلے کے مقابلے میں ۱۹ فیصد زیادہ ہے یورپی ممالک میں غیر قانونی مواد ڈالنے کے معاملے میں نیدر لینڈ سرفہرست ہے۔تکلیف دہ بات یہ ہے کہ پاکستانی تعلیمی اداروں میں جنسی تعلیم کے فروغ کا شور بھی یہی یورپ اٹھا رہا ہے جس سے ان کے مقاصد کی صاف سمجھ آرہی ہے لہٰذا پاکستانی قوم خبردار رہے کہ اہل یورپ ہر گز پاکستانی قوم اور معاشرے کے خیر خواہ نہیں ہو سکتے۔
مذکورہ بالا مثالیںان مغربی ممالک سے لی گئی ہیں جہاں سیکس ایجوکیشن نصاب کا حصہ ہے لیکن لاکھوں واقعات میں سے چند ایک کا ذکر کرکے یہ بتانے کی کوشش کر رہا ہوں کہ خود ان ممالک میں بھی بچوں سے زیادتی کے واقعات رکے نہیں۔ اس کے باوجود اس نصاب کو پاکستانی تعلیمی اداروں میں رائج کرنے کا مقصد بچوں کو قبل از وقت بالغ بنانے، ان کو جنسی بے راہ روی کی طرف لے جانے اور معاشرے میں انارکی پھیلانے کے علاوہ کچھ نہیں۔
پاکستان میں موجود این جی اوز (NGO) اور ان کے ہرکارے چند ایسے فرضی سوالات کی مدد سے عوام کو دھوکہ دیتے ہیں جن سے انہیں پاکستان میں جنسی تعلیم کے فروغ کی حمایت دستیاب ہوتی ہے۔ انہی سوالات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اگر بچے آپ سے پوچھیں کہ ’’بچے کہاں سے آتے ہیں‘‘؟ تو آپ ان کو میاں بیوی کے تعلقات اور اس کے بعد کاسارا پروسیجر مکمل تفصیل سے بتا سکتے ہیں۔ اسی طرح بچہ اگر پوچھے کہ سپرم اور انڈہ اکٹھے کیسے ہوتے ہیں تو انہیں مکمل تفصیل فراہم کی جائے۔
کوئی ان سے پوچھے کہ ایک بچہ یہ ہی کیوں پوچھے گا کہ بچے کہاں سے آتے ہیں؟ اور اسے کیا خبر کہ سپرم اور انڈہ کیا ہوتے ہیں؟اور اگر وہ پوچھ ہی لے تو اسے چھوٹی عمر میں میاں بیوی کے تعلقات سمجھانے کی کیا ضرورت ہے بھلا؟وقت سے پہلے بچوں کو بالغ کرنا کہاں کی دانشمندی ہے؟!
اسی طرح غیر ملکی فنڈنگ پر چلنے والی این جی اوز جس جنسی تعلیم کا پرچار کرتی ہیں اس کا ایک پوائنٹ یہ بھی ہے کہ بچوں کو بتایا جائے کہ سیکس صرف خود لذت حاصل کرنے کا نام نہیں بلکہ اپنے ساتھی کوبھی لذت دینا ہے۔ اب آپ ہی بتائیے کہ یہ بد اخلاقی سے بچانے کی تعلیم ہے یا فحاشی کی،اسلام اس تعلیم کے کبھی بھی حق میں نہیں رہا۔
اب آئیے اہل مغرب کے ہاں رائج جنسی تعلیم کے نصاب پر ایک نظر ڈالتے ہیں:
انٹرنیٹ سے پوچھا گیا تو وکی پیڈیا نے سیکس ایجوکیشن کی تعریف کچھ یوں کی کہ
Sexeducation is instruction on issues relating to human sexuality
یہاں پر آگاہی کی بجائے ہدایات کا لفظ استعمال ہوا ہے‘ اس کے دیگر اجزاء یا مکمل پروگرام میں جو چیزیں شامل ہیں وہ یہ ہیں:
1          Humansexual anatomy
2          Sexual reproduction
3          Sexual activity
4          Age of consent
5          Reproductive health
6          Reproductive rights
7          Safe Sex
8          Birth control
9          Sexual abstinence
ان موضوعات کو دیکھنے سے پتہ چلتا ہے کہ ان کا بچوں کے اغواء زیادتی اور قتل جیسے برے واقعات سے کوئی تعلق نہیں تو پھر سیکس ایجوکیشن کے لئے اتنا واویلا کیوں؟اس سارے سلیبس میں تو جنسی عمل قائم کرنا، خود لذت لینا، دوسرے کو لذت دینا، اس سارے عمل میں بیماریوں سے بچنا اور محفوظ جنسی ملاپ کے طریقے بیان کئے گئے ہیں اور ان کی تربیت دی گئی ہے۔
پاکستانی تعلیمی اداروں میں جنسی تعلیم کے لیے تٹرپنے والی این جی اوز سے سوال کیا جانا چاہیے کہ یہ سب کیا ہے اور بچوں کو اس سب تربیت کا فراہم کیا جانا کیوں ضروری ہے؟ اور کیا یہ سب فطری ہے؟ ہر گز فطری نہیں۔ یاد رکھیے! اہل مغرب اور سیکس ایجوکیشن کے لیے تٹرپنے والے دراصل فطرت کی نادیدہ قوتوںسے برسرپیکار ہیں۔ آپ کو تو معلوم ہی ہوگا کہ فطرت سے برسر پیکار ہونے کا مطلب اپنی موت کو دعوت دینا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یورپ اور امریکہ صرف اسی وجہ سے اپنا خاندانی نظام تباہ کر چکے ہیں اور اب انڈیا کا سماج دہائی دے رہا ہے کہ ہائی سکولز میںجنسی تعلیم کے نتائج کے طور پر بچے خاندان سے دور ہو رہے ہیں۔
پاکستان اس وقت جنسی ادویات کے سمگلروں کے لئے ایک بڑی مارکیٹ بن چکا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق اس وقت پاکستان میں اندازاَ ۸ بلین امریکی ڈالر کی جعلی ادویات فروخت ہو رہی ہیں۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ امریکہ اور اس جیسے ممالک پاکستان میں اپنی انہی ادویات کی فروخت بڑھانے کے لئے جنسی تعلیم پر زور دے رہے ہیں تاکہ جہاں ایک طرف خاندان تباہ ہوں وہیں دوسری طرف ان کی ادویات کی خوب فروخت بڑھے۔ کیونکہ وطن عزیزپاکستان میں جنسی ادویات کا استعمال نوجوا ن نسل میں ایک نشے کی طرح پھیل چکا ہے اور اسے بیچنے والے اپنے مفاد کی خاطر کبھی بھی ان کے مضر صحت ہونے کا نہیں بتائیں گے۔
ہم نے مغربی جنسی نظریے کا جائزہ لیا‘ اب آئیے!اسلامی جنسی نظریے کا بھی جائزہ لیتے ہیں۔
جنسی خواہش ایک فطری اور پاکیزہ جذبہ ہے۔ جنس کے خالق نے جنسی معاملات میں جو راہنمائی کی ہے وہ نہ صرف کافی ہے بلکہ فطرت کے تقاضوں کے عین مطابق ہے۔ اس راہنمائی کی مُروجہ علوم کے پس منظر میں مزید تشریح کی جا سکتی ہے اور کی جانی بھی چاہیے۔ لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ اکثر مسلم ماہرین جنسیات بھی قرآن و حدیث کی ان تعلیمات کو یکسر نظر انداز کرکے مغربی ماہرین جنسیات کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایک مسلم اکثریت معاشرے میں قرآن و حدیث سے ہٹ کر جنسی تعلیم دینے سے جنسی انارکی، کنفیوژن اور فحاشی تو پھیل سکتی ہے لیکن شادی شدہ لوگوں کی آسودگی اور غیر شادی شدہ لوگوں کی تربیت کا باعث نہیں بن سکتی۔ جبکہ یہی تعلیم ایک غیر مسلم معاشرے میںغیر مسلموں کے لئے مفید قرار پاتی ہے۔ پس اس بات کو سمجھنے کی اشد ضرورت ہے کہ جنسی تعلیم کا جو نصاب ایک غیر مسلم معاشرے کے لیے سود مند ہے وہی نصاب مسلم معاشرے کے لیے بہت خطرناک ہے۔ کیونکہ اہل مغرب کسی بھی چیز کو پردے میں رکھنے کے قائل نہیںجبکہ اسلام نے ہر چیز کو اس کی درست جگہ پر رکھا ہے کہ جہاںاسے ہونا چاہیے تھا۔
جنس کے خالق نے جنسی ضروریات کے جائز طریقے اور ضابطے بھی فراہم کئے ہیں اور ان سے انحراف کی صورت میں سورہ نور کی شکل میں تنبیہ بھی کی ہے۔
ذرا دیکھئے تو اللہ نے کیا الفاظ استعمال کئے:
{سُوْرَة اَنْزَلْنٰها وَفَرَضْنٰها وَاَنْزَلْنَا فِیْهآ اٰیٰتٍ بَیِّنٰتٍ لَّعَلَّکُمْ تَذَکَّرُوْنَ} (النور: ۱)
کہ یہ احکام ہم نے نازل کئے ہیںاور ہم نے ہی فرض بھی کئے ہیں یعنی یہ سفارشات نہیںکہ جی چاہا تو مان لیا اور جی نہ مانا تو رد کر دیا بلکہ یہ فرض ہیں کہ خالق کے مقرر کردہ جنسی ضابطوں سے انحراف کی شکل میں یہ سزائیں دی جانی فرض ہیں۔ آپ تاریخ اٹھا کر دیکھ لیجئے جب تک یہ سزائیں نافذ العمل رہیں تب تک اسلامی معاشرے امن و سکون کی مثالیں بنے رہے۔ آج کے جدید تہذیبی معاشرے میں مغربی ممالک انہی سزاوںکو ختم کرنے کے در پے ہیں تاکہ مسلم معاشرے انارکی و انتشار کا شکار ہوجائیں۔
ایک مسلم معاشرے میں بچوں کو جنسی تعلیم اس قدر کھول کر نہیں دی جاتی کہ وہ قبل از وقت بالغ نہ ہوجائے اگر کسی بچے میں درج ذیل نشانیاں پائی جائیں تو اس پر فوری توجہ دی جانے کی ضرورت ہے۔
بچہ خاموش اور سہما ہوا دکھائی دے، یا جسم میں درد کی شکایت کرے،یا بڑوں سے ڈر رہا ہو،یا نظریں نیچی کرکے بات کرے،یا سکول سے چھٹی کے وقت سہم جاتاہو،یا اپنے والدین یا رشہ داروں کے ساتھ راحت محسوس نہ کرے۔ گزشتہ ادوار میں مسلم معاشروں کا سب سے بڑا ٓدمی اپنے فہم کی تشکیل محض عقل پر نہیں کرتا تھابلکہ وہ اپنے فہم کی تشکیل میں الہامی ہدایت سے پورے طور پر فیض یاب ہوتا تھا اور اپنی عقل کو بھی بھرپور طریقے سے استعمال کرتا تھا اور یوں فہم نافع کی تشکیل کے بعد اپنی خواہشات کو اپنی فہم کے تابع رکھتا تھا۔
مسلم معاشروں کا المیہ ہے کہ انسان کے اندر موجود نفس کو اس درجے پر موضوع نہیں بنایا جس درجے پر موضوع بنانا ان کی سب سے بڑی ضرورت تھی۔
نفس کی دوشاخیں(دوڈومینز) ہیں: ایک ڈومین ہے طبیعت‘ دوسرا ڈومین ہے شعور۔
طبیعت مزے اور لذت کے اصول کے مطابق چلتی ہے یعنی طبیعت خواہش کیساتھ ہوتی ہے جبکہ شعور اچھے اور برے صحیح اور غلط‘ نافع یا نقصان دہ کو پرکھتا ہے۔
جب طبیعت کامیلان شعور پر غالب آجائے تو اخلاق رذیلہ پیدا ہوتے ہیں لیکن جب شعور طبیعت کو اپنی تحویل میں لے تو اعلی اخلاق پیدا ہوتے ہیں۔
دین کی اصطلاح میں نفس کے غلبے سے مراد ہمارے اندر ہماری طبیعت کا غالب آجانا اور اپنی فطرت سے دور نکل جانا ہے۔
دین اسلام میں انسانی تربیت کے بڑے مقاصد میں سے ایک بہت بڑا مقصد یہ ہے کہ تربیت کے نتیجے میں ایک ایسا انسان تیار ہوجائے جو اپنے نفس پر غالب رہے اس سے مغلوب نہ ہو‘ لیکن اس کے لئے طبیعت کا میلان اور نفس کی صورت اور شعور کی تیاری سمجھنا بہت ضروری ہے۔ نفسیات جسے ہم مغرب کی اصلاح میں وضاحت کر رہے ہیں اسے اپنے اندازواصلاح میں بیان کرنا ہوگا۔قصور واقعہ کوئی پہلا واقعہ نہیں بلکہ ایسے واقعات بے شمار پہلے بھی ہو چکے ہیں۔ قصور وچونیاں واقعہ کے نتیجے میں ایک بحث شروع ہوئی جس کی نوعیت اچانک چھا جانے والی ہے اس کے پیچھے علمیت کی شدید کمی ہے جبکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم رد عمل کی نفسیات کا شکار ہوئے بغیر اپنے پیراڈائم(دائرہ کار) میںرہتے ہوئے علمیت کی بنیاد پر اس کا تجزیہ کریں اور حل تلاش کریں۔


No comments:

Post a Comment

View My Stats