خطبۂ حرم ... تَعصُّب ... ایک بُری بیماری 45-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Sunday, December 01, 2019

خطبۂ حرم ... تَعصُّب ... ایک بُری بیماری 45-2019


خطبۂ حرم ... تَعصُّب ... ایک بُری بیماری

امام الحرم المکی فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر سعود الشریم d
ترجمہ: جناب عاطف الیاس
حمد و ثناء کے بعد!
میں اپنے خطاکار نفس کو اور آپ سب کو اللہ سے ڈرنے کی نصیحت کرتا ہوں۔ یہی اللہ تعالیٰ کی وہ وصیت ہے جو اس نے اولین اور آخرین کو فرمائی ہے۔ پرہیز گاری سے بکھری چیزیں جمع ہو جاتی ہیں، چھوٹی چھوٹی نیکیاں بھی بڑی بن جاتی ہیں، بگڑی چیزیں سنور جاتی ہیں، گری چیزیں اٹھ جاتی ہیں۔ پرہیز گاری سے دل کو سکون نصیب ہوتا ہے، مصیبتیں دور ہو جاتی ہیں، خوف زدہ انسان کو تسلی مل جاتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی دوستی نصیب ہو جاتی ہے:
”سُنو! جو اللہ کے دوست ہیں، ان کے لیے کسی خوف اور رنج کا موقع نہیں ہے جو ایمان لائے اور جنہوں نے تقویٰ کا رویہ اختیار کیا۔“(یونس: ۲۶-۳۶)
اللہ کے بندو! قرآن کریم اور سنت رسول کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے لوگوں ایسی تعلیمات دی ہیں جن سے اہل اسلام کے رابطے مضبوط ہو جاتے ہیں، ان کے رشتے قریب قریب ہو جاتے ہیں۔ وہ سب ایک دوسرے کے برابر بن جاتے ہیں۔ سب کے والد آدمu، اور ماں حواء ہے۔ کسی کا کسی پر برتری محسوس کرنا نہیں بنتا۔ کوئی گورا کسی کالے سے افضل نہیں۔ کوئی عربی کسی عجمی سے بہتر نہیں۔ ہاں! بس تقویٰ ہی ایک چیز ہے جس کی بنیاد پر کوئی دوسرے سے بہتر ہو سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تقویٰ کو برتری اور تکریم کا معیار بنایا ہے۔ لوگوں کے نام ونسب، ان کے رنگ اور ان کی زبانیں تعارف کا ایک ذریعہ ہیں۔ جیسا کہ اللہ پاک کا فرمان ہے:
”لوگو! ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور پھر تمہاری قومیں اور برادریاں بنا دیں تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو‘ در حقیقت اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تمہارے اندر سب سے زیادہ پرہیز گار ہے۔“ (الحجرات: ۳۱)
دین تو ایسے تعارف کا داعی ہے جس سے نا آشنائی ختم ہو جاتی ہے، ایسی ہم آہنگی کا قائل ہے جس سے اختلاف دور ہو جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے مختلف قبیلے اور نسلیں اس لیے نہیں بنائیں کہ وہ ایک دوسرے پر زیادتی کریں، یا ایک دوسرے کو اپنی طاقت کا مزا چکھائیں یا ایک دوسرے پر لعن طعن کریں۔ نہ انہیں زبانوں کی بنیاد پر اکٹھا کیا ہے، نہ رنگوں کی بنا پر اور نہ ہی زمینوں کی وجہ سے، بلکہ انہیں ایسا دین دیا جو انہیں یک جان کر دیتا ہے، ان کے اختلافات دور کر دیتا ہے، جو انہیں بگاڑتا نہیں بلکہ ان کی اصلاح کرتا ہے، جو انہیں تعصب اور نسل پرستی سے بالکل ویسے دور کر دیتا ہے جیسے بھٹی لوہے کی کھوٹ ختم کر دیتی ہے۔
افسوس کی بات ہے کہ کچھ لوگ چیزوں کی تفسیر اپنی خواہش کے مطابق کرتے ہیں، اس مبنی بر حقیقت تشریح سے غافل رہتے ہیں جو حقیقت میں اللہ تعالیٰ کی حکمت اور عدل کے مطابق ہوتی ہے اور وہی اس کی مراد ہوتی ہے۔ ایسے لوگوں کا قائد ان کی خواہش ہوتی ہے، عقل نہیں۔ بے توجہی ہوتی ہے، حکمت نہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جو اپنے ارادے کو نظم وضبط سے بالا رکھتے ہیں، جو اندھے پن کو ہدایت پر ترجیح دیتے ہیں۔ اس رویے کی وجہ سے وہ ایک غیر کامل بلکہ عیب والے راستے کی راہی بن جاتے ہیں، جس کی وجہ سے انتہائی برا تعصب پھیلتا ہے، قبیلہ پروری زور پکڑتی ہے، قومیت، اختلاف اور نسل پرستی سامنے آتی ہے۔ تعصب کا چشما آنکھوں پر لگ جائے تو انسان ہر ایسے شخص کو حقارت کی نگاہ سے دیکھنے لگتا ہے جو اس کے مدار میں نہیں ہوتا، جو اس کے رنگ کا یا اس کی نسل کا نہیں ہوتا۔ اور یہی بہت بڑا گناہ اور بہت بڑی برائی ہے۔ اسی لیے نبی اکرم e نے فرمایا:
”انسان کے برے ہونے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر سمجھنے لگے۔“ (ابوداؤد)
اے مسلمانو! تعصب انسان کو اتنا نقصان پہنچاتا ہے کہ اس کے سینے کو انتہائی تنگ کر چھوڑتا ہے۔ پھر انسان کو بس اپنا آپ ہی نظر آتا ہے، یا وہ لوگ نظر آتے ہیں جو اسی کے دائرے میں ہوتے ہیں۔ اس کا معاملہ رواداری کے بالکل برعکس ہوتا ہے۔ رواداری سے تو انسان کا دل انتہائی کشادہ اور گھنی چھاؤں والی ٹھنڈی جگہ بن جاتا ہے، جس کی چھاؤں سے اس کا ہر دینی بھائی فائدہ اٹھاتا ہے، چاہے وہ معاشرتی اعتبار سے اس سے بہت مختلف ہی کیوں نہ ہو۔ یا وہ فکری اعتبار سے اس کے بر عکس کیوں نہ ہو، اختلاف چاہے جتنا بھی ہو۔ رواداری ہو تو ان اصولوں کو کبھی نظر انداز نہیں کیا جاتا جن کے ذریعے دین اسلام لوگوں کو اکٹھا کرتا ہے۔
یادر کھو کہ جہاں بھی کوئی تعصب کرنے والا پایا جائے گا تو یقینی طور پر اس کا قائد خواہش نفس ہو گی۔ خواہش نفس تو انسان کو اندھا اور بہرا کر چھوڑتی ہے۔ کبھی ایسا نہیں ہو سکتا کہ کوئی شخص متعصب بھی ہو اور عدل کرنے والا اور انصاف پسند بھی ہو۔ یا متعصب بھی ہو اور بردبار اور باوقار بھی ہو۔ یا متعصب بھی ہو اور میانہ روی اپنانے والا بھی ہو۔ متعصب تو ہمیشہ دوسروں کے پیچھے لگنے والا ہوتا ہے۔ جو شخصیت اسے پسند آ جاتی ہے بس آنکھوں پر پٹی باندھ کر اس کے پیچھے چل پڑتا ہے ایسی تقلید بھی یقینا ایک متعدی بیماری ہے۔ جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ تعصب کرنے والا درست چیز کو پہنچاننے سے قاصر ہو جاتا ہے۔ اسے اپنے بھائی کی آنکھ میں تنکا تو نظر آتا ہے مگر اپنی آنکھ میں پورا درخت نظر نہیں آتا۔ وہ دوسروں پر انہی باتوں کی وجہ سے تنقید کرتا ہے جن کا وہ خود بھی شکار ہوتا ہے۔
یاد رکھیے کہ ہر شخص میں کوئی نہ کوئی کمی ضرور ہوتی ہے، چاہے وہ بڑا عالم، صاحب حیثیت، نسب والا یا اچھے مذہب والا ہی کیوں نہ ہو۔ بہت سے لوگ اپنی کمی کو بھلانے کے لیے اسے تعصب کے پردے پیچھے چھپا دیتے ہیں تاکہ وہ اس کے پیچھے وہ ساری چیزیں چھپا دیں جن کی جگہ پر وہ مصنوعی کمال کو دیکھنا چاہتے ہیں۔
اللہ کے بندو! تعصب میں توانائی بے مقصد ضائع ہوتی ہے۔ بہت محنت فضول جاتی ہے۔ کیونکہ اسے ایسے مقصد میں لگایا گیا ہوتا ہے جس کی کسی صورت میں تعریف نہیں کی جا سکتی۔ یہ ایک ذہنی بیماری ہے۔ جو انسان کے ذہن میں جعلی برتری کے دھاگے ملاتی رہتی ہے، کیونکہ انسان یہ محسوس کر رہا ہوتا ہے کہ اس کی چند ایسی خصوصیات ہیں جن سے کوئی اور متصف نہیں ہے۔ اس میں ایسی عظمت ہے جس تک کوئی اور نہیں پہنچ سکتا۔ تعصب کرنے والی کے حقیقت اس بلی کی ہوتی ہے جو شیر کی طرح پھول کر خود کو شیر محسوس کرنے لگتی ہے۔ اللہ کی قسم! یہ جعلی تصورات جن کا سہارا تعصب کرنے والا لے رہا ہوتا ہے، وہ ایسے دھاگوں کے سوا اور کچھ نہیں ہوتے جنہیں اکٹھا کر کے مکڑی اپنا گھر بنا لیتی ہے۔ ارشاد ربانی ہے:
”اور سب گھروں سے زیادہ کمزور گھر مکڑی کا گھر ہی ہوتا ہے‘ کاش یہ لوگ علم رکھتے۔“ (العنکبوت: ۱۴)
اللہ کے بندو! جب ہمیں ان ساری باتوں کا علم ہو گیا ہے تو ہمیں یہ بھی جان لینا چاہیے کہ قرآن وحدیث میں جہاں بھی تعصب کا لفظ یا اس کا کوئی مترادف آیا ہے تو مذمت کے تناظر میں ہی آیا ہے۔ یہ جاہلیت کے طور طریقوں میں سے ہے جو کسی صورت میں اسلام اور اسلام کے مفادات اکٹھے نہیں ہو سکتے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
”جب ان کافروں نے اپنے دلوں میں جاہلانہ حمیت بٹھا لی۔“ (الفتح: ۶۲)
اسی طرح آپ e نے فرمایا:
”اللہ تعالیٰ نے آپ کو جاہلیت کے فخر وتکبر اور غرور سے نجات عطا فرما دی ہے۔ اب یا تو پرہیز گار مؤمن ہے یا پھر بد بخت فاجر ہے۔ تم سب آدم کی اولاد ہو اور آدم مٹی سے بنا تھا۔ جو لوگ ایسی چیزوں پر فخر اور تعصب کرتے ہیں جو جہنم کے کوئلوں سے زیادہ کچھ نہیں، وہ اپنے اس تعصب سے باز آ جائیں، ورنہ وہ اللہ کے یہاں گوبر کے کیڑے سے بھی زیادہ بے حیثیت ہو جائیں گے۔“ (ابو داؤد)
اسی طرح آپ e نے فرمایا:
”جو فرماں برداری چھوڑ کر اور جماعت سے الگ ہو کر مرا، وہ جاہلیت کی موت مرا۔ جو کسی تکبر اور غرور پر مشتمل شعار کے تحت لڑتے ہوئے، کسی ٹولے کی وجہ سے غصے میں آ کر لڑتے ہوئے یا کسی تعصب کی طرف بلاتے ہوئے، یا کسی ٹولے کی مدد کرتے ہوئے مارا گیا تو وہ جاہلیت کی موت مرا۔ جو میری امت کے خلاف نکل آیا اور اس کے نیک اور گناہ گاروں کو قتل کرنے لگا، کسی مؤمن کا لحاظ نہ کیا، نہ کسی کے معاہدے کا پاس کیا، تو میرا اس سے کوئی تعلق ہے نہ اس کا مجھ سے کوئی تعلق ہے۔“ (مسلم)
ایک دوسری حدیث میں ہے کہ رسول اللہ e نے ایک انصاری صحابی کو آواز لگاتے ہوئے سنا: اے انصاریو! تو جواب میں مہاجرین میں سے ایک صحابی نے آواز لگائی: اے مہاجرو! نبی اکرم e نے فرمایا: ”یہ جاہلیت کی آوازیں کیوں آ رہی ہیں؟“ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ایک مہاجر نے ایک انصاری کو مارا ہے۔، اس پر آپ e نے فرمایا:
”اس رویے کو چھوڑ دو، یہ پھولے ہوئے مردہ جسم سے بھی زیادہ گندا رویہ ہے“ (بخاری ومسلم)
صحابہ کرام] اور تابعین عظام بھی تعصب کی مذمت یوں ہی کرتے تھے جیسے رسول اللہ e کیا کرتے تھے۔ ائمہ اربعہ کے بارے میں بہت سی روایات میں ہے، امام ابو حنیفہ، امام مالک، امام شافعی، اور امام احمد سے بہت سی روایات میں آیا ہے، اگرچہ ان کے الفاظ مختلف ہیں، مگر سب کا رویہ یہی تھا کہ وہ اپنی رائے پر تعصب نہیں کرتے تھے، وہ ہر ایسی غلطی سے بیزاری کا اعلان کرتے تھے جو کتاب وسنت کے خلاف جاتی ہو۔ سب نے ایک قاعدہ بنایا تھا، جسے موجود لوگوں نے سمجھ لیا تھا اور بعد میں آنے والوں کو بھی پہنچ چکا ہے کہ اگر کوئی مسئلہ حدیث سے ثابت ہو جائے تو حدیث کے مطابق چلنا ہی ان کا طریقہ ہے۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہa فرماتے ہیں: جو اپنے ملک والوں، اپنے مذہب والوں، اپنے طریقے والوں، اپنے رشتہ داروں اور اپنے دوستوں کو دوسروں سے بہتر سمجھتا ہے اور ان کے لیے تعصب کرتا ہے، اس میں جاہلیت خصلت پائی جاتی ہے۔ مسلمانوں کو تو ویسا ہی ہونا چاہیے جیسا اللہ تعالیٰ نے چاہا ہے۔ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے ہوئے، کتاب وسنت پر عمل کرنے والے۔ کیونکہ سب کی کتاب ایک ہی ہے۔ سب کا دین ایک ہی ہے۔ سب کا نبی ایک ہی ہے۔ سب کا پروردگار ایک ہی ہے۔
”جس کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں‘ اسی کے لیے حمد ہے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی، فرماں روائی اسی کی ہے اور اسی کی طرف تم سب پلٹائے جانے والے ہو۔“ (القصص: ۰۷)
اسی طرح آپe فرماتے ہیں: جو چیز بھی اسلامی طریقے اور قرآن وسنت کے خلاف ہو، چاہے وہ نسل کی بنیاد پر ہو، ملک کی بنیاد پر ہو، جنس کی وجہ سے ہو، مذہب کی وجہ سے ہو یا کسی اور طریقے سے ہوتو وہ جاہلیت کی ایک شکل ہے۔
علامہ ابن قیمa فرماتے ہیں:
جاہلیت کی طرف بلانا،  جیسا  کہ قبیلے اور تعصب کی طرف بلانا،  اپنے مذہب، اپنے گروہ اور اپنے اساتذہ کے لیے تعصب کرنا، انہیں دوسروں سے بہتر سمجھنا، ان کی طرف لوگوں کو بلانا، انہی کی وجہ سے دوستی رکھنا اور انہی کی وجہ سے دوسروں سے دشمنی رکھنا  بھی جاہلیت کی طرف بلانا ہی ہے۔
اللہ! اللہ! تعصب کتنی بری بلا ہے! اس کے شکار کتنے زیادہ ہیں! کتنے لوگ فخر وغرور کی وجہ سے ہلاک ہو گئے، کتنے خاندان اس کی وجہ سے تباہ ہو گئے۔ کتنے مسلمانوں کی اجتماعیت اور جماعت سے الگ ہونے والے اس کی آگ میں جھلس گئے۔ جب لوگ جنگ کرتے ہوں تو ایک قاتل ہوتا ہے اور دوسرا مقتول ہوتا ہے، مگر ایک دوسرے کے خلاف تعصب رکھنے والے دونوں مقتول ہی ہوتے ہیں۔ جی ہاں! دونوں ہی تعصب کی ہلاکت خیز ہتھیاروں سے قتل ہوتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ کشادہ عقل کبھی تعصب کی تنگی کو قبول نہیں کرتا۔ اللہ کے بندو! کشادہ عقل تعصب کی آندھی کی وجہ سے نہ جھکتی ہے اور  نہ اس کی موجوں میں غرق ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سچ فرمایا:
”اللہ کے اُس احسان کو یاد رکھو جو اس نے تم پر کیا ہے تم ایک دوسرے کے دشمن تھے، اُس نے تمہارے دل جوڑ دیے اور اس کے فضل و کرم سے تم بھائی بھائی بن گئے۔“ (آل عمران: ۳۰۱)
دوسرا خطبہ
حمد وصلوٰۃ کے بعد:
اللہ کے بندو! ہماری عظیم شریعت میں تعصب کو برا سمجھا گیا ہے، اور تعصب میں اس کا ہر ذریعہ شامل ہے جو اسے بھڑکاتا ہے۔ چاہے وہ ذریعہ افراد کی شکل میں ہو، اداروں کی شکل میں ہو، جماعتوں کی شکل میں ہو یا کلبوں کی شکل میں ہو۔ چاہے وہ نثر کی شکل میں ہو، شعر کی شکل میں ہو یا شعار کی شکل میں ہو۔ یاد رکھیے کہ حرام کی طرف لے جانے والا ذریعہ بھی ہمیشہ حرام ہی ہوتا ہے۔ اگر ذرائع کو صحیح انداز میں روک دیا جائے تو برے نتائج سے حفاظت یقینی بن جائے۔ سمجھ دار انسان خوب سمجھتا ہے کہ تعصب کی حقیقت تکبر، غرور اور کامل ہونے کے دعویٰ کے مترادف ہے۔
حقیقت تو یہ ہے کہ تعصب کرنے والے میں بھی بہت سی کمیاں ہوتی ہیں اور لوگوں کے پاس بھی زبانیں ہیں۔ رسول اللہ e فرماتے ہیں:
”آدم کی ساری اولاد خطا کار ہے اور خطا کاروں میں افضل ترین وہ ہیں جو سب سے زیادہ توبہ کرنے والے ہیں۔“ (مسند احمد)
تعصب کے رویے کے علاج میں سب سے کارگر ہتھیار دینی جذبے کی بیداری ہے۔ دینی جذبہ ہی ہے جس سے عدل واضح ہوتا ہے اور عدل سے ہی ظلم وزیادتی اور بہتان الگ ہوتے ہیں۔ اسی طرح نسل کو جماعت کے ساتھ وابستگی اور مودت ومحبت پر بڑا کرنا چاہیے۔ انہیں سکھانا چاہیے کہ اسلام کے دو مصدر ہیں، ایک کتاب اور دوسرا سنت۔ اور یہ دونوں تعصب سے بچاتے ہیں، چاہے یہ تعصب رنگ کی بنیاد پر ہو، زبان کی بنیاد پر ہو، جنس کی بنیاد پر ہو، ملک کی بنیاد پر ہو، مذہب کی بنیاد پر ہو یا قبیلے کی بنیاد پر ہو۔ تمام اہل اسلام کا اتفاق ہے کہ رسول اللہ e نسب، دین اور شریعت کے لحاظ سے افضل ترین تھے۔ آپ کا مقام اللہ کے یہاں سب سے بلند مقام ہے۔ کسی مخلوق کا مقام آپ e کے مقام کے برابر نہیں ہو سکتا۔ کوئی سفارش آپ e کی سفارش سے بڑھ کر کام نہیں کر سکتی۔ مگر پھر بھی آپ e نے غرور نہیں کیا۔ اس برتری کی بنیاد پر کسی کی مخالفت نہیں کی۔ بلکہ آپ e نے فرمایا:
”میں اولاد آدم کا سردار ہوں! مگر میں اس بات پر غرور نہیں کرتا! قیامت کے دن سب سے پہلے زمین مجھ سے پیچھے ہٹے گی۔ مگر میں اس بات پر غرورنہیں کرتا! میں سب سے پہلا سفارشی ہوں جس کی سفارش قبول بھی ہو گی۔ مگر میں اس بات پر فخر نہیں کرتا! روز قیامت حمد وثنا کا علم میرے ہاتھ میں ہو گا! مگر میں اس بات پر فخر نہیں کرتا۔“ (ابن ماجہ، حدیث کا بنیادی حصہ بخاری ومسلم میں بھی ہے۔)
رسول اللہ e نے اس بات پر بڑی تاکید فرمائی، اپنی امت کی خوب رہنمائی فرمائی اور اپنے عمل سے امت کو سکھایا، تاکہ امت ان کی پیروی کرے۔ اسی میں اسوہ ہے اور اسی میں بہترین نمونہ ہے۔ نبی اکرم e نے فرمایا ہے:
”جس طرح عیسائیوں نے عیسیٰ ابن مریمu کے بارے میں مبالغہ آرائی سے کام لیا تھا، اس طرح تم میرے معاملے میں مبالغہ آرائی سے کام نہ لینا، میں تو بس بندہ ہوں۔ تم کہا کرو، اللہ کا بندہ اور اللہ کا رسول۔“ (بخاری)
اللہ کے بندو! خلاصہ یہ ہے کہ تعصب برائی کا ایک دروازہ ہے، جو جب کھل جاتا ہے تو اسے بند کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ یہ قابل مذمت ہے، قابل تعریف نہیں۔ اگر انسان نے تعصب کرنا ہی ہے تو نیک اخلاق کے معاملے میں تعصب کرے، اچھی خصلتوں کے معاملے میں کرے۔ ان پر قائم رہنے کے معاملے میں کرے۔ اللہ کی قسم! یہی وہ تعصب ہے جو قابل مذمت نہیں۔ یہی وہ استقامت ہے جس پر انسان قابل تعریف ٹھہرتا ہے۔ اللہ ہی ہمارا مدد گار ہے۔ وہی راہ راست دکھانے والا ہے۔


No comments:

Post a Comment

View My Stats