طب وصحت ... جوڑوں کا درد 46-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Sunday, December 08, 2019

طب وصحت ... جوڑوں کا درد 46-2019


طب وصحت ... جوڑوں کا درد

تحریر: جناب حکیم راحت نسیم سوہدروی
جوڑوں کا درد اور جسے طبی اصطلاح میں ورم مفاصل اور وجع المفاصل جبکہ ایلوپیتھی میں آرتھرائٹس (Arthritis) کہتے ہیں۔ایک پریشان کن اور درد ناک مرض ہے ۔اِس مرض کے سبب ہزاروں افراد چلنے پھرنے سے معذور ہو کر چل پھر بھی نہیں سکتے۔یہ مرض ہر عمر کے لوگوں میں ہو سکتا ہے،مگر عموماً چالیس سال کے بعد ہوتا ہے۔جوڑوں میں ورم اور سوزش ہوتی ہے جس کی وجہ سے جوڑوں میں درد ہوتا ہے۔یہ مرض زمانہ قدیم سے ہے۔معلوم تاریخ کے مطابق ابتدائی دور کے افراد کو بھی ہوتا تھا۔یہ آہستہ آہستہ جڑ پکڑتا ہے، مگر بعض افراد میں اس کا حملہ تیزی سے ہوتا ہے۔یہ مرض کسی جوڑ پر حملہ کر کے ورم کا باعث بنتا ہے۔درد میں ادویہ کا استعمال وقتی افاقہ دیتا ہے،مگر جڑ سے ختم نہیں ہوتا۔
جوڑ اس مقام کو کہتے ہیں جہاں دو ہڈیوں کا ملاپ ہوتا ہے۔ہر مرض میں جوڑ میں ورم ہو کر درد اور سوزش پیدا ہوتی ہے۔جوڑوں میں سختی ہو جاتی ہے اور اذیت ہو جاتی ہے۔اس پریشان کن مرض کی متعدد اقسام دریافت ہو چکی ہیں،مگر چار اقسام بنیادی ہیں۔
ورم ہڈی و جوڑ  ورم استخوانی
اس قسم کو ورم استخوانی (Osteo Arthritis) کہتے ہیں۔یہ کیفیت کری ہڈی کی خرابی سے پیدا ہوتی ہے۔کری ہڈی عموماً لچکدار اور ہموار ہوتی ہے۔اس مرض میں وہ کھردری اور خشک ہو جاتی ہے۔ہڈی کی سطح کو پہلے وہ محفوظ رکھتی تھی اور اب وہ کھینچتی ہے۔ہڈی کی اوپر والی جھلی میں ورم آ جاتا ہے۔شروع میں سختی اور درد ظاہر ہوتا ہے، پھر ورم آ کر شدید درد ہوتا ہے۔اُٹھتے بیٹھتے وقت شدید اذیت ہوتی ہے۔جوڑوں کی حرکت سے تکلیف ہوتی ہے۔عام طور پر یہ گھٹنوں اور کہنیوں میں ہوتا ہے۔اس ورم کا سبب جوڑوں میں گھسائی سے ہے۔چوٹ لگنے پر تکلیف شدید ہو جاتی ہے۔
گنٹھیا وجع المفاصل:
اس قسم میں گانٹھ جیسے جوڑوں، مثال کے طور پر ہاتھ کی انگلیوں اور پائوں کی ہتھیلیوں میں پائی جاتی ہے اور جوڑ کی جھلیوں کو نقصان پہنچاتی ہے،پھر یہی تیزابی مادہ جسے (یورک ایسڈ) کہا جاتا ہے خون میں داخل ہو جاتا ہے۔ اس قسم کی تکلیف میں بخار،بیکٹیریا اور وائرس کی وجہ سے جوڑوں میں چھوت(انفیکشن) بھی شامل ہے۔جوڑ متورم ہو جاتے  ہیں۔چلنے پھرنے میں مشکل پیش آتی ہے اور شدید درد بے چین کر دیتا ہے اور بعض لوگوں کو چلنے پھرنے سے معذور ہوتا دیکھا گیا ہے۔
نقرس چھوٹے جوڑوں کا درد:
اس قسم میں عام طور پر پائوں کے دائیں انگوٹھے سے شدید درد اٹھ کر تمام چھوٹے جوڑوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔خون میں تیزابی مادہ یورک ایسڈ(Uric Acid) طبعی مقدار سے بڑھ جاتا ہے،جب گردے اس کو خارج نہیں کر پاتے تو خون میں جمنا شروع ہو جاتا ہے۔
بے لوچ اور سخت ریڑھ کی ہڈی :
اس قسم میں کولہے اور ریڑھ کی ہڈی متاثر ہوتی ہے۔اس بارے کہا جاتا ہے کہ خود مدافعتی مرض ہے۔مدافعی قوت بیرونی امراض سے جنگ کی بجائے خود ہی حملہ آور ہو جاتی ہے۔اس تکلیف بارے رائے ہے کہ موروثی ہوتی ہے اور عام طور پر مردوں میں پائی جاتی ہے۔ورم سے جوڑوں کو مضبوطی سے باندھے رکھنے والے بندھنوں میں کیلشیم جمع ہو جاتا ہے۔اس طرح ریڑھ کی ہڈی سخت ہو جاتی ہے اور مہروں  کے آپس میں جڑنے کا امکان ہوتا ہے۔خاص کر اس صورت میں جب کوئی ورزش یا علاج نہ کیا جائے۔
کبھی چوٹ لگنے سے بھی جوڑوں میں ورم آ جاتا ہے۔اس میں گھٹنا،ٹخنہ اور ہڈی متاثر ہوتی ہے۔ٹی بی سے بھی کولہے اور زیریں،ریڑھ کی ہڈی کا ورم مفاصل ہو سکتا ہے۔جوڑوں میں ورم کا شبہ ہونے پر فی الفور معالج کی طرف رجوع کرنا مناسب ہے تاکہ سستی، کوتاہی اور مستقل معذوری کا سبب نہ بن جائے۔
تدابیر
٭           جن جوڑوں میں درد ہو ان کو سخت ہونے سے بچانے اور عضلات کو خراب ہونے سے بچانے کے لئے ورزش ضروری ہے۔جوڑوں کو حرکت دینے سے اطراف کے عضلات مضبوط ہوتے ہیں،مگر یہ خیال رہے کہ ورزش سے جوڑوں پر بار نہ پڑے اور جب ورم نہ ہو اس وقت ورزش ضروری ہے۔
٭           متورم جوڑوں پر گرم پانی کی گدیاں بھگو کر رکھنا مفید ہے۔اس کے بعد کسی تیل مثلاً روغن سورنجان یا بام کی مالش مفید ہے۔اس طرح درد والے جوڑ نرم ہوتے ہیں۔
٭           جس جوڑ میں درد ہو اُسے کم سے کم حرکت دیں۔
٭           حیاتین ج، ھ اور الف کے استعمال سے درد اور سوج کو فائدہ ہوتا ہے۔
٭           جن مریضوں کے گھروں میں سیڑھیاں ہیں وہ سیڑھیوں کے دائیں بائیں ریلنگ لگوائیں۔
٭           غسل خانوں کے چکنے فرش پر رُف میٹ رکھیں تاکہ پھسلنے کا خدشہ نہ ہو۔
علاج:
سورنجان شیریں اور چو ب چینی ہم وزن پیس کر اس کے چوتھائی حصہ جواکھار ملا کر صبح و سہ پہر ۱-۱ گرم تازہ پانی سے کھا لیں۔رات سونے سے قبل معجون سورنجان ایک چمچی تازہ پانی سے کھا لیں۔
غذا:
ویسے تو ہر شخص کے لئے اچھی اور متوازن غذا کی ضرورت ہے،مگر ورم مفاصل میںاس کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔سب سے پہلے ہفتے میں ایک یا دو دن میں کوئی غذا استعمال نہ کی جائے صرف پھلوں اور ان کے رس پر گزر بسر کی جائے۔اس کے علاوہ تازہ موسمی پھل، سبزیاں ان کا شوربہ،دودھ، گاجر،سلاد، ٹماٹر، پیاز اور بے چھنے آٹے کی روٹی مفید ہے۔


No comments:

Post a Comment

View My Stats