رفع سبابہ ... مقام، کیفیت وحیثیت 46-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Sunday, December 08, 2019

رفع سبابہ ... مقام، کیفیت وحیثیت 46-2019


رفع سبابہ ... مقام، کیفیت وحیثیت

تحریر: جناب حافظ ابویحییٰ نور پوری
رفع سبّابہ کیا ہے ؟
انگوٹھے کے ساتھ والی انگلی کو عربی میں مُسَبِّحۃ (تسبیح کرنے والی) اور اردو میں انگشت شہادت (شہادت والی انگلی) بھی کہتے ہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرنے اور اس کی وحدانیت کی گواہی دینے کے وقت عام طور پر اس کا استعمال کیا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی تسبیح اور اس کی وحدانیت کی گواہی نیک لوگوں کا کام ہے۔ بدکردار لوگوں کو بھی اللہ تعالیٰ نے یہ انگلی عنایت کی ہے، لیکن وہ اسے تسبیح و شہادت کی بجائے ناحق گالی گلوچ کے لیے استعمال کرتے ہیں، اس لیے اسے عربی میں سَبَّابَۃ (گالی والی انگلی) بھی کہتے ہیں۔
رَفْع بھی عربی زبان ہی کا لفظ ہے۔ یہ مصدر ہے اور اس کا معنیٰ بلند کرنا ہوتا ہے۔
یوں رَفْع سَبَّابَۃ کا معنی ہوا شہادت والی انگلی کو اٹھانا۔ یہ تو ہوئی لغوی وضاحت۔ اور اصطلاحاً نماز میں تشہد کے دوران شہادت والی انگلی سے اشارہ کرنا رَفْع سَبَّابَۃ کہلاتا ہے۔
نماز کے دیگر بہت سے مسائل کی طرح اس مسئلہ میں بھی مختلف مکاتب فکر مختلف خیالات کے حامل ہیں۔ البتہ اہل حدیث کے نزدیک رفع سبابہ مستحب اور سنت ہے۔ ہمارے دلائل ملاحظہ فرمائیں:
1          نافع مولیٰ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے:
[كان عبد الله بن عمر إذا جلس فی الصلاة؛ وضع یدیه علٰی ركبتیه، واشار بإصبعه، واتبعها بصره، ثم قال: قال رسول الله ﷺ: لهی اشد علی الشیطان من الحدید، یعنی السبابة]
سیدنا عبد اللہ بن عمرw جب دوران نماز (تشہد میں) بیٹھے، تو ہاتھ گھٹنوں پر رکھتے اور اپنی (شہادت والی) انگلی کے ساتھ اشارہ فرماتے۔ اپنی نظر بھی اسی انگلی پر رکھتے۔ پھر فرماتے کہ رسول اللہe نے ارشاد فرمایا تھا: یہ شہادت والی انگلی شیطان پر لوہے سے بھی سخت پڑتی ہے۔ (مسند الامام احمد)
اس حدیث کا راوی کثیر بن زید اسلمی جمہور ائمہ حدیث کے نزدیک موثق، حسن الحدیث ہے۔
2          سیدنا ابن عمرw ہی بیان کرتے ہیں:
[إن النبیﷺ كان إذا جلس فی الصلاة وضع یدیه علٰی ركبتیه، ورفع إصبعه الیمنی التی تلی الإبهام، فدعا بها]
نبی اکرمe جب نماز میں (تشہد کے لئے) بیٹھتے، تو اپنے دونوں ہاتھوں کو دونوں گھٹنوں پر رکھتے اور اپنے دائیں ہاتھ کے انگوٹھے سے متصل انگلی کو اٹھا لیتے اور اس کے ساتھ دعا کرتے۔  (صحیح مسلم)
تشھد میں دائیں ہاتھ کی کیفیات:
ہم پڑھ چکے ہیں کہ احادیث میں رسول اللہe کے شہادت والی انگلی کو اٹھانے اور اس کے ساتھ اشارہ یا دعا کرنے کا ذکر ہے۔ یہ اشارہ کیسے ہوتا تھا ؟ اس کے بارے میں بھی ہم احادیث نبویہ ہی سے رہنمائی لیتے ہیں۔ مذکورہ اور آئندہ تمام احادیث چونکہ رفع سبابہ کے بارے میں ہیں، اس لیے ہم انہیں ایک ہی ترتیب میں ذکر کریں گے، البتہ عنوانات بدلتے رہیں گے:
3          سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہے:
[كان رسول اللهﷺ إذا قعد یدعو، وضع یده الیمنٰی علٰی فخذه الیمنٰی، ویده الیسرٰی علٰی فخذه الیسرٰی، واشار بإصبعه السبابة، ووضع إبهامه علٰی إصبعه الوسطٰی]
’’رسول اللہe جب تشہد میں بیٹھتے تو اپنے دائیں ہاتھ کو دائیں ران پر رکھتے اور بائیں ہاتھ کو بائیں ران پر۔ انگشت شہادت سے اشارہ فرماتے اور اس دوران اپنے انگوٹھے کو درمیان والی انگلی پر رکھتے۔‘‘ (صحیح مسلم)
4          سیدنا عبداللہ بن عمرw بیان کرتے ہے:
[إن رسول اللهﷺ كان إذا قعد فی التشهد وضع یده الیسرٰی علٰی ركبته الیسرٰی، ووضع یده الیمنٰی علٰی ركبته الیمنٰی، وعقد ثلاثة وخمسین، واشار بالسبابة]
’’رسول اللہe جب تشہد میں بیٹھتے، تو اپنا دایاں ہاتھ دائیں گھٹنے پر رکھتے، جبکہ بائیاں ہاتھ بائیں گھٹے پر۔ نیز ۵۳ کی گرہ بناتے اور سبابہ کے ساتھ اشارہ فرماتے۔‘‘ (صحیح مسلم)
عرب لوگ انگلیوں کے ساتھ ایک خاص طریقے سے گنتی کرتے تھے۔ اس طریقے میں ۵۳ کے ہندسے پر ہاتھ کی ایک خاص شکل بنتی تھی، جس میں انگوٹھے اور شہادت والی انگلی کے علاوہ باقی تینوں انگلیوں کو بند کرتے ہیں اور شہادت کی انگلی کو کھول کر انگوٹھے کے سِرے کو اس کی جڑ میں لگاتے ہیں۔
5          سیدنا وائل بن حجرt بیان کرتے ہیں:
[رأیت النبیﷺ قد حلق بالابهام والوسطی، ورفع التی تلیهما، یدعو بها فی التشهد]
میں نے نبی اکرمe کو دیکھا کہ آپ نے تشہد میں انگوٹھے اور درمیان والی انگلی کو ملا کر دائرہ بنایا ہوا تھا اور انگوٹھے کے ساتھ والی انگلی مبارک کو اٹھا کر اس کے ساتھ دعا فرما رہے تھے۔ (سنن أبی داؤد، سنن النسائی، سنن ابن ماجہ، واللفظ لہ، وسندہ صحیح)
معلوم ہوا کہ تشہد میں دائیں ہاتھ کے انگوٹھے کی کئی کیفیات رسول اکرمe سے منقول ہیں۔ یہ تمام صورتیں جائز ہیں، ان میں سے کوئی بھی اختیار کی جا سکتی ہے۔ البتہ ان سب احادیث میں شہادت والی انگلی کے ساتھ اشارے کا ذکر یکساں موجود ہے۔ ہم اس کی مزید تفصیل بھی احادیث کی رو سے ذکر کیے دیتے ہیں:
 کیفیت اشارہ :
قارئین کرام احادیث ملاحظہ فرما لیں، ان کی روشنی میں اشارے کی کیفیت اور اس کے تمام مسائل نمبر وار درج کر دئیے جائیں گے:
6          سیدنا عباس بن سہل سعدیt سے روایت ہے:
[اجتمع ابو حمید، وابو اسید، وسهل بن سعد، ومحمد بن مسلمة، فذكروا صلاة رسول اللهﷺ، فقال ابو حمید: انا اعلمكم بصلاة رسول اللهﷺ، إن رسول اللهﷺ جلس، یعنی للتشهد، فافترش رجله الیسرٰی، واقبل بصدر الیمنٰی علٰی قبلته، ووضع كفه الیمنٰی علٰی ركبته الیمنٰی، وكفه الیسرٰی علٰی ركبته الیسرٰی، واشار باصبعه، یعنی السبابة]]
سیدنا ابوحمید، ابو اسید، سہل بن سعد اور محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہم ایک جگہ جمع ہوئے۔ انہوں نے رسول اللہe کی نماز کے بارے میں بات چیت کی۔ سیدنا ابوحمیدt کہنے لگے: میں تم سب سے بڑھ کر رسول اللہe کی نماز کے بارے میں جانتا ہوں۔ آپe جب تشہد کے لئے بیٹھتے تو اپنے بائیں پاؤں کو بچھا لیتے اور دائیں پاؤں کے سامنے والے حصے کو قبلے کے رخ کھڑا کرتے۔ نیز اپنی دائیں ہتھیلی کو دائیں گھٹنے پر رکھتے جبکہ بائیں ہتھیلی کو بائیں گھٹنے پر اور اپنی سبابہ انگلی کے ساتھ اشارہ فرماتے۔ (سنن الترمذی، وسندہ حسن)
اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے حسن صحیح قرار دیا ہے۔
7          سیدنا نمیر خزاعیt بیان کرتے ہیں:
[رأیت رسول اللهﷺ واضعا یده الیمنی علی فخذه الیمنی فی الصلاة، یشیر بأصیعه]
میں نے رسول اللہe کو دیکھا۔ آپe نماز میں (تشہد کے دوران) اپنے دائیں ہاتھ کو دائیں ران پر رکھے ہوئے اپنی (شہادت والی) انگلی کے ساتھ اشارہ فرما رہے تھے۔ (مسند الامام احمد، سنن ابن ماجہ، سنن النسائی، و سندہ حسن)
اس حدیث کا راوی مالک بن نمیر خزاعی حسن الحدیث ہے۔ امام ابن حبانa نے اسے (الثقات:  ۵/۳۸۶) میں ذکر کیا ہے اور امام ابن خزیمہ: ۷۱۵) نے اس کی بیان کردہ حدیث کی تصحیح کر کے اس کے توثیق کی ہے۔
8          علی بن عبدالرحمن معاویa بیان کرتے ہیں:
[رآنی عبد الله بن عمر ـوانا اعبث بالحصٰی فی الصلاةـ فلما انصرف؛ نهانی، فقال: اصنع كما كان رسول اللهﷺ یصنع، فقلت: وكیف كان رسول اللهﷺ یصنع؟ قال: كان إذا جلس فی الصلاة وضع كفه الیمنٰی علٰی فخذه الیمنٰی، وقبض اصابعه كلها، واشار بإصبعه التی تلی الإبهام، ووضع كفه الیسرٰی علٰی فخذه الیسرٰی]
سیدنا عبداللہ بن عمرw نے مجھے نماز میں کنکریوں سے کھیلتے ہوئے دیکھا۔ جب میں نماز سے فارغ ہوا، تو انہوں نے مجھے اس کام سے منع کیا اور فرمایا: اسی طرح کرو، جس طرح رسول اکرمe کیا کرتے تھے۔ میں نے عرض کیا: رسول اللہe کس طرح کیا کرتے تھے ؟ انہوں نے بتایا کہ رسول اللہe جب نماز میں (تشہد کے لئے) بیٹھتے، تو اپنی دائیں ہتھیلی دائیں ران پر رکھتے اور ساری انگلیوں کو بند کر کے انگشت شہادت کے ساتھ اشارہ فرماتے۔ نیز اپنی بائیں ہتھیلی کو بائیں ران پر رکھتے۔  (صحیح مسلم)
9          سیدنا نمیر خزاعیt سے روایت ہے:
[رأیت رسول الله ﷺ ـوهو قاعد فی الصلاةـ قد وضع ذراعه الیمنی علی فخذه الیمنی، رافعا بأصبعه السبابة، قد حناها شیئا ـ وهو یدعوـ]
میں نے رسول اللہe کو نماز میں (تشہد کے لئے) بیٹھے ہوئے دیکھا۔ آپ نے اپنا دائیاں ہاتھ دائیں ران پر رکھا ہوا تھا اور سبابہ انگلی کو کچھ خم دے کر اٹھایا ہوا تھا۔ یوں آپe دعا کر رہے تھے۔ (مسند الامام احمد، سنن ابی داؤد، سنن النسائی، وسندہ حسن)
اس حدیث کو امام ابن خزیمہ (۷۱۶) اور امام ابن حبان (۱۹۴۶) رحمہما اللہ نے صحیح قرار دیا ہے۔
0          سیدنا عبد اللہ بن زبیرw کا بیان ہے:
[كان رسول اللهﷺ إذا جلس فی التشهد، وضع یده الیمنٰی علٰی فخذه الیمنٰی، ویده الیسرٰی علٰی فخذه الیسرٰی، واشار بالسبابة، ولم یجاوز بصره إشارته]
رسول اللہe جب تشہد میں بیٹھتے، تو اپنے دائیں ہاتھ کو دائیں ران پر اور بائیں ہاتھ کو بائیں ران پر رکھتے۔ سبابہ انگلی کے ساتھ اشارہ فرماتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر اس اشارے سے آگے نہ جاتی تھی۔ (مسند الامام احمد، سنن ابی داؤد، سنن النسائی، وسندہ حسن)
محمد بن عجلان اگرچہ مدلس ہیں، لیکن مسند احمد میں انہوں نے اپنے سماع کی تصریح کر رکھی ہے۔ نیز اس حدیث کی اصل صحیح مسلم (۵۷۹) میں بھی موجود ہے۔ اس حدیث کو امام ابن خزیمہ (۷۱۸)، امام ابوعوانہ (۲۰۱۸) اور امام ابن حبان (۱۹۴۴) رحمہم اللہ نے صحیح قرار دیا ہے۔
!          سیدنا وائل بن حجرt، رسول اللہe کی نماز کے بارے میں اپنا مشاہدہ یوں بیان کرتے ہیں:
[ثم قعد فافترش رجله الیسری، فوضع كفه الیسری علی فخذه وركبته الیسری، وجعل حد مرفقه الأیمن علی فخذه الیمنی، ثم قبض بین أصابعه، فحلق حلقة، ثم رفع إصبعه فرایته یحركها، یدعو بها۔]
پھر آپe نے بیٹھ کر اپنے بائیں پاؤں کو بچھا لیا، نیز اپنی بائیں ہتھیلی کو بائیں ران اور بائیں گھٹنے پر اور اپنی دائیں کہنی کے کنارے کو اپنی دائیں ران پر رکھا۔ پھر اپنی انگلیوں کو بند کر کے دائرہ بنایا، پھر اپنی (شہادت والی) انگلی کو اٹھا لیا۔ میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے حرکت دے کر اس کے ساتھ دعا کر رہے تھے۔ (مسند الامام احمد، سنن النسائی، وسندہ صحیح)
اس حدیث کو امام ابن جارود (۲۰۸)، امام ابن خزیمہ (۷۱۴) اور امام ابن حبان (۱۸۶۰) رحہم اللہ نے صحیح قرار دیا ہے۔ علامہ شمس الحق، عظیم آبادی رحمہ اللہ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں:
وفیه تحریكها ایضا
اس حدیث سے شہادت کی انگلی کو حرکت دینا بھی ثابت ہوتا ہے۔ (عون المعبود شرح سنن ابی داود)
@          سیدنا عبداللہ بن زبیرt بیان کرتے ہیں:
[كان رسول اللهﷺ إذا قعد فی الصلاة؛ جعل قدمه الیسرٰی بین فخذه وساقه، وفرش قدمه الیمنٰی، ووضع یده الیسرٰی علٰی ركبته الیسرٰی، ووضع یده الیمنٰی علٰی فخذه الیمنٰی، واشار بإصبعه]
رسول اللہe جب نماز میں (تشہد کے لیے ) بیٹھتے، تو اپنے بائیں پاؤں کو (دائیں) ران اور پنڈلی کے درمیان میں رکھا، جبکہ بائیں پاؤں کو بچھا لیا۔ بائیں ہاتھ کو بائیں گھٹنے پر اور دائیں ہاتھ کو دائیں ران پر رکھا اور اپنی (شہادت والی ) انگلی کے ساتھ اشارہ کیا۔ (صحیح مسلم)
#          سیدنا وائل بن حجرt بیان کرتے ہیں:
[ثم رفع إصبعه، فرایته یحركها، یدعو بها]
پھر آپe نے اپنی (شہادت والی) انگلی کو اٹھایا۔ میں نے دیکھا کہ آپe اسے حرکت دے رہے تھے اور اس کے ساتھ دُعا کر رہے تھے۔ (مسند الامام احمد، سنن النسائی، وسندہ صحیح)
اس حدیث کو امام ابن جارود (۲۰۸)، امام ابن خزیمہ (۷۱۴) اور امام ابن حبان (۸۶۰) رحمہا اللہ نے  صحیح  قرار دیا ہے۔
$          سیدنا عبداللہ بن عمرw سے منقول ہے:
[إنه كان یضع یده الیمنٰی علٰی ركبته الیمنٰی ویده الیسرٰی علٰی ركبته الیسرٰی، ویشیر بإصبعه، ولا یحركها، ویقول: إنها مذبة الشیطان، ویقول: كان رسول اللهﷺ یفعله]
وہ اپنے دائیں ہاتھ کو دائیں گھٹنے پر اور بائیں ہاتھ کو بائیں گھٹنے پر رکھتے اور اپنی (شہادت والی) انگلی کے ساتھ اشارہ کرتے، لیکن حرکت نہیں دیتے تھے، نیز بیان کرتے تھے کہ یہ شیطان کو بھگاتی ہے اور رسول اللہe بھی ایسا ہی کیا کرتے تھے۔ (الثقات لابن حبان، العلل اللدارقطنی، وسندہ حسن)
%          نافع تابعa بیان کرتے ہیں:
[كان ابن عمر إذا صلٰی؛ وضع یدیه علٰی ركبتیه، وقال بإصبعه السبابة، یمدها یشیر بها، ولا یحركها، وقال: قال رسول الله ﷺ: هی مذعرة الشیطان]
سیدنا عبداللہ بن عمرw جب نماز پڑھتے، تو اپنے دونوں ہاتھوں کو دونوں گھٹنوں پر رکھتے اور اپنی سبابہ انگلی کو کھڑا کر کے اس کے ساتھ اشارہ کرتے، لیکن اسے حرکت نہیں دیتے تھے، نیز فرماتے تھے کہ رسول اللہe نے فرمایا: یہ انگلی شیطان کو خوفزدہ کرتی ہے۔ (ذیل تاریخ بغداد لابن النجار، و سندہ حسن)
مذکورہ احادیث سے اشارے کی کیفیت یوں ثابت ہوتی ہے:
1          اشارے کے لیے تشہد کا کوئی حصہ خاص نہیں، بلکہ تشہد میں بیٹھتے ہی اشارہ شروع کر دینا چاہیے، جیسا کہ مذکورہ تمام احادیث سے عموماً اور اکثر احادیث سے خصوصاً ثابت ہو رہا ہے، جن میں تشہد میں بیٹھتے ہی رسول اللہe کا اشارہ کرنا مذکور ہے۔ لہٰذا لا إلٰہ پر انگلی اٹھانا اور إلا اللہ پر گرا دینا بے بنیاد اور بے دلیل ہے۔
2          اشارہ کرتے ہوئے انگلی کو تھوڑا سا خم دینا چاہیے، جیسا کہ حدیث نمبر ۹ سے معلوم ہو رہا ہے۔
3          تشہد میں نظر شہادت والی انگلی کے اشارے ہی پر ہونی چاہیے، جیسا کہ حدیث نمبر ۱۰ میں صراحت ہے۔
تحریکِ سبابہ:
4          تشہد والی انگلی کے ساتھ اشارہ کرتے وقت اسے حرکت دینی چاہیے یا نہیں ؟ یہ کافی اہم مسئلہ ہے۔ ہماری تحقیق کے مطابق حرکت دینا بھی درست ہے۔
جیسا کہ حدیث نمبر ۱۱ اور ۱۳ سے ثابت ہے اور اگر حرکت نہ دی جائے، تو بھی جائز ہے، جیسا کہ حدیث ۱۴ اور ۱۵ میں مذکور ہے۔ یعنی یہ دونوں طریقے سنت سے ثابت ہیں، ان میں سے کوئی بھی طریقہ اختیار کیا جا سکتا ہے۔
امام اندلس، حافظ ابن عبدالبرa فرماتے ہیں:
[إنهم اختلفوا فی تحریك اصبعه السبابة؛ فمنهم من رآی تحریكها، ومنهم من لم یره، وكل ذٰلك مروی فی الآثار الصحاح المسندة عن النبی علیه السلام، وجمیعه مباح]
اہل علم کا سبّابہ انگلی کو حرکت دینے کے بارے میں اختلاف ہوا ہے۔ بعض کا خیال ہے کہ اسے حرکت دینی چاہیے اور بعض اسے حرکت دینے کے قائل نہیں۔ لیکن یہ دونوں طریقے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح اور متصل اسانید کے ساتھ ثابت ہیں، لہٰذا یہ دونوں طریقے جائز ہیں۔ (الاستذکار، تفسیر القرطبی)
یہی موقف علامہ صنعانی رحمہ اللہ کا ہے۔ (سبل السلام شرح بلوغ المرام)
شارحِ جامع ترمذی، محدث مبارکپوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
[والحق ما قال الرافعی ومحمد بن إسماعیل الامیر]
حق بات وہی ہے جو رافعی اور محمد بن اسماعیل امیر (صنعانی) رحمہ اللہ نے فرمائی ہے۔ (تحفۃ الاحوذی ط الہندیۃ)
 اشارہ سبابہ اور احناف:
بعض احناف نے اس سنت رسول کو اپنی تقلید ناسدید کی بھینٹ چڑھاتے ہوئے یہ فتویٰ دیا ہے کہ تشہد میں شہادت کی انگلی کو حرکت نہیں دینی چاہیے، جیسا کہ
\          علامہ احمد سرہندی حنفی نے لکھا ہے:
تو پھر ہم مقلدین کو مناسب نہیں کہ احادیث کے موافق عمل کر کے اشارہ کرنے میں جرأت کریں۔ (مکتوبات ۱/۷۱۸، مکتوب نمبر ۳۱۲)
اس فتوے کے بارے میں خود احناف کے تبصرے ملاحظہ فرمائیں ؛
1          شیخ الحدیث جناب حسین احمد مدنی حنفی کہتے ہیں:
اشارہ کی روایات بکثرت مروی ہیں اور وہ بھی بہت سے صحابہ کرام سے، حتی کہ ملا علی قاری (حنفی) اپنے رسالہ تزیین العبارۃ فی اثبات الاشارۃ میں کہتے ہیں کہ روایات اشارہ تواتر کے درجہ کو پہنچی ہوئی ہیں۔ تابعیں اور صحابہ کرام میں سے کسی سے بھی ترک اشارہ منقول نہیں۔ البتہ منع اشارہ متاخرین احناف سے منقول ہے۔ جن میں زیادہ غالی صاحب خلاصہ کیدانی معلوم ہوتے ہیں، جو اشارہ فی الصلاۃ کو بالکل حرام کہتے ہیں۔ (خلاصۃ کیدانی، ص ۱۵، ۱۶) جس پر ملا علی قاری (حنفی) نے فرمایا کہ اگر حسن ظن نہ ہوتا، تو صاحب خلاصہ کیدانی کو کافر کہہ دیتا، کیونکہ وہ ایک سنت کو حرام قرار دے رہے ہیں۔ ملامانکی تو اس سے بھی بڑھ گئے کہ وہ اشارہ کرنے والے کی انگلی کٹوا دیتے تھے، حالانکہ یہ طریقہ غلط تھا، کیونکہ روایات بکثرت اشارہ فی الصلاۃ پر دلالت کرتی ہیں۔ ترک اشارہ کی کوئی روایت، کوئی قول صحابی اور تابعی فقیہ کا منقول نہیں۔ (تقریر ترمذی)
2          جناب مولانا تقی عثمانی لکھتے ہیں:
بعض متاخرین (حنفیہ) نے اشارہ بالسبابہ کو غیر مسنون قرار دے دیا، بلکہ خلاصہ کیدانی میں اسے بدعت قرار دے دیا گیا۔ بعض حضرات نے تو انتہائی تشدد اور غلو سے کام لیا اور اس مسئلہ پر بحث کرتے ہوئے یہاں تک کہہ دیا:
’’ما را قول ابوحنیفه باید، قول رسول e كافی نیست۔‘‘
’’ہمارے لیے امام ابوحنیفہ کا قول دلیل ہے، رسول اللہ e کا فرمان کافی نہیں۔‘‘ العیاذ باللہ (تقریر ترمذی)
قارئین کرام! تعصب سے بالا تر ہو کر فیصلہ کریں کہ کیا تقلید انسان کو وحی الٰہی سے دُور نہیں کرتی، رسول اللہe کی مخالفت پر نہیں اکساتی، انکار حدیث پر آمادہ نہیں کرتی اور سلف صالحین کا دشمن بنا کر نفس پرستی میں مبتلا نہیں کرتی ؟
ایسے لوگوں کی جرأت اور بے باکی پر حیرانی ہوتی ہے کہ یہ  خدمت اسلام کے نام پر کس ڈھٹائی سے سنتوں کا انکار کر دیتے ہیں۔
الحاصل:
تشہد کے لیے بیٹھتے ہی دائیں ہاتھ کی شہادت والی انگلی کو اٹھانا اور تشہد کے اختتام تک اسے اٹھائے رکھنا رسول اللہe کی پیاری سنت ہے۔ آپe سے تشہد کے دوران انگلی کو حرکت دینا اور ساکن رکھنا، دونوں صورتیں ثابت ہیں۔
جن لوگوں نے رفع سبابہ والی پیاری سنت کا انکار کرتے ہوئے اسے بدعت تک کہہ دیا، انہیں اپنے ایمان کی فکر کرنی چاہیے۔
دُعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں رسول اللہe کی سنتوں کے انکار سے بچائے اور ان پر دل و جان سے عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!


No comments:

Post a Comment

View My Stats