مفکر اسلام مولانا معین الدین لکھوی رحمہ اللہ 46-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Sunday, December 08, 2019

مفکر اسلام مولانا معین الدین لکھوی رحمہ اللہ 46-2019


مفکر اسلام مولانا معین الدین لکھوی

تحریر: جناب ڈاکٹر عبدالغفار حلیم
آسمانِ دنیا پر ہزاروں لاکھوں چاند نمودار ہوئے کئی چاند سر آسمان چمک چمک کر پلٹ گئے‘ کوئی کم چمکا اور کوئی زیادہ۔کوئی کم عرصہ کے لیے چمکا تو کوئی زیادہ عرصہ کے لیے چمکا۔ان میں سے ہمارے ممدوح گلِ سرسبد‘ خاندانِ لکھویہ،مفکر اسلام حضرت معین الدین لکھویؒ پوری آب و تاب سے طویل عرصے تک چمکے اور کئی بجھے ہوئے تاروں کو چمکا گئے۔مولانا معین الدین لکھویؒ جو مرکز اسلام لکھو کی سے اٹھے۔ایک چھوٹی سی غیر معروف بستی سے جنم لے کر برصغیر کے افق سے طلوع ہو کر دنیا کے کئی گوشوں کو روشن کر گئے اور ثریٰ سے ثریا تک رسائی حاصل کی۔آج انہی کی بدولت لکھوکی پوری دنیا میں مشہور و معروف ہے۔
مولاناؒ ایک عظیم علمی خاندان کے چشم و چراغ تھے۔مولانا لکھویؒ اور ان کے خاندان کی لازوال،لا تعداد دینی خدمات اس عروج پر پہنچیں کہ شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ اور ان کے خاندان کے بعد افق برصغیر پر جو خاندان پوری آب و تاب سے طلوع ہوا اور جنہوں نے دلوں پر حکمرانی کی وہ لکھوی خاندان ہے‘ جو کم از کم سات پشتوں سے امت مسلمہ کی گلہ بانی اور تجدید اسلام کے منصب پر فائز رہا۔ مولانا معین الدین لکھویؒ بیک وقت متبحر عالم، جیّد عالم دین‘ شیخ القرآن و الحدیث،مدبر،مفکراسلام،مفسر،مفتی اورایک عمدہ خطیب اور ایک اعلیٰ سیاسی بصیرت رکھنے والی شخصیت تھے۔وہ ایک باوقار،پُر عظمت،ولی کامل،تہجد گزار،شبِ زندہ داراور گونا گوں محاسن و فضائل کا مجموعہ تھے۔
مولاناؒ کے چہرے پر نور و اخلاص اور لِلّٰہیّت کی واضح جھلک تھی۔دیکھنے والا ان کے خوبصورت انداز گفتگو،شگفتہ نفاست،شرافت و عظمت، سنجیدگی سے فوراً متأثر ہوجاتا۔قیام پاکستان کے فوراً بعد مرکزی جمعیت اہلحدیث کا قیام عمل میں آیاتو مولانا سید محمد داؤد غزنویؒ اور مولانا محمد اسماعیلؒ نے انہیں نائب امیر نامزد کیا۔مولانا سلفیؒ کی وفات کے بعد مرکزی جمعیت کاامیر منتخب کیا گیاجو ان کے سوا کسی کی شایان شان نہ تھا۔عمر کے آخری سالوں میں انہیں سرپرست بنایا گیا جماعتی۔ مسلکی زندگی میں ان کا اہم رول رہا ہے۔قیام پاکستان کے بعد مولانا معین الدین لکھویؒ نے سیاست میںحصہ لیا اور ضلع اوکاڑہ کے چیئرمین منتخب ہوئے۔بعد ازیں ملکی سیاست میں بھرپور حصہ لیا۔ایک مرتبہ شوریٰ کے رکن نامز دہوئے اور تین مرتبہ عام الیکشن میں کامیاب ہو کر اسلامی جمہوریہ پاکستان کی مقننہ کے باقاعدہ رکن منتخب ہوئے۔پارلیمینٹ میں نفاذِ اسلام کے لیے،قرآن و سنت کے احیاء کے لیے،ظلم واستبداد کے خاتمے کے لیے، عدل و انصاف کے حصول کے لیے ان کی خدمات کو سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔نصاب تعلیم میں عربی کو لازمی حصہ قرار دینے،عربی کا نئے سرے سے اجرا،وفاق المدارس کو ایم اے کے برابر مقام دلانااورزکوٰۃ کا نظام ملک میں نافذ کروانا ان کی خاص خدمات کا حصہ ہیں۔سودی نظام کے خاتمہ کے لیے پارلیمنٹ میں آواز اٹھاتے رہے۔ان کا چلنا، اٹھنا، بیٹھنا، جلسوں، اجلاسوں میں شامل ہوناہر لمحہ اسلام کے لیے وقف تھا۔ ۱۹۷۷ء کے انتخابی اجتماعی جلسہ الہٰ آباد میں کسی نے کہہ دیا کہ حضرت نماز عصر کا وقت ہو گیا ہے۔ مولاناؒنے فرمایا کہ ہم نماز ہی پڑھ رہے ہیں۔ چونکہ مولانا ؒکی ساری زندگی اعلائے کلمۃ اللہ کے لیے وقف تھی اس لیے وہ ایسے ہی تھے جیسے ہمیشہ نماز پڑھ رہے ہیں۔ جیسا کہ صحیح بخاری میں ہے کہ سیدنا عمر فاروقؓ فرماتے تھے کہ میں نماز میں بھی جہاد کے لیے لشکر کرتا رہتا تھا۔مولانا اکثریہ شعر پڑھا کرتے تھے:
میری زندگی کا مقصد تیرے دیں کی سرفرازی
میں اسی لیے مسلماں میں اسی لیے نمازی
مولانا معین الدین لکھویؒ نے ملکی سیاست میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔کوئی ایسا میدان نہ تھا جس میں انہوں نے ہر اول دستے کے طور پہ قیادت نہ کی ہو۔مذہب ہو یا سیاست،دین ہو یا دنیا،سوسائٹی ہو یا برادری،کونسل ہو یا پارلیمنٹ،مسجد ہو یا مدرسہ،تحریک خلافت ہو یا تحریک ختم نبوت،جمہوریت ہو یا تحریک نفاذ نظام مصطفیٰؐ انہوں نے ہر محاذ پر اسلام کی ترجمانی اور وکالت کی۔جوانی سے لے کر آخر دم تک ہمیشہ اسلام کے نفاذ کے لیے کوشاں رہے۔مولانا معین الدین لکھویؒ ساری زندگی طاغوت اور باطل سے برسرِ بیکار رہے۔حق کی پاداش میں کئی مرتبہ پابند سلاسل بھی رہے۔مصائب و آلام میں استقامت اختیار کی۔وہ بکے نہ جھکے‘ نہ ہی ان کے قدموں میں لغزش آئی اور نہ وہ مداہنت کا شکار ہوئے۔
مولانا معین الدین لکھویؒ سیاست میں بھی حسین امتیاز کے حامل تھے۔ جب تک سیاست میں رہے حلقہ و علاقہ کے تمام سیاستدان آپ کے مرہون رہے۔ الیکشن بلدیہ کا ہو یا صوبائی یا قومی یا عام الیکشن ہو‘ مولانا بھر پور شرکت فرماتے اور اپنے حلقوں کو جتوانے میں کوئی کسر نہ چھوڑتے۔مولاناؒ کی زندگی میں علاقہ بھر کی سیاست کی گاڑی ان کے بغیر نہ چل سکی۔ مولاناؒ نابغہ روزگار مدبر، سنجیدہ فکر اور عمدہ فہم کی حامل شخصیت تھے۔ہوش سنبھالنے سے تا دم آخر اعلائے کلمۃ اللہ اور نفاذِ شریعت اسلامی کے لیے اپنی زندگی وقف رکھی۔ ان کا اٹھنا، بیٹھنا، چلنا، کھانا، پینا، دوستی، دشمنی، معاملات، معاشرت شب و روز سب اسی فکر اور لگن سے عبارت تھے وہ سیاست کو دین کے تابع اور عبادت سمجھتے تھے۔سیاست کو بغیر دین کے رہبانیت تصور کرتے تھے۔
علامہ مرحوم کے شعر پہ اکتفا کرتے کہ
جلال پادشاہی ہو کہ جمہوری تماشا ہو
جدا ہودیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی
مولانا معین الدینؒ اتحاد بین المسلمین اور مذہبی یگانگت کے بڑے روادار تھے۔وہ ملک بھر میں اتفاق واتحاد کی علامت تھے۔فرقہ واریت کے خلاف ملک بھر میں ہمیشہ آواز بلند کرتے رہے۔یہی وجہ ہے کہ سیاسی و مذہبی پارٹیوں میں مولاناؒ کو انتہائی قدر و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔مولاناؒ کی جماعتی،مسلکی،دینی،قومی،سیاسی اور ملی خدمات کا دائرہ انتہائی وسیع تھا۔ اُن کی انہی لازوال،بے مثال خدمات کے صلے میں حکومت پاکستان نے انہیں سند تمغہ ستارہ امتیاز سے نوازا۔مولانا معین الدینؒ نے اپنے ادارے کے لگائے ہوئے دینی پودے جامعہ محمدیہ کی اس حد تک آبیاری کی کہ ملک کے بڑے بڑے مدرسوں کی صف میں جامعہ محمدیہ کا شمار ہوتا ہے۔مولاناؒ کے دورانِ اہتمام ہزاروں علماء فارغ التحصیل ہو کر اندرون و بیرون ملک دین کی خدمت میں مصروف ہیں۔مولاناؒ اپنی فانی دنیاوی کامیاب زندگی بسر کر کے عالمِ بقا کو کوچ کر گئے مگر ان کی زندگی کی حسین داستانیں اور ان کے گہرے ان مٹ نقوش، اعلیٰ کردار، اسلام کے لیے ان کی کاوشیں امت کے لیے مشعل راہ اور راہنمائی کا ذریعہ رہیں گی۔یقیناً وہ جنت میں اعلیٰ وارفع مقام پر ہوں گے۔


No comments:

Post a Comment

View My Stats