اداریہ.. مرزائی ... آستین کے سانپ 46-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Sunday, December 08, 2019

اداریہ.. مرزائی ... آستین کے سانپ 46-2019


مرزائی ... آستین کے سانپ

ختم نبوت اسلام کا ایک بنیاد اور اساسی عقیدہ ہے جس پر دشمنان اسلام نے ضرب لگانے کی مذموم کوششیں کی ہیں۔ ان ظالموں میں سے ایک مرزا قادیانی بھی ہے۔ جس نے ختم نبوت کی مہر توڑنے اور قصرِ نبوت میں نقب زنی کے لئے اس آیت پاک کی مجرمانہ اور جاہلانہ تاویل کی۔ جس سے امت مسلمہ چودہ سو سال سے ختم نبوت کا ثبوت مہیا کر رہی ہے۔ ستم یہ ہے کہ اس نے ختم نبوت کی اس آیت ہی کو اپنی نبوت کا ذبہ کے لئے دلیل بنایا اور امت محمدیہ میں اختلاف پیدا کر کے اس کی وحدت کو پارہ پارہ کرنے کی سازش کی۔ اس کی تکذیب اور تکفیر کا فتویٰ سب سے پہلے اہل حدیث کے ممتاز عالم دین اور محقق حضرت مولانا محمد حسین بٹالویؒ نے مرتب کیا اور اس پر سب سے پہلے شیخ الکل حضرت میاں نذیر حسین محدث دہلویؒ نے مہر تصدیق ثبت کی۔ پھر برصغیر سے ہر مکتب فکر کے سینکڑوں علماء کرام نے اس فتویٰ پر دستخط کئے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ مرزائیت، انگریز کا خود کاشتہ، ساختہ و پرداختہ پودا ہے اور غداری، ملت فروشی مرزا قادیانی کا خاندانی پیشہ تھا۔ اس نے دین کے نام پر سراسر ایک غیر اسلامی سیاست کا کھیل کھیلا۔ برطانوی سامراج کی تعریف و توصیف، جہاد کی تنسیخ اور اسلامی ریاستوں میں اپنے ایجنٹوں کے ذریعے تخریب کاری اور جاسوسی کی تا کہ برصغیر اور مسلمانوں کا مستقبل تاریک ہو جائے اور ان کی یکجہتی کو نقصان پہنچایا جائے۔ مرزائیت کا مذموم مقصد یہ بھی تھا کہ مسلمانوں کے دلوں سے رسول ہاشمی علیہ الصلوٰۃ والسلام کی عزت و توقیر اور محبت وادبستگی کو مجروح کیا جائے۔ مگر     ؎
ایں خیال است و محال است و جنوں
حقیقت یہ ہے کہ انگریز مسلمانوں کے جذبۂ جہاد اور شوقِ شہادت سے بڑا خائف تھا۔ اس نے مرزا قادیانی کو اپنا آلہ کار بنا کر تنسیخ جہاد پر تقریر و تحریر کی ترغیب دی اور یہ عالم اسلام کے خلاف بڑی خوفناک سازش تھی۔
یہ سب کچھ انگریز کی خوشنودی اور مسلمانوں سے دشمنی کے لئے کیا جا رہا تھا۔ مرزا قادیانی انگریز کی حکومت کو اللہ تعالیٰ کی نعمت قرار دیتا تھا اور اس کے احسانات پر اظہار تشکر کو واجب قرار دیتا تھا۔ اسی لئے اس کی عمر کا اکثر حصہ انگریز حکومت کی تائید و حمایت اور تعریف و توصیف میں گزرا۔
باخبر لوگ جانتے ہیں کہ شاعر مشرق علامہ اقبالؒ نے واضح طور پر امت مسلمہ کو دین اسلام اور ملت اسلامیہ کے خلاف یہود و نصاریٰ کی ایک بہت بڑی گھنائونی سازش ’’فتنہ قادیانیت‘‘ سے خبردار کیا تھا‘ اسی طرح قیام پاکستان کے خلاف اس گروہ کی ریشہ دوانیوں سے پوری قوم آگاہ ہے۔ تقسیم ہند کے بعد انگریز کے اس خود کاشتہ پودے نے پاکستان میں بھی اپنے برگ و بار پھیلانے شروع کر دئیے۔ آنجہانی سر ظفر اللہ، قائداعظم محمد علی جناحؒ کے جنازہ میں شریک نہیں ہوا تھا۔ اس نے بطور وزیر خارجہ بیرونی ممالک میں مرزائیت کو بڑا فروغ دیا۔ پاکستانی سفارتخانوں میں قادیانی آفیسر بھرتی کئے جن کے ذریعے وہاں نہ صرف قادیانیت کا تعارف ہوا بلکہ ان سے بڑی تقویت ملی۔ خصوصاً افریقی ممالک میں اس کے بڑے مراکز قائم ہوئے اور نبوت کا ذبہ کی بڑی تشہیر ہوئی۔ وطن عزیز کے ابتدائی برسوں میں قادیانیوں نے بڑے جارحانہ انداز میں مرزا قادیانی کے عقائد فاسدہ کا پرچار کیا جس کے نتیجے میں ۱۹۵۳ کی تحریک ختم نبوت برپا ہوئی۔ اس تحریک کے بعد قادیانیوں نے اپنا انداز تبلیغ بدل لیا اور قدرے زیر زمین کام شروع کر دیا۔ چنانچہ ان کا ایک گروہ مجددیت کا پرچار کر رہا تھا تو دوسرا مرزا قادیانی کی نبوت کی تبلیغ میں مصروف تھا۔ اس جعلی نبوت کی تلخی کو کم کرنے کے لئے ظلی اور بروزی کے نام بھی دئیے گئے۔ مگر امت مسلمہ نے ان کے ہر رخ اور ہر حیثیت کو مسترد کر دیا۔
یہ کتنے ظلم کی بات ہے کہ مرزائی، مسلمانوں کو کافر اور فاسق سمجھتے ہیں جبکہ اس امر پر پوری امت مسلمہ کا اتفاق ہے کہ مرزائی غیر مسلم اور مرتد ہیں۔ ۱۹۷۴ء کی تحریک تحفظ ختم نبوت کے نتیجہ میں مرزائیوں کو قومی اسمبلی نے غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا تھا۔ جس سے پوری دنیا میں مرزائیت منہ دکھانے کے قابل نہ رہی۔ چنانچہ قادیانی گروہ نے اپنی مٹتی ہوئی ساکھ کو سہارا دینے کے لئے عقیدۂ ختم نبوت کے خلاف ملک اور بیرون ملک اپنی سازشیں شروع کر رکھی ہیں۔ وطن عزیز میں پاسپورٹ سے مذہب کا خانہ حذف کرانے میں مرزائی لابی کا بڑا حصہ ہے اور اسے عسکری حکمرانوں کی آشیر باد بھی حاصل تھی۔ حالانکہ مذہب کے خانے کی موجودگی بیحد ضروری ہے، تا کہ معلوم ہو سکے کہ پاسپورٹ کا حامل شخص عیسائی ہے، سکھ ہے، ہندو ہے، پارسی ہے یا مسلمان ہے۔ اس شناخت کے بغیر کوئی غیر مسلم شخص بھی حرم شریف میں داخل ہو کر مسلمانوں کے خلاف کوئی سازش کر سکتا ہے۔ علامہ اقبالؒ نے کہا تھا کہ قادیانی، اسلام اور وطن دونوں کے غدار ہیں۔ ’’مشرقی پاکستان‘‘ کے ممتاز سیاسی رہنما مولانا فرید احمد مرحوم نے اپنی کتاب ’’سورج بادلوں کی اوٹ میں‘‘ لکھا ہے کہ ایم۔ ایم۔ احمد (قادیانی) جو مرکزی حکومت میں ایک کلیدی آسامی پر کام کر رہا تھا وہ یہودیوں کے ایماء پر پاکستانی سیاست میں دخیل رہا۔ حقیقی بات یہ ہے کہ سانحہ مشرقی پاکستان میں ایم۔ ایم۔ احمد نے بڑا گھنائونا کردار ادا کیا۔ یہ شخص جنرل یحییٰ خان کے بہت قریب تھا۔ اب بھی اس خانہ ساز نبوت کے حواری پاکستان کی سالمیت، استحکام اور بقاء کے خلاف ریشہ دوانیوں میں مصروف ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ قادیانی افسران کو کلیدی اسامیوں سے برطرف کیا جائے۔ سچی بات یہ ہے کہ اکھنڈ بھارت قادیانیوں کا مذہبی عقیدہ ہے۔ مرزائی ترجمان روزنامہ ’’الفضل‘‘ قادیان ضلع گورداسپور (بھارت) مورخہ ۱۷ مئی ۱۹۴۷ء کے شمارہ میں قادیانیوں کے دوسرے خلیفہ مرزا بشیر الدین محمود کا یہ بیان شائع ہوا کہ ’’ہم ہندوستان کی تقسیم پر خوشی سے رضا مند نہیں ہوئے بلکہ مجبوری سے، ہم پھر یہ کوشش کریں گے کہ پھر یہ کسی طرح متحد ہو جائے۔‘‘ اس زہر ناک بیان سے واضح ہوتا ہے کہ یہ گروہ پاکستان کا کس قدر دشمن ہے؟ اس وقت پاکستان تاریخ کے نہایت نازک دور سے گزر رہا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ دینی جماعتیں اشتراک عمل سے قادیانیت کے خطرناک دینی اور سیاسی عزائم کو خاک میں ملادیں۔ حکمرانوں کو بھی اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنا چاہیے۔ ’’مرزائیل‘‘ اور ’’اسمٰعیل‘‘ ایسے وطن دشمن منصوبوں کا قلع قمع کر دینا چاہیے۔ اس سے ملک و ملت کا بھلا ہوگا اور مسلمان، مرزائیت کی ریشہ دوانیوں سے محفوظ رہ سکیں گے۔
دھاندلی کی پیداوار عمرانی حکومت بھی اس غیر مسلم فرقہ کے بارے نرم گوشہ رکھتی ہے۔ یہ حکومت وجود میں آتے ہی مرزائی کھل کر منظر عام پر آگئے ہیں۔ حکومت بھی ان کے ایجنڈے کی تکمیل پر عمل پیرا نظر آتی ہے۔ اس کی تازہ مثال کرتارپور ضلع نارووال کے مقام پر راہداری پوائنٹ کھولنا ہے جو بظاہر تو سکھوں کے مقدس مقامات کے لیے کھولا گیا ہے لیکن در پردہ اس کا سارا مفاد قادیانیوں کے حق میں ہے۔ کیونکہ بارڈر کے دوسری جانب قادیان شہر قریب ہی واقع ہے۔ مرزائیوں کا ربوہ اور قادیان میں رابطہ قریب تر ہو جائے گا۔ اس راہداری کے کھلنے سے قادیانی خوشی سے بغلیں بجا رہے ہیں۔ پاکستان کو اس راہداری سے منافقین کی ریشہ دوانیوں اور را کے ایجنٹوں کی دہشت گردی کے سوا کچھ حاصل نہ ہو گا۔


No comments:

Post a Comment

View My Stats