توحید .. فضیلت واقسام 46-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Sunday, December 08, 2019

توحید .. فضیلت واقسام 46-2019


توحید .. فضیلت واقسام

تحریر: جناب مولانا حافظ عبدالرحمن
توحید ایک عظیم نعمت ہے، توحید اسلام کا کل سرمایہ ہے، توحید کے بغیر کوئی بھی عمل قابل قبول نہیں، توحید اسلام کی شناخت ہے، توحید کے بغیر رب کائنات کی رضا مندی اور اس کی جنت ملنا محال ہے، مشرک کے لئے جہنم کا عذاب یقینی ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی وضاحت فرمائی ہے۔
{اِنَّ اللّٰه لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَك بِهٖ وَیَغْفِرُ مَادُوْنَ ذٰلِك لِمَنْ یَّشَآءُ} (النساء:۱۱۶)
’’اللہ تعالیٰ اس بات کو کبھی نہیں معاف کرتا کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے، اس کے سوا باقی جسے چاہے معاف کردے۔‘‘
اس کائنات کی دو عظیم مخلوق جن و انس کی تخلیق کا مقصد ہی توحید کا قیام ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:
{وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنَ} (الذاریات:۵۶)
’’اور میں نے جن و انس کو اپنی بندگی کے لئے پیدا کیا ہے۔‘‘
ایک دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:
{قُلْ تَعَالَوْا اَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكمْ عَلَیْكمْ اَلَّا تُشْرِكوْا بِهٖ شَیْئًا} (الانعام:۱۵۱)
سیدنا عبداللہ بن مسعودt فرماتے ہیں کہ جو شخص نبی کریمe کی سربمہر وصیت ملاحظہ کرنا چاہتا ہے تو اسے چاہئے کہ وہ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان پڑھ لے۔
{قُلْ تَعَالَوْا اَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكمْ عَلَیْكمْ اَلَّا تُشْرِكوْا بِهٖ شَیْئًا وَّ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا وَ لَا تَقْتُلُوْٓا اَوْلَادَكمْ مِّنْ اِمْلَاقٍ نَحْنُ نَرْزُقُكمْ وَ اِیَّاھُمْ وَلَا تَقْرَبُوا الْفَوَاحِشَ مَا ظَھَرَ مِنْھَا وَ مَا بَطَنَ وَلَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰه اِلَّا بِالْحَقِّ ذٰلِكمْ وَصّٰكمْ بِهٖ لَعَلَّكمْ تَعْقِلُوْنَ وَلَا تَقْرَبُوْا مَالَ الْیَتِیْمِ اِلَّا بِالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ حَتّٰی یَبْلُغُ اَشُدَّه وَ اَوْفُوا الْكیْلَ وَ الْمِیْزَانَ بِالْقِسْطِ لَا نُكلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَھَا وَ اِذَا قُلْتُمْ فَاعْدِلُوْا وَ لَوْ كانَ ذَا قُرْبٰی وَ بِعَھْدِ اللّٰه اَوْفُوْا ذٰلِكمْ وَصّٰكمْ بِهٖ لَعَلَّكمْ تَذَكرُوْنَ……الخ} (الانعام:۱۵۱-۱۵۳)
’’کہہ دو کہ (لوگو!) آئو میں تمہیں وہ چیزیں پڑھ کر سنائوں جو تمہارے رب نے تم پر حرام کی ہیں (ان کی نسبت اس نے اس طرح ارشاد فرمایا ہے) کہ کسی چیز کو اللہ کا شریک نہ بنانا اور ماں باپ سے (بدسلوکی نہ کرنا بلکہ) سلوک کرتے رہنا اور مفلسی (کے اندیشے) سے اپنی اولاد کو قتل نہ کرنا کیونکہ تمہیں اور انہیں ہم ہی رزق دیتے ہیں اور بے حیائی کے کام خواہ وہ ظاہر ہوں یا پوشیدہ ان کے پاس نہ جانا اور کسی جان (والے) کو جس کے قتل کو اللہ نے حرام کر دیا ہے قتل نہ کرنا مگر جائز طور پر (یعنی) جس کا شریعت حکم دے) ان باتوں کا وہ تمہیں حکم دیتا ہے تا کہ تم سمجھو۔ اور یتیم کے مال کے پاس بھی نہ جانا مگر ایسے طریق سے کہ بہت ہی پسندیدہ ہو یہاں تک کہ وہ جوانی کو پہنچ جائے۔ اور ماپ اور تول انصاف کے ساتھ پورا پورا کیا کرو۔ ہم کسی کو تکلیف نہیں دیتے مگر اس کی طاقت کے مطابق۔ اور جب (کسی کی نسبت) کوئی بات کہو تو انصاف سے کہو گو وہ (تمہارا) رشتہ دار ہی ہو اور اللہ کے عہد کو پورا کرو۔ ان باتوں کا اللہ تمہیں حکم دیتا ہے تا کہ تم نصیحت حاصل کرو۔ اور میرا سیدھا راستہ یہی ہے تو تم اسی پر چلنا اور دوسرے رستوں پر نہ چلنا کہ (ان پر چل کر) اللہ کے رستے سے الگ ہو جائو گے۔ ان باتوں کا اللہ تمہیں حکم دیتا ہے تا کہ تم متقی بنو۔‘‘
’’سیدنا ابوہریرہt سے مروی ہے کہ نبی کریم e سے پوچھا گیا یا رسول اللہ! قیامت کے دن آپ کی شفاعت کا سب سے زیادہ مستحق کون ہوگا؟ آپe نے فرمایا: اے ابوہریرہ! حدیث کے سلسلہ میں تمہاری تڑپ اور لگن کو دیکھتے ہوئے میں نے یہی گمان کر رکھا تھا کہ اس بارے میں تم سے پہلے کوئی دوسرا یہ سوال نہیں کرے گا، (سنو) جس شخص نے خلوص دل سے لا الہ الا اللہ کہا وہی سب سے بڑھ کر میری شفاعت کا مستحق ہو گا۔‘‘ (بخاری، الفتح:۱/۹۹)
صحیح مسلم میں سیدنا عثمانt سے مروی ہے کہ نبی کریمe نے فرمایا:
’’جو شخص اس حال میں مرے کہ وہ یہ جانتا ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں تو وہ جنت میں داخل ہوگا۔‘‘  (مسلم: حدیث نمبر۲۶)
توحید کی اقسام
اہل علم نے توحید کو سمجھانے کے لیے اس کی تین قسمیں بیان کی ہے، اور توحید کی یہ تینوں قسمیں قرآن کریم ہی سے مستفاد ہیں۔
Ý توحید ربوبیت     Þ توحید الوہیت  ß توحید اسماء و صفات
Ý توحید ربوبیت:
یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو اس کے افعال میں منفرد اور یکتا مانا جائے اور یہ عقیدہ رکھا جائے کہ کائنات کی تخلیق میں، انہیں روزی دینے میں، انہیں زندگی اور موت دینے میں اللہ تعالیٰ یکتا اور تنہا ہے، اللہ کے سوا کوئی رازق نہیں، اللہ کے سوا کوئی نفع و نقصان کا مالک نہیں، وہی کائنات کا نظام چلانے والا ہے، ان تمام امور میں اللہ کا کوئی شریک نہیں، وہ علی وجہ الکمال منفرد اور یکتا ہے۔
{اَلْحَمْدُ لِلّٰه رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ} (الفاتحه:۱)
’’سب تعریف اللہ تعالیٰ کے لئے ہے جو تمام جہانوں کا پالنہار ہے۔‘‘
ایک دوسری جگہ پر اللہ تعالیٰ نے اپنی ربوبیت کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا:
{اِنَّ رَبَّكمُ اللّٰه الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ فِیْ سِتَّة اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰی عَلَی الْعَرْشِ یُغْشِی الَّیْلَ النَّھَارَ یَطْلُبُه حَثِیْثًا وَّ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ وَ النُّجُوْمَ مُسَخَّرٰتٍ بِاَمْرِهٖ اَلَا لَه الْخَلْقُ وَ الْاَمْرُ تَبٰرَك اللّٰه رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ} (الاعراف:۵۴)
’’بیشک تمہارا رب اللہ ہی ہے جس نے سب آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں پیدا کیا، پھر عرش پر مستوی ہوا، وہ رات کو دن سے اس طرح چھپا دیتا ہے کہ وہ رات اس دن کو جلدی سے آ لیتی ہے، اور سورج اور چاند اور دوسرے ستاروں کو پیدا کیا ایسے طور پر کہ سب اس کے حکم کے تابع ہیں۔ یاد رکھو! اللہ ہی کے لئے خاص ہے خالق ہونا اور حاکم ہونا، بڑی خوبیوں سے بھرا ہوا ہے اللہ جو تمام عالم کا رب ہے۔‘‘
رب کی ربوبیت کے اثبات میں قرآن کریم کی بیشمار آیات ہیں، لیکن آپ اس حقیقت کو خوب اچھی طرح جان لیں کہ اگر کسی نے توحید کی صرف اسی قسم کا اقرار کیا تو یہ اقرار اس کے مسلمان ہونے کے لئے کافی نہیں، اس لئے کہ کفار بھی اللہ کی ربوبیت کا اقرار کرتے تھے، وہ بھی اللہ کو خالق و رازق مانتے تھے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے متعدد مقامات پر اس بات کی وضاحت فرمائی ہے۔ چنانچہ ایک مقام پر فرمایا:
’’(ان سے) پوچھو کہ تمہیں آسمان اور زمین میں رزق کون دیتا ہے یا (تمہارے) کانوں اور آنکھوں کا مالک کون ہے اور بے جان سے جاندار کون پیدا کرتا ہے اور جاندار سے بے جان کون پیدا کرتا ہے اور دنیا کے کاموں کا انتظام کون کرتا ہے؟ جھٹ کہہ دیں گے کہ اللہ۔ تو کہو کہ پھر تم (اللہ سے) ڈرتے کیوں نہیں؟ یہی اللہ تو تمہارا رب ہے اور حق بات کے ظاہر ہونے کے بعد گمراہی کے سوا ہے ہی کیا تو تم کہاں پھرے جاتے ہو؟ اسی طرح اللہ کا ارشاد ان نافرمانوں کے حق میں ثابت ہو کر رہا کہ یہ ایمان نہیں لائیں گے۔ (ان سے) پوچھو کہ بھلا تمہارے شریکوں میں کوئی ایسا ہے کہ مخلوقات کو ابتدائً پیدا کرے (اور) پھر اس کو دوبارہ بنائے؟ کہہ دو کہ اللہ ہی پہلی بار پیدا کرتا ہے پھر وہی اس کو دوبارہ پیدا کرے گا تو تم کہاں بد کے جا رہے ہو؟ پوچھو کہ بھلا تمہارے شریکوں میں کون ایسا ہے کہ حق کا رستہ دکھائے؟ کہہ دو کہ اللہ ہی حق کا رستہ دکھاتا ہے‘ بھلا جو حق کا رستہ دکھائے وہ اس قابل ہے کہ اس کی پیروی کی جائے یا وہ کہ جب تک کوئی اسے رستہ نہ بتائے رستہ نہ پائے تو تمہیں کیا ہوا ہے؟ کیسا انصاف کرتے ہو؟‘‘
ایک اور مقام پر فرمایا:
{وَلَئِنْ سَاَلْتَهمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ لَیَقُوْلُنَّ اللّٰه قُلْ اَفَرَئَ یْتُمْ مَّا تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰه اِِنْ اَرَادَنِیَ اللّٰه بِضُرٍّ هلْ هنَّ كٰشِفٰتُ ضُرِّهٖٓ اَوْ اَرَادَنِیْ  بِرَحْمَة هلْ هنَّ مُمْسِكٰتُ رَحْمَتِهٖ قُلْ حَسْبِیَ اللّٰه عَلَیْه یَتَوَكلُ الْمُتَوَكلُوْنَ} (الزمر:۳۸)
’’اگر آپ ان سے پوچھیں کہ آسمان و زمین کو کس نے پیدا کیا ہے؟ تو یقینا وہ یہی جواب دیں گے کہ اللہ نے، آپ ان سے کہیے کہ اچھا یہ تو بتائو جنہیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو اگر اللہ تعالیٰ مجھے نقصان پہنچانا چاہے تو کیا یہ اس کے نقصانات کو ہٹا سکتے ہیں؟ یا اللہ تعالیٰ مجھ پر مہربانی کا ارادہ کرے تو کیا یہ اس کی مہربانی کو روک سکتے ہیں؟ آپ کہہ دیں کہ اللہ مجھے کافی ہے، توکل کرنے والے اسی پر توکل کرتے ہیں۔‘‘
نیز فرمایا:
{ولئن سالتھم من خلق السموات والارض لیقولن خلقھن العزیز العلیم} (الزخرف:۹)
’’اگر آپ ان سے دریافت کریں کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا تو یقینا ان کا جواب یہی ہو گا کہ انہیں غالب و دانا (اللہ) نے ہی پیدا کیا ہے۔‘‘
اسی طرح ایک اور مقام پر فرمایا ہے:
{قُلْ مَنْ بِیَدِه مَلَكوتُ كلِّ شَیْئٍ وَّهوَ یُجِیرُ وَلاَ یُجَارُ عَلَیْه اِِنْ كنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ سَیَقُوْلُوْنَ لِلَّه قُلْ فَاَنَّا تُسْحَرُوْنَ} (المومنون:۸۸-۸۹)
’’پوچھئے کہ تمام چیزوں کا اختیار کس کے ہاتھ میں؟ جو پناہ دیتا ہے، اور جس کے مقابلے میں کوئی پناہ نہیں دیا جاتا، اگر تم جانتے ہو تو بتلا دو۔ یہی جواب دیں گے کہ اللہ ہی ہے، کہہ دیجئے پھر تم کدھر سے جادو کر دیے جاتے ہو۔‘‘
ایک اور جگہ فرمایا:
{قل من رب السموات والارض قل الله قل افاتخذتھم من دونه اولیاء……الخ} (الرعد:۱۶)
’’آپ پوچھئے کہ آسمانوں اور زمین کا رب کون ہے؟ کہہ دیجئے! اللہ، کہہ دیجئے! کیا تم پھر بھی اس کے سوا اوروں کو حمایتی بنا رہے ہو جو خود اپنی جان کے بھی بھلے برے کا اختیار نہیں رکھتے، کہہ دیجئے کہ کیا اندھا اور بینا برابر ہو سکتا ہے؟ یا کیا اندھیریاں اور روشنی برابر ہو سکتی ہے، کیا جنہیں یہ اللہ کے شریک ٹھہرا رہے ہیں انہوں نے بھی اللہ کی طرح مخلوق پیدا کی ہے کہ ان کی نظر میں پیدائش مشتبہ ہو گئی ہو، کہہ دیجئے کہ صرف اللہ ہی تمام چیزوں کا خالق ہے‘ وہ اکیلا ہے، اور زبردست غالب ہے۔‘‘
ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اس بات کی وضاحت فرمائی ہے کہ مشرکین اس بات کا اقرار کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ہی خالق اور رازق ہے، وہی زندگی اور موت کا مالک ہے، لیکن اس کے باوجود مسلمان نہیں کہلائے، اس لئے کہ انہوں نے توحید الوہیت کا اقرار نہیں کیا تھا جس کی وجہ سے وہ کافر ٹھہرائے گئے۔
Þ     توحید الوہیت:
جس کا معنی یہ ہے کہ عبادت کی ساری قسمیں صرف اللہ کے لئے خاص کی جائیں یا یہ کہ ہماری ہر قسم کی عبادت کا مستحق صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔
نماز، دعا، ذبح، نذر، حج و عمرہ، صدقہ و خیرات وغیرہ ساری عبادتیں خالص اللہ کے لئے کی جائیں۔
توحید کی یہی وہ قسم ہے جسے مشرکین نے تسلیم نہیں کیا، وہ لوگ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کا اقرار کرتے تھے مگر الوہیت میں دوسروں کو شریک کر لیا کرتے تھے، اسی لئے جب نبی کریمe نے ان سے کہا کہ ’’لا الہ الا اللہ کہو، کامیاب ہو جائو گے، تو انہوں نے انتہائی حیرت کے ساتھ کہا:
{اجعل الالھة الھا واحدا ان ھذا لشیء عجاب وانطلق الملا ……الخ} (ص:۵-۹)
’’کیا اس نے اتنے معبودوں کی جگہ ایک ہی معبود بنا دیا؟ یہ تو بڑی عجیب بات ہے۔ تو ان میں جو معزز تھے وہ چل کھڑے ہوئے (اور بولے) کہ چلو اور اپنے معبودوں (کی پوجا) پر قائم رہو بیشک یہ ایسی بات ہے جس سے (تم پر شرف و فضیلت) مقصود ہے۔ یہ پچھلی ملتوں میں ہم نے کبھی سنی ہی نہیں‘ یہ بالکل بنائی ہوئی بات ہے۔ کیا ہم سب میں سے اسی پر نصیحت (کی کتاب) اتری ہے؟ (نہیں) بلکہ وہ میری نصیحت کی کتاب سے شک میں ہیں بلکہ انہوں نے ابھی میرے عذاب کا مزہ نہیں چکھا۔ کیا ان کے پاس تمہارے رب کی رحمت کے خزانے ہیں؟ جو غالب اور بہت عطا کرنے والا ہے۔‘‘
انہوں نے اللہ کی ربوبیت کے اقرار کے باوجود اس کی الوہیت کا انکار کیا، بلکہ وہ اللہ کی عبادت بھی کرتے تھے لیکن اللہ کے ساتھ اپنے دوسرے معبودوں کی عبادت بھی کرتے تھے، انہیں سفارشی سمجھتے، ان کا وسیلہ پکڑتے، اور عقیدہ رکھتے کہ ان کے اِن اعمال سے ان کے یہ (باطل) معبود انہیں اللہ سے قریب کر دیں گے، اسی لئے انہوں نے اپنے معبودوں کو چھوڑنے سے انکار کر دیا تھا، ٹھیک یہی حال آج کے قبر پرستوں کا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے صاف فرما دیا ہے کہ رسولوں کی بعثت کا مقصد توحید الوہیت کا قیام اور لوگوں کو سارے معبودوں سے ہٹا کر صرف ایک اللہ وحدہ لاشریک کی عبادت کا راستہ بتانا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
{ولقد بعثنا فی كل امة رسولا ان اعبدوا الله واجتنبوا الطاغوت} (النحل:۳۶)
’’اور ہم نے ہر امت میں ایک رسول بھیجا، (یہ حکم دے کر) وہ اللہ کی عبادت کریں اور طاغوت سے بچیں۔‘‘
ß     توحید اسماء و صفات:
اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر بندہ یہ عقیدہ رکھے کہ اللہ تعالیٰ اپنے اسماء و صفات (ناموں اور خوبیوں) میں یکتا ہے، اور ان میں اس کا کوئی مماثل نہیں۔ اللہ نے اپنے لئے جو کچھ ثابت کیا ہے بغیر کسی تحریف و تعطیل تمثیل وتکییف اور تشبیہ ہم اس پر ایمان رکھتے ہیں، جیسا کہ اس کا فرمان ہے:
’’اس جیسی کوئی چیز نہیں، وہ سننے اور دیکھنے والا ہے۔‘‘
{لیس كمثله شیء وھو السمیع البصیر} (الشورٰی)
ایک اور مقام پر فرمایا:
{ولله الاسماء الحسنی فادعوه بھا وذروا الذین یلحدون……الخ} (الاعراف:۱۸۰)
’’اور اللہ کے سب نام اچھے ہی اچھے ہیں تو اسے اس کے ناموں سے پکارا کرو اور جو لوگ اس کے ناموں میں کجی (اختیار) کرتے ہیں ان کو چھوڑ دو، وہ جو کچھ کر رہے ہیں عنقریب اس کی سزا پائیں گے۔‘‘
اللہ تعالیٰ نے اپنے لئے جن صفات کا ذکر کیا ہے ان پر ایمان رکھنا ضروری ہے، یہ صفات اللہ کی شایان شان ہیں، جیسے رحیم، سمیع، بصیر، یہ اللہ کی صفات ہیں، اللہ تعالیٰ نے اپنے لئے غصہ ہونا اور دینا اور منع کرنا ثابت کیا ہے جن پر ہمارا ایمان و عقیدہ ہے کہ یہ اللہ کی صفات افعال ہیں۔
اسی طرح صفات ذات جنہیں اس نے اپنے لئے ثابت کیا ہے، مثلاً ہاتھ اور چہرہ، چلنا اور دوڑنا وغیرہ، یہ صفات اللہ نے اپنے لئے بیان کی ہیں، یہ چیزیں اگر انسان کی سمجھ سے بالاتر ہوں تو اس کی کوئی تاویل و توجیہ نہ کی جائے‘ اس میں عقلی گھوڑے نہ دوڑائے جائیں، بلکہ یہ عقیدہ رکھا جائے کہ اللہ تعالیٰ کے اسماء ہیں، اللہ تعالیٰ کی صفات ہیں، جو اس کے شایان شان ہیں، مخلوق کے اسماء و صفات ہیں جو مخلوق کے شایان شان ہیں، نام یا معنی کے اشتراک سے حقیقت کا اشتراک لازم نہیں آتا، مثلا جنت میں باغات ہیں ان میں انگور اور کھجور ہیں، انار اور دوسرے پھل ہیں اور اس نام سے دنیا میں بھی پھل پائے جاتے ہیں، لیکن نام اور معنی میں یکسانیت ہونے کے باوجود جنت کے پھل دنیا کے پھلوں کی طرح نہیں ہیں۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کے نام اور اس کی صفات گرچہ لفظ اور معنی میں یکساں ہیں لیکن ان کی حقیقت اور کیفیت مختلف اور جدا ہے، ان کا علم اللہ کے سوا کسی کے پاس نہیں۔ اس لئے خالق کو مخلوق سے کبھی تشبیہ نہ دی جائے، جیسا کہ بعض کمزور عقیدہ لوگ یا تو اللہ کی صفات کی تاویل کرنے لگ جاتے ہیں یا انہیں مخلوق سے مشابہ قرار دیتے ہیں، جو سراسر گمراہی ہے، اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے صاف فرمایا ہے:
{لیس كمثلهٖ شیء وھو السمیع البصیر}
’’اس کی طرح کوئی چیز نہیں ہے اور وہ سننے اور دیکھنے والا ہے۔‘‘  (الشوریٰ)
ایک دوسرے مقام پر فرمایا:
{فلا تضربوا لله الامثال ان الله یعلم وانتم لا تعلمون} (النحل:۷۴)
’’پس اللہ تعالیٰ کے لئے مثالیں نہ بنائو، اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔‘‘
دنیا کے بہت سارے لوگ صرف اس وجہ سے گمراہ ہو گئے کہ انہوں نے توحید ربوبیت کا اقرار کرنے کے باوجود توحید الوہیت اور توحید اسماء و صفات کو ماننے سے انکار کر دیا، جس کی وجہ سے وہ حق سے محروم ہو گئے۔ اسی طرح کچھ لوگ صرف اس وجہ سے گمراہ ہوئے کہ انہوں نے تعداد کی کثرت دیکھ کر حق باطل کا فیصلہ کرنا شروع کر دیا، حالانکہ تعداد کی قلت و کثرت حق و باطل کی شناخت کا معیار نہیں، جیسا کہ ایک مقام پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:
’’اور دنیا میں زیادہ لوگ ایسے ہیں کہ اگر آپ ان کا کہا ماننے لگیں تو وہ آپ کو اللہ کی راہ سے بے راہ کر دیں، وہ محض بے اصل خیالات پر چلتے ہیں۔‘‘
نیز فرمایا:
{وَ مَآ اَكثَرُ النَّاسِ وَ لَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِیْنَ وَ مَا تَسْئَلُھُمْ عَلَیْه مِنْ اَجْرٍ اِنْ ھُوَ اِلَّا ذِكرٌ لِّلْعٰلَمِیْنَ وَكاَیِّنْ مِّنْ اٰیَة فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ یَمُرُّوْنَ عَلَیْھَا وَ ھُمْ عَنْھَا مُعْرِضُوْنَ وَمَا یُؤْمِنُ اَكثَرُھُمْ بِاللّٰه اِلَّا وَ ھُمْ مُّشْرِكوْنَ} (یوسف:۱۰۳-۱۰۶)
’’گو آپ چاہیں لیکن اکثر لوگ ایماندار نہ ہوں گے، آپ ان سے اس پر کوئی اجرت طلب نہیں کر رہے ہیں، یہ تو تمام دنیا کے لئے نصیحت ہی نصیحت ہے، آسمانوں اور زمین میں بہت سی نشانیاں ہیںجن سے یہ منہ موڑے گزر جاتے ہیں، ان میں سے اکثر لوگ باوجود اللہ پر ایمان رکھنے کے مشرک ہی ہیں۔‘‘
درحقیقت توحید الوہیت کے قیام کے لئے اور اس پر لگے ہوئے زنگ کو صاف کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے انبیاء و رسول بھیجے، پس جن لوگوں نے رسولوں کی دعوت کو قبول کیا وہ ہدایت یاب رہے اور جن لوگوں نے رسولوں کی دعوت کا انکار کیا وہ گمراہ ہو گئے۔
اسماء و صفات کے باب میں تاویل اور توجیہ بھی جہمیہ، معتزلہ، اشاعرہ اور معطلہ کا مذہب رہا ہے، جو سراسر باطل اور ناحق ہے، اہل سنت والجماعت نے توحید کے باب میں کسی قسم کی تاویل نہیں کی بلکہ انہوں نے بلاکم وکاست رسولوں کے پیغام کو قبول کیا، واضح رہے کہ اہل سنت والجماعت سے مراد سلف صالحین، اور اصحاب حدیث اور اہل حدیث ہیں۔


No comments:

Post a Comment

View My Stats