ہمارے علماء، خطباء ودینی اساتذہ 46-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Sunday, December 08, 2019

ہمارے علماء، خطباء ودینی اساتذہ 46-2019



ہمارے علماء، خطباء ودینی اساتذہ

تحریر: جناب پروفیسر محمد عاصم حفیظ
پیشگی معذرت کے ساتھ اور انتہائی ادب سے گزارش ہے کہ ہم سب یہ کیوں چاہتے ہیں کہ ہمارے علماء کرام‘ خطباء‘ دینی لکھاری و مصنف‘ مدارس و مساجد کے اساتذہ اور شیوخ سمیت دینی تعلیم و تبلیغ سے منسلک دیگر افراد صرف غریب مسکین‘ گھسے پٹے کپڑوں میں۔ عاجز اور کم ترین آمدن میں بھی صرف صبر و شکر کرنیوالے ہی ہوں۔
کیا اچھا لباس پہننا‘ اچھی گاڑی رکھنا‘ کچھ مناسب گھر بنا لینا‘ اپنی آمدن بڑھانے کے لیے کوشش کرنا‘ بہت بڑے بڑے گناہ ہیں جو معاف ہی نہیں ہو سکتے۔
ہم میں سے اکثر یہ کیوں چاہتے ہیں کہ کوئی بھی دینی شخص خوشحال نہیں ہونا چاہیے۔ جیسے ہی کسی کو تھوڑا سا خوش حال دیکھیں توشک کے گھوڑے دوڑائے جاتے ہیں۔ غلط فہمیوں کے انبار لگائے جاتے ہیں اور بہت سی بات باتیں شروع کر دی جاتی ہیں۔
کوئی بھی ایسا باصلاحیت عالم دین کہ جو ایک بڑے مجمع کو خطاب کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے‘ لوگ اسے سننا چاہتے ہیں‘ ہزاروں لوگ اس سے متأثر ہیں‘ اس کی بات میں اثر ہے تو کیا اس کا حق نہیں کہ اسکی صلاحیت کے مطابق خدمت کی جائے۔ کوئی ایسا لکھاری و مصنف جو سیکولر و لبرل طبقے کے اسلام مخالف حملوں کا جواب دیتا ہے‘ بڑے پیمانے پر اس کی تحریریں وکتب کو پسند کیا جاتا ہے لیکن کوئی بھی اسے معمولی معاوضہ دینے کو بھی تیار نہیں۔
کیا آپ نے اپنے معاشرے میں موٹیویشنل سپیکرز کو نہیں دیکھا جو ایک تقریر کے ہزاروں رو پے رجسٹریشن فیس ہر شرکت کرنے والے سے وصول کرتے ہیں۔ ان کا خطاب لوگ پیسے دیکر سننے جاتے ہیں۔ کیا یہاں سرکاری اور گورنمنٹ کالجز و یونیورسٹیز میں اور آن لائن رہنمائی پر کسی باصلاحیت پروفیسر کو فی منٹ کے حساب سے پیسے نہیں ملتے۔ کیا آپ نے ایسے ماہرین کے بارے میں نہیں سنا کہ جو تعلیمی اداروں اور مختلف سیمینارز سے خطابات کی بھاری رقوم حاصل کرتے ہیں۔ کیا آپ ایسے کالم نگار و اینکرز کے بارے میں نہیں جانتے کہ جو اپنی مخصوص مغرب زدہ و سیکولر سوچ پھیلاتے ہیں اور ان کا طبقہ لاکھوں کا معاوضہ دیتا ہے۔
میں فنکاروں اور دیگر کی مثال اس لیے نہیں دینا چاہتا کہ بہت سے لوگ اس سے ناراض ہو جائیں گے کہ وہ تو ’’گناہگار طبقہ‘‘ ہے لیکن حقیقت یہی ہے کہ کوئی اچھی آواز والا بغیر آلات کی مدد کے‘ معمولی ساؤنڈ سسٹم پر اگر خوبصورت نظم پڑھے تو اس کو جزاک اللہ ماشاء اللہ کہہ کر رخصت کیا جاتا ہے جبکہ اس سے بھی کم آواز والا اگر کہیں کسی محفل میں کوئی گیت سنائے تو وہ بڑی رقم لے کر ہی لوٹتا ہے۔
ہم یہ تو دیکھتے اور جانتے ہیں کہ کسی کالج یا یونیورسٹی میں کوئی استاد معمولی سا اسلامیات کا کورس پڑھائے اور اسے لاکھ کے قریب تنخواہ ملے لیکن اس سے کہیں زیادہ علمی و تحقیقی لیکچر اگر کوئی عالم دین کسی مدرسے میں دے تو اسے چند ہزار دے کر بھی احسان جتلایا جائے۔
کہیں ایسا تو نہیں کہ اس رویہ کی وجہ سے بہت سے باصلاحیت نوجوان علمی شخصیات‘ بہترین مقرر اور خطباء دینی تعلیم و تبلیغ سے دور ہوکر کسی پرائیویٹ اور سرکاری ادارے کے ملازم ہو جانے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
اپنے اردگرد نظر دوڑائیں تو کتنے ہی علمائے کرام‘ شیوخ الحدیث اور خطباء وغیرہ کے ایسے باصلاحیت بیٹے کہ جو اپنے دینی اداروں کی خدمت کر سکتے تھے‘ بہترین دینی مقرر بن سکتے تھے‘ دینی جماعتوں میں شمار ہوکر ان کی تقویت کا باعث بن سکتے تھے لیکن وہ اس مخصوص سوچ کا شکار ہو کر اب کسی کاروبار میں مصروف ہیں یا سرکاری و پرائیوٹ ادارے میں ملازمت کر رہے ہیں۔
کیا ہم نے کبھی اس بارے بھی غور کیا ہے کہ بہت سے اچھے خطباء‘ شیوخ الحدیث اور دینی افراد خود اپنے بچوں کو اپنے نقش قدم پر چلانے سے گریز کرتے ہیں یا اگر بچہ سائنسی و دیگر علوم کی طرف جانا چاہے تو روکتے نہیں کیونکہ انہوں نے زندگی بھر اسی ماحول کا سامنا کیا ہوتا ہے۔
ہمیں بس ایسا قاری و استاد چاہیے‘ عالم دین پسند ہے‘ واعظ و خطیب اچھا لگتا ہے‘ لکھاری و مصنف قبول کرتے ہیں‘ شیوخ الحدیث صرف اسے ہی مانتے ہیں کہ جو مسکین و عاجز سا لگے۔ اس پر احسان کرکے خدمت کی جائے اور پھر جگہ جگہ جتلایا جائے۔ جلسے پر بلا کر یا تقریر کروا کر مرضی کی معمولی رقم دیکر بھی اسے شکر گزار ہونا چاہیے بلکہ تقریر میں دو تین بار سیٹھ صاحب کا نام بھی لیا جائے۔ اگر تعریف میں کمی رہ جائے تو بھی صاحب ناراض ہو جائیں گے کیونکہ جلسہ انہوں نے ہی رکھا ہے۔ مدرسہ وہ ہی چلا رہے ہیں یا مسجد کے مہتمم ہیں۔
اگر غور کیا جائے تو ایسا ماحول بنانے میں زیادہ کردار ایسے افراد کا ہے جو خود عملی طور پر دینی تعلیم و تبلیغ اور وعظ و تقریر سے منسلک نہیں‘ وہ اپنے بہترین کاروبار کرتے ہیں یا اچھی آمدن رکھتے ہیں۔ ان کی آمدن ان دینی مشقت و ذرائع سے نہیں ہوتی‘ وہ اپنی فرض زکوۃ وصدقات کے ذریعے دینی سرگرمیوں سے منسلک ہوتے ہیں۔ المیہ تو یہ بھی ہے کہ وہ اپنی فیکٹری کارخانے یا کاروبار میں تو صلاحیت کے مطابق معاوضہ دینے کے قائل ہوتے ہیں لیکن دینی سرگرمیوں کے لیے معاشرے میں پھیلی ’’مخصوص سوچ‘‘ کے مطابق۔
دینی طبقے کو اس بارے میں سنجیدگی سے سوچنا ہو گا۔ بدلتے ہوئے معاشرتی تقاضوں‘ الحاد اور بے دینی کے چیلنجز کا سامنا کرنے کیلئے باصلاحیت افراد کی ضرورت پڑے گی اور آپ اسے کوئی بھی رنگ دے لیں یا کسی بھی انداز سے سوچ لیں۔ لیکن حقیقت یہی ہے کہ باصلاحیت لوگوں کو دینی سرگرمیوں سے منسلک رکھنے کیلئے ’’باوقار اور مناسب‘‘ خدمت و معاوضوں کی ادائیگی بھی ضروری ہے۔ لادین سیکولر و لبرل طبقے سے اس معرکے میں اگر دینی طبقے کا ہراول دستہ باصلاحیت نہیں ہو گا‘ وہ کہیں دور اپنے کاروباروں ملازمتوں میں مصروف ہو گا تو پھر معاشرے میں دینی ماحول بنانے کا خواب کافی حد تک مشکل ہو جائے گا۔
معاشرے میں ایک ایلیٹ کلاس طبقہ بھی ہے جسے دین کے قریب لانے کیلئے انہی کے لیول کے علماء کرام کی ضرورت ہے۔ جو ان کے اطوار سمجھتا ہو‘ انہیں سمجھانے کے لیے پر اعتماد ہو۔ اس پر صرف ترس ہی نہ کھایا جائے وہ صرف اپیل و چندے کا ہی محتاج نہ ہو بلکہ بھرپور خود اعتمادی سے اس طبقے کو متأثر کر سکے۔ ہر مرتبہ انہی کی دعوت و کھانے میں شریک نہ ہو بلکہ کسی اچھے ماحول میں کبھی اپنے قریبی معتقدین کی دعوت بھی کر سکے۔ کسی کی خوشی غمی میں شرکت کیلئے پیٹرول کا ہی حساب وکتاب نہ لگاتا رہ جائے بلکہ اس طبقے کا حصہ بن جائے اور پھر اپنے ان تعلقات کو بڑے دینی پراجیکٹس کے لیے بھرپور استعمال بھی کرے۔
لاہور کے ایک انتہائی خوش الحان قاری القرآن کی زبان سے ایک جملہ سنا۔ جب حالات سے مجبور ہو کر وہ ایک پراپرٹی ڈیلر کیساتھ منسلک ہوئے تو ان کا کہنا تھا ’’بطور قاری اور استاد پوری زندگی میں اتنی رقم نہیں کما سکا جتنی ایک سال میں کما لی۔‘‘ ایسی بے شمار مثالیں آپ اپنے اردگرد خود بھی ڈھونڈ سکتے ہیں۔ دینی علوم سے بہرہ مند نوجوانوں کی اکثریت باصلاحیت ہوتی ہے۔ حالات مجبور کرتے ہیں کہ اگر تھوڑی سی بھی خوشحالی چاہیے تو پہلے ’’دینی سرگرمیاں‘‘ چھوڑیں اور کسی اور شعبے میں جائیں۔ یہ لوگ محنتی ہوتے ہیں اور محنت کا پھل مل ہی جاتا ہے لیکن دکھ و افسوس تو یہ ہے کہ ان کی صلاحیتیں اشاعت دین‘ تبلیغ وتعلیم اور تصنیف کی بجائے کسی اور شعبے میں استعمال ہو رہی ہوتی ہیں۔
تلخ ترین حقیقت یہی ہے کہ افراد کے متبادل نہیں ہوتے۔ وہ صرف گزارہ ہوتا ہے جس سے بڑی تبدیلی نہیں آ سکتی۔ جب ہیرے گنوا دیئے جائیں تو پھر مصنوعی زیورات پر گزارا کرنا پڑتا ہے۔ دینی طبقے کو چاہیے کہ اپنے ہیروں کی قدر کریں۔ ان کی صلاحیتوں کی حوصلہ افزائی کریں۔ ان کے معاوضے اور خدمت صلاحیت کے مطابق ہو۔ اس مخصوص ماحول و سوچ کو ختم کیا جائے کہ جو دینی تعلیم و تبلیغ‘ خطابت و لکھنے پڑھنے سے منسلک باصلاحیت افراد کو صرف مجبور‘ غریب و مسکین اور صابر و شاکر دیکھنا چاہتی ہے۔
کیونکہ یہ حقیقت ہے کہ معاشرتی مقام اور صلاحیت کے مطابق حیثیت ہونے کی خواہش کوئی بری چیز نہیں‘ نہ ہی اسے گناہ سمجھنا چاہیے اور جب کسی کا صبر جواب دے جاتا ہے یا حالات مجبور کر دیتے ہیں تو وہ شعبہ تبدیل کر لیتا ہے۔ اگر گستاخی معاف ہو تو آج اگر ہم سب معاشرے میں لادینیت‘ نوجوان نسل کی دین سے دوری‘ سیکولر ازم ولبرازم کے پرچار اور اسلام مخالف طبقات کی سرگرمیوں سے پریشان ہیں تو اس کی بڑی وجہ یہی ہے کہ دینی طبقہ اپنے باصلاحیت افراد کی بڑی تعداد کو دیگر شعبوں میں بھیج چکا ہے اور جو باقی ہیں وہ حالات کے شکنجوں میں جکڑے زندگی کی مشکلات اور چھوٹی چھوٹی ضرورتوں سے لڑ رہے ہیں۔
خدا را! اس سوچ کو بدلیں‘ اگر معاشرہ کسی عالم دین کی قدر کرنا شروع کر دے‘ اس کی تقریر و خطاب سے متاثر ہو کر کوئی خوشی سے خدمت کرنا چاہے بلکہ ہونا تو یہ چاہیے کہ خود بڑھ چڑھ کر حوصلہ افزائی کی جائے۔ تا کہ قاری صاحب‘ مبلغ یا استاد خوشحال نظر آئیں بلکہ ان کیلئے خود کوشش کریں۔ شیوخ الحدیث سے صرف دعائیں اور علمی مسائل ہی نہ لیں بلکہ انہیں باوقار اور خوشحال بنانے کیلئے خود سوچیں۔ اس بارے غلط فہمیوں اور بدگمانیوں کا شکار نہ ہوں۔ اسے قبول کریں اور اس سوچ کو بدلنے میں اپنا کردار ادا کریں۔



No comments:

Post a Comment

View My Stats